طاہرہ کاظمی کی جوتی

میں جب بھی طاہرہ کی تحریریں پڑھتی ہوں، سال کے سال اس سے ملتی ہوں، اس کی باتیں سنتی ہوں تو یوں لگتا ہے کہ اس کے اندر تخلیقی توانائی کا آتش فشاں پھٹ پڑا ہے۔ جسے اس نے نجانے کب سے دبا رکھا تھا۔ توانائی کا یہ گرم اور ابلتا ہوا لاوا پدرسری سماج کی کہنہ روایات کو نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا ہے۔ طاہرہ امراض نسواں کی ماہر ہیں اور خود کو گائنی فیمنسٹ کہتی ہیں لیکن انہوں نے ایک قلمکار کی حیثیت سے خود کو طبی مہارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سماج کی دھجیاں اڑائی ہیں جو روایات اور شرم و حیا کے نام پر عورتوں کی جان لینے پرتلا ہوا ہے۔
ان کی تخلیقی توانائی کا حالیہ اظہار ان کی پنجابی نظموں کے مجموعے ”جتی“ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ میں نے یہ کتاب ایک نشست میں ہی پڑھ ڈالی۔ سچی بات ہے کہ اس سے پہلے زندگی میں، میں نے پنجابی کی ایک ہی کتاب پڑھی تھی اور وہ تھی فخرالزماں کی ’بندی وان‘ ۔ اب یہ دوسری کتاب ہے جو میں نے پڑھی ہے۔ یہ اور بات کہ ”ڈاکٹر طاہرہ کاظمی دا نواں مورچہ“ کے نام سے مقصود ثاقب صاحب نے اتنی مشکل پنجابی میں دیباچہ لکھا ہے کہ میں نے اسے چھوڑ دینا ہی بہتر جانا اور براہ راست نظموں پر آ گئی۔
ویسے تو ساری نظمیں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں لیکن میں سب سے پہلے ان کی نظم ”آپے جتی ہوئی!“ کا حوالہ دینا چاہوں گی۔ اپنی کتاب کا نام ”جتی“ انہوں نے اسی نظم کے حوالے سے رکھا ہے۔ اس معاشرے میں شادی کے ادارے میں عورت کو ایک جوتی کا مقام ہی تو دیا جاتا ہے۔ اس کی حیثیت پیر کی جوتی سے بڑھ کر نہیں ہوتی۔ ”پیر کی جوتی کو سر پر نہیں چڑھانا چاہیے“ والا محاورہ تو آپ نے سنا ہو گا۔ طاہرہ کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد عورت جوتیاں کھاتے کھاتے خود جوتی بن جاتی ہے۔
وہ عورت جو ایک حسین و جمیل دلہن بن کر سسرال میں آتی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے سسرال کی دیگر خواتین کی طرح بد وضع اور بے ڈول ہو جاتی ہے۔ عورت کے لئے جوتی بن جانے کا مطلب مرد کے پیروں پہ پڑنا اور اس کے قدموں میں رہنا ہے۔ یہی اس کی زندگی یہی اس کا مقام ہے۔ اپنی نظم ”چنج نہ کھولیں“ میں طاہرہ وہ سبق دہراتی ہیں جو ہر لڑکی کو پڑھایا جاتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، اسے منہ بند رکھنا ہے مگر ایک وقت آتا ہے جب لڑکی فیصلہ کر لیتی ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ بولے گی ضرور۔
شاید اسی وقت کے لئے فیض نے کہا تھا ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ ۔ ”اک شامی“ ایک ایسی نظم ہے جسے ایک ملازمت پیشہ ماں یا ورکنگ مدر ہی سمجھ سکتی ہے جسے ہمیشہ یہ دکھ اور احساس جرم رہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اتنا وقت نہیں دے پائی جتنا گھر میں بیٹھی مائیں دیتی ہیں۔ لیکن اس کے بچوں کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ان کی ماں نے محنت کر کے انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا ہے۔ ”چنگی کڑی“ یعنی نیک پروین اور شریف بی بی وہ ہوتی ہے جو شادی یعنی یک سوشل کنٹریکٹ میں داخل ہوتے وقت بھی خاموش رہتی ہے۔
اس کی جگہ دوسرے لوگ ہی فیصلہ کرتے ہیں۔ نظم ”کڑی“ بیٹے کو ترجیح دینے کے بارے میں ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے گھر بیٹا پیدا ہو، بیٹی کوئی نہیں چاہتا۔ ”اک پرانی پیڑ“ لڑکیوں کے اس پرانے درد کے بارے میں ہے کہ ہر کوئی انہیں احساس دلاتا رہتا ہے کہ وہ غلطی پر ہیں۔ وہ غلط ہیں۔ بچپن میں بھائی، جوانی میں شوہر اور بڑھاپے میں بچے اسے یہی بتاتے ہیں کہ وہ غلط ہے۔ ”عورت خواب ویکھ دی اے“ میں وہ بتاتی ہیں کہ ہم خواب دیکھنے سے ڈرتی ہیں، ِ ماں بیٹی کے خواب دیکھنے سے اور بیٹی ماں کے خواب دیکھنے سے ڈرتی ہے۔
دنیا بھر میں مردانگی کے تصور پر بات ہو رہی ہے، ”مرد بنن دی راہ“ میں طاہرہ نے اس کی بہت اچھی طرح وضاحت کی ہے۔ مرد بننا ہے، مردانگی دکھانی ہے تو عورت کے بولنے پر اس کا منہ توڑ دو۔ اس کے رخسار طمانچوں سے لال کر دو۔ مرد بننے کا یہی راستہ ہے۔ ان کی زیادہ تر نظمیں گھریلو تشدد کے بارے میں ہیں۔ عورت کو گالیاں دینا اور تھپڑ مارنا مرد اپنا حق سمجھتا ہے۔ طاہرہ نے اپنی کتاب کا انتساب اپنی بیٹیوں کے نام کیا ہے اور انہیں اپنا رول ماڈل قرار دیا ہے مگر اپنی ہزاروں لاکھوں خواتین قارئین کے لئے طاہرہ خود ایک رول ماڈل ہیں۔ کاش کہ پاکستان کی ساری خواتین طاہرہ کی طرح اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، اقتصادی خود مختاری حاصل کر لیں اور ہر طرح کے ظلم اور نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں۔ اب مردوں کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ عورت بھی انسان ہے اور اس کے حقوق بھی انسانی حقوق ہی ہیں۔
