دوائی کے نام پہ زہر مت کھائیں


ویسے کرنی تو آپ نے اپنی مرضی ہی ہے لیکن بتاتا چلوں کہ کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر ادویات کا استعمال نہ کیا کریں۔

آج کل فیس بک پہ کچھ میڈیکل سٹور والے اس طرح ادویات بتا رہے ہیں۔ کہ یہ مسئلہ ہو تو فلاں گولی لے لو، وہ مسئلہ ہو تو فلاں لے لو۔ ان بیچاروں کو خود یہ پتا نہیں ہوتا کہ ایسی ادویات کتنی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ جیسے ساتھ دی گئی تصویر میں کوئی پیشاب کے مسئلہ پہ ٹائیور گولی کھانے کا مشورہ دے رہا ہے۔

میں نے پہلے بھی لکھا تھا ادھورا علم خطرناک ہوتا ہے ان میڈیکل سٹور والوں نے بس یہ دیکھا کہ پیشاب کے مسئلے میں یہ دوائی دی جا رہی ہے تو اپنی مشہوری کے لیے ہر پیشاب کے مسئلے والے بندے کو یہ گولی دینا شروع کر دی۔

اگر ہم صرف اس سے متعلق بات کریں تو پیشاب کے کئی قسم کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ بوڑھوں میں غدود بڑھنے سے لے کر نیورولوجیکل مسائل تک کئی مختلف امراض ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پیشاب کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم نے اصل مسئلہ کا علاج کرنا ہوتا ہے اور ان میں سے اکثر مسائل اس دوائی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ بچوں میں ٹوائلٹ ٹریننگ سے لے کر نفسیاتی معاملات تک کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں یہ دوائی کسی طور بھی استعمال نہیں کرنی ہوتی۔

اور اگر اس دوائی کے نقصانات کی بات کی جائے تو یہ دوائی منہ خشک کرنے سے لے کر ڈی ہائیڈریشن تک ایسے مسائل پیدا کر سکتی ہے جو کسی کے لیے جون لیوا ہوں۔ اس کی وجہ سے ہیٹ سٹروک کے امکان بڑھ سکتے ہیں، اس کی وجہ سے پیشاب رک سکتا ہے جو انتہائی تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے انتڑیوں کی حرکت متاثر ہو سکتی ہے، سخت قسم کی قبض ہو سکتی ہے۔ اس دوائی سے آپ کے جسم میں ایسا ری ایکشن ہو سکتا ہے کہ آپ کی جان لے لے۔

اس دوائی کی وجہ سے دماغ پہ اثر ہو سکتا ہے، وہ لوگ نظر آنا شروع ہو سکتے ہیں جو موجود ہی نہیں ہیں، وہ آوازیں سنائی دینا شروع ہو سکتی ہیں جو وجود ہی نہیں رکھتیں۔ انسانی دماغ نارمل کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ اس دوائی کی وجہ سے دل کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پہلے سے دل کے مسائل ہونے پہ اس دوائی سے وہ مزید خراب ہو کر جان لیوا ہو سکتے ہیں۔

اور یہ میڈیکل سٹور والے ایسے دوائی کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں، جیسے یہ کوئی دوائی نہیں ٹافی ہو۔ یہی کام بہت سے گلیوں محلوں میں بیٹھے ڈسپنسر، اتائی، نیم حکیم، جعلی ہومیوپیتھک والے بھی کرتے ہیں۔ وہ ایسی ادویات دے دیتے ہیں جن کے متعلق ان کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنا نقصان کر سکتی ہیں۔ پھر جب وہ ادویات آہستہ آہستہ کسی کی بیماری بگاڑ دیتی ہیں، کسی کی جان لے لیتی ہیں، کسی کی زندگی تباہ کر دیتی ہیں اور اکثر دوائی کھانے والے کو پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کسی جاہل کے تجربات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے، کسی نیم حکیم کی وجہ سے اس کی زندگی تباہ ہوئی ہے۔

مستند علم رکھنے والا پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس دوائی کی کتنی ضرورت ہے، یہ دوائی جو مسائل بنائے گی، وہ مریض کا جسم برداشت کر سکے گا یا نہیں۔ اس دوائی سے ہونے والا فائدہ اس کے نقصانات سے بہت زیادہ ہے یا نہیں۔ یہ سب دیکھنے کے بعد ہی وہ دوائی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور یہ سب دیکھ کر ہی وہ طے کرتا ہے کہ دوائی کتنی دینی ہے اور کتنے دن دینی ہے۔

آپ کی یا آپ کے پیاروں کی زندگی اتنی سستی نہیں ہے کہ انھیں تجربات کی بھینٹ چڑھائیں۔ سوشل میڈیا پہ بتائی گئی ادویات استعمال مت کریں، اپنا نقصان مت کریں۔ گلی محلے میں بیٹھے دو نمبر معالجوں کے پاس مت جائیں۔ پرائیویٹ ہسپتال جانے کے پیسے نہیں ہیں تو سرکاری ہسپتال جائیں۔ وہاں مفت یا سستا علاج ہو گا، وہ علاج کروائیں لیکن کچھ پیسے بچانے کے لیے اپنے پاؤں پہ خود کلہاڑی مت ماریں۔ آپ کی ذرا سی بیوقوفی آپ کی زندگی کے کئی سال کم کر سکتی ہے۔ آپ کی صحت تباہ کر سکتی ہے، آپ کا مرض بگاڑ سکتی ہے۔

زندگی موت خدا کے ہی ہاتھ میں ہے لیکن ہم سڑک پار کرتے ہوئے آنکھیں کھلی رکھتے ہیں، پوری احتیاط کرتے ہیں کہ ایکسیڈنٹ نہ ہو جائے کیونکہ یہی احتیاط ہمیں خیریت سے رکھ سکتی ہے، اسی طرح علاج معالجے کے معاملے میں بھی آنکھیں کھلی رکھیں، احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جوڑیں۔

 

Facebook Comments HS