ہم صرف طفیلی تماشائی


ہم لوگ دیکھتے ہیں لطف اندوز ہوتے ہیں تالیاں بجاتے ہیں کھاتے ہیں پیتے ہیں سوتے ہیں جاگتے ہیں بچے پیدا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ جیسے تھا ویسے کی بنیاد پر جاری و ساری ہے۔ ایسے ہی جاری و ساری ہے جیسے جوہڑ میں ٹھہرا پانی۔ ہم میں جستجو، فکر، سوچ ایسے ہی ناپید ہے جیسے گدھے کے سر پر سے سینگ۔ دنیا میں قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں جس قدر رقم ہیں ہم اسی قدر ان سے آنکھیں بند کیے منہ پرے کر کے بھیڑ چال چلے جا رہے ہیں۔

ایسے ہی جیسے زمین جنبد نہ جنبد گل محمد۔ دنیا میں جس رفتار سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے کیا اس کا ادراک ہے ہمیں یا محض نئی نئی ایپس اور مصنوعی ذہانت سے لطف اندوز ہونے تک کا ہمارا تعلق رہے گا جبکہ دوسری طرف بہت سی اقوام میں اس بات کا مقابلہ جاری ہے کہ کس کی جدت کس قدر ترقی یافتہ اور سود مند ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں چین کی بنائی ڈیپ سیک۔ امریکہ اپنے لیے دنیا بھر کی معلومات اپنے یہاں جمع کر رہا ہے اور یہی کام چین کرے گا جب کہ چیٹ جی پی ٹی پر آپ ان کے متعلق کوئی ایسی معلومات لینے کی کوشش کریں جو ان کے مفاد کے خلاف ہو ہر گز درست معلومات نہیں ملے گی یا پھر سرے سے ہی نہیں ملے گی آپ صرف اسرائیلی استبداد پر سوال کر کے دیکھ لیں ایسے ہی آپ ڈیپ سیک پر چائنہ کے حوالے سے سوال کر کے دیکھ لیں۔

اور ہم بڑے شوق سے یہ ایپس استعمال میں لا رہے ہیں اور لائیں گے، خیر ہمیں تو اس بات کا کیا خدشہ ہو گا کہ ہماری سوچ ہماری فکر اور تخلیق یا وہ خیالات جو اپنے تئیں یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے بلاگ، وی لاگ، پاڈکاسٹ، واڈ کاسٹ وغیرہ کچھ بھی کر ہے ہوں کہہ دیتے ہیں، بنا دیتے ہیں، پیش کر دیتے ہیں۔ اس سب کی معلومات اور اس کا تجزیہ کہ فلاں جگہ سے فلاں شخص کیا سوچ رکھتا ہے یا اس کا رجحان کیا ہے اور کس سماج کے لوگ کیا خیالات رکھتے ہیں ان کا کسی خاص موضوع کے حوالے سے کیا رجحان ہے اس قوم کو اپنے مفادات کے لیے اور اپنے طرز فکر میں کیسے ڈھالنا ہے، انہیں کیا سوچنا ہے انہیں کیا کرنا ہے ان کی کیا دلچسپیاں ہونی چاہیئیں تاکہ اس کے مطابق ہم اپنی مصنوعات کو ان کے ہاتھوں فروخت کر سکیں، یہ سب کچھ وہ کر رہے ہیں اور کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کی ایجاد ہے ہم تو محض صارف ہیں اور اس کا استعمال کر رہے ہیں۔

یہ استعمال ان کے لیے ہر زاویہ سے فائدہ مند ہے، معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی فوائد کے علاوہ یہ کہ ذہنی طور پر کند بنانے تک کے فوائد تاکہ انہیں سوچنے سمجھنے اور فکر جیسی صلاحیتوں سے مکمل طور پر چٹیل کر دیا جائے جو کہ ہم کسی حد تک پہلے ہی ہیں وہ یوں کہ بطور صارف جتنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر صرف ہوتا ہے اس میں ذہنی تھکاوٹ، سستی، کاہلی اور بد مغزی میں اسی قدر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، دوسرا ہر طرح کی معلومات تک رسائی کا آسان ذریعہ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی مسئلہ درپیش ہو ہم نے آسانی اور سمارٹ ورک کو بروئے کار لاتے ہوئے گھنٹوں کا کام ثانیوں میں کرنے کے لیے انہی ایپس سے رجوع کرنا ہے اور کرتے ہیں یوں اپنے ذہن کو بغیر استعمال میں لائے اسے پیک بند زیرو میٹر واپس لے جائیں گے شاید مہنگے داموں فروخت ہو سکے۔

گویا اس کے استعمال نے ذہنی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے یہاں تک کہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ جب کوئی تحریر، مضمون، مقالہ، انشائیہ یہاں سے لکھواتا ہے تو ہمارے افلاطون اسے بین ایسے ہی زبان و بیان میں کچھ بھی ترمیم اور تدوین کیے بغیر اپنے نام سے طمطراق طریقے سے پیش کر دیتے ہیں حالانکہ اتنا تو علم ہوتا ہے کہ یہ زبان جو میں پیش کر رہا ہوں اس پر مجھے عبور نہی ہے، نہ لکھنے میں نہ بولنے میں، یہ بھی ہمت نہیں پڑتی اور ذہن کام نہیں کرتا کہ اسے اپنے معیار کے مطابق ہی کر لیا جائے۔

خیر یہ تو مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا اور ان کی اپلیکیشن کی بات ہے ہم تو چھوٹی سی چھوٹی ایجاد کے حوالے سے محض فتویٰ دینے تک کے قادر رہے ہیں اور شدید صارف۔ کیا ہم بھی کچھ ایسا کرنے پر قدرت رکھتے ہیں جو نا صرف سائنس کی دنیا میں بھونچال پیدا کر دے بلکہ دنیا کی کایا پلٹ دے جس سے استعمار و استبداد کے ہاتھ کٹ جائیں دولت چند ہاتھوں سے نکل کر عام آدمی تک پہنچ جائے، اجارہ داروں کی اجارہ داری ختم ہو جائے کوئی کسی کا استحصال نا کر سکے، کوئی کسی کی کمزوریوں سے فائدہ نا اٹھا سکے۔

رواں صدی میں خلا میں موجود خلائی اسٹیشنز اس قدر بھر جائیں گے کہ خلائی جہاز اور سیٹلائٹ کو پارک کرنے کی جگہ نہیں ملے گی اور ابھی تک اس خلا میں ہمارا کیا حصہ ہے جب ہمارے وہاں سیٹلائٹ ہی موجود نہیں تو موجودہ سائنسی کاروبار میں ہم زیرو پر ہیں بلکہ تالیاں بجانے والے طفیلی تماشائی ہیں۔ ایسا نہیں کہ ہم ایسا کرنے سے قاصر ہیں کچھ دیوانے موجود ہیں جو سر دھڑ کی بازی لگا سکتے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ استعمار کیوں ہونے دے گا جس نے ہماری سوچ اور ذہن کو کنٹرول کرنے کا پورا پورا بندوبست کر رکھا ہے یہاں تو شاہ کے وفا دار شاہ سے زیادہ چست ہیں جو اس کے مفاد کے تحفظ میں پیش پیش ہیں جیسے پاکستان اس وقت انٹرنیٹ رفتار میں نیچے سے تیسرے نمبر پر ہے اور استعمال کے لحاظ سے اوپر سے دوسرے تیسرے نمبر پر ہے۔

دنیا جی فائیو سے آگے جا چکی ہے اور ہم ابھی ای والے نشان کو نہیں توڑ سکے۔ ہمیں شاہ کی وفا داریاں لے ڈوبیں۔ سائنس کی دنیا میں انقلاب بر پا کرنے کے لیے سب سے پہلے تو دکانداری کی سوچ سے آگے بڑھنا ہو گا۔ دوسرے کیا کر رہے ہیں دوسرے کیا سوچ رہے ہیں اسے یکسر ایک طرف رکھنا ہو گا۔ ہمیں اپنے محلے وقوع، جغرافیہ اپنی ثقافتی و سماجی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہو گا جو سوچنا سکھائے، جو فکر کو جلا بخشے جو ذہن پر کِک چلائے، جو حریت فکر بخشے۔ جو لارڈ میکالے کی لگائی کھونٹی سے ہمیں کھولے۔ مگر ہم تو ڈھولے اور رولے سے باہر نہیں نکل پا رہے کیا کریں۔ جس قدر اس میدان میں دیری ہوگی اس سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پھر ہم جیسے تالی ہی بجانے پر اکتفا کریں گے۔

Facebook Comments HS