پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری تک کا سفر


یہ 2002 کی بات ہے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست، ویسٹ ورجینیا کے شہر ساؤتھ چارلسٹن میں تھا۔ اکثر غلام مصطفے ٰکلور کے اسٹور پر آتا جو زبردست انسان ہیں۔ سردیوں کی ایک شام اِن کے اسٹور پر، اونچے لمبے اور ہنس مُکھ شخص سے ملاقات ہوئی۔ یہ پروفیسر ڈاکٹر نوید زمان تھے۔ وہ دن اور آج کا دن ماشاء اللہ دونوں سے دوستیاں قائم ہیں۔ سال بھر پہلے ڈاکٹر نوید پاکستان آئے تو میں نے ان کا انٹرویو کیا۔ ڈاکٹر صاحب آج ماشاء اللہ بہت اچھے عہدے پر ہیں اور امریکہ میں طلباء کو پڑھاتے ہیں۔ ان کے پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری تک کے سفر پر باتیں ہوئیں جو پڑھنے والوں کے لئے پیشِ خدمت ہیں۔

پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری
” ڈاکٹر صاحب! آپ کے سفر کا آغاز کہاں سے ہوا؟“ ۔

” میرا نام نوید زمان ہے اور گجرات سے تعلق ہے۔ ہمارا گاؤں، صابو وال ہے۔ پہلے تو صابو وال کے اسکول میں پھر دو سال سر فضل، جنہوں نے زمیندارہ کالج اور اسکول کی بنیاد رکھی، کے اسکول میں پڑھا۔ چھٹی سے دسویں جماعت تک زمیندارہ ہائی اسکول اور پھر زمیندارہ کالج سے ایف ایس سی اور بی ایس سی کی۔ اس کے بعد قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی اور ایم فِل کیا۔ پھر یونیورسٹی آف کنٹاکی The University of Kentucky، لیکزنگٹن Lexington سے پی ایچ ڈی کی۔

اس کے بعد شعبہ میں تدریسی رکن / فیکلٹی ممبر کی حیثیت سے میں ویسٹ ورجینیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں 2000 سے اب تک تدریسی رکن کے طور کام کر رہا ہوں۔ 12 یا 13 سال تو ریگولر فیکلٹی اور اس کے بعد میں شعبہ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کا چیئرپرسن رہا۔ پھر 2015 سے اب تک میں بطور ڈِین برائے کالج آف نیچرل سائنس اور ریاضی کام کر رہا ہوں“ ۔

” ریاضی کا شعبہ خود آپ نے منتخب کیا یا پھر چلتے چلتے یوں ہی کوئی مل گیا تھا۔“ ۔
قہقہے۔

”ریاضی میں نے یوں منتخب کیوں کہ اسکول کالج میں جتنے مضامین تھے ان میں چیزیں یاد رکھنا یا رٹنا پڑتی تھیں۔ اس میدان میں میری مہارت بہت کمزور تھی۔ رٹا تو میں لگا لیتا لیکن یاد کی ہوئی چیزوں کو دوبارہ لکھنا بے حد مشکل لگتا۔ ریاضی ایک واحد مضمون تھا جس میں مجھے رٹّا لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ گھر والے مجھے ڈاکٹر دیکھنا چاہتے تھے۔ ایف ایس سی بھی اسی نظریے کے تحت ’کروایا‘ گیا۔ وہ دو سال میری زندگی کے سب سے زیادہ اذیت والے سال تھے جس میں مجھے حیاتیات پڑھنا پڑی! “ ۔

” ارے! “ ۔ میں نے حیرت سے کہا۔
” اب ایسا بھی نہیں ہے کہ میں کہوں کہ میں تو بچپن ہی سے ماہرِ ریاضیات بننا چاہتا تھا! “ ۔
” اب تو ہو ہی گئے! “ ۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

” ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد کیا آپ کے ذہن میں تھا کہ پاکستان میں سرکاری جامعہ میں تدریس کا کام کروں، پھر ریٹائر ہو کر آرام دہ زندگی گزاروں؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” پی ایچ ڈی کے بعد پاکستان یا امریکہ رہنے کا فیصلہ میرے لئے آسان نہیں تھا۔ جب میں 1993 میں امریکہ گیا تو ذہن میں یہی تھا کہ ڈاکٹریٹ کر کے واپس آنا ہے۔ پرواز سے 6 دن پہلے سی ایس ایس کا نتیجہ آیا۔ میرا غالباً 80 واں نمبر تھا۔ خواب تو ڈی ایم جی گروپ یا پولیس گروپ میں جانے کا تھا لیکن مجھے کسی اور شعبہ کے لئے منتخب کیا گیا جس میں میری دلچسپی نہیں تھی لہٰذا میں 10 ستمبر 1993 کو امریکہ روانہ ہو گیا“ ۔

” ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد سوچا کہ کچھ عرصہ یہاں جاب کرلوں۔ یہ بھی ایک سنسنی خیز بات تھی کہ پہلی مرتبہ پروفیسر کی حیثیت امریکہ میں کچھ کر رہا ہوں! بہرحال میں پاکستان آیا تو میرے کچھ دوست قائدِ اعظم یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے۔ امریکہ کے سوشل سروس سیکٹر میں زندگی گزارنا آسان ہے! جب کہ واپس آ کر مجھے یوں لگا گویا اب میں یہاں کے ماحول کے لئے موزوں نہیں رہا! قدم قدم پر کام کیسے نکلوانے ہیں؟ کس سے رابطہ ڈھونڈنا ہے؟

اِن تمام چیزوں نے مجھے مجبور کر دیا کہ ابھی حتمی فیصلہ موخر کر دوں۔ اسی طرح امریکہ میں میری ذمہ داریاں بڑھتی گئیں۔ زندگی گزارنا مجھے امریکہ میں مزید آسان لگنے لگا۔ لیکن اس کے باوجود جب میں پاکستان آتا ہوں تو میرا واپس جانے کو دل نہیں کرتا کہ جو محبت یہاں لوگوں سے یا اپنی مٹّی سے ملتی ہے وہ کہیں اور کہاں! میری تمام ذمہ داریاں اور پیشہ ورانہ زندگی امریکہ میں اور تمام تر ’سواد‘ پاکستان میں ہیں! میں بھی سارے تارکینِ وطن کی طرح ایک لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں اور سواد کے درمیان بٹا ہوا ہوں“ ۔

امریکی اور یہاں کے تعلیمی نظام کا موازنہ

” آپ نے پاکستان میں ہائی اسکول سے ایم فل تک پڑھا۔ امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی پھر کالج میں پڑھایا۔ آپ کے سامنے دونوں نظامِ تعلیم ہیں۔ کچھ اس کا موازنہ کیجئے“ ۔

” امریکی سسٹم اور یہاں کے تعلیمی نظام کا موازنہ کرنا مشکل ہے۔ اس لئے کہ کسی ایک نظام کو اس ملک اور اس کی ثقافت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایسا موازنہ بالکل منصفانہ نہیں! ہمارے رویوں کی پرورش معاشرے کی دَین ہے نا کہ ایک مخصوص نظام کی! پاکستانی تعلیمی نظام میں چونکہ نقل ہوتی ہے، اساتذہ پر اعتماد نہیں ہوتا، عین اسی طرح اساتذہ کا طلباء پر بھی اعتماد نہیں ہوتا۔ جب کہ امریکہ میں ہر دو فریق ایک دوسرے پر بھروسا کرتے ہیں۔ ٹیچر کہتا ہے کہ امتحانی پرچہ گھر سے کر کے لے آنا! ( یہ تو میں نے بھی تجربہ کیا ہے ) وہاں امتحان نمبر لینے کے لئے نہیں ہوتے! اس کے علاوہ بھی ان دونوں نظاموں میں کئی فرق ہیں“ ۔

” بدقسمتی سے پاکستان میں بدعنوانیوں میں اضافہ ہمیں ہر ایک جگہ نظر آیا بشمول نظامِ تعلیم۔ جب میں ایف ایس سی اور بی ایس سی کے امتحان دے رہا تھا تب بھی یہ بھاگ دوڑ ہوتی تھی کہ کون سا امتحانی مرکز بنا ہے؟ نقل کرنے کے کیا ’وسائل‘ اور ذرائع ہوں گے؟ پھر نمبر لگوانے کے لئے کہاں اور کس کے پیچھے بھاگنا ہو گا! لہٰذا جب بدعنوانی ہوتی ہے تو اس کو روکنے کے لئے مزید نئے قانون بنانا پڑتے ہیں۔ بدعنوانی کرنے والے نئے راستے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بہرحال ان دونوں نظامِ تعلیم میں جو بڑا فرق ہے وہ یہ کہ امریکہ میں ہائی اسکول ہو یا مِڈل یا یونیورسٹی وہاں کے استاد پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ استاد جو گریڈ دے گا بس وہی آپ کا حتمی گریڈ ہے! پھر ایسا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی بورڈ، یونیورسٹی کا صدر، وائس چانسلر اس گریڈ کو تبدیل کردے! “ ۔

” ارے! “ ۔ حیرت سے میں نے کہا۔

” جی! ہماری ریاست، ویسٹ ورجینیا میں مبینہ طور پر ایک دفعہ ایسا ہوا کہ صدر نے کسی جاننے والے کے بچے کا گریڈ تبدیل کروانے کی کوشش کی۔ شعبہ کے تمام تدریسی ارکان نے کہا کہ پڑھانا اور طلباء کی قابلیت جانچنا ہماری عمل داری ہے۔ کوئی صدر اس میں مداخلت نہیں کر سکتا! لہٰذا یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ استاد پر بھروسا کیا جاتا ہے۔ یوں پھر ایک سال بعد اُس صدر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا! “ ۔

” کمال ہے! “ ۔ میں نے بے ساختہ کہا۔
ہمارے اساتذہ معیار میں کم نہیں

” معاشرے کی اچھی بری چیزیں ہر ایک شعبے میں نظر آتی ہیں۔ جب میں زمیندارہ کالج گجرات میں پڑھتا تھا تو ہمارے اساتذہ کی اپنے مضمون پر بہت گرفت تھی۔ چوہدری لطیف صاحب (م) کیمسٹری پڑھاتے تھے۔ آلو پر پِن لگا کر ایٹم کی ساخت کو سمجھاتے۔ ہم سب کی آرگینِک کیمسٹری بہت اچھی ہو گئی جو کہ مشکل سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح ہمارے ہائی اسکول میں ایک استاد امانت صاحب تھے۔ وہ محبت، خدمت اور پرورش کی ایک مثال تھے۔ وہ تمام دن پڑھاتے ہی رہتے۔ جو ٹیوشن کی فیس نہیں دے سکتے تھے اُن کو بھی کہتے کہ آ کر بیٹھ جاؤ! صبح سے شام تک بغیر کسی لالچ کے سائیکل میں جگہ جگہ جا کر بچوں کو پڑھاتے تھے۔ گجرات میں اگر کسی نے زمیندارہ اسکول میں 1975 سے 2000 کے دوران پڑھا ہے تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ امانت صاحب کو جانتا نہ ہو! “ ۔

” اسی طرح قائدِ اعظم یونیورسٹی میں میرے پروفیسر اصغر قادر مشہور محقق تھے۔ وہ گرمیوں میں امریکہ جا کر پڑھاتے تھے۔ یونیورسٹی میں میرا ارادہ ریاضی میں نظریہ اضافت پڑھنے کا تھا۔ پھر پروفیسر جاوید حسن آ گئے۔ انہوں نے ہمیں ریاضی میں گروپ تھیوری اس قدر وضاحت کے ساتھ پڑھائی کہ میں نے کہا میں تو یہی پڑھوں گا! اس کے بعد میں نے ڈاکٹریٹ ریاضیاتی تجزیے کی شاخ /

الجبرا میں کی۔ معیار کے لحاظ سے ہمارے اساتذہ کسی بھی صورت امریکی اساتذہ سے کم نہیں! ”۔

” پہلے دو سال پی ایچ ڈی میں کورس ورک ہوتا ہے۔ جب میں نے امریکہ میں ڈاکٹریٹ کی پڑھائی شروع کی تو مجھے دشواری نہیں ہوئی کیوں کہ میرے اساتذہ نے مجھے پاکستان میں اس قابل کر دیا تھا! میں تو کہوں گا کہ وہاں پڑھنا زیادہ آسان ہے! “ ۔

یہاں اور وہاں کے اوسط طالبِ علم کی ذہنی استعداد

” یہاں سے آپ نے ایم ایس سی اور امریکہ میں ڈاکٹریٹ کی، پڑھایا بھی۔ یہ بتائیں کہ یہاں اور وہاں کے ایک اوسط طالبِ علم کی ذہنی استعداد میں کیا فرق ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” دونوں جگہوں کے اوسط طالبِ علم کی ذہنی استعداد کے فرق کو میں اپنے زمانہ طالبِ علمی سے ہی جانچ سکتا ہوں۔ اب کیا تبدیلیاں آئی ہیں مجھے علم نہیں۔ امتحان کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ ہم پاکستان میں چیزیں یاد کرتے تھے۔ کنسیپچوئل لرننگ تصوراتی تعلیم بہت کم ہوتی تھی یعنی کہ اس کا مطلب کیا ہے اور اس کا اطلاق کیسے ہوتا ہے۔ اندازہ لگا کر تصور واضح ہو جاتا تھا۔ ہمارے مقابلے میں اِن طلباء کے کانسیپٹ /تصور بہت بہتر ہیں!

پاکستان کا طالبِ علم، کامیاب طالبِ علم ہے! وہ کتابوں کی کتابیں رٹ لیتا، نوٹس وغیرہ زبانی یاد کر لیتا ہے۔ اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے۔ مثلاً ریاضی میں اگر آپ نے کچھ چیزیں یاد کی ہوئی ہیں تو ان کا استعمال آپ کو کہیں ڈھونڈنا نہیں پڑتا۔ پاکستان میں سب زیادہ کامیاب ہونے والے طلباء میں یہ چیز بہت زیادہ تھی۔ اس کے برعکس امریکہ میں جب میں نے بی ایس سی کے درجے کو پڑھانا شروع کیا تو اس میں کانسیپٹ /تصور کا زیادہ عمل دخل ہے۔

ان میں رٹنے کی قوت کم ہوتی ہے۔ سمیسٹر سسٹم ہے۔ جو طالبِ علم ریاضی پڑھ رہا ہے وہ تو یہ کرے گا کیوں کہ اس کو شوق ہے۔ دیگر مضامین کے طلباء کہتے ہیں کہ چلو یہ تو مجبوراً کرنا ہے پھر تو آئندہ زندگی میں مجھے اس سے واسطہ ہی نہیں پڑنا۔ رہی بات محنتی طلباء کی تو ہر دور میں پاکستان کے محنتی طلباء بھی کم نہیں! امریکہ میں بھی ہر طرح کے طلباء ہوتے ہیں محنتی بھی نکھٹو بھی! پھر ایک اہم نکتہ معاشی حالات بھی ہے۔

امریکہ میں عمومی طور پر طالبِ علم کے معاشی مسائل کم ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں گھروں میں بیک وقت کئی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ میرے ساتھ اکثر طلباء کے گھروں کے بڑے افراد کوئی زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے جن سے تعلیمی مدد لی جا سکتی۔ کم از کم مجھے یہ سہولت حاصل تھی کہ میری والدہ اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ میرے ابّو نے 1934 میں میٹرک کیا تھا۔ اِن کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ میرے خاندان میں میرے سب ہی کزن گریجوئیٹ تھے۔ تو ماحول کا بھی فرق پڑتا ہے۔ پڑھائی میں مدد بھی مل جاتی ہے“ ۔

ڈاکٹریٹ امریکہ ہی سے کیوں؟

” آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہی کیوں گئے؟ روس، چین، برطانیہ، آسٹریلیا وغیرہ کیوں نہیں گئے؟“ ۔

” در اصل جب میں ایم ایس سی کے تیسرے سمیسٹر میں تھا تو ڈاکٹر جاوید حسن نے ہمیں پہلی مرتبہ گروپ تھیوری پڑھائی۔ میں تو اس گروپ تھیوری کا گرویدہ ہو گیا۔ ایک تو پتا نہیں کیوں مجھے ان کا پڑھانے کا طریقہ بہت اچھا لگتا تھا۔ اسی لئے میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں نے جتنی بھی ریاضی پڑھنا ہے الجبرا ہی میں پڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم نے امریکہ سے الجبرا میں پی ایچ ڈی کرنا ہے تو تین یونیورسٹیوں اور ان کے ایڈوائزروں کے نام بھی بتائے“ ۔

کرکٹ کو پیشہ کیوں نہیں بنایا

” پروفیسر صاحب ہمارے ذرائع نے بتایا کہ گجرات میں آپ ایک اچھے کرکٹر تھے۔ اینکر طلعت حسین کی کپتانی میں قائدِ اعظم یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم سے بھی وابستہ رہے۔ آپ نے کرکٹ کو پیشہ کیوں نہیں بنایا؟“ ۔

” مجھے بچپن ہی سے کرکٹ کا شوق تھا۔ شوق اپنی جگہ لیکن صحیح کرکٹ کھیلنے کے لئے آپ کو لوازمات درکار ہوتے ہیں۔ بچپن میں ٹینس بال سے کھیلا۔ پھر ایک کرکٹ کلب میں شمولیت اختیار کی اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی چلتی رہی۔ میری زندگی میں کافی دیر تک یہ میچ پڑا رہا کہ پڑھائی زیادہ اہم ہے یا کرکٹ! یہاں تک کہ بورڈ کا امتحان تھا اور اسی دن ہمارا میچ بھی تھامیں نے وقت سے کہیں پہلے وہ پرچہ کر لیا تا کہ کرکٹ کے میچ میں جا سکوں!

وہ ریاضی کا پرچہ تھا۔ دیکھ لیں مجھے کرکٹ کا کتنا جنون تھا۔ قائدِ اعظم یونیورسٹی کی ٹیم میں 3 سال کھیلا۔ انٹر یونیورسٹی ٹورنامنٹ بھی یونیورسٹی کی جانب سے کھیلے۔ جب میں یونیورسٹی آف کنٹاکی گیا تو اُدھر بھی کرکٹ کی ٹیم بنائی۔ اس میں بھارت، پاکستان اور سری لنکا کے لڑکے تھے۔ ہم نے ایک ٹورنامنٹ شروع کیا جو اب وہاں بہت مقبول ہے! اس میں 30 سے 35 ٹیمیں کھیلتی ہیں۔ کوئی 6 سال پہلے تک تو میں باقاعدگی سے کرکٹ کھیلتا رہا ہوں۔ ابھی کچھ عرصہ ہوا، اس امید پر کرکٹ چھوڑی ہے کہ پھر شروع کروں گا! “ ۔

قہقہے

” کووِڈ کے آنے سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھا۔ ویسے میں کرکٹ خاصی اچھی کھیلتا تھا۔ لیکن مجھے لگتا تھا کہ میں پڑھائی میں کرکٹ سے بہتر ہوں۔ ہمارا جن ٹیموں سے مقابلہ ہوتا ان میں زیادہ تر کھلاڑی پڑھائی پر کم توجہ دیتے تھے۔ اُن لڑکوں کی توجہ کرکٹ میں ہم سے زیادہ تھی کیوں کہ ان کا بہت کچھ کرکٹ سے وابستہ تھا! وہ لوگ سارا دن کرکٹ کھیلتے جب کہ ہم جیسے محض دن میں دو گھنٹے! فرق تو پھر نظر آئے گا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے سلیم ملک پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھا۔

یہ ہمارے دوست کا دوست ہے۔ یہ جب امریکہ آیا تو ہمارے شہر بھی آیا۔ یہاں میں اور سلیم ملک دونوں ایک میچ دیکھ رہے تھے۔ وہ سارا دن میں نے سلیم ملک کے ساتھ گزارا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ گرمیوں کے دنوں میں دن کے بارہ بجے تک ہماری مشق ہوتی تھی۔ پھر وہ شام پانچ بجے تک ویسے ہی کھیلتا تھا۔ گویا اوپر جانے کے لئے آپ کو مشقّت کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان میں ہر ایک بچے کا خواب کرکٹ ہے ریاضی نہیں! تو کہیں نہ کہیں میرے دماغ میں یہ بات تھی! میں نے سوچا بھی کہ میری کامیابی کے زیادہ امکانات پڑھائی میں ہیں کرکٹ میں نہیں لیکن کرکٹ میرا شوق تھا، ہے اور رہے گا! “ ۔

پروفیسر کی حیثیت سے پاکستان میں کام نہ کرنے کی تشنگی

” کبھی سوچا کہ ڈاکٹریٹ کر کے قائدِ اعظم یونیورسٹی میں پڑھاتا، ترقی کر کے شعبہ کا ہیڈ ڈپارٹمنٹ، ڈِین اور پھر وائس چانسلر بن جاتا۔ کیا آپ کو ایسی محرومی کا احساس ہوا؟“ ۔

” وائس چانسلر نہ بننے کو میں محرومی تو نہیں البتہ تشنگی ضرور کہوں گا! شاید میرا تجربہ ہو جاتا۔ لیکن شعبے کے ہیڈ ڈپارٹمنٹ اور ڈِین بننے والی بات کے سلسلے میں عرض کروں گا کہ امریکہ میں اِن عہدوں کی کوئی اتنی زیادہ خواہش نہیں ہوتی۔ شعبہ کے عام تدریسی عملے کے ارکان کو زیادہ لگن اپنے کام سے ہوتی ہے بجائے اس کے کہ وہ ’چودھراہٹ‘ ڈھونڈیں کہ یہ بن جاؤں یا وہ بن جاؤں! تدریسی عملے کے جو ارکان تحقیق کر رہے ہیں اُن کی دلچسپی صرف تحقیق ہی سے ہے!

امریکہ میں جب آپ شعبہ کے سربراہ یا ڈِین بن جائیں تو آپ کی چودھراہٹ نہیں بلکہ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستانی تعلیمی اداروں میں میرا پڑھانے کا تجربہ نہیں پھر بھی مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی جھِجھَک نہیں کہ آپ کی چودھراہٹ بڑھ جاتی ہے کہ فلاں تو یہ لگ گیا ہے! یہی مقصدیت کا فقدان ہی تو ہمارے اور مغربی معاشرے میں ایک بہت بڑا فرق ہے! جو شخص جس پیشے سے منسلک ہے اس کی زندگی کا مقصد بھی اسی شعبے سے ہونا چاہیے۔ پاکستان میں دوسروں پر سبقت لے جانا، کسی بھی طریقے سے ترقی حاصل کر لینا ہی تو زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔ میری تو ایسی خواہشات نہیں کہ پاکستان یا باہر کی کسی یونیورسٹی میں وی سی بن جاتا لیکن تشنگی ہے کہ پروفیسر کی حیثیت سے پاکستان میں کام نہیں کر سکا! “ ۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS