ہمارا سیاسی شعور اور تیری یاد
صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے انکار کرتے ہیں اور کبھی خودپسندی سے مغلوب ہو کر نئی دنیا کی تعمیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کشمکش میں ہماری پسماندگی اور نئی دنیا میں فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ادب ہی کو لیجئے۔ پہلی عالمی جنگ کے آس پاس دنیا ایذرا پاﺅنڈ، جوائس، لارنس، ایلیٹ، پراﺅست اور کافکا کو دریافت کر رہی تھی۔ ہم عبدالرحمن چغتائی اور نیاز فتح پوری کی نثر لطیف پر سر دھن رہے تھے۔ یورپ اضافیت، منطقی اثباتیت اور وجودیت کے منطقے دریافت کر رہا تھا اور ہم نے برگسان، رینے گینوں اور اور آسوالڈ سپینگلرمیں پناہ لے رکھی تھی۔ لطف یہ ہے کہ کسی فلسفے یا نظریے کی کنہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی۔ عنایت اللہ مشرقی مسولینی کا بیلچہ اٹھا لائے۔ تحریک خلافت کے مقامی رہنما کو ڈکٹیٹر کہا جاتا تھا۔ جوش صاحب ہٹلر سے لندن پر بمباری کی فرمائش کرتے رہے۔ جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ اشتراکی نمونے پر تعمیر کیا گیا۔ ہماری صحافت کے سرکاری نمدہ بافوں میں چودھری محمد حسین اور میر نور احمد کے نام آتے ہیں۔ میر نور احمد اپنی کتاب ’مارشل لا سے مارشل لا تک‘ میں سرسید کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’جمہوری نظام حکومت کا مقصد ہی غلط تھا اور اس مقصد کی جانب ہر قدم غلط تھا‘۔ علامہ اقبال کے چھٹے خطبے میں پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینے سے انکار ممکن نہ ہو سکا تو ضیا آمریت کے خود کاشتہ دانشوروں نے یہ بحث بھی چلائی کہ اقبال نے عمر کے آخری حصے میں اپنے خطبات سے رجوع کر لیا تھا۔ اصل قصہ یہ تھا کہ ضیاالحق منتخب نمائندوں کو حق فیصلہ سازی دینے کے مخالف تھے۔ انہیں مالک کاندھلوی اور ظفر احمد انصاری سمیت ملائیت کی حمایت حاصل تھی۔ آفرین ہے اس سیاسی شعور پہ جو 140 برس میں جمہوریت، آمریت، سیکولرازم، الحاد، اشتراکیت اور لبرل ازم کے فکری زاویوں میں فرق نہیں سمجھ سکا۔
برٹرنڈ رسل کی خودنوشت میں ایک لفظ Ennui سے واسطہ پڑا۔ معلوم ہوا کہ اس کا مفہوم ’بیزاری اور مسلسل استعمال سے پیدا ہونے والی پامال کیفیت‘ ہے۔ آگے چل کر اس کی مثالوں سے واسطہ پڑا۔ پاکستان بننے کے بعد 1948 میں پہلی فلم ’تیری یاد‘ کے نام سے بنائی گئی۔ اس فلم کی کہانی اور مکالمے ضیا محی الدین کے والد خادم محی الدین نے لکھے تھے۔ گیت قتیل شفائی اور سیف الدین سیف نے لکھے تھے۔ آشا پوسلے اور ناصر خان کے گرد گھومتی اس فلم کی کامیابی کے اسباب کچھ اور تھے لیکن ضعیف الاعتقاد فلم والوں نے ’تیری یاد‘ کی ترکیب کو کامیابی کا اسم اعظم سمجھ لیا۔ درجنوں فلموں اور گانوں میں یہ ترکیب استعمال کی گئی۔ نتیجہ یہ کہ اس بے رنگ سی ترکیب میں اگر کچھ رس تھا تو وہ بھی جاتا رہا۔ ہمارے ملک میں ’سیاسی شعور‘ کی ترکیب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک ہوا۔ ہمارا سیاسی شعور تحریک خلافت میں جاگا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ عالمی جنگ میں شریک چار سلطنتوں میں سے خلافت عثمانیہ کو کیا امتیاز حاصل تھا۔ ہندوستان پر ساڑھے آٹھ سو برس مسلمان خاندانوں کی حکومت میں ترکی خلافت کا کیا کردار تھا؟ عالمی جنگ اس زمانے کی بڑی طاقتوں کا کھیل تھا جس میں محکوم ہندوستانی مسلمانوں کے پاس سوائے خام جذبات کے کچھ نہیں تھا۔ اسی خروش میں’سول نافرمانی‘ اور ’تحریک ہجرت‘ کو دینی تقاضا قرار دے دیا گیا۔ کانگرس تو سیاسی کھیل کھیل رہی تھی۔ سیاست میں موقف بدلا جا سکتا ہے لیکن مذہبی فریضہ قرار دینے کے بعد کیسے پیچھے ہٹا جائے؟ نتیجہ یہ کہ ہزاروں مسلمان سرکاری ملازمتوں سے محروم ہوئے۔ طالب علموں کی تعلیم ادھوری رہ گئی اور گھر بار چھوڑ کر افغانستان کی طرف نکلنے والے لٹ پٹ کر واپس چلے آئے۔ ترکوں نے 1924 میں خلافت کا منصب ہی ختم کر دیا۔ ہندوستان میں البتہ 1928 تک خلافت کے نام پر چندہ جمع ہوتا رہا۔ 1916 میں میثاق لکھنو جداگانہ انتخابات کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعجب ہے کہ اس معاہدے میں پنجاب اور بنگال میں مسلم اکثریت قربان کر کے شمالی ہندوستان کے ان منطقوں میں نیابت حاصل کی گئی جہاں مسلمانوں کی تعداد بمشکل بیس فیصد تھی۔ جداگانہ انتخاب کا یہ قضیہ پاکستان کی تاریخ میں بھی زندہ رہا۔ پنجاب میں یونینسٹ پارٹی، بنگال میں کرشک سرامک پارٹی اور یو پی میں ایگری کلچرسٹ پارٹی کی سیاست کا غلغلہ تھا۔ ہم تاریخ لکھتے ہوئے یہ نہیں پوچھتے کہ 1920 سے 1924 تک چار برس آل انڈیا مسلم لیگ کہاں تھی؟ جب قائداعظم 1930 سے 1934 تک برطانیہ میں تھے تو مسلم لیگ کون چلا رہا تھا؟ اور پھر ایک خوبصورت صبح مسلمانوں کے سیاسی شعور نے بیدار ہو کر پاکستان حاصل کیا۔ جس کے بارے میں آ ج تک طے نہیں ہو سکا کہ یہ مسلمان اقلیت کے مفادات کے تحفظ کے لیے حاصل کیا گیا یا یہاں پر مذہبی حکومت قائم کرنا مقصود تھا۔ مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کی مسلمان قیادت نے ’قوم‘ کی اصطلاح پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ اگر 1947ءمیں ہندوستان کے دس کروڑ مسلمان ایک قوم تھے تو2025 میں موجودہ ہندوستان کے 22 کروڑ مسلمان ایک قوم کیوں نہیں ہیں؟ اگر پاکستان میں سیکولرازم کا نام لینا غلط ہے تو جمعیت علمائے ہند سمیت ہندوستان کی مسلم جماعتیں سیکولرازم کا تقاضا کیوں کرتی ہیں؟ اگر ایوب خان کے خلاف تحریک جمہوری شعور تھی تو یہ یہ شعور مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی پر خاموش کیوں رہا؟ اگر بھٹو صاحب نے سیاسی شعور بیدار کر دیا تھا تو عوام کی اکثریت ضیاالحق کی گیارہ سالہ اندھیر نگری میں منقار زیر پر کیوں رہی؟ اگر آزاد عدلیہ کی تحریک سیاسی شعور کا آغاز تھی تو وکلا کا یہ سیاسی شعور میمو گیٹ اور پانامہ کیس میں کیوں نہیں جاگا؟ سنا جاتا ہے کہ ان دنوں پھر ہمارا سیاسی شعور کسمسا رہا ہے۔ ایک صاحب صفا نے راکھ کے ڈھیر میں جمہوریت، قانون کی بالادستی اور انصاف کی چنگاریاں دہکا دی ہیں۔ تاہم اپنی تاریخ کے تناظر میں جان لیجئے کہ حالیہ سیلابی ریلا بھی سیاسی شعور نہیں، منٹو کے افسانے ’دھواں‘ کی جذباتی کیفیت ہے جس میں ’آپ کی یاد آتی رہی رات بھر‘۔


خادم محی الدین کی تیری یاد سے مخدوم محی الدین کی "آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”۔
only you can be that apt . appreciate
m honored’
خادم کی تیری یاد سے مخدوم کی آپ کی یاد
غلاموں کے پاس کیسا شعور! ہمیں تو جو آقاؤں نے عطا کیا بس اسی کا ڈھول پیٹ دیا ،
یہ غلط تصور ہے کہ غلاموں کے پاس شعور نہیں ہوتا۔
خالق نے سب کو ایک ہی طرح بنایا ہے۔
البتہ کچھ لوگ خود کو غلام متصور کرکے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم تو غلام ہیں۔ بہتیری باتوں کی ذمہ داری ان پر بھی بدستور نافذ ہوتی ہے۔
اسلامی قوانین کی رو سے عملاً ویسے بھی غلام ختم ہوچکے۔
باقی ذہنی غلامی ہو یا کسی لغت سے کسی اور قسم کو اٹھاکر خود کو کم تر ظاہر کرکے فوائد بٹورنا ہم پاکستانیوں کا خاصہ ہے۔
یہی عمومی حرکت ہماری خواتین بھی کرتی ہیں۔ جو کر گزرنا چاہیں عمومی طور پر کرجاتی ہیں جہاں پھنس جائیں تو پدرسری معاشرے کی برائیاں اور تمام مردوں ہر تبرا۔
عارف صاحب، آپ اچھی بھلی گفتگو میں مذہب لے آتے ہیں۔ اس پر کیا مکالمہ کیا جائے۔ اگر اسلام نے غلامی ختم کر دی تھی تو 1964 تک سعودی عرب میں غلامی جائز کیوں تھی۔ اور اس آخری سطر کا مطلب کیا ہے۔ کیا میں بھی کہ دوں کہ مسلمان مرد یورپ میں ہر طرح کی خاک اڑاتے ہیں اور جہاں پکڑے جائیں وہاں مغرب اخلاق باختہ ہو جاتا ہے۔ ایک طرف آپ فرماتے ہیں کہ ’خالق نے سب کو ایک ہی طرح بنایا ہے۔‘ اگر آپ کی رائے درست ہے تو پدر سری معاشرے کا کیا جواز ہے؟
آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذہب اگر گفتگو میں آبھی گئی تو کیا قباحت ہے۔ مثلاً آپ، الم نگار یا محترم خالد سہیل سے میری بات ہوگی تو غالب امکان یہی ہے کہ میں مذہب کو شاید ہی بیچ میں لاؤں۔
لیکن یہاں میرے مخاطب ڈاکٹر کاظمی تھے۔
اسلام نے غلامی ختم کر دی تھی تو 1964 تک سعودی عرب میں غلامی جائز کیوں تھی
حقیقت تو یہ ہے کہ غلامی ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس طرح کے قوانین اور احکامات متعارف کرادیئے گئے تھے جن کی روشنی میں آہستہ آہستہ غلامی نے ختم ہوجانا تھا اور یہ معاملہ شروع بھی ہوگیا تھا۔ امکان یہی تھا کہ یہ فعل بد ختم ہوجائے گا۔ لیکن 1964 کے سعودیہ پر ہی ایک کیا موقوف جہاں "خمیس مشیط” میں بناؤ سنگھار کرکے اس علاقے میں افریقی غلاموں کی سب سے بڑی منڈی لگتی تھی اور جگہ کا نام بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے یعنی جمعرات کو لگنے والی منڈی جہاں (مشاطہ) بن سنور کر غلام اور لونڈیوں فروخت کے لئے ہوتی تھیں۔
ویسے بھی جہاں جہاں ماضی میں بادشاہت رہی اسلامی شہنشاہوں نے غلاموں اور باندیوں کا خوب استحصال بھی کیا اور فائدے بھی اٹھائے۔ دوسری طرف ایسے اچھے لوگ بھی تھے جن کے غلاموں میں طارق بن زیاد ہو یا بادشاہوں کا خاندان غلاماں یا لونڈیوں میں سے بننے والی ملکانیاں۔
الہامی خدا یعنی اللہ تعالی نے انسانوں کو مساوی ضرور بنایا ہے یعنی کوئی شخص پیدائشی غلام نہیں ہوسکتا۔ مگر احیائے اسلام کے بعد غلام بندی اس لئے کم نہ ہوئے کیوں کہ جنگیں بدستور جاری تھیں اور مخالف کے گرفتار ہونے والے مردوں کا بہترین مصرف یہی تھا کہ جدی پشتی نوکر بنالیا جائے جنہیں "غلام” کہا گیا۔ دوسری طرف گرفتار ہونے والی خواتین کا بھی یہی حال ہوا۔
چنگیزی ہوں عباسی، امیہ تھے ایوبی اور یا پھر عثمانیہ والے یا ہمارے ادھر کے مغل و لودھی ۔۔۔۔ سب نے جنگوں میں مال غنیمت کے طور پر گرفتار ہونے والے مرد حضرات کو غلام بنایا۔
ویسے بھی بادشاہ چاہے جنگل کا ہو یا سلطنت کا اس کا کہا مستند اور فرمان ہوتا ہے اور ان شاہی فرامین کا خدائی احکامات سے مطابقت رکھنا محض اتفاقیہ ہوتا ہے چاہے یہ سلطنت سعودیہ کی ہو یا مغلوں کی۔
ویسے ہی جیسے پہلے جوڑے بغیر شادی ساتھ رہتے تو گرفتار ہوجاتے تھے اب "لو ان ریلیشن” کے نام سے معاشرے نے قبول کرلیا ہے۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو غلام کا محض نام بدل گیا ہے۔
سعودیہ یا عرب ممالک میں کام کے لئے جانے والے لوگوں کا پاسپورٹ مقامی مالک (کفیل) رکھ لیتا ہے اس کے بعد وہ اس غیر ملکی کو تنخواہ دے یا کھانا یا بھوکا ماردے مقامی قوانین کفیل کی بات کو مانتے تھے۔ بظاہر غیرملکی محض نام کا غلام نہیں لیکن یہ غلامی کی بدترین شکل ہے بس نام غلام نہیں۔
میرا اعتراض ویسے بھی یہ تھا کہ آج کے دور میں کوئی خود کسی کا غلام بن جائے تو اس کی مرضی ہے کسی دوسرے کو اس کا الزام دینے کی ضرورت نہیں۔
کوئی اپنے مذہبی لیڈر کی چاپلوسی اور عقیدت میں اس کا غلام بنا ہوا ہے اور کوئی عمران خان کا اور کوئی زرداری خاندان یا شریفین کا۔ حرکتیں سب کی وہی ہیں بس نام غلام نہین اور دلچسپ بات وہی یہ کہ اس غلامی کا طوق ان لوگوں نے خود اپنے گلے میں ڈالا ہے۔
کیا آپ خود کو 77 سال میں جو پڑھایا گیا یا سمجھایا گیا اس کو آنکھ بند کرکے درست مانتے ہیں ؟ اگر نہیں تو مطلب واضح کہ آپ نے خود کو ان کی غلامی میں نہیں دیا۔ ایک اور شخص یہ سن کر آگ بگولہ ہوجاتا ہے تو خود سمجھ لیں کہ وہی منجن جو آپ نے استعمال نہیں کیا وہ اس کے نشے کا عادی ہوچکا ہے۔
—
خالق نے سب کو ایک ہی طرح بنایا ہے۔‘ اگر آپ کی رائے درست ہے تو پدر سری معاشرے کا کیا جواز ہے؟
یہ تھوڑی دیر بعد۔۔۔۔کیوں کہ الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔
یہ ایسا دل چسپ موضوع ہے جس پر میں آپ سے کبھی سر پھٹول نہ کرتا لیکن اب تو "لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے”۔۔۔۔۔بس چند گھنٹے بعد
–
اس موضوع پر میں نے کئی مضامین لکھے مگر پڑھ وہی سکتا ہے جو اس کے متن کو ہضم کرسکتا ہومسئلہ پدر سری معاشرے سے زیادہ اس بات کا ہے کہ اج کی خواتین 2 اور 2 کا حاصل پانچ کیوں سمجھنا چاہتی ہیں۔
–
اور جب لکھوں گا تو اس مین ایک بات ذہن نشین رہے کہ مذہب لامحالہ بیچ میں آئے گا۔ کیوں کہ میرے حساب سے پہلے مرد باوا آدم اور پہلی عورت اماں حوا کا پیدا ہونا کسی بگ بین کا شاخسانہ نہیں تھا ایک سوچا سمجھا عمل تھا۔ ان کا نام کچھ اور ہوسکتا ہے لیکن ان کو پیدا کرنے والی طاقت ہر مذہب کا خدا ہی ہے۔ اگر کوئی اس سے متفق نہیں تو میرے جواب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ڈھائی تین ہزار الفاظ کا مضمون بن گیا۔
عنوان "عورتیں کیوں خود کو مردوں کے برابر تصور کرنا چاہتی ہیں؟
جب کہ وہ تو مردوں سے نصف بہتر ہیں۔”
یہ مضمون تو بہت دلچسپ ہو گا۔ عنایت کیجیے گا
Sure will DM you
I missed this
کیا میں بھی کہ دوں کہ مسلمان مرد یورپ میں ہر طرح کی خاک اڑاتے ہیں اور جہاں پکڑے جائیں وہاں مغرب اخلاق باختہ ہو جاتا ہے
–
گناہ اور جرم دو الگ الگ موضوع اور فعل ہیں۔ عمومی طور پر دختر مغرب ہو یا مشروب مغرب سے فوائد کشید کرنا۔ گناہ تو ممکن ہے ہو وہاں کے قوانین کے مطابق عمومی طور پر جرم نہیں۔
–
اب سوال یہ ہے کہ پکڑے کس لئے جاتے ہیں ؟
–
جہاں تک اخلاق باختہ ہونے کا سوال ہے یہ اصطلاح ہی اضافی ہے۔ میرے لئے دنیا کی سب سے خوبصورت عورت حافظ نسیم الدین کے لئے بے معنی ہوگی۔ اخلاق کا جو معیار ہم نے بنارکھا ہے مغرب اسے درخواعتنا ہی نہیں سمجھتا۔
–
دوسری طرف وہاں شادی کے بغیر بچہ پیدا کرنا اور مرد کا عورت کو بچے کے ساتھ چھوڑ کرچلاجانا ان کے قوانین کی رو سے ٹھیک ہے۔ تو ہم اس پر کیا تبصرہ کرسکتے ہیں۔ ان کا ملک ان کی مرضی۔ لیکن یہاں جو لوگ ان کی نقل کرنا چاہتے ہیں ان کو تمام معاملات پر نظر رکھنی چاہئے
–
ہمارے ملک میں اخلاق کے جو معنی ہیں وہ ممکن ہے مغرب سے لگا نہ کھاتے ہوں تو یہ ایک اضافی بات ہے۔ ہم جن خرافات اور سماجی جرائم کو فخر سے کرتے ہیں جن میں ملاوٹ دہوکہ جھوٹ وعدہ خلافی سر فہرست ہیں مغرب ان کو "برے اخلاق” میں شامل رکھتا ہے۔
–
ہمارے ملا کی دوڑ ٹخنے سے نیچے پائنچے اور عورت کی نقاب میں اٹکی ہوئی ہے مغرب اس کو کسی کھیت کی مولی نہیں گردانتا۔ سو ہم اپنے آپ کو ان سے برتر تصور کرنے کے خبط میں انگوروں کو کھٹا کہہ دیتےہیں۔
–
حقیقت یہی ہے کہ پی آئی اے کے زوال کی ایک بڑی وجہ بھٹو کی شراب نوشی پر پابندی تھی اور اب بھی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد غیرملکی سفر پر پاکستانی ایئرلائن سے اسی لئے اجتناب کرتے ہیں۔ اور کئی "اشرافی” مولوی جہاز کے فضا میں جاتے ہی آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور مرداسٹیورڈ ایئرہوسٹسس کو چھپارہے ہوتے ہیں۔
–
جہاں تک ان پاکستانی عورتوں کی بات ہے جو اصل مشکل میں ہیں ان کی آواز اور مسائل کا کسی کو علم نہیں اور جن کو لگ بھگ زندگی میں ساری سہولتیں حاصل رہیں وہی یہ نعرے بھی زیادہ بلند کرتی ہیں۔
–
اگر آپ کو گھر میں باپ نے پرورش کی دنیا سے لڑ کر تعلیم دلوائی لیڈی ڈاکٹر بنایا تب بھی آپ اکثر مرد یا زیادہ تر مرد کی اصطلاح کی بجائے سارے مرد یا پاکستانی مرد کی اصطلاح استعمال کرکے اپنے بھائی اور باپ کو بھی اسی لپیٹے میں لے آتی ہیں۔
–
ان معاملات کو کیس ٹو کیس دیکھنا چاہئے۔
–
اگر میں اور آپ گھر والی کو کام والی نہیں سمجھتے اپنے سے بھی بہتر سمجھتے ہیں تو خوش گمانی رکھنا چاہئے نہ ساری انگلیاں برابر ہوتی ہیں اور نہ ہوسکتی ہیں۔
–
میں نے اپنی زندگی میں ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو اپنے شوہروں کی پٹائی کردیتی ہیں۔ تو ان کا کیا کریں۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی عورت کی سب سے بڑی دشمن اور اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑا کانٹا دوسری پاکستانی عورت ہے۔ کہیں یہ پھوپھو کی شکل میں اپنے بھائی کے کان بھرہی ہوگی کہ بیٹی پر نظر رکھو کالج جاتی ہے۔ دھڑکا اسے یہ ہوتا ہے کہ زیادہ پڑھ لکھ گئی تو اس کے اپنے نکمے میٹرک فیل لونڈے سے شادی سے انکار نہ کردے۔
کہیں ساس اپنی بہو کی گائنی سے نالاں ہوگی کہ اس کی بلا سے وہ سینکڑوں زندگیاں بچاتی ہو اس کے چولہے میں پھونکیں نہیں مارتی جب کہ اس کی آٹھویں فیل بیٹی سسرال میں بیس لوگوں کا کھانا پکاتی ہے۔
–
اور کہیں گھر میں بیٹھی غیرشادی شدہ بہن ۔۔۔۔اپنے بھائی کے کان بھررہی ہوگی اور اس کی عائل زندگی کو ماچس دکھا رہی ہوگی۔ عورتوں کو شور ضرور مچانا چاہئے لیکن پہلے خود میں موجود کالی بھیڑوں سے تو نبٹ لیں۔
–
شادی کے لئے لڑکی اور اس کے باپ کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ دیکھ بھال کر فیصلہ کرے کہ اس کی بیٹی کا شوہر درحقیقت کیسا ہے یہ ایک بہت بڑا جوا ہوتا ہے جس کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔