دو ہزار سالہ قدیم ریاست دیپالپور


ہم کسی بھی سفر پر نکلیں تو اکثر منزل نگاہ میں ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی پچھلے ہفتے ایک ایسا ہی واقع پیش آیا جب مجھے دیپالپور کا سفر کرنا پڑا۔ نانی کے بھائی اسی شہر میں رہتے تھے، سو کہا جا سکتا ہے کہ خاندانی جڑیں وہاں موجود ہیں۔ ایک عزیز کی وفات پر تعزیت کے لیے جانا تھا پر یہی تعزیتی نیت والا سفر ایک تاریخی مقام سے آگاہ کروا گیا۔

ہماری منزل دیپالپور میں بھومن شاہ کا ایک ذیلی گاؤں تھی، دوپہر وہاں گزار کر جانے کا اذن لیا تو قصبہ نما بھومن شاہ کی طرف نکل آئے۔ بھومن شاہ میں دیپالپور کی مرکزی سڑک پر کچھ قدیمی قدیمی سا محسوس ہوا۔ میرا اس علاقے میں پہلی بار جانا ہوا تھا، اس علاقے کی تاریخ اور تہذیب دونوں سے مجھے کوئی واقفیت نہیں تھی۔

روڈ کے عین اوپر ایک قدیم قلعے کا دروازہ تھا۔ یہی چیز تھی جسے دکھانے کو گھر والے مجھے وہاں لیے ہوئے تھے۔ گاڑی اس پھاٹک کے سامنے پہنچی تو میں ہوش میں آئی۔ اففففف۔ زندگی ہی ضائع تھی اگر یہ دیکھے بنا مر جاتی۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی یہ میری پہلی خودکلامی تھی۔ پھاٹک شاید صدیوں پرانے دیپالپور شہر کا بیرونی دروازہ تھا۔ ہم اس سے گزر کر آگے پہنچے۔ قدیم عمارتوں کا ایک سلسلہ تھا، گلیاں تھیں لیکن عوام قابض تھے۔

شہر اور قلعے کے اندر تعمیرات ہو چکی تھیں، لوگوں نے گھر اور دکانیں بنا لی تھیں لیکن پھر بھی معلوم ہو رہا تھا کہ شہر کا ماضی شان و شوکت سے بھرپور تھا۔ نئی تعمیرات کا اصل عمارت پر غلبہ تھا۔ اس منظر کی مثال ایسے سمجھیں کہ کوئی شان دار پوشاک ہو، ریشم یا زربفت کی لیکن پرانی ہو چکی ہو، اس پوشاک کو کئی جگہ سے کاٹا پھاڑا گیا ہو اور اس میں لان اور لیلن کے نئے ٹکڑے رکھ کر رفو کر دیے جائیں۔ سمجھ آئی؟

فصیل کے اندر عمارت کا بڑا حصہ ضائع ہو چکا تھا کچھ حصے باقی تھے۔ ان باقی ماندہ پر بھی لوگ قابض تھے۔ ایک دو منزلہ خوب صورت حویلی، جو اپنے پورے قد سی کھڑی تھی میں ایک خاندان آباد تھا۔ حویلی مرمت اور دیکھ بھال کی متقاضی تھی مگر۔

میں نے اپنے خاندان کے لوگوں سے اس جگہ کے بارے میں بہت سنا تھا لیکن وہ اور زاویے سے سنا تھا۔ مجھے ہمیشہ یہی بتایا گیا تھا کہ وہاں پرانی حویلی ہے۔ اور بہت خوبصورت ہے، (اس خبر کو میں نے ایک حد سے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا تھا) میں یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ قدیم شہر اور قلعے کی باقیات ہیں۔ کسی کتاب میں اس متعلق پڑھا تھا نہ کبھی ٹی وی پر ذکر سنا۔ مجھے بھی اتنی توفیق نہ ہوئی کہ کبھی گوگل سرچ ہی کر لیا ہوتا۔ سینکڑوں سالوں کا تہذیبی سرمایہ، قلعہ دیپالپور میرے سامنے تھا اور میں دنگ تھی۔ یہ شہر اندازہً دو ہزار سال پرانا ہے، کئی بار تباہ ہوا کئی بار تعمیر ہوا۔ اجڑنے اور اجڑ کر بسنے کی ریت پرانی ہے۔

قلعے کا جتنا حصہ دیکھ پائی اس نے مجھے حیرت زدہ کیا۔ یہاں رہنے والے صدیوں پہلے بھی انجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ میں کتنے ماہر تھے۔

تعمیراتی کام خواہ وہ اینٹوں کی چنائی ہو، طرز ہو، اس کی تزئین و آرائش ہو، لاجواب تھی۔ لکڑی کے دروازے اور پھاٹک بے حد بھاری تھے، موجودہ دن تک کار آمد تھے۔ عمارت دو منزلہ تھی۔ زیادہ حصے شکستہ تھے اور ان کا کوئی وارث نہیں تھا۔ سعودی شہزادے طلال کے محل قیمت میں اس قلعے سے کم ہوں گے۔ یہ پرائس لیس ہے۔ تاریخی نوادرات کے تو ریپلیکا تک سٹیٹس سمبل سے کم نہیں ہوتے۔ اسی حویلی کے اندر کچھ حصوں میں کُچھ لوگ رہ رہے ہیں اس احساس کے بغیر کہ اس جگہ کی اہمیت کیا ہے، کیا ہو سکتی ہے۔

گردوارہ بابا سری چند کے احاطے کے اندر چند بچے کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھے، ہمارے ہوتے ہوئے بھی ان کا کھیل جاری رہا۔ دنیا کا قدیم ترین کرکٹ گراؤنڈ میرے سامنے تھا، بس کرکٹ وہاں اب پہنچی تھی۔ یہ جگہ یورپ، امریکا میں ہوتی تو اس کی قدر ہوتی۔ ہمارے ہاتھوں میں تھی تو ایسے تباہ ہو رہی تھی۔ تباہ کاریوں میں ویسے بھی ہمارے ہاتھوں کو مہارت اور ذہنوں کو عادت ہو چکی ہے۔ ہمارے لیے یہ نیا نہیں ہے۔ عمارت صرف شکستہ ہی نہیں ہے وہاں گند اور کوڑے کے ڈھیر بھی تھے۔ پتا نہیں آرکیالوجی والے کدھر مر کھپ گئے ہیں جو اس کی پروا نہیں کر رہے۔

عمارت کے اندر ایک تختی پر اردو اور دیوناگری رسم الخط میں ”شریمان باوا داس جی نے 939 ء میں تیار کروائی“ کند تھا، عمارت کی حالت خراب تھی، تحریر والی تختی بھی اکھڑنے کے قریب تھی۔ یہیں پر کوئی سید، حاجی، شاہ، قطب، فلاں بن فلاں جیلانی لکھا ہوتا تو شاید اس کے وارث بھی پیدا ہو جاتے، اسے قبول بھی کیا جاتا اور یہاں لنگر اور عرس بھی منائے جاتے، لیکن ایک غیر مسلم عبادت گاہ اور حویلی کو کون اپنائے؟ کون اسے تہذیبی اور تاریخی حصہ سمجھے، اسے بچائے؟ اسے مٹا کر قابض ہو جانے والے بے شمار ہوں گے، اسے اپنا کر سنبھال لینے والا کوئی نہیں۔

تختی پڑھنے کے بعد ماموں نے سوال کیا؛ یہ کب بنائی گئی؟
میں نے کہا لکھی ہوئی معلومات کے مطابق 939 ء میں۔
پھر انہوں نے پوچھا کہ یہ کتنی پرانی ہے؟

”تقریباً گیارہ صدیاں۔“ اس پر وہ بولے ؛ تب مستری ہوتے تھے؟ اب ایسی باتوں کا بندہ کیا جواب دے؟ بھئی مستری تو تبھی سے تھے جب انسانوں نے غاروں کو الوداع کہا تھا۔ یہ قریب ہی ہڑپہ ہے، 55 سو سال پرانا شہر ہے لیکن طرز تعمیر، مجسمہ سازی، پکٹوگرافی سے لے کر ڈرین سسٹم والے شہر بنا لینے میں ماہر تھے۔ خیر۔

دیواروں پر نقش و نگار خوب صورتی سے بنائے گئے تھے۔ ہاتھی، گھوڑوں اور پرندوں کی تصاویر کے ساتھ کچھ انسانی زندگی کے مناظر بھی نقش کیے گئے تھے۔ خالہ مجھے ایک خاکے کے پاس لے گئیں، اس کی طرف اشارہ کیا اور بتانے لگیں : یہاں مائی جنت خاتون نے چرخا کاتا تھا۔

”مائی جنت خاتون نے؟“ میں نے کہانی میں دلچسپی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ ویسے بھی اپنے سائٹ گائیڈز سے الجھنا، بحث کرنا اچھی بات نہیں ہے، پھر ہر جگہ علم جھاڑنا بھی لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ”ہاں، مائی جنت خاتون نے۔“ میں نے پوچھا وہ کون تھیں؟ ”اس پر وہ کچھ کہنے ہی والی تھیں کہ ہمراہ ایک سمجھ دار نے پیچھے سے کہہ دیا؛“ جنت خاتون کا تو نہیں پتا البتہ چرخا تو تہذیب کے ہر دور میں کاتا گیا ہے۔ ”میں سر نیہواڑے آگے بڑھ کر کچھ اور دیکھنے لگی۔

در اصل خالائیں خوش تھیں کہ انہوں نے مجھے حیران کر دیا ہے، اور میں واقعی حیران تھی کہ میرے گھر سے پچاسی نوے کلومیٹر کے فاصلے پر مجھے تاریخ کا خزانہ میسر آ سکتا ہے۔ مجھے اب معلوم ہوا کہ ملتان اور لاہور کے درمیان بھی کوئی ایسی جگہ ہو سکتی ہے جہاں ایسی شان دار تعمیرات ہوئی تھیں۔ یہ ماضی کی باقاعدہ ریاست تھی۔

یہ غزنوی کی آمد سے بھی پہلے کے ہندوستان کا کوئی رنگ، کوئی جھلک تھی۔ اب یہاں میرے اندر دو سوال تھے۔ کیا اتنی صدیوں تک کوئی عمارت کھڑی رہ سکتی ہے؟ اہرام مصر کے سوا کوئی بھی نہیں۔ وہ مرمریں یا پتھروں سے ترشی ہوئی عمارتیں یا مجسمے ہو سکتے ہیں جو اتنے لمبے وقت کی شکست و ریخت کو سہ سکتے ہیں۔ اینٹ گارے کی عمارتوں کی عمر اتنی نہیں ہوتی۔ اور یقینی بات ہے کہ گردوارے تو سکھ ازم کے بعد ہی تعمیر ہو سکتے ہیں۔ سکھ ازم گیارہ سو سال پہلے نہیں تھا، حتیٰ کہ پندرہویں صدی عیسوی کے پون تک بھی سکھ ازم نہیں پھیلا۔ میرا اندازہ ہے کہ عمارت سکھا شاہی میں ہی تعمیر ہوئی ہے، رنجیت کے کسی جرنیل یا بیٹے نے بنوائی ہوگی، اس سے زیادہ پرانی نہیں ہو سکتی۔ ہاں البتہ اس کی بنیادیں، اس شہر اور قلعے کی بنیادیں قدیمی ہیں جو کئی بار مسمار اور تعمیر ہوئیں۔ یہ میرا اندازہ ہے، ثبوت البتہ نہیں ہے، لہذا غلط بھی ہو سکتا ہے۔

عمارت کو دیکھتے، اس میں گھومتے ہوئے مجھے بنانے اور رہنے والوں کی بلند ذوقی کا اندازہ بھی ہو رہا تھا۔ انسان اگر ایک خوبصورت دن گزارنے کا خواہش مند ہو تو یہ جگہ اب بھی اس مقصد کو پورا کرے گی۔ اس میں سیاحوں کو راغب کر لینے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

عمارت کی دوسری منزل اور دوسری منزل کی چھت پر جانے کے لیے سیڑھیاں موجود تھیں اور فعال تھیں۔ چھت کا منظر دل نشین تھا، دل کَش تھا اور دل کُش بھی۔ عصر کا سورج آسمان کی پیشانی سے نیچے ہوتا ہوا مغرب کی سینے تک آنے لگا تھا، سنہری، نارنجی، جامنی کرنیں میناروں اور گنبدوں پر بکھر رہی تھیں۔ نظارہ جان لیوا تھا۔ چھت پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو عمارت پر کٹاس راج کا دھوکہ ہوتا تھا، دونوں کے کچھ حصوں میں شباہت تھی۔

اب بے ساختہ زبان سے واہ، ماشاءاللہ، کمال ہی نکل رہا تھا۔

قلعے میں لوگ اپنے اکیسویں صدی کے طرزِ تعمیر اور طرزِ زندگی کے ساتھ رہ رہے تھے، نئے مکان، دکانیں سکول سبھی بن چکے تھے، پہلے سے موجود مکانوں پر قبضہ کر لیا گیا تھا لیکن قدیم زمانوں کی خوشبو کم نہیں تھی۔ رنگ مدھم تھے، مٹے نہیں تھے۔ گلیاں ایسی نہیں تھیں کہ کہا جائے ؛ سنجیاں ہوون گلیاں وچ مرزا یار پھرے۔ پھر بھی ان میں چلنا اچھا تجربہ تھا۔ ان گلیوں میں پندرہ منٹوں کی واک نے میرے ذہن کی سوکھی ٹہنی کو ہرا کر دیا تھا۔ میں جو دوپہر میں اداسی اور انگزائٹی سے پس رہی تھی اب ایک الگ ہی دنیا میں الگ موج اور حیرت میں تھی۔ کلفت کافور ہو چکی تھی۔

کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے دیواروں کو دیکھتے ہوئے دل چاہتا تھا کچھ اور پل ہوں جو یہاں گزار لیے جائیں، انہی راستوں پر چلتے ہوئے۔ بھومن شاہ کا یہ اتفاقی و حادثاتی دورہ ایک یادگار بن گیا تھا۔ دکھ صرف اتنا تھا کہ وقت اور انسانوں کے ہاتھوں یہ تاریخی سرمایہ ضائع ہو رہا ہے، کافی کچھ منہدم ہو چکا ہے، کم سے کم جو رہ گیا ہے اسے ہی بچا لیا جائے۔ حکام سے گزارش ہے کہ اس کی مرمت اور دیکھ بھال کر لیں، یہ ہماری آئندہ نسلوں پر احسان ہو گا۔

Facebook Comments HS