ڈاکٹر عبدالسلام کی وجد آفریں زندگی کے 29 خرد افروز واقعات


عالم اسلام کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) نے ہر پہلو سے بڑی کامیاب و کامران زندگی گزاری۔ راقم ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہے جس نے آپ جیسے قد آور طبیعات دان سے 1982 میں وسکانسن ریاست کے شہر میڈیسن میں لمبی پر مغز ملاقات کی تھی۔ وہاں آپ نوبل انعام ملنے کے بعد یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لئے تشریف لائے تھے۔ اس ملاقات کا حال راقم کی کتاب ”ڈاکٹر عبدالسلام، مسلمانوں کا نیوٹن“ میں درج ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے تعلق اس طرح پیدا ہوا کہ راقم نے ان کے نوبل انعام ملنے کی خوشی میں انگلش میں ایک مضمون ٹورنٹو سے شائع ہونے والے کمیونٹی نیوز پیپر میں 1981 میں لکھا اور اس کی کاپی ان کو لندن روانہ کر دی۔ آپ نے اس کا جواب خط کے ذریعہ دیا جو کتاب ”رموز فطرت“ میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کے بعد آپ سے خط و کتابت ہوتی رہی اور آپ نے کمال فیاضی سے مجھے اپنی کتابیں بھجوانی شروع کر دیں۔ آئیڈیل اینڈ ریلیٹیز (اردو ترجمہ خواب اور حقیقت) کی دس کاپیاں مجھے ملیں جو میں نے امریکہ اور کینیڈا کی لائبریریوں کو ارسال کر دیں۔ میرے خطوط کے جواب آئی سی ٹی پی کی طرف سے آتے جن میں بعض پر آپ کے دستخط کی مہر ہوتی تھی۔

آپ کی تاریخ ساز زندگی کے بارے میں دلچسپ اور سبق آموز واقعات کتابوں، رسالوں، لیکچرز میں پائے جاتے ہیں۔ ذیل کے واقعات اور حکایات مختلف سورسز سے اخذ کیے گئے ہیں۔

( 1 ) ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سابق سیکرٹری آف سٹیٹ ہنری کسنجر نے 1978 ء میں عالمی اشتراکی ترقی کی ضروریات کے سلسلے میں امریکہ کی جانب سے وعدہ کیا کہ انواع و اقسام کے اداروں کا قیام عمل میں آئے گا۔ جیسے انٹر نیشنل انرجی انسٹیٹیوٹ۔ انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکس چینج آف ٹیکنالوجیکل انفارمیشن۔ انٹرنیشنل انڈسٹرلائزیشن انسٹی ٹیوٹ۔ کسنجر نے ایسے اداروں کی ضرورت کے متعلق اظہار خیال کیا کہ اس صدی کے رہے سہے سالوں میں کرہ ارض کو شمال اور جنوب میں بانٹ دینے کا مطلب شاید سرد جنگ کے سیاہ ترین دنوں سے بھی بدتر دور میں سے گزرنا ہو گا۔ نتیجہ بڑا بھیانک ہو گا۔ باتیں تو بڑی ہوئیں مگر ان میں سے کسی پر بھی پر عمل نہ کیا گیا۔ 1983 میں مراکش میں میری ملاقات ڈاکٹر کسنجر سے ہوئی تو میں نے ان کو ان کے کیے ہوئے وعدوں کی یاد دہانی کرائی اور خاص طور پر توانائی کے ادارہ کے قیام کے بارے میں ان سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے بارے میں لکھو۔ میں نے خط لکھا انہوں نے میرے خط کو رسیدگی سے نوازا اور کہانی ختم ہو گئی۔

( 2 ) ڈاکٹر سلام کہتے ہیں یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میرا باپ ایسا شخص تھا جو علم کا دلدادہ تھا وہ اگرچہ مجھے سرکاری افسر بنانا چاہتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ میرا رجحان طبع سائنس کی طرف ہے تو پھر انہوں نے میری ہر ممکن حوصلہ افزائی کی۔ میرے تایا جان جو بعد میں میرے خسر بھی بن گئے وہ بھی علم کے بڑے قدردان تھے، اور ان سے میں نے بہت اثر قبول کیا۔ اور پھر مجھ پر بڑے شفیق، محبت کرنے والے اور محنتی اساتذہ کا سایہ رہا۔ مجھے مولوی عبدالطیف با ر بار یاد آتے ہیں جنہوں نے مجھے آٹھویں جماعت میں پڑھایا تھا میں نے جب ایک سوال ایک منٹ میں کر دکھایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے جیب سے ایک پیسہ نکال کر مجھے انعام دیا اور آبدیدہ ہو کر کہا اگر میرے پاس کچھ اور ہوتا تو وہ بھی دے دیتا۔

( 3 ) میں ایک بار پلا ننگ کمیشن کے چیئرمین سے ملنے گیا اور ان کو سائنسدانوں کو پیش رہائش کے مسائل سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ وہ ان مسائل کو دور کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ کراچی کی نصف آبادی فٹ پاتھ پر سوتی ہے وہ بھی وہاں سو جائیں۔ ایک اور موقع پر میں نے ان سے کہا کہ وہ انڈسٹریز لگانے کے معاملے میں جن میں سائنسی علم استعمال ہوتا ہے ان کے لگانے سے قبل ان سے مشورہ کریں۔ انہوں نے کھرا سا جواب دیا: میں سائنسدانوں سے کیوں مشورہ کروں؟ میں اپنے گھر میں باورچی سے کھانے کے معاملہ میں کوئی مشورہ نہیں کرتا۔

( 4 ) ڈاکٹر سلام کے ایک شاگرد رشید کو بھی نوبل انعام ملا اس کے بارے میں وہ کہتے ہیں : ایک امریکن سائنسدان جو نظریاتی طبیعات میں میرا شاگرد تھا یعنی والٹر گلبرٹ b۔ 1932 Walter Gilbert جس کے ساتھ مل کر میں نے ڈسپرشن dispersion پر ایک مضمون بھی لکھا تھا وہ جینیٹک کوڈ کے امریکن دریافت کنندہ جے ڈی واٹسن کا (کیونڈش لیبارٹری) میں ہمسایہ تھا۔ جب گلبرٹ 1956 ء میں پی ایچ ڈی مکمل کر نے کے بعد ہم سے رخصت ہوا تو وہ فزکس کا پروفیسر بن کر ہارورڈ یونیورسٹی واپس چلا گیا۔ اس کے بعد میری اپنے عزیز طالب علم گلبرٹ سے ملاقات 1961 میں ہوئی جب میں امریکہ گیا ہوا تھا۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ ابھی تک نظریاتی طبیعات پر کام کر رہا ہے میں نے اس سے پوچھا کہ اب کیا ارادے ہیں۔ وہ کچھ لجا گیا اور کہا میں شاید تمہارے لئے شرمندگی کا باعث ہوں۔ میرا وقت آج کل جراثیموں کی افزائش پر گزرتا ہے۔ واٹسن نے گلبرٹ کو جینیٹکس کی طرف مائل کر لیا تھا۔ گلبرٹ نے جلد ہی نیوکلک ایسڈ میں سیکیوئیسنگ sequencing کرنے کی ایک شاندار تیکنیک ایجاد کر لی۔ اور اسے 1980 میں کیمسٹری کا نوبل پرائز دیا گیا۔

( 5 ) امریکہ کے فادر آف اٹامک بمب اوپن ہائیمر سے ملاقات: 1951 میں مجھے مدعو کیا گیا کہ میں انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس سٹڈیز، پرنسٹن (امریکہ) آ کر ایک لیکچر دوں اس وقت تک میں اپنے نظرے کا اطلاق افزودہ سپن زیرو میسان کے فوٹان کے ساتھ باہمی رد عمل پر ری نارمالائزیشن تیکنیک پر کر چکا تھا۔ میں اپنے نئے مضمون کی نقل لے کر رابرٹ اوپن ہائیمر کے پاس گیا۔ اس خیال سے کہ شا ید وہ اس کو صاد کردے۔ اور میں اسے اشاعت کے لئے فزکس ریویو رسالہ کو بھجوا دوں۔ تب مجھے خیال آیا کہ مضمون کی نقل جو میں نے اوپن ہائیمر کو بھجوائی ہے۔ اس کے ساتھ ڈایا گرام لگانا تو میں بھول گیا ہوں۔ چنانچہ میں اس مسودہ کو واپس لینے کے لئے اس کے دفتر گیا۔ مجھے وہاں کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔ کیونکہ اس کو ملنے کے لئے لوگ آئے ہوتے تھے۔ پھر وہ اپنے دفتر سے باہر آیا اور مجھے دیکھ کر کہا : میں نے تمہارا مسودہ بہت مزے لے کر پڑھا ہے۔ یہ بہت اچھا مضمون ہے۔ مجھے اس پر خموش ہو جانا چاہیے تھا مگر میں ایک احمق کی طرح بولا: میرا خیال ہے کہ آپ اس کو سمجھ نہیں سکے کیونکہ اس کے ساتھ ڈایا گرام نہیں تھیں۔ اوپن ہائیمر کے چہرہ کا رنگ بری طرح بدل گیا مگر اس نے صرف اس قدر کہا اس کے نتائج بہر حال درست ہی ہیں اور وہ ڈایا گرام کے بغیر بھی سمجھ آ جاتا ہے۔

( 6 ) 1956 ء میں پر و فیسر بلیک ایٹ 1887۔ 1974 امپرئیل کالج لندن میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین تھے ان کو کالج کے تھیورٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے لئے چیئرمین کی تلاش تھی۔ پروفیسر ہانس بیتھ Bethe نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ پروفیسر سلام کو اس چیئر کے لئے منتخب کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے سلام کو پیشکش کر دی۔ البتہ ڈاکٹر سلام کو پروفیسر ٹیمپل Temple کے سامنے انٹر ویو کے لئے حا ضر ہونا تھا جو کہ ایڈنگٹن کے معترف تھے۔ انٹرویو کے دوران ٹیمپل نے ڈاکٹر سلام سے پو چھا کہ ان کی رائے ایڈنگٹن کی اسٹرانومی پر کتاب کے بارے میں کیا ہے؟ سلام کی رائے کچھ اچھی نہ تھی مگر چو نکہ ان کو ٹیمپل کی رائے کا علم تھا، اس لئے یوں جواب دیا:

I had not read the book with the detachment of a neutral mind. Professor Temple smiled and said: Young man, you should go to diplomatic service.

( 7 ) ڈاکٹر سلام کو خدا تعالیٰ نے غضب کا حا فظہ ودیعت کیا تھا۔ جب سلام گورنمنٹ کالج لاہور میں طا لب علم تھے تو طلباء کو اس چیز کا بخوبی علم تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر وحید قر یشی اس وقت ان کے ہم جماعت تھے۔ ایک روز طلباء کا ایک گروپ انارکلی بازار یونہی گھومنے گیا جب وہ بازار کے ایک طرف سے گھومتے ہوئے دوسری طرف پہنچ گئے تو وحید قریشی نے سلام سے پوچھا کہ کیا وہ بازارکے دائیں طرف کی ہردکان پر لگے ہوئے بورڈ پر لکھے نام کو دہرا سکتے ہیں؟ قر یشی صا حب حیران رہ گئے جب سلام نے نوے فی صد نام یک لخت دہرا دیے۔ سلام کو اس ٹیسٹ کا بازار میں داخل ہونے سے پہلے بتلایا نہیں گیا تھا۔

( 8 ) جب بھٹو گورنمنٹ نے پا کستان میں احمدیہ جماعت کو 1974 میں آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا تو ڈاکٹر سلام نے بہ حیثیت سائنسی مشیر وزیر اعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ اور کہا کہ جہاں تک ملاؤں کا تعلق ہے میں اس ضمن میں پرنس آف فزیشنز، الشیخ الرئیس ابو علی ابن سینا کے مرتبہ کا ہوں جس کو اس کے زمانے کے ملاؤں نے کافر قرار دیا تھا۔ اس ضمن میں آپ نے ابن سینا کی یہ فارسی رباعی پیش کی:

کفرے چومن گزاف آسان نبود بحکم تراز ایمان من ایمان نبود
دردہر چومن یکے و آنہم کافر پس در ہمہ دہر یک مسلمان نبود

( 9 ) ڈاکٹر عبدالسلام نے 1988 میں بر طانیہ میں ڈائراک (Dirac) میموریل لیکچر دیتے ہوئے بتلایا کہ بچپن میں ( 1936 ) ان کا تعارف فطرت کی چار قوتوں کے بارے میں ان کے ٹیچر سے ہوا تھا۔ پہلے تو ٹیچر نے گریویٹی (یعنی قوت ثقل) کے بارے میں بتایا۔ ہر کوئی اس کے بارے میں شد بد رکھتا تھا کیونکہ نیوٹن جیسے سائنسدان کا نام جھنگ جیسے شہر میں بھی ہر ایک کو معلوم تھا۔ پھر اس نے مقناطیسی قوت کے بارے میں ہمیں بتلایا اور اس کے ساتھ ہمیں ایک مقناطیس بھی دکھلایا۔ پھر اس نے الیکٹرسٹی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ جھنگ میں نہیں پائی جاتی بلکہ یہ لاہور میں پائی جاتی ہے جو کہ ایک سو میل دور تھا۔ آخر پر اس نے نیوکلیئر فورس کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ فورس یورپ میں پائی جاتی ہے انڈیا میں نہیں، اس لئے ہمیں اس کے بارے میں فکر کر نے کی کوئی ضرورت نہیں۔ Unification of Fundamental Forces، A۔ Salam، page 35، 1990

( 10 ) ڈاکٹر سلام اور ڈاکٹر وائنبرگ 1933۔ 2021 الگ الگ برطانیہ اور امریکہ میں اس تھیوری پر 1967 میں ریسرچ کا کام کر رہے تھے جس کی بناء پر ان کو نوبل انعام دیا گیا۔ اس الیکٹرو ویک تھیوری کو وضع کر نے میں بہت سے آئیڈیاز سے کام لیا گیا تھا ان میں سے ایک آئیڈیے کا نام spontaneously breaking symmetry تھا۔ سوال یہ تھا کہ سیمٹری ٹوٹتی کیسے ہے؟ اس کو سمجھانے کے لئے ڈاکٹر سلام یہ مثال دیتے تھے :فرض کریں کہ آپ نے شام کے کھانے پر بارہ افراد کو بلایا ہے۔ وہ ایک بڑے گول میز کے گرد بیٹھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو کسی قاعدہ کا علم نہیں تو آپ کسی بھی کرسی پر بیٹھ سکتے ہیں اور پلیٹ کو چاہے دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے لے لیں۔ یہ سیمٹری کی حالت کہلاتی ہے۔ لیکن جونہی ان مہمانوں میں سے کسی نے پہل کر کے پلیٹ اٹھا لی تو پھر باقی کے تمام مہمانوں کو اسی طرف سے پلیٹیں اٹھانا ہوں گی یوں لیفٹ اور رائیٹ کی سمیٹری spontaneously broken ہو گئی۔

( 11 ) عالمی شہرت یافتہ قانون دان، پا کستان کے پہلے وزیر خارجہ آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کے عشق رسول ﷺ کا ایک واقعہ ڈاکٹر سلام نے بیان کیا کہ ایک دفعہ چوہدری صا حب موصوف کمردرد کی وجہ سے صاحب فراش ہو گئے اور وانڈزورتھ کے ہسپتال میں داخل تھے۔ ڈاکٹر سلام ان کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے، ساتھ میں وہ کتاب شمائل ترمذی بھی لے گئے۔ اس کتاب میں رسول مقبول ﷺ کی روزانہ زندگی، آپؑ کے خدوخال، آپؑ کیا زیب تن فرماتے تھے، نیز آپ ؑکی روزانہ کی مصروفیات، عائلی زندگی اور پبلک لائف کو بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سلام کا خیال تھا کہ اللہ نے چاہا تو وہ ایک روز اس کتاب کا انگلش میں خود ترجمہ کریں گے۔ یہ کتاب وہ چوہدری صاحب کے پاس بغرض مطالعہ چھوڑ آئے اور خود ملاقات کے بعد اپنے انسٹیٹیوٹ، ٹریسٹ (اٹلی) روانہ ہو گئے۔ چند ماہ بعد ڈاکٹر صا حب واپس لندن آئے اور چوہدری صاحب سے ملاقات کے لئے ان کی رہائش گاہ پر گئے۔ چوہدری صا حب نے شمائل ترمذی کا انگلش ترجمہ ان کو پیش کیا جو کہ زیور طبع سے آراستہ ہو چکا تھا، جس کے اوپر انہوں نے آٹو گراف بھی دے دیے تھے۔ ڈاکٹر سلام نے احتجاج کیا کہ یہ ترجمہ تو میں کرنا چاہتا تھا تا کہ میرا بھی غفران ہو سکے۔ چوہدری صاحب نے فرمایا مجھے لگتا تھا کہ تمہیں مستقبل قریب میں شاید اتنا وقت نہ ملے تو میں نے سوچا کہ میں جو ہسپتال میں بستر پر فارغ پڑا ہوں میرے وقت کا صحیح مصرف یہی ہو گا کہ یہ ترجمہ کر ڈالوں۔

( 12 ) ڈاکٹر صا حب کی اہلیہ (محترمہ امۃ الحفیظ صا حبہ) سے کسی نے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ کے شوہر سائنس دان ہیں اور ایسے لوگوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ غیر حاضر دماغ ہوتے ہیں۔ کیا ڈاکٹر صا حب بھی ایسے ہیں؟ بیگم صا حبہ نے جواب دیا کہ وہ اکثر خیالات میں مستغرق ہو تے ہیں اور یوں نظر آتا ہے کہ سوچتے سوچتے وہ کسی دوسری دنیا میں چلے گئے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کھانے کی میز پر موجود ہیں اور اچانک نوالہ ہاتھ سے رکھ کر لکھنے پڑھنے کی میز پر چلے جاتے ہیں۔ اور پھر گھنٹوں مصروف رہتے ہیں۔ دراصل وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں اور یہی ان کے کھوئے رہنے کا سبب ہے۔ روزنامہ مشرق لاہور۔ 19، اکتوبر 1979

( 13 ) ڈاکٹر عبد السلام کا ایک پسندیدہ شعر اور ان کی بیان کردہ اس کی تشریح:

کئی بار اس کی خا طر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی
( فیض)

If there is one hallmark of true science, if there is one perception that scientific knowledge heightens, it is this spirit of ’tahayyar‘ . The deeper that one goes, the more profound one ’s insight, the more is one‘ s sense of wonder increased.

( 14 ) کسی نے ڈاکٹر سلام سے سوال کیا What happened to Islamic Science؟ انہوں نے جواب دیا :

Nothing, instead what we cultivated in Ishpahan and Cordoba is now being cultivated at MIT, Caltech, and at Imperial College, London. It ’s just a geographical translations of place

( 15 ) جنوری 1961 میں ڈاکٹر سلام ڈھاکہ جاتے ہوئے کراچی میں رکے جہاں ان دنوں ویسٹ وہارف میں PAEC کی لیبارٹریز تھیں اور سائنسدانوں کا ایک فعال ریسرچ گروپ meson۔ interaction پر تحقیق کا کام کر رہا تھا۔ ڈاکٹر سلام نے Sir John Cockcroft (نوبل 1951 ) کو دعوت دی تھی کہ وہ ان لیباٹریز کو وزٹ کریں۔ صبح کے وقت یہ گروپ اپنے کام میں مصروف تھا قبل اس کے کہ سر کاک کرافٹ کمرہ میں آتے کسی نے بلیک بورڈ کو صاف کر دیا۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر سلام آئے اور بلیک بورڈ صاف دیکھ کر کہا ایسا لگتا ہے کبھی استعمال ہی نہیں ہوا چنانچہ انہوں نے بلیک بورڈ پر ایک پرابلم سمجھانا شروع کر دیا۔ عین اس وقت سر کاک کرافٹ تشریف لائے اور سلام سے مخاطب ہو کر کہا Oh you have started your research group already

( 16 ) پاکستان ائر فورس کے ائرمارشل ظفر چوہدری ( 1926۔ 2019 ) نے بیان کیا: ایک مرتبہ میرا چھو ٹا بھائی اور میں صبح کے وقت لندن ڈاکٹر صا حب کے گھر گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے قدرے پریشانی کے عالم میں بتایا کہ انہیں کالج پہنچنا ہے اور بیٹری کمزور ہو نے کی وجہ سے ان کی کار سٹارٹ نہیں ہو رہی۔ میر ے بھائی نے کہا کہ اگر صرف یہ بات ہے تو لازماً دھکا لگانے سے ضرور سٹارٹ ہو جائے گی۔ ڈاکٹر صاحب بہت حیران ہوئے اور کہا کہ کیا واقعی اس طرح کار سٹارٹ کی جا سکتی ہے؟ میرا بھائی کار میں بیٹھا اور ڈاکٹر صاحب اور میں نے دھکا لگایا اور یوں کار سٹارٹ ہو گئی اور یہ مشکل حل ہو گئی۔ اس طرح ہم پر یہ راز کھلا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک عظیم سائنسدان روزمرہ کے معمولی ٹوٹکوں سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔

( 1 7 ) زکریا ور ک نے بیان کیا: انیس سو اسی کی دہائی کے شروع میں پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کا اخبارات میں بہت چرچا تھا اور صحافی چہ میگوئیاں کیا کرتے تھے کہ اس ضمن میں پاکستان کی کون مدد کر رہا ہے۔ میں نے نیویارک ٹائمز میں اور انڈیا ابراڈ امریکہ میں بھی اس ضمن میں مضامین پڑھے تھے جن میں یہ ذکر کیا گیا تھا کہ عبد السلام ضرور پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے (میڈیسن وسکانسن) میں با لمشافہ ملاقات کے دوران آپ سے استفسار کیا کہ مغربی میڈیا میں یہ کہا جا تا ہے کہ آپ پا کستان کی نیو کلیئر بمب بنانے میں مدد کر رہے ہیں؟ بلکہ بعض ایک نے تو آپ کو فادر آف نیو کلیئر پروگرام بھی لکھا ہے۔ تو آپ مسکر ا دیے۔ ایک منجھے ہوئے ڈپلومیٹ کی طرح جواب دیا : یہ دو دھاری تلوار ہے : it ’s a double edge sword

( 18 ) ڈاکٹر سلام کے برادر اصغر، چوہدری عبد الرشید (لندن، وفات 2024 ) نے بیان کیا: ڈاکٹر صا حب، چوہدری محمد ظفر اللہ خان صا حب کی حد درجہ عزت اور احترام کرتے تھے، دونوں مختلف مسائل پر بعض دفعہ لمبی گفتگو کیا کرتے تھے۔ دسمبر 1979 میں ڈاکٹر صا حب کے اعزاز میں گورنر پنجاب نے عشائیہ کا اہتمام کیا، اس موقعہ پر گورنر پنجاب سوار خاں نے پوچھا کہ اب آپ کا آئیڈیل کون ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔ سر ظفر اللہ خاں۔ اس پر گورنر خاموش ہو گئے۔

( 19 ) ما ہر علم و ادب، پروفیسر خواجہ مسعود نے بیان کیا: مختلف ممالک نے کوشش کی کہ ڈاکٹر سلام ان کے ملک کی شہریت لے لیں۔ مثلاَ وزیر اعظم ہند جواہر لعل نہرو نے کہا کہ ڈاکٹر سلام تقسیم ہند سے پہلے تو بھارتی تھے۔ ایک دفعہ انڈیا آ جائیں ہم جیسا ادارہ کہیں گے بنا دیں گے۔ لیکن ڈاکٹر صا حب بھلا کہاں ما ننے والے تھے۔ بلکہ ہم نے ان کی علالت کے دوران انڈین اخبارات کے تراشے دیکھے ہیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر صا حب سے بار بار کہا تھا کہ ہم آپ کو 300 کروڑ روپیہ کی آفر دیتے ہیں، ہم سلام یونیورسٹی سری نگر میں بنائیں گے۔ لیکن ڈاکٹر صا حب نے کہا آپ میرے نام پر جو مرضی بنائیں میں اول و آخر پاکستانی ہوں۔ (دی نیوز 23 دسمبر 1996 )

( 20 ) ڈاکٹر عقیلہ اسلام، سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج فار ویمن، کراچی نے بیان کیا: 1958 میں کراچی میں ایک سائنس کانفرنس منعقد ہوئی جس کا افتتاح پرنس فلپ نے کیا۔ جملہ نامور شرکاء میں جولین ہکسلے Huxley کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام نے بھی لیکچر دیا۔ پا کستان کے کئی ایک ابھرتے ہوئے سائنسدانوں نے بھی شرکت کی۔ جب ڈاکٹر سلام نے لیکچر دینا شروع کیا اس وقت ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ آپ کے لیکچر کا موضوع matter Matter & Anti تھا تمام لیکچر بہت ہی مشکل اور ٹیکنیکل تھا۔ مگر اس کے باوجود ان کی طلسماتی شخصیت اور جوانی کی عمر کے باعث لوگوں کا وہاں جم غفیر تھا لیکچر کو سننے کے بعد میں نے سائنسدان بننے کا فیصلہ کیا اور نیو کلیئر فزکس کی فیلڈ میں چلی گئی۔

( 21 ) ڈاکٹر عبدالسلام کے ایک شاگرد کا نام Yuval Neeman 2006۔ 1925 تھا۔ وہ اسرائیل کے لندن میں سفارت خانے میں ملٹری اتاشی کے عہدہ پر فائز تھا۔ اس کو پارٹیکل فزکس کے مضمون سے بھی لگاؤ تھا۔ ایک روز وہ ڈاکٹر سلام کے پاس امپرئیل کالج لندن آیا اور اپنی تھیوریز کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر صاحب بہت متاثر ہوئے اور اس کو اپنا سٹوڈنٹ بنا لیا۔ نیمین نے پارٹیکل فزکس میں ریسرچ کا کام شروع کر دیا اور 1962 میں ڈاکٹر سلام کے ماتحت تحقیقی کام کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی۔ اس نے جو زمین شکن تھیوری پیش کی اس کا نام SU ( 3 ) ہے۔ اس نے ایک کتاب بھی تصنیف کی جس کا نام Particle Hunters ہے۔ اس کو متعدد اعزازات ملے۔ اس واقعہ سے ڈاکٹر صا حب کی دور بین نگاہوں کا علم ہو تا ہے، کوئی اور ہوتا تو کہتا کہ یہ ملٹری کا بندہ فزکس میں کیوں ٹا نگ اڑا رہا ہے مگر نہیں گوہر شناس نے گوہر کو پہچان لیا تھا۔ سلام کی نگاہ کرشمہ ساز نے اس نوجوان ملٹری اتاشی کی شخصیت کو تاب دار بنا دیا۔

( 22 ) استاد کا احترام :قیام پاکستان سے قبل لالہ ایش کمار، گو رنمنٹ کالج جھنگ میں انگریزی کے استاد تھے۔ ان کے شاگردوں میں عبدالسلام بھی شامل تھے۔ دہلی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبدالسلام کے اعزاز میں نوبل پرائز ملنے کے بعد ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ سٹیج پر وزیر اعظم ہندوستان کے ساتھ ڈاکٹر صا حب بھی تشریف فرما تھے۔ دو تین ہزار سامعین میں وزیروں، سفیروں، اور امیروں کی صف کے بعد ایک بوڑھا شخص گوشے میں بیٹھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صا حب نے اس ضعیف العمر شخص کو پہچان لیا، وہ سٹیج سے اترکر سرخ قالین پر چل پڑے اور سیدھے اس شخص کے پاس پہنچ گئے، یہ لالہ ایش کمار تھے، ان کو ساتھ لے کر ڈاکٹر صا حب سٹیج پر آئے اور وزیر اعظم کے ساتھ کی کرسی پر ان کو بٹھا دیا۔ (چناب سے گومتی تک۔ لا لہ ایش کمار، ما ہنامہ افکار کراچی جنوری 1982 )

( 23 ) اصغر علی گھرال (کالم نگار روزنامہ پاکستان، لاہور) رقم طراز ہیں : نوبل انعام تافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام کے بارے میں بعض مولویوں نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ وہ پاکستان کے سائنسی راز امریکہ، یورپ، اور روس کو سمگل کر تے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں ایک بستی سے درزی اچانگ بھا گ گیا، بستی میں کہرام مچ گیا۔ کسی کے سوٹ کا کپڑا لے گیا اور کسی کی شیروانی کا۔ کوئی اپنے غرارے کو رو رہی ہے اور کوئی شلوار قمیض کو، لیکن ان سے زیادہ اونچی آواز میں گاؤں کا میراثی رو رہا تھا۔ اس سے کسی نے پوچھا : تمہارا کیا نقصان ہوا ہے؟ ہچکیاں لیتے ہوئے اس نے انکشاف کیا کہ ظالم، میرا ناپ لے گیا (اسلام یا ملا ازم۔ ص 145 )

( 24 ) پاکستان ٹائمز لاہور کے رپورٹر نے ڈاکٹر صا حب سے سوال کیا: کیا خدا کا وجود ریاضی کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے؟ ڈاکٹر صا حب نے جواب دیا۔ This is rubbish یہ بالکل بے ہودہ مفروضہ ہے۔ اس بات کو سائنس میں دیکھا اور پر کھا ہی نہیں جاتا، دیکھیں موت کے مو ضوع پر سائنس میں کوئی بحث نہیں ہوتی۔ انسان کیوں پیدا ہوا اور کیوں مرتا ہے؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سائنس اس مسئلہ کو تو فارمولیٹ بھی نہیں کر سکتی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لئے ہے جو غیب پر یقین رکھتے ہیں۔ غیب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اشیا جن کا انسان سوچ اور گمان بھی نہیں کر سکتا۔ لہذا آپ سائنس کے ذریعہ کسی کا مذہب تبدیل نہیں کر سکتے، نہ ہی غیر مذہبی کو مذہبی بنا سکتے ہیں۔ سائنس تو صرف آپ کو بعض گائیڈ لائنز دیتی ہے۔

( 25 ) ڈاکٹر سلام نے دو نوبل انعام یافتگان کا تعارف یوں کرایا: صدیوں پہلے ایران کے بادشاہ کے ہاں کسی پڑوسی سلطنت کا بادشاہ مدعو تھا دونوں بادشاہ دربار میں تشریف فرما تھے۔ اور ساتھ میں ایران کے بادشاہ کا وزیر اعظم بھی۔ مشروبات پیش کیے جا تے ہیں وزیر کے لئے اب مسئلہ یہ ہے کہ مشروب پہلے اپنے بادشاہ کو پیش کرے یا مہمان بادشاہ کو۔ دونوں صورتوں میں اعتراض کی گنجائش نکلتی تھی۔ پرانے زمانے کے وزیر با تدبیر سیانے ہوا کر تے تھے۔ اس نے اپنے بادشاہ کے طرف مشروب بڑھا تے ہوئے کہا : ایک بادشاہ کو ہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے بادشاہ کو مشروب پیش کرے It befits one King to present to another یہ دلچسپ واقعہ سنا کر سلام نے کہا آج میری بھی یہی کیفیت ہے۔ مگر اس ایرانی وزیر با تدبیر نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ میں دعوت دیتا ہوں کہ جناب ڈائراک Dirac تشریف لائیں اور ہائیزنبرگ Heisenberg کو متعارف کرائیں۔

( 26 ) جولائی 1982 ء میں ٹورنٹو کے مشہور ریڈیو CHIN اسٹیشن کے جرنلسٹ پروفیسر نریندر ناتھ SUNY نے ڈاکٹر سلام کا انٹرویو فون پر لیا جب آپ نیویارک میں سفر کے دوران مقیم تھے۔ اس اہم انٹرویو کا انتظام زکریا وِرک نے کروایا تھا، کیونکہ ڈاکٹر صاحب سے ان کا نیویارک کا فون نمبر میڈیسن میں لے لیا گیا تھا۔ نریندر ناتھ نے آپ سے سوال کیا، آپ روزانہ اندازہً کتنے گھنٹے کام کر تے ہیں؟ جواب: میر ے اوقات کچھ اس طرح ہیں کہ میں پانچ بجے کے قریب اٹھتا ہوں جس طرح ہمارے ملک میں صبح اٹھنے کی عادات ڈالی جاتی ہے۔ اس کے بعد نماز پڑھنے کے بعد ناشتہ کرتا ہوں اور پھر کام شروع کر دیتا ہوں۔ آٹھ بجے کے قریب اپنے دفتر جاتا ہوں، اٹلی میں میرا دفتر ساتھ ہی ہے اور وہاں کوئی سات بجے شام تک کام میں مصروف رہتا ہوں۔ شام کو جب میں گھر آتا ہوں تو جلدی سو جاتا ہوں۔
(رموز فطرت، صفحہ 173۔ مضمون نگار کے پاس انٹرویو کا کیسٹ 43 سال بعد ابھی تک محفوظ ہے )

( 27 ) ڈاکٹر سلام کے بھائی چوہدری عبد الحمید (لاہور) نے بیان کیا: نوبل انعام ملنے کے بعد ڈاکٹر سلام 15 دسمبر 1979 ء کو کراچی تشریف لائے۔ اس کے بعد وہ اسلام آباد 18 دسمبر کو گئے۔ اگلے روز نیشنل اسمبلی ہال میں جنرل ضیاء الحق نے بہ حیثیت چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی آپ کو ڈاکٹر آف سائنس کی آنریری ڈگری دی۔ کانوکیشن سے قبل عصر کی نماز ادا کر نے کے لئے لوگ ہال میں سے نکل رہے تھے تو جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر صا حب سے مخاطب ہو کر کہا: پروفیسر صاحب، کیا آپ ہمارے ساتھ نماز ادا کریں گے یا علیحدہ پڑھیں گے؟ پروفیسر سلام: سر، میں نماز علیحدہ پڑھوں گا۔ جنرل صا حب: مجھے پتہ ہے کہ آپ ہم سے اچھے مسلمان ہیں۔ پروفیسر سلام: کیا میں آپ کا یہ بیان اخبارات میں شائع کروا سکتا ہوں؟ جنرل صا حب: ضرور کروائیں، لیکن میں انکار کر دوں گا۔

( 28 ) ڈاکٹرسلام کے رفیق کار ڈاکٹر ٹام کبل TomKibble ایف آر ایس (امپرئیل کالج) نے بیان کیا: جب ہندوستان اور پاکستان پر کشمیر کے تنازعہ پر جنگ کے گمبھیربادل چھائے ہوئے تھے۔ تو ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر ہومی بھابھا (فاؤنڈر۔ ٹاٹا انسٹیٹیوٹ، ممبئی) نے صدر ایوب اور جواہر لعل نہرو کے درمیان مصالحت کی کوشش کی مگر یہ کوشش بارآور نہ ہوئی۔

Obituary, The Independent, UK, Nov 23, 1996

( 29 ) عبد السلام میموریل میٹنگ، ان کی وفات کے ایک سال بعد 1997 میں منعقد ہوئی۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر منیر احمد خاں (سابق چیئرمین، PAEC) نے بتایا: سلام سے میری ٹریسٹ میں یادگارطویل ملاقات 1992 ء میں ہوئی۔ صبح کے وقت اس نے خود میرے لئے ناشتہ تیار کیا اور ہم کچن میز پر بیٹھ گئے اور سلام نے خوب دل کھول کر، بلا تکلف دل کی باتیں کیں۔ اس نے مجھے بتایا زندگی کے اس موڑ پر وہ اب بیالوجی کی فیلڈ میں ریسرچ کر رہا ہے، اور ما لیکیول کے سٹرکچر کو سمجھنے کی کو شش میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مالی کیولز کے اندر کیا کمپلیکس ری ایکشنز عمل پذیر ہوتے ( جیسے فوٹو سنتھیسز، کمبس چن ناقل) ۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ میتھیمیٹیکل فزکس کے اصولوں کو اس مو ضوع پر لاگو کرے۔ جدید ریسرچ کا یہ کام جو سلام نے شروع کیا وہ طویل علالت کی شدت کے باعث مکمل نہ کر سکا، مجھے امید ہے مستقبل میں کوئی دوسرا ضرور کرے گا۔ خاں صاحب نے یہ بھی بتلایا کہ سلام سے ان کی آخری ملاقات آکسفورڈ میں 1996 میں وفات سے تین ماہ قبل ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ سلام اور منیر خاں کی دوستی کا عرصہ 55 سال پر محیط تھا، دونوں نے گورنمنٹ کالج کی یونین کا الیکشن لڑا تھا، مگر سلام جیت گئے تھے۔

Facebook Comments HS