جزیرہ وکٹوریہ کا بُچارٹ گارڈن
دنیا کے مشہور ترین پھول پھلواری باغوں میں سے ایک وینکوؤر کے فیری ٹرمینل کی حدود کی آرام گاہ سے نکل ہم اپنی کاروں میں بیٹھ چکے تھے اور چند منٹ قبل چھوٹا بحری جہاز لگتی فیری اب سامنے ایک پورا منہ پھاڑے نگلنے کی منتظر بہت بڑی وہیل مچھلی لگ رہی تھی۔ آگے والی کاریں آہستہ آہستہ چار قطاروں سے دو قطاریں بن کر اس وہیل کے کھلے دہانے میں داخل ہوتی جا رہی تھیں۔ یہ نچلی منزل پر بنا تین سو دس کاریں اور چھوٹے ٹرک وین ہڑپ کر جانے والا پارکنگ پیٹ تھا۔ تینوں کاریں پارک کر قافلہ کے پندرہ ارکان اوپر عرشے پہ آ عملے سمیت چودہ سو چار مسافر کی گنجائش والی فیری کا معائنہ کرتے گھوم رہے تھے
ہمارے چاروں بچوں کی فیملیوں پر مشتمل خاندان اس بار جولائی دو ہزار انیس میں کینیڈا کے صوبہ وینکوؤر کے شمالی ہیڈکوارٹر ”پرنس جارج“ میں بڑی بیٹی کے گھر اکٹھا ہوا تھا۔ وہاں دس دن گھوم پھر موج اڑا اب ہم اسی صوبے کے دارالحکومت ( وینکوؤر ساحل سمندر سے چالیس کلو میٹر دور بہت خوبصورت جزیرہ وکٹوریہ میں اسی نام کا ) وکٹوریہ شہر اور خصوصاً وہاں کے دنیا بھر کے مشہور ترین پھولوں بھرے باغوں میں سے ایک ”دی بُچارٹ گارڈنز“ کی سیر کا شوق پورا کرنے جا رہے تھے۔
فیری چلنا شروع ہوئی۔ کینیڈا کے مغربی ساحل کے نزدیک ہموار یا چٹانوں کے ساتھ اوپر جاتے جنگلوں کے سبزہ میں چھپے بیسیوں چھوٹے چھوٹے ٹاپو نما یا خاصے بڑے جزیرے سمندر کے نیلگوں شفاف پانی میں اپنا عکس ڈالتے ایک عجیب حسین خوش کن منظر بنائے تھے۔ سامنے سے آتی جاتی پاس سے گزرتی چھوٹی بڑی مشینی، بادبانی کشتیاں اور فیریز کے مسافر ہماری طرح عرشے کے جنگلے کے ساتھ جُڑے ایک دوسرے کو ہاتھ لہراتے مسکراتے گزر رہے تھے اور کبھی کبھار کسی ایک سے پریشر ہارن چھوٹی سی کُوک لگاتا اور جوابی کُوک ملتی۔
پاکستانی سڑکوں پہ یہی منظر بس ٹرک ڈرائیور سامنے سے آتے یا کراس کرتے نظر آیا کرتے۔ یہ دوست واقف کار پائلٹ یا ڈرائیور کا ایک دوسرے کا استقبال اور سلام دعا تھا۔ ہزار ہا میل دور ہونے کے باوجود انسانی فطرت کی بعض نشانیاں کیسی ملتی جلتی انسانیت کے رشتے تازہ کرتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی نظارے اس سے دو برس قبل ہم ٹورونٹو کی بڑی جھیل کو مشرقی ساحل سے ملاتے دریائے لارنس کے جھیل نما چوڑے پاٹ کے ہزار جزائر والے علاقے ( تھاؤزینڈ آئی لینڈز ) کی سیر کرتے دیکھ چکے تھے۔
نظر کے سامنے بولٹ ( بولڈٹ ) کیسل والا جزیرہ گھوم گیا۔ نیویارک کے لارڈ بولٹ کا اپنی محبوب بیوی کے لئے بنایا عظیم خوبصورت محل جو بیوی کی ناگہانی وفات کے بعد سات دہائیاں ادھورا، کھنڈر بنا محبت کی عظیم داستان لئے اب سیاحتی مرکز بنا کھڑا ہے۔ یہاں ان جزائر میں بھی شاید ایسی کہانیاں چھپی ہوں۔ سوچ رہا تھا۔ سچ نکلی یہ بات، کہ اس کے تین چار برس بعد وینکوؤر کے علاقہ وائیٹ راک میں سمندر کنارے پڑی چار سو چھیاسی ٹن وزنی بالکل سفید چٹان کے پاس بیٹھا اسی سمندر سے وابستہ ایک جزیرے میں سمندر کے دیوتا کے بیٹے اور ساحلی آبادی ( موجودہ گاؤں سڈنی ) کے سردار کی پری جمال بیٹی کی داستان عشق پڑھ رہا تھا۔
ظالم سماج سے باغی ہو، دیوتا زاد نے یہ سفید چٹان ہاتھوں میں اٹھا ہوا میں لہراتی پھینکی تھی اور خود محبوبہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے سمندر کے اندر کود گیا تھا ساٹھ میل دور چٹان موجودہ جگہ گر رہی تھی اور اسی وقت دیوتا زاد اپنی محبوبہ کو اٹھائے اسی جگہ سمندر سے نکل آیا پھر اسی جگہ آج ان کی اولاد سیمی آہو ( آدھا چاند ) قبیلہ کا نام لئے اسی نام کی آبادی والے مخصوص علاقہ میں آباد ہے۔ اگر یہ کہانی پہلے سنی ہوتی تو شاید فیری کا عملہ مجھے ساحل کا وہ گاؤں اور دیوتا زاد کے زیر سمند محل کی نشان دہی کر دیتا۔ ڈیڑھ گھنٹہ سمندری گرما کی خوشگوار ہواؤں کی موج لیتے منزل کے نشان ابھر چکے تھے۔
وکٹوریہ کا فیری ٹرمینل سامنے تھا فیری آہستہ لنگر انداز ہونے والے گھاٹ ( ڈاکیارڈ ) میں داخل ہو چکی تھی اور مجھے اس کے ساحل پہ لگنے سے زیادہ اس کی نچلی منزل میں پارکنگ کے گیٹ سے سڑک کا ملاپ دیکھنے کا شوق عرشہ کے اگلے کونے سے نیچے جھانکتے رہنے پہ مجبور کر رہا تھا۔ اب سامنے لوہے کا بڑا سا تودہ اٹھتا نظر آ رہا تھا جو آہستہ آہستہ کھلتا آگے بڑھتا نیچے جا رہا تھا۔ فیری کا جبڑا کھل کے منہ پھاڑے کھڑی وہیل مچھلی کا دہانہ بن چکا تھا۔
لوہے کا تودہ پھیلتا نیچے جاتا سڑک کی شکل اختیار کر کے جبڑے کے نچلے حصے پہ ٹکنے جا رہا تھا۔ ہم نیچے پارکنگ منزل پہ اتر کاروں میں بیٹھ آگے چلتی کاروں کے پیچھے لگتے اس ساحل کے خود بڑھ کے کشتی تک پہنچی سڑک پر سے گزرتے پینتیس کلو میٹر دور وکٹوریہ شہر کو جاتی شاہراہ پہ چڑھ رہے تھے اور میری نظریں دہائیاں پیچھے جا اس صفحے کو پڑھ رہی تھیں جس پہ یہ مشہور زمانہ دعائیہ شعر لکا تھا
کشتی کو خدا پہ چھوڑ دیا۔ کشتی کا خدا خود حافظ ہے۔
ممکن ہے ان بہتی لہروں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے۔
آج ہم ساحل کو بہتے ہوئے آ کے بہتی ہوئی کشتی تک آتے بھی دیکھ چکے تھے۔
دو لاکھ سترہ ہزار مربع کلو میٹر رقبہ، پانچ سو پندرہ کلو میٹر لمبا اور دو سو ستر سے لے چھ سو کلو میٹر تک چوڑا کل نو لاکھ آبادی والا وکٹوریہ جزیرہ کینیڈا کے مغربی ساحل کا دوسرا سب سے بڑا اور ہمارے لئے ایک بار پھر الاسکا کے ہبرڈ گلیشئر کی طرح دنیا کا کنارہ بن رہا تھا۔ سہ پہر کی ڈھلتی دھوپ ہمیں ہوٹل میں سامان رکھ کاروں میں بانوے ہزار آبادی والے ( پورے میٹروپولیٹن وکٹوریہ ایریا کی آبادی چا لاکھ کے لگ بھگ ) شہر کی مشہور عمارتوں اور سڑکوں کے چکر لگاتا دیکھ رہی تھی اور رات کا کھانا کھا ہوٹل کی کھڑکیوں سے ہم پچھلی طرف جزیرہ سے آتے دریا کے اوپر بنے پل کو مسافروں یا سامان سے لدے چھوٹے بحری جہازوں کے گزرتے وقت اوپر اٹھتے اور دونوں طرف رکی ٹریفک کا نظارہ اور ہوٹل کے پیچھے جھیل نما سمندری کھاڑی میں گھومتی تفریحی کشتیوں اور کنارے کنارے بنے ہوٹلوں، تفریح گاہوں، کے آگے رنگ برنگی اور پل کے ہر لمحے بدلتے رنگوں کے ماحول میں گھومتے پھرتے سیاحوں کے خوش کن نظاروں سے محظوظ ہوتے موبائل فون کے کیمرے میں قید کر رہے تھے۔
صبح ناشتہ کے بعد ہمارا قافلہ ایک بار پھر شہر کی سڑکوں عمارتوں کے آگے سے گزرتا، رکتا، نظریں گھماتا، مناظر موبائل فون کیمرے میں قید کرتا خوبصورت جنگلوں میں بنی گھومتی سڑکوں پہ سفر کرتے بائیس کلو میٹر دور پچپن ایکڑ زمین گھیرے بُچارٹ گارڈنز کی طرف بڑھ ٹکٹ لے وسیع پارکنگ لاٹ میں پارکنگ کی جگہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اور تھوڑی دیر بعد اس دنیاوی جنت دکھتے باغ میں گھوم پھر مزا لینا شروع کر چکا تھا۔
دو ہزار چار میں اپنی صد سالہ جوبلی مناتے کینیڈا کا قومی ورثہ اور تاریخی خزانہ قرار دیے جانے والے اس پھولوں رنگوں اور نادر درختوں مبہوت کر دینے والی سجاوٹ لئے باغ کی بنیاد جینی اور رابرٹ بُچارٹ نے انیس سو چار میں برینٹ وُڈ خلیج کے کنارے اپنی زمینوں پہ رکھی تھی۔ اور اگلے پچیس سال میں اس میں خصوصی علیحدہ قطعات پر خلیج کنارے جاپانی اور اٹالین تہذیب کی عکاسی کرتے اور وہیں کے مخصوص نادر رنگ برنگے پھول، جھاڑیاں، پودے، بیلیں اور درخت اور ترتیب دکھاتے باغات کا اضافہ ہو چکا تھا۔
قطعہ دیکھتے ہی اندازہ ہو جاتا کہ اس میں فلاں ملک کے خصوصی پھول پودے ہوں گے اسی دوران ہزار ہا اور ہر ملک کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے اور ہر ممکن رنگ کے خوشبو دار اور بغیر خوشبو صرف گلاب کے پھول لئے روز گارڈن بھی باغ کا حصہ بن چکا تھا۔ اس میں دو سو اسؔی اقسام لئے اڑھائی ہزار جھاڑیاں، بیلیں اور پودے گلاب کے ہیں۔ ہر پودے پہ سینکڑوں پھول۔ اسی طرح اب بہت سے قطعات مخصوص علاقوں کے یا ذرا مختلف اقسام لئے تھے۔
ہزار ہا قسموں اور رنگوں اور مختلف ترتیبوں اور جھونپڑے گیلریوں قدرت کے بنائے یہ تحفے سب پہ جذب و مستی طاری کر چکے تھے اور ہر ایک سیاح کے کیمرے جا بجا مختلف پوز بنا بنوا، بیٹھ، اُٹھ، اکیلے گروپوں میں فوٹو کھینچ یا کھنچوا رنگوں کی برسات محفوظ کر رہی تھی۔ ہم سے ورثہ میں حاصل کیے ذوق لئے ہماری نو سالہ پوتی کا آئی پیڈ سب سے زیادہ مصروف تھا۔
ایک پگڈنڈی پہ زیادہ رش جاتے دیکھ ہم پیچھے ہو لئے تو ایک عجیب ہی جنت میں جا پہنچے۔ یہ شاید ایک ایکڑ سے زائد رقبے کا بے مثال، ہوش ربا خوبصورتی اور دل کشی لئے باغ پچیس تیس فٹ گہری گھاٹی میں بنا تھا۔ نیچے اترنے کو سیڑھیاں بھی اور ہلکے زاویے پہ جاتی ڈھلوان راہداری۔ پھولوں کیاریوں کی ناقابل بیان جنت لگی گھاٹی کے دوسرے کونے پہ چھوٹے سے تالاب میں گرتی پتلی سی آبشار اور تالاب میں سے نکلتے رنگ بدلتے اور جھولتے جھومتے لہریے بناتے بلندی تک پہنچتے فوارے نے ہر سیاح کو مسحور کر کے رکھ دیا تھا۔ سب سے زیادہ تصویر کشی خصوصاً جوان بوڑھے جوڑوں کی مستی میں آئے پوزوں میں ہر سو جاری تھی۔ سب سے زیادہ وقت یہاں خصوصاً آبشار اور فوارے کے نزدیک لگا۔
سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا کہ ڈھلوان سے معذوروں والی الیکٹرک کرسی پہ ایک اسؔی برس سے خاصا اوپر نکلا کینیڈین جوڑا بار بار ایک دوسرے کی طرف پیار سے دیکھتے دھیان کرتے ہاتھ پکڑتے چھوڑتے احتیاط سے بریکیں لگاتے نیچے اترتے نظر آیا۔ نیچے پگڈنڈی پہ آتے ہی بار بار اپنی وہیل چیئرز گھما آمنے سامنے ہوتے ایک دوسرے کا فوٹو مختلف زاویوں سے لیتے۔ بہت ہی خوبصورت چٹا گورا پیار میں گہرا ڈوبا، دنیا و مافیا سے لا پروا یہ جوڑا سیلفی لینے میں ناکام دیکھ میں آگے بڑھا اور نہایت اپنائیت سے درخواست کی کہ اگر پسند کریں تو ان کے فونوں سے دونوں کے اکٹھے فوٹو بنا دوں۔
ان کے چہروں کے کھل اٹھنے کا انداز ہی نرالا تھا۔ کئی فوٹو ان کی خواہش اور فرمائشی پوزوں میں، خصوصاً ساتھ وہیل چیئرز جوڑے ہاتھ پکڑے ایک دوسرے کو پیار سے دیکھتے انداز میں۔ فوٹو لینے کے لمحات ہی میرے لئے یاد گار بن گئے۔ اب ہم گپ شپ لگا رہے تھے۔ میں دور کھڑے اپنے بچوں کی طرف اشارہ کر رہا تھا اور وہ میری بیوی کے پاکستانی لباس کی تعریف کر رہے تھے۔ ان کی اجازت سے میں ان کے دو فوٹو لے چکا تھا اور وہ باری باری ایک دوسرے ساتھ مجھے کھڑا کر یہ یادگار لمحے محفوظ کر رہے تھے۔
گھاٹی کے دوسرے راستے سے اوپر چڑھتے سینکڑوں سال پرانے لگتے بہت بوڑھے جھریاں پڑے اونچے درختوں کے درمیان سے گزرتی پگڈنڈی کے درمیان سے گزرتے بڑھاپے کے اک فسوں نے ڈھانک لیا اور اکھڑتی چھال والے مگر چھاتی تان کھڑے ایک بوڑھے درخت کے ساتھ دیر تک ٹیک لگائے کھڑا رہا گھاٹی میں جھانکتا خدا کے احسانوں اور فضل کو یاد کرتے شکر کے جذبات کی ادائیگی ہی مشکل ہو رہی تھی کہ اس ذرؔۂ ناچیز کے لئے اس ذات باری نے کیا کیا مسخر کر دیا تھا۔
سامنے لگا بورڈ بتا رہا تھا کہ سرما کے موسم میں بھی سوائے شروع سال وسط جنوری سے آخر فروری تک تزئین و مرمت اور صفائی کے لئے بند ہونے کے، یہ باغ سیاحوں کا استقبال اس موسم اور اور اس کی تقریبات، کرسمس، ہیلووین وغیرہ کی تھیم کی سجاوٹ اور میلے ٹھیلے آتش بازی کی رونق لئے کھلا رہتا ہے۔ اور کوئی دس لاکھ سے زائد سیاح ہر سال صرف اس باغ سے لطف اندوز ہونے دنیا بھر سے آتے ہیں۔
بھوک سے نڈھال بچے اب ریسٹورنٹس کا رخ کر رہے تھے اور کچھ سستانے کے بعد باقی ماندہ باغ کا حسن اپنی طرف بلا رہا تھا۔ باغ کے نرسری کے قطعات، خصوصی اقسام اور موسم والے پھولوں پودوں کے لئے بنے موسم کنٹرول کرتے گرین ہاؤسز، بچوں کی دلچسپی اور تفریحی سٹال گھوم بچے تو نوادرات فروخت کرنے والے سٹور میں گھسے رہے اور ہم کچھ افراد ایک آخری چکر لگاتے باغ کی سمندری ساحل والی سائڈ پر کشتیاں لنگر انداز ہونے والی گھاٹی کا چکر لگا آئے۔
کوئی آٹھ گھنٹے لکھوکھا پودے اور پھول لئے بُچارٹ گارڈنز میں گزار اب واپس ہوٹل آتے وکٹوریہ میں صوبائی اسمبلی، اعلیٰ عدالتوں اور اہم و مشہور عمارتوں کا جائزہ لیتے ہوٹل واپس آچکے تھے اور پچھلی جانب دریا کنارے جا ڈیرہ لگایا تھا۔ سڑک پر ٹریفک بند ہو چکی تھی۔ دریا کا پل درمیاں میں سے اوپر کی طرف اٹھتا جا رہا تھا۔ چھوٹا دریائی بحری جہاز اونچے اٹھے پل کے نیچے سے گزر رہا رہا تھا ہوٹلوں ریستورانوں کے باہر کھلی جگہ سیاح میزوں کے گرد بیٹھے کھاتے پیتے یا گھومتے ناچتے مزے اڑا رہے تھے۔ اور ہم انتہائی بچپن میں گم ہو کلکتہ کے بہت چوڑے ٹھاٹھیں مارتے دریائے ہگلی کے کنارے کھڑے اس پہ بنے ہوڑہ برج کو دور سے آتے خاصے بڑے اونچے بحری جہاز کے لئے کھلتے اور جہاز گزرنے کے بعد بند ہوتے دیکھ رہے تھے۔
اب باری خواتین کی موجوں کی تھیں۔ دیر تک شاپنگ کرتے تھکے ہارے ایک بند ہوتی پزا شاپ سے کھانا کھا ہوٹل آچکے تھے۔ اگلی صبح ناشتہ کے بعد قدرے میدانی علاقہ اور نسبتاً کم جنگلات والے وکٹوریہ جزیرے کو الوداع کہنے فیری پورٹ کی طرف بڑھ رہے رہے تھے۔ وہی سمندر کی جولانیاں اور نظارے فون آئی پیڈ میں قید کرتے وینکوؤر کے فیری ٹرمینل کے بالکل نزدیک پہنچتے پوتی ہمیں ساتھ لئے نیچے پارکنگ میں لے آئی اور ہم دونوں اگلی کاروں کے پاس کھڑے فیری کا گیٹ کھلتے، اور اوپر سے دو کاریں ساتھ ساتھ گزارنے سکنے والے لوہے کے تختوں کے بڑے ڈھیر کو بلند ہوتے کھلتے اور پھر نیچے آ آگے رینگتے پانی میں بہتی کشتی کے گیٹ پے ساحل کو آ کے لگتا دیکھ رہے تھے۔ اور اب ہمارا قافلہ وینکوؤر ڈاؤن ٹاؤن کی طرف رواں اور ہمارے ذہن بُچارٹ گارڈنز کے ایک یادگار سیر بن چکے نظارے دہرانے میں محو تھے۔
فارغ اوقات میں فوٹو البمز کھولتے جب بھی بُچارٹ گارڈنز کے فوٹو سامنے آتے ہیں وہ بہت بوڑھا وہیل چیئرز پہ ساتھ ساتھ، آگے پیچھے آتا جوڑا ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے یا انتہائی چاہت اور پیار سے ایک دوسرے کو دیکھتا سامنے آ جاتا ہے۔ کبھی میں اپنے سے پوچھ بیٹھتا ہوں، وہ کوئی پچاس پچپن پیار محبت سے بھرے خوشگوار سال گزار چکے میاں بیوی تھے یا بڑھاپے میں اولڈ ایج ہومز میں تنہا تنہا آ بسے ایک دوسرے کا سہارا بنتے ایک دوسرے میں ڈوب چکے دوست۔ بس محبت یوں ہی ہوتی ہے، ایسی ہی ہوتی ہے۔





