دیہاتی طالبات کی معصوم خواہشیں اور ہماری ذمہ داریاں
دیہات کی خاموش گلیوں میں پلنے والی بچیوں کے خواب بھی اونچے ہوتے ہیں مگر ان کے گرد روایات کی ایسی زنجیریں ہوتی ہیں کہ وہ خواب خواب ہی رہ جاتے ہیں ہر سال مختلف سکولوں اور کالجز میں کھیلوں کا ہفتہ منایا جاتا ہے۔ میں جس سکول میں پڑھاتا ہوں اس میں طلبا و طالبات ساتھ پڑھتے ہیں۔ اس سال بھی سکول میں کھیلوں کا ہفتہ منایا گیا طلبا و طالبات کے لیے مختلف مقابلے رکھے گئے لیکن جب بچیوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے نام لکھوائیں تو محض دو تین بچیوں نے ہچکچاتے ہوئے اپنا نام لکھوایا باقی سب کی زبانیں جیسے کسی نے گانٹھ دیں ان سے وجہ پوچھی گئی تو اکثر نے آنکھیں جھکا کر کہا کہ ہمیں تو بمشکل پڑھنے کی اجازت ملی ہے اگر کھیل میں حصہ لیا تو شاید پڑھنے کی اجازت بھی چھن جائے ہمیں والدین کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم صرف پڑھائی تک محدود ہیں کھیل کود لڑکوں کے لیے ہیں ہمارے لیے نہیں۔ ہمیں تو صرف گھر کے کام کرنا ہیں برتن دھونا جھاڑو لگانا یہ ہمارا مقدر ہے ایک دو بچیوں کی آنکھیں بھیگ گئیں جب انہوں نے کہا کہ ہمیں ان چیزوں کی اجازت نہیں ملے گی۔
یہ سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔ کیا یہ معصوم خواہش بھی جرم ہے کیا بچیاں اپنے ہاتھوں سے خواب بُن نہیں سکتیں میں نے ان بچیوں کو حوصلہ دیا کہ ہم نے کھیلوں کا ایسا انتظام کیا ہے جس میں ان کا کسی لڑکے سے آمنا سامنا نہیں ہو گا ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہیں کی جائیں گی۔ اگر پھر بھی کسی کو ڈر ہو کہ گھر والوں کو پتہ نہ چلے تو ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ کسی کو خبر نہ ہو گی مختلف کھیلوں کے نام لیے گئے کرکٹ سپون گیم غبارے پھلانا میوزیکل چیئر رسی کھینچنا کم وقت میں زیادہ مالٹے کھانے جیسے ہلکے پھلکے اور دلچسپ مقابلے جب بچیوں کو یہ یقین ہوا کہ انہیں کوئی نہیں روکے گا کوئی نہیں ٹوکے گا آزادی سے کھیل سکیں گی تو بہت سی لڑکیوں نے ہچکچاتے ہوئے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور جب وہ میدان میں اتریں تو ان کے چہروں پر جو چمک تھی جو خوشی تھی وہ بیان سے باہر ہے وہ جیسے برسوں سے دبے جذبات کو لفظوں کی بجائے قہقہوں میں پرو رہی تھیں ان کے لیے یہ کھیل نہیں تھا بلکہ زندگی کے جمود کو توڑنے کا پہلا تجربہ تھا۔
دیہاتی طالبات کی مشکلات اور ان کا حل یہ معاملہ صرف ایک سکول یا ایک گاؤں کا نہیں ہے یہ پاکستان کے لاکھوں دیہات میں رہنے والی ان گنت بچیوں کی کہانی ہے جو بے شمار صلاحیتیں رکھنے کے باوجود گھر کی چار دیواری میں قید رہتی ہیں انہیں معاشرتی دباؤ کے باعث مواقع نہیں ملتے اور یوں ان کی شخصیت پنپنے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہے۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اور خاص طور پر اساتذہ والدین اور پالیسی سازوں کو اس معاملے پر غور کرنا ہو گا کہ ہم کس طرح اپنی بیٹیوں کے لیے زندگی کے دروازے کھول سکتے ہیں۔
1۔ والدین میں شعور بیدار کرنا
دیہاتی والدین کی سب سے بڑی رکاوٹ ان کے روایتی خیالات ہیں انہیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ کھیل کسی صنف تک محدود نہیں کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی نشوونما کا ذریعہ بھی ہے اس کے لیے مساجد کمیونٹی سینٹرز اور اسکولوں میں آگاہی سیشن رکھے جا سکتے ہیں کہ والدین کو بتایا جائے کہ کھیل کود صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ یہ بچوں کو صحت مند اور توانا بناتا ہے۔
2۔ علیحدہ کھیلوں کے مواقع فراہم کرنا
دیہات میں اگر والدین کو یہ خدشہ ہے کہ ان کی بیٹیاں لڑکوں کے ساتھ کھیلیں گی تو اس مسئلے کا حل علیحدہ کھیلوں کے مقابلے منعقد کروا کر نکالا جا سکتا ہے لڑکیوں کے لیے الگ دن مخصوص کیے جائیں تاکہ وہ آزادی سے کھیل سکیں۔
3۔ کھیلوں کو نصاب کا لازمی حصہ بنانا۔
پاکستان میں دیہاتی علاقوں کے سکولوں میں کھیلوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی حالانکہ جدید تعلیمی اصول یہی کہتے ہیں کہ نصاب میں جسمانی سرگرمیوں کو شامل کرنا انتہائی ضروری ہے حکومت کو چاہیے کہ سکولوں میں کھیلوں کو لازمی قرار دے اور ہر گاؤں میں لڑکیوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیاں متعارف کروائے۔
4۔ والدین کو عملی مثالیں دینا
اگر والدین کو یہ بتایا جائے کہ کھیل میں حصہ لینے والی لڑکیاں بھی کامیاب زندگی گزار سکتی ہیں تو شاید ان کے خدشات کم ہو جائیں انہیں پاکستان کی کامیاب خواتین ایتھلیٹس اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین کی مثالیں دینی ہوں گی تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کی بیٹیاں بھی کچھ کر سکتی ہیں۔
5۔ خواتین اساتذہ اور کوچز کی شمولیت۔
دیہات میں اکثر والدین اس لیے اپنی بچیوں کو کھیلنے نہیں بھیجتے کیوں کہ وہاں مرد کوچز ہوتے ہیں اگر خواتین اساتذہ اور کوچز کو شامل کیا جائے تو والدین کا اعتماد بڑھے گا اور وہ اپنی بیٹیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دیں گے۔
سوچ بدلنی ہو گی۔
یہ افسوس کا مقام ہے کہ آج بھی کچھ لوگ لڑکیوں کو جینے کے بنیادی حقوق دینے کے لیے تیار نہیں بیٹیاں بھی انسان ہیں ان کے بھی خواب ہیں ان کی بھی خواہشیں ہیں ان کے دل بھی خوشی کے طلبگار ہیں ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں خوشحال ہوں ہماری بیٹیاں بھی اعتماد کے ساتھ پروان چڑھیں تو ہمیں ان کے لیے راستے کھولنے ہوں گے یہ سوچنا ہو گا کہ اگر بیٹوں کے لیے زندگی کے مواقع موجود ہیں تو بیٹیوں کے لیے کیوں نہیں ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ بیٹیاں بوجھ نہیں رحمت ہوتی ہیں انہیں باندھ کر رکھنے سے معاشرہ ترقی نہیں کرے گا بلکہ پیچھے ہٹ جائے گا۔
آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی بیٹیوں کو بھی جینے کا حق دیں گے انہیں آگے بڑھنے دیں گے کھیلنے دیں گے سیکھنے دیں گے تاکہ وہ بھی زندگی میں کامیاب ہو سکیں کیونکہ بیٹیاں بھی جینے کا حق رکھتی ہیں۔


