کتاب : روشن دان اور لنگر خانہ
صنف: خاکہ نگاری
مصنف جاوید صدیقی (انڈیا)
تبصرہ : عرفان علی جناح (ڈنور)
میں کافی دیر سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں؟
بجلی بند ہے اور اندھیرے میں تھوڑی لالٹین کی روشنی کیے ہوئے میں یہی سوچ رہا ہوں کہ بات کا آغاز کس جگہ سے کروں؟ لالٹین کی جگہ میں ٹارچ کی روشنی کر سکتا تھا لیکن لالٹین کی نارنجی روشنی ملگجا سا اندھیرا پھیلا گاسلیٹ کی بو پھیلائے میں اپنے کسی نوسٹیلجیا کا کتھارسس اکثر و بیشتر کرتا رہتا ہوں حالاں کہ لالٹین کی روشنی میں مجھے اکثر hallucinations پکڑ لیتے ہیں جیسے کچھ نہ پہلے میں کمرے میں لیٹا ہوا تھا کہ دیکھا چارپائی کی پائنتی کی جانب سے ایک بچی چھوٹی سی گوری چٹی جس کے بال گل بوٹے بنا کر میں نے سجائے ہوں میری طرف بھاگتی آ رہی ہے اور میں جمپ مار کر بغیر چپل پہنے بھاگ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا وہاں جا کر ہوش آیا۔
سرا ہاتھ میں نہیں آ رہا۔
ویسے تو اردو ادب اور مطالعے کا سفر میں اپنے تئیں زیادہ کر چکا ہوں لیکن، یہ زیادہ صرف میری فہم میں ہی زیادہ ہے، میں اتنا جان پایا ہوں کہ سقراط نے درست بات کہی تھی کہ ”میں اتنا جانتا ہوں کہ کچھ نہیں جانتا“
حضرت واصف علی واصف صاحب رح کا فرمان ہے کہ اس کا مفہوم یہاں لکھوں گا ”نہ جاننے کے مقابلے میں جاننا تمام محدود ہے“
وہ ماہ ستمبر 2021 کے اوائلی دن تھے، میں نے گلزار صاحب کی نئی کتاب جو بک کارنر جہلم نے شایع کی تھی لے آیا تھا، مجھے کیا پتہ تھا کہ ”گر یاد رہے“ میری زندگی کا، ایک ایسا نقطہ آغاز بن جائے گی جہاں سے آگے میری شناسائی جا کر گلزار صاحب کے ساتھ اور بھی اچھی طرح سے ہوگی یہیں تک کہ ان سے بات ہو پئے گی اور جس دن ان کی کال مجھے واٹس ایپ پر موصول ہوئی میں جامد اور سن ہو کر رہ گیا تھا اور وہیں میں کئی اور اردو ادب کی صنفوں اور ادیبوں سے آشنا ہو جاؤں گا۔ یہ نہ سوچا تھا۔ کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ”گر یاد رہے“ پڑھتے پڑھتے میں اردو ادب کی وسیع و عریض عمارت میں پہنچ گیا؟ یا پھر وہ کتاب پگڈنڈی سے نکال کر مجھے ایک عظیم شاہراہِ پر لے کر آ گئی؟
ہاں! کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ بالکل ایسا ہی کچھ ہوا تھا
بات گھوم پھر کر گلزار صاحب کے پاس ہی آ جاتی ہے۔ میں کیا کروں وہ میرا محور ہیں شاید!
تو میں کتاب پڑھ رہا تھا، یہ کتاب خاکوں اور سوانحی افسانوں پر مشتمل تھی۔ وہاں ایک خاکہ تھا جاوید صدیقی کے نام سے پڑھا مزہ بھی آیا لیکن جیسے کہ ہوتا ہے ورق گردانی کرتا جائے بندہ دو دن میں وہ کتاب پوری کی تھی اور مطالعہ کرتے وقت کچھ ایسی جھرجھری آئی تھی کہ بس۔ کئی جگہوں پر آنکھیں نم ہوئیں۔ کئی ایک جگہ پر سنسناہٹ سی دوڑ گئی جسم میں۔ کئی بار رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہاں ایک لفظ پڑھا تھا ”خاکے“ وہ کہیں ذہن میں اٹک کر رہا گیا بالکل جیسے آپ کسی درخت کے نیچے سے گزریں تو کوئی پتہ آپ کے بالوں میں الجھ کر رہ جائے۔ یا پھر کچھ ایسا ہی تھا۔ کئی دن بعد یاد آیا کہ ”خاکہ“ ؟ پھر گوگل کیا، یوٹیوب پر خاکہ لفظ کی تفصیل دیکھی سنی پڑھی اور یاد آیا کہ ”گر یاد رہے“ میں درج تھا وہ لفظ، میں نے جھٹ سے کتاب اٹھائی اور جلدی جلدی میں اوراق کو پلٹا کر دیکھ لی کتاب جاوید صدیقی صاحب کے چیپٹر پر آ کر مجھے کچھ الفاظ ملے۔
خاکہ، روشن دان اور ستیہ جیت رے اور، اکبری بوا،
وہیں درج ایک جملہ بحوالہ بھی تھا
” حوریں بوڑھی ہوتیں تو میری نانی کے جیسے ہوتیں“ ۔
میں نے آن لائن ”روشن دان“ کتاب منگوائی اور ایک ہی دن میں مکمل کر ڈالی۔ کون رکتا ہے ایسی طلسمی کتاب کے سامنے۔ کتاب شروع کریں تو ختم کر کے ہی دم لیتا ہے بندہ۔
روشن دان 10 خاکوں پر مشتمل ایک کتاب تھی، حیرت کدہ تھا؟ کوئی طلسمی محل کا روشن دان؟ جہاں سے اندر جھانکتے ہوئے کچھ پتہ نہ چلا کب رات ہوئی کب دن چڑھا، کب شام ڈھلی۔
کیا کھانا کھایا؟
اس روشن دان سے اندر جھانکنے کی دیر تھی بس اور پھر ہوش تب آیا جب 192 صفحات پر مشتمل یہ کتاب پوری ہوئی۔ الفاظ باتیں کر رہے تھے، جاوید صدیقی صاحب کی آواز اور مخصوص لب و لہجہ میں۔
وہی کھنکتا لہجہ، سادہ پروقار، سکونت پھیلاتا۔ ارد گرد کا شور تھم سا جاتا ہے۔ خاموشی باہر پھیل جاتی ہے پھر اندر تک سناٹا اتر جاتا ہے۔ یہ اثر و تاثیر جاوید صدیقی صاحب نے کس طرح کمائی ہے؟ یہ ان سے پوچھنا یا معلوم کرنا چاہیے!
میں اچنبھے میں تھا کہ یہ کتاب پوری کس طرح ہوئی؟
وہ اپنے خاکوں میں خود موجود ہیں، آپ کو انگلی نہیں تھماتے، خاکے کا نام لکھ کر غائب ہو جاتے ہیں پھر آپ اس شخصیت سے ملنے لگتے ہیں، جاوید صدیقی صاحب آپ کی آنکھیں، کان اور زبان کے ساتھ احساسات و محسوسات بھی بن جاتے ہیں۔ آپ کو ان کی آواز سننے میں آتی ہے بلکہ شاید ہر کردار کی آواز اور ان کے تاثرات اور ایک خاموشی ایک سناٹا آپ کو رگ و پے میں اترتا محسوس ہوتا ہے۔ وہ واقعات آپ کی نظروں کے سامنے پھر سے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ عجب جادو گری تھی کہ بازی گری۔ الفاظ کو منظر بنانا یہ ہنر جاوید صاحب کہاں سے لے کر آئے؟
جو بھی خاکہ پڑھیے آپ خود کو کھونے لگ جائیں گے۔ زیادہ تعریف بھی زیادہ مٹھاس کی طرح ہوتی ہے آئیے آپ کو جاوید صدیقی صاحب کی تحریر کردہ کتاب ”روشن دان“ کے ذریعے کچھ جھلکیاں دکھاؤں۔
لیکن اس سے پہلے ایک اور بات بتاؤں کہ، میں نے یوٹیوب پر پر ہی ریختہ کے سلسلے میں ایک پروگرام دیکھا 2017 کا پروگرام تھا جاوید صدیقی صاحب میزبان تھے اور گلزار صاحب مہمان۔
اس میں جاوید صدیقی صاحب نے کہا تھا کہ گلزار صاحب مطلب میں نے ٹھیک کام کیا ہے کہ 60 برس کی عمر میں پہلی کتاب چھپائی ہے
یہ ان ساٹھ برسوں میں جھانکنے کی ایک روزن ہے، جہاں سے بہت کچھ نہیں مصنف کی اجازت سے جتنا انہوں نے کہا ہے لکھا ہے ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اس امید پر کہ ایک دن یہ روزن، یہ روشن دان، ایک گھر کی طرح سامنے آئے گا۔ جہاں بہت سارے کردار ہوں گے اور کئی سو اوراق ہوں گے۔
آئیے، ذرا یہ دیکھیے نیاز حیدر صاحب کا خاکہ جسے وہ بابا کہہ کر بلاتے ہیں اور شاید سب ہی ان کے ساتھی، وہ فقروں اور جملوں سے ایسا جال بنتے ہیں کہ آپ کم ہی کسی فقرے کو پکڑ سکیں یا جملے کو گرفت میں لے سکیں بس وہ ساتھ ساتھ لیے پھریں گے آپ کو اور آپ کنفیوژ ہو جائیں گے کہ جملوں اور فقروں کی بنت پر دھیان دوں، کچھ نوٹ کروں یا۔ نظارے دیکھوں۔
نیاز حیدر صاحب کی وفات کا جب ٹیلی فون موصول ہوا انہیں تو :
”کسی نے سچ ہی کہا ہے“ بنجارے کے سر کو پکی چھت راس نہیں آتی ”۔
ذرا اس خاکے میں ملاحظہ فرمائیں اپنی دادی جی کے ہاں ایک ملازمہ کا خاکہ کیسے کھینچا ہے کہ
”حجیانی بہت ننھی منی سی تھیں، سر پر کھچڑی بال، گہرے سانولے چہرے پر بہت سی جھریاں بہت چھوٹی چھوٹی مگر چمکتی ہوئی آنکھیں چھوٹی سی ناک جس میں چاندی کی لونگ جو دور سے مسلے کی طرح دکھائی دیتی تھی۔
وہیں لکھتے ہیں
”حویلی میں حجیانی کی وہی حیثیت تھی جو انگریزوں کے راج میں ریاست کے ریزیڈنٹ کی ہوا کرتی تھی“ ۔
”خاندان میں سب لوگ انہیں حجیانی کہہ کر بولتے تھے حالاں کہ انہوں نے حج کیا نہیں تھا“ ۔
یہاں دیکھیے کہ حجیانی اپنی مالکن سے مخاطب ہیں کہ
”سات برس کی تھی جب آئی تھی اس گھر میں پانچ اوپر پچاس برس ہو گئے خدمت کرتے کرتے۔ کرلو حساب“
میں سوچ رہا تھا کہ یہ انداز بیاں کا کمال ہے کہ کیا فن ہے؟ بار بار پڑھیں مگر دل نہیں بھرتا ایسے کئی ایک فقرے میں الگ کر پایا ہوں مختلف خاکوں سے جن میں بہت کچھ ہے جو بیان سے باہر ہے اس کو آپ انداز بیاں کہہ لیں لیکن میں اس کو طلسم کہوں گا۔ یا پھر طلسم ہوش ربا کہہ لیں۔ وہ لکھے ہوئے الفاظ کے ذریعے کچھ پھونکتے ہیں کہ آپ سیدھا کسی سین یا منظر میں جا کر اترتے ہیں اور وہاں کے نظارے، باتیں اور چہرے آپ کے سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں بولتے چہرے، باتیں کرتے گھومتے پھرتے جاوید صاحب نے اردو خاکہ نگاری میں ایک الگ جان ڈال کر رکھ دی ہے۔ ایک نیا انداز ہے۔ یہ جو کہتے ہیں کہنے والے کہ مرزا اسداللہ خان غالب کی تحریر میں سادگی و پرکاری تھی۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے جاوید صدیقی صاحب کے ہاں بھی وہی سادگی و پرکاری ملے گی آپ کو، کوئی بناوٹ نہیں۔
سلطانہ آپا کے خاکے میں لکھا ہوا ہے کہ
”جاوید صدیقی یہ دیوان غالب ہے، نہ صرف تمہارے لیے ہے بلکہ فریدہ کے لیے بھی ہے۔ اور ہاں تمہاری اولاد کے لیے، اور تمہاری اولاد کہ اولاد کے لیے۔ تمام پیار اور خلوص کے ساتھ
سلطانہ 1.8.2003 ”۔
ان کے لکھے ہوئے سب کے سب خاکے میں سامنے پھیلا کر بیٹھا ہوں کہ انہیں اقتباس اور مثال کے طور پر پیش کر سکوں لیکن کون سا جملہ اٹھاؤں اور کون سا چھوڑوں؟ موتی ہیں الفاظ تو نہیں
ابھی اس فسوں سے باہر نہیں نکلا تھا کہ ان کی ایک اور کتاب ہاتھ لگ گئی۔
لنگر خانہ!
روشن دان پڑھ چکنے کے بعد مجھے تلاش تھی ان کی دوسری کتاب کی، جس کا تذکرہ گلزار صاحب نے ”گر یاد رہے“ میں کیا تھا وہ جملے ذہن میں گھوم رہے تھے
وہ جو جملہ پڑھا تھا گلزار صاحب کی کتاب ”گر یاد رہے“ میں
”کیا آدمی تھا رے“
ستیہ جیت رے پر لکھا گیا خاکہ، ایک کمال اور اس کے ساتھ اپنی نانو پر لکھا گیا ان کا خاکہ
حوریں اگر بوڑھی ہوتیں تو میری نانی کے جیسی نظر آتیں ”۔
اوپر سے اکبری بوا والا خاکہ بس ایسے کہ بندہ گم ہو جائے ان مناظر میں۔
طلاق ہو گئی تو شوہر کے مرنے پر عدت کیسی، تو سچ مچ دیوانی ہے اکبری ”
پہلے تو شوہر تھا میرا، میں نے عدت کرلی، مجھ پر سے بوجھ ہلکا ہو گیا۔
جب مقبول فدا حسین کے خاکے پر آئیں تو
”پرانی کتابوں اور ان پر جمی وقت کہ دھول کا بھی اپنا ہی ایک نشہ ہوتا ہے اور اس کا مزہ وہی جانتے ہیں جنہوں نے ادب کی تلچھٹ انگلیوں سے چاٹی ہو“ ۔
کیفی صاحب اور ایم ایف حسین صاحب کے خاکے پڑھ کر بھی دل وہیں کہیں کھو گیا جیسے ملاقاتیں ہو گئیں جو نہ ہونی تھیں۔ بائیں بازو کی سیاسی سرگرمیاں، انقلاب اور لالا سلام وہیں ملتے ہیں سانس لیتے ہوئے جاوید صاحب کے اس خاکے میں اور ہندوستان سے محبت بھی بلا تفریق مذہب۔ ستیہ جیت رے، کیفی اعظمی، ایم ایف حسین، شمع زیدی، ان سب سے ملاقاتیں اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد یا ان میں سے کچھ لوگوں کے گزر جانے کے بعد کروانے والا لنگر خانہ جہاں، پر ان لوگوں کے ساتھ ساتھ جاوید صاحب خود بھی موجود رہتے ہیں۔ ایک ایسا مجموعہ تحریر ہے جس کے بعد دل میں یہی خواہش بیدار ہوتی ہے کہ اگلا مجموعہ کب آئے گا دو ہزار پندرہ کو بھی کئی برس بیت گئے صاحب پڑھنے والوں کے لیے کچھ نئی تحریروں کو لے آئیے۔ کچھ کواڑ کھولیے کہ ہم بھی ان زمانوں کی سیر کر سکیں انہیں محسوس کر سکیں۔
ان دونوں کتابوں کے لیے جاوید صدیقی صاحب کا شکریہ ادا کرنا حق ہے ان کا ہم پر جو واجب الادا ہے انہوں نے ادب میں ایک بہترین کنٹریبیوشن دی ہے جو امر ہے۔ یہ اٹھارہ خاکے نہیں پورے اٹھارہ ادوار ہیں جن میں آپ کو مختلف دہائیاں سانس لیتی محسوس ہوں گی وہ جگہیں، وہ راستے وہ مناظر وہ سورج وہ دوپہریں اور شامیں جاوید صاحب کے شروع سے اب تک کے دن مہکتے نظر آئیں گے ایک نوسٹیلجیا بھی ہو گا تو خوبصورت ترین نوسٹیلجیا ہو گا جس میں رچے بسے جاوید صدیقی صاحب مسکراتے نظر آئیں گے۔
حالاں کہ کتابیں ہیں ان میں الفاظ تحریر ہیں لیکن یہ بولتے ہیں یہاں قاری الفاظ جاوید صدیقی صاحب کی آواز سنیں گے اور آپ ان کو پڑھتے وقت دیکھ اور محسوس کر سکیں گے کہ وہ کب مسکراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں نم ناک آنکھیں لیے اور کہیں کھوئے ہوئے نظر آئیں گے۔ اردو کے اس عصر حاضر کے سر سبز و شاداب میدانوں میں یہ کمال ہے جاوید صاحب کا جنہوں نے تحریروں میں جان بھر دی ہے۔

