محمد حسن عسکری بطور نقاد


محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919 ء کو ضلع میرٹھ کے ایک قصبے ”سراوہ“ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اظہار الحق تھا جبکہ گھر میں انہیں ”بھولے میاں“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ محمد حسن عسکری کا بچپن سرواہ کی گلیوں میں کھیلتے گزرا۔ ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز مذہبی تعلیم سے ہوا جبکہ رسمی تعلیم کے لیے انہیں سراوہ کے پرائمری سکول بھیجا جانے لگا۔ مگر جلد ہی انہیں اس سکول سے ہٹا کر، شکار پور کے مسلم پرائمری سکول میں داخل کروا دیا گیا۔

وہاں سے پرائمری درجے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عسکری شکار پور کے واحد انگریزی سکول D۔ A English School میں چلے گئے۔ آٹھویں جماعت تک آپ نے وہیں سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں مسلم ہائی سکول بلند شہر میں داخلہ لے لیا۔ 1936 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور میرٹھ کالج چلے گئے۔ جب عسکری میرٹھ کالج میں داخل ہوئے، پروفیسر کرار حسین تب وہاں پڑھاتے تھے۔ دوسرے سیکشن میں ہونے کے سبب محمد حسن عسکری کو ان سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا مگر اس کے باوجود عسکری، پروفیسر کرار حسین کو اپنا استاد مانتے تھے۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ الہ آباد یونی ورسٹی میں داخل ہوئے اور انگریزی ادب بطور مضمون چنا۔ اس مضمون میں آپ نے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب عسکری کے مضامین رسائل میں شائع ہونے لگے تھے اور ان کا ایک آدھ افسانہ بھی چھپ چکا تھا۔ اس دور کا نقشہ عزیز ابن الحسن نے اپنی کتاب ”محمد حسن عسکری: شخصیت اور فن“ میں یوں کھینچا ہے کہ:

”ادبی دنیا میں عسکری کا نام ایم اے کرنے سے پہلے ہی معروف ہو چکا تھا۔ ان کی پہلی دستیاب تحریر تو ایک ترجمہ“ محبوبہ آموں را ”ہے جو“ ساقی ”دہلی کے شمارہ نمبر 1939 ء میں چھپی تھی اور پہلا باقاعدہ افسانہ“ کالج سے گھر تک ”ہے جو ادبی دنیا میں اگست 1940 ء میں چھپا تھا۔ عسکری نے لکھا ہے کہ افسانہ لکھنے کی مشق انہوں نے پانچویں کلاس ہی میں شروع کر دی تھی اور ہر مروجہ اسلوب آزما دیکھا تھا۔ مگر 1939 ء میں“ کالج سے گھر تک ”انہوں نے کرشن چندر کے مشہور افسانے“ دو فرلانگ لمبی سڑک ”کے زیر اثر لکھا تھا۔“ 1

شاہد احمد دہلوی کے رسالے ساقی سے محمد حسن عسکری کا تعلق 1939 ء میں قائم ہوا۔ اس رسالے میں فراق گورکھپوری ”باتیں“ کے عنوان سے مستقل کالم لکھا کرتے تھے۔ جب انہوں نے یہ کالم لکھنا چھوڑا تو اس سلسلے کو عسکری نے آگے بڑھایا۔ پہلے کچھ عرصہ وہ اسی عنوان سے کالم لکھتے رہے جبکہ بعد میں اس سلسلے کا عنوان ”جھلکیاں“ کر دیا گیا۔

زمانہ طالب علمی میں عسکری جو مضامین ساقی میں لکھتے تھے ان میں بعض اوقات ان اساتذہ کرام کی جھلک نظر آتی تھی جو یونی ورسٹی میں انہیں پڑھایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے بعض اساتذہ ان سے خائف تھے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے سلیم احمد کی کتاب ”محمد حسن عسکری: آدمی یا انسان؟“ کے دیباچے میں نظیر صدیقی نے یوں لکھا ہے کہ:

”ان کی تنقید نگاری کے ابتدائی زمانے میں مولانا صلاح الدین کو ان سے یہ شکایت ہو گئی تھی کہ ان کے مضامین سے یونیورسٹی کے لیکچر روم کی بو آتی ہے۔ ممکن ہے ان کے بعض مضامین کی فضا ایسی ہی ہو لیکن ان کے مضامین ان کے حاصل کردہ علم کی قے نہیں معلوم ہوتے۔“ 2

یہ بہت بنیادی مسئلہ ہے کہ ہر پڑھا لکھا انسان ان کتب کی قے کرتا ملتا ہے جو اس کے زیر مطالعہ ہوں۔ اس بات کو منو بھائی نے ”تنقید جگالی لفظاں دی“ کہہ کر بات ختم کر دی ہے۔ مگر محمد حسن عسکری کے ہاں ہمیں یہ تاثر نہیں ملتا بلکہ وہ علمی پڑھت پر ذاتی تجزیہ کرتے ہوئے منطقی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔

قیام پاکستان سے پہلے محمد حسن عسکری کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا۔ وہ دو کالجوں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ تراجم کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور آئے تو سعادت حسن منٹو کے ساتھ مل کر رسالہ ”اردو ادب“ جاری کیا۔ اس رسالے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں مصوری بھی شائع کی جاتی تھی۔ اس رسالے کے صرف دو شمارے ہی شائع ہو سکے اس کے بعد اسے بند کر دیا گیا۔

پاکستان آنے کے بعد عسکری اسلامیہ کالج میں بطور لیکچرار مقرر ہوئے اور وفات تک یہ فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ عسکری کی وفات 18 جنوری 1978 ء کو ہوئی۔

انتظار حسین محمد حسن عسکری کے تعلقات کے متعلق یوں لکھتے ہیں کہ:

”عسکری صاحب کو زیادہ سہولت دور سے دیکھ لینے ہی میں نظر آتی تھی۔ ملاقات میں قباحت یہ تھی کہ عسکری صاحب تو ایک ملاقات میں آدمی کو ٹوہ لیتے اور فارغ ہو جاتے مگر فریق ثانی اس گمان میں رہتا کہ یہ ملاقات تعلقات کا حرفِ آغاز ہے۔ اچھا تعلقات بھی شروع ہو گئے، پھر؟ عسکری صاحب کا کوئی اعتبار تھوڑا ہی تھا کہ کب ان کی آنکھ بدل جائے۔ اچھا بھلا ملتے ملاتے بالکل طوطے کی طرح آنکھیں بدل لیتے تھے۔“ 3

عسکری صاحب کی شخصیت کے اس پہلو کے متعلق عزیز ابن الحسن نے یوں لکھا ہے کہ:

”عسکری بظاہر ایک مردم بیزار اور نک چڑھے نقاد کا تاثر دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے باطن میں سراپا تعلق ہی تعلق تھے۔“ 4

محمد حسن عسکری کا تنقیدی سرمایہ پانچ مجموعوں پر مشتمل ہے۔ دو مجموعے محمد حسن عسکری کی زندگی میں شائع ہوئے جبکہ تین مجموعے ان کی زندگی کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ ان کتب کا مختصر تعارف ذیل میں دیا جا رہا ہے۔

”انسان اور آدمی“ عسکری کا پہلا تنقیدی مجموعہ ہے جو 1953 ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں کل 14 مضامین شامل ہیں جو 1946 ء سے 1953 ء تک لکھے گئے مضامین میں سے، منتخب کردہ ہیں۔ تیرہ مضامین کا موضوع ادب جبکہ ایک مضمون اسلامی فن تعمیر کو زیر بحث لاتا ہے۔ اس مجموعے میں شامل مضامین کے متعلق عزیز ابن الحسن یوں لکھتے ہیں کہ:

”انہوں نے بڑا کڑا انتخاب کر کے اس مجموعے میں زیادہ تر وہ مضامین شامل کیے جو فرانسیسی ہیئت پرستوں کی نئی تعبیر اور ترقی پسند نظریات سے اختلاف کے سلسلے میں لکھے گئے تھے۔“ 5

اس مجموعے میں شامل مضامین انسان اور آدمی، منٹو فسادات پر، ادب اور انقلاب، غلام عباس کے افسانے اور فن برائے فن وغیرہ جہاں مروجہ معیارات سے انحراف کرتے ہیں وہاں عسکری نے نئے مباحث کو سامنے لاتے، منٹو اور غلام عباس کے افسانوں کی نئی تعبیر بھی پیش کی ہے۔ غلام عباس کی افسانہ نگاری کے متعلق یوں لکھتے ہیں کہ:

”مجموعی حیثیت سے غلام عباس کے افسانے ایک مرکزی وحدت سے ایسے خالی نہیں ہیں جیسے پڑھنے والوں کو معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ یہ وحدت ذرا دیر میں ہاتھ آئی ہے۔ جہاں غلام عباس کا ایک منفرد لب و لہجہ، ایک منفرد انداز بیاں اور ایک منفرد وضعی احساس ہے وہاں ان کے احساسات کی بھی ایک علیحدہ سمت ہے۔ صرف فنی اعتبار سے نہیں، بلکہ مجموعی حیثیت سے بھی وہ ایک انفرادیت اور ایک مستقل شخصیت رکھتے ہیں جس کی نئے افسانوی ادب میں ایک ممتاز جگہ ہے۔“ 6

محمد حسن عسکری کا دوسرا تنقیدی مجموعہ ”ستارہ یا بادبان“ کے عنوان سے 1963 ء میں سامنے آیا۔ اس میں کل 28 مضامین شامل ہیں جنہیں پانچ مختلف عنوانات جیسا کہ ادبی مسائل، موجودہ اردو ادب، مطالعے، بیسویں صدی اور مصوری میں تقسیم کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ ادبی مسائل کے سلسلے میں مضمون ”استعارے کا خوف“ میں استعارے کے فرائض کے سلسلے میں یہ موقف اپنایا ہے کہ:

”استعارے کے ذریعے اپنا بھولا ہوا تجربہ زندہ ہوتا ہے۔ اپنے اندر جو قوت کے سرچشمے عقل و خرد کی مٹی کے نیچے دبے پڑے ہیں ان تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ استعارہ جذبے اور فکر کی علیحدگی ختم کر کے انہیں ایک دوسرے میں جذب کر دیتا ہے۔ شعور اور لاشعور، جسم اور دماغ، فرد اور جماعت، انسان اور کائنات کا وصال اسی کے وسیلے ہوتا ہے۔ اس کا اثر دیرپا ہو یا نہ ہو، بہرحال جو شخصیت کے ٹکڑوں میں بٹ گئی ہو اس کا علاج وقتی طور پر ہی سہی استعارہ کرتا ہے۔“ 7

محمد حسن عسکری کا تیسرا تنقیدی مجموعہ ”وقت کی راگنی“ ان کی وفات کے بعد احمد مشتاق اور ڈاکٹر سہیل احمد خاں نے مرتب کرتے ہوئے 1979 ء میں شائع کیا۔ اس کتاب میں کل 16 مضامین شامل ہیں جن میں نظری تنقید کے ساتھ ساتھ عملی تنقید بھی شامل ہے۔ اس کتاب میں عسکری کے تصور روایت، تصور حقیقت، جدیدیت، تصوف اور مابعد الطبیعیات جیسے نظریات سامنے آتے ہیں۔

”جدیدیت یا مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ“ عسکری کا وہ مجموعہ ہے جو دو رسائل پر مشتمل ہے۔ ایک رسالے میں ارسطو سے افلاطون اور پھر جدید فلاسفہ کے نظریات بیان کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے رسالے میں مغرب کی ان فکری گمراہیوں کا احاطہ کیا گیا ہے جو اس کی تہذیب و ثقافت میں دخول کر گئی ہیں۔ یہ دونوں رسالے مدرسے کے طلباء کے نصاب کی غرض سے لکھے گئے تھے جنہیں عسکری کے بھائی محمد حسن مثنیٰ نے 1979 ء میں کتابی صورت میں شائع کروا دیا۔

عسکری کا پانچواں تنقیدی مجموعہ ”جھلکیاں“ ہے جو کہ ساقی میں جھلکیاں کے عنوان کے تحت شائع ہونے ہونے والے کالموں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب 1981 ء میں محمد سہیل عمر اور نعمانہ عمر نے مرتب کرتے ہوئے شائع کی۔ اس کتاب کی خامی یہ ہے کہ اس میں وہ مضامین بھی شامل کر دیے گئے ہیں جو پہلے مجموعوں میں شائع ہو چکے تھے اور اس کے علاوہ کسی قسم کی ترتیب و تنظیم کو مدِ نظر نہیں رکھا گیا۔

محمد حسن عسکری کی کتب کا مختصر تعارف پیش کرنے کے بعد اب یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کچھ اہم تنقیدی نظریات کو مختصراً بیان کیا جائے تاکہ قارئین عسکری کے تنقیدی نظام سے آگاہ ہو سکیں۔

محمد حسن عسکری اپنے تنقیدی سفر کے آغاز میں نئے ادب کے حامی نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یوں ادب کا اردو کے حقیقی روپ سے رشتہ قائم ہوا ہے اور عام لوگوں کے مسائل ادب کا موضوع بنے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بے جا قسم کی لفاظی، جذبات پرستی اور غیر حقیقی دنیا میں مگن کرنے والی رومانیت سے چھٹکارا حاصل ہوا ہے۔ مگر جب ترقی پسندی، انقلابی رویے اور نعرے بازی تک محدود ہو گئی تو انہوں نے دو ٹوک کہا کہ ہمیں ادب کے روایتی دھاروں سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ہمہ گیر اخلاقی اقدار اور روحانی تجربات کی ضرورت ہے ورنہ ہمارا ادب مغربی ادب کا مشرقی ایڈیشن ہو گا۔

محمد حسن عسکری ادب کے دونوں دھڑوں ”ادب برائے ادب“ اور ”ادب برائے زندگی“ کے کلی طور پر قائل نہیں تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ادب میں دو قسم کے جعل ساز ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو محض موضوعات کے بھروسے ادب تخلیق کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو محض خوبصورت ڈھانچے کو ادب گردانتے ہیں۔ یہ دونوں طبقے ادب کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ محمد حسن عسکری ترقی پسند مصنفین کی اس وجہ سے مخالفت کرتے تھے کہ وہ پوری دنیا کا درد تو رکھتے ہیں مگر ہندوستانی، مسلم سیاست اور کلچر میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اور حلقہ ارباب ذوق کے مصنفین کے اس وجہ سے مخالف تھے کہ وہ کسی بھی نظریہ کو ادب میں جگہ دینے کو تیار نہیں۔

ادب میں نظریے کے حوالے سے عسکری صاحب کا موقف یہ ہے کہ انسانی معنویت اور کسی پائیدار نظامِ اقدار سے رشتہ مضبوط کرتے ہوئے ادب میں نظریے کی بات کی جائے تو وہ فن کو نقصان نہیں پہنچاتی جبکہ فن برائے فن کے ضمن میں ان کا موقف یہ ہے کہ ادب اور فن کے متعلق فیصلہ کرنا کہ کیا وہ واقعی فن ہے تو اس کے لیے فنی معیارات ہی کام آئیں گے مگر اس سے ادب کی عظمت واضح نہیں ہوتی۔ ادب کی عظمت واضح کرنے کے لیے غیر فنی معیارات سے کام لینا ہو گا۔

پاکستان کے قیام کے بعد عسکری کا بڑا کارنامہ پاکستانی کلچر اور پاکستانی ادب کی ضرورت اور اس کے خدو خال متین کرنے کی بحثیں اٹھانا تھا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ پاکستانی کلچر وہ ہے جو ہندوستان میں صدیوں کے تخلیقی عمل سے وجود میں آیا ہے، جس کا نام ہندوستانی کلچر ہے۔ انہوں نے اس کی چار بنیادی متن کیں : 1 ) اسلام کے بنیادی تصورات اور عقائد 2 ) دہلی کے مسلم بادشاہوں کے زیر سایہ پروان چڑھنے والا کلچر 3 ) موجودہ پاکستان کے جغرافیائی خطوں اور مقامی روایتوں کا کلچر 4 ) دیگر ممالک اور قوموں کے کلچر اور علم و ادب سے کشید کردہ علم۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کلچر اور ادب کو انہیں بنیادوں پر پرکھا جانا چاہیے۔

محمد حسن عسکری کے اہم تنقیدی نظریات میں سے ایک نظریہ تصور روایت ہے۔ روایت رسم و رواج کی پیروی کا نام نہیں بلکہ یہ تصور حقیقت کو سمجھنے اور اس تک پہنچنے کی کوشش ہے جو عسکری کے نزدیک دنیا کے ہر بڑے ادب کی تہہ میں موجود ہوتی ہے۔ عسکری کے نزدیک یہ حقیقت صرف ایک ہے جسے اسلام میں عالم لاہوت کہتے ہیں۔ روایتی ادب صرف روایتی معاشرے میں ہی پروان چڑھتا ہے اور روایتی معاشرے مابعد الطبیعیات پر قائم ہوتے ہیں۔ مابعد الطبیعیات صرف ایک ہی ہو سکتی ہے اور یہی اصلی اور بنیادی روایت ہے۔

حوالہ جات
1۔ عزیز ابن الحسن، محمد حسن عسکری: شخصیت اور فن، اسلام آباد، اکادمی ادبیات پاکستان، 2007 ء، ص 14
2۔ سلیم احمد، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان؟ ، کراچی، مکتبہ اسلوب، 1982 ء، ص 10

3۔ انتظار حسین، عسکری صاحب، مشمولہ مشرق کی بازیافت، مرتب، ابو الکلام قاسمی، علی گڑھ، نئی نسلیں پبلی کیشنز، 1982 ء، ص 40

4۔ عزیز ابن الحسن، محمد حسن عسکری: شخصیت اور فن، اسلام آباد، اکادمی ادبیات پاکستان، 2007 ء، ص 40
5۔ ایضاً، ص 77
6۔ محمد حسن عسکری، انسان اور آدمی، علی گڑھ، علی گڑھ بک ڈپو، 1976 ء، ص 164
7۔ محمد حسن عسکری، ستارہ یا بادبان، کراچی، مکتبہ سات رنگ، 1963 ء، ص 30۔ 31

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais