صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 33 : اعتراف
” سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا ہی خدا ہے، وہ وفادار خدا ہے جو اپنے محبت کرنے والوں اور اپنے احکام ماننے والوں کے ساتھ ہزار پشت تک اپنا عہد قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔“ استثنا 7 : 9
جب مریم نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے ہچکیوں کے درمیان بہ مشکل کہا، ”میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی دانی۔“
دانی ایل نے گہرا سانس لیا۔ اس کے دل میں کئی سوالات ابھرے تھے۔ اگر اس نے شادی کی پیش کش رد کردی تھی تو کیوں اس سے چمٹی رہنا چاہتی تھی؟ مریم نے آنسو پونچھنے کی کوشش کی، مگر وہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ کچھ لمحے خاموشی میں گزر گئے، پھر اس نے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے کہا، ”کاش وقت واپس جا سکتا، دانی، کاش میں سب ٹھیک کر سکتی۔“ رو رو کر اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں اور وہ اب بھی دانی ایل سی چمٹی سسکیاں لے رہی تھی۔
”آؤ چلیں،“ دانی ایل نے کہا اور مریم کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اسے سہارا دیا۔
اس نے مریم کے لیے دروازہ کھولا اور تمام روشنیاں بند کر کے باہر نکل آیا۔ پادری پال کی ہدایت تھی کہ چرچ کو چوبیس گھنٹے کھلا رہنا چاہیے تاکہ اگر کوئی بھولا بھٹکا رات کے کسی حصے میں پناہ لینے کے لیے آئے تو اسے مایوسی نہ ہو۔ اس نے اپنی اسکوٹر اسٹارٹ کی اور مریم اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی پیشانی دانی ایل کی پیٹھ پر رکھ دی اور بولی، ”دانی، تم نے مجھے اداس کر دیا۔“
” مریم، بہتر ہو گا کہ ہم کچھ دن ایک دوسرے سے نہ ملیں تاکہ ہم دونوں کے زخموں کو بھرنے کا موقع مل جائے۔“
مریم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسکوٹر ایک جھٹکے کے ساتھ آگے بڑھی اور وہ سنبھل کر بیٹھ گئی۔ راستے بھر نہ اس نے کچھ کہا اور نہ دانی ایل کچھ بولا۔ جب گھر پہنچ کر اسکوٹر دروازے پر رکی تو مریم نے اتر کر دانی ایل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”دانی، میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتی۔“
دانی ایل نے سر کی جنبش کے ساتھ شکریہ کہا اور اسکوٹر موڑ کر گیئر میں ڈال دی۔ اس کے دماغ میں ایک طوفان برپا تھا۔ اسے مریم پر سخت جھنجھلاہٹ تھی اور سوالات کا ہجوم تھا۔ ”کیا مریم خود پرست اور خود غرض ہے؟ اسے اپنے اداس ہو جانے کا تو غم ہے مگر کیا اسے میرے جذبات کا بھی کوئی احساس ہے؟ جب میں نے شادی کی پیش کش کی تو اس نے مجھ سے دو ہفتے تک جواب کا انتظار کروایا اور پھر بھی انکار کر دیا۔ اس کے برخلاف جب عارف نے اسے پیغام دیا تو اسے سوچنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی اور فوراً ہاں کردی، اور اب کہتی ہے کہ مجھے بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ عجیب لڑکی ہے۔ تو کیا بیک وقت دو شوہر رکھے گی؟“
دو شوہروں کا خیال آتے ہی دانی ایل کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ آئی اور اس نے سوچا کہ بائبل میں تو نبیوں اور بادشاہوں کی کئی کئی بیویاں ہوتی تھیں، بلکہ شہنشاہ سلیمان کی تو 700 بیویاں اور 300 باندیاں تھیں اور امریکہ میں مورمن تو اب بھی جتنی بیویاں چاہیں رکھ سکتے ہیں، تو پھر عورت دو شوہر کیوں نہیں رکھ سکتی؟ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ تیزرفتاری سے اسکوٹر چلا رہا ہے۔ چناں چہ اس نے فوراً رفتار کم کردی اور سوچنے لگا کہ شاید عورت تو ساجھے داری کو برداشت کر لیتی ہے مگر مرد اتنا فراخ دل نہیں ہوتا۔ اس کے تصور میں ایک منظر آیا جس میں پادری پال مریم کی شادی بیک وقت اس سے اور عارف سے کر رہے تھے۔ مریم پادری پال کے سامنے کھڑی تھی اور اس کی ایک طرف وہ اور دوسری طرف عارف کھڑا تھا، اور دونوں عہد وفاداری کر رہے تھے۔
”کتنی مضحکہ خیز بات ہوگی،“ اس نے سوچا، ”پھر دو ہی صورتیں ہوں گی۔ یا تو میں مارپیٹ کر کے عارف کو بھگا دوں یا وہ مجھے بھگا دے، اور یا پھر ہم میں سے ایک، دوسرے کو قتل کردے۔“
اسکوٹر چیونٹی کی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی اور دانی ایل خیالات میں گم تھا۔ وہ عارف کے لیے آلۂ قتل کا انتخاب کر رہا تھا۔ جب اسے اپنے احمقانہ خیالات کا احساس ہوا تو وہ بے اختیار مسکرایا اور اس کے ذہن میں ایک پرانا شعر چکرانے لگا،
تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
اُس نے اکسیلریٹر کو مروڑا اور اسکوٹر ہوا ہو گئی۔
***
چٹاگانگ کی بندرگاہ پر صبح صادق کی آہٹ محسوس ہوتے ہی افق کے کنارے ایک مدھم سی روشنی ابھری، جیسے کسی مصور نے اپنے برش کی ہلکی سی جنبش سے کینوس پر ایک دھندلا سا خاکہ کھینچ دیا ہو۔ اس روشنی کے ساتھ ہی سمندر کے سکوت میں ہلکے سے ارتعاش کے ساتھ ایک ہیولا ابھرا۔ یہ ایسٹرن شپنگ کمپنی کا ایک پرانا بحری جہاز تھا جو آہستہ آہستہ بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کی بوسیدہ لکڑی کی دیواریں اور زنگ آلود لوہے کے فریم، اس کے درخشاں ماضی کی گواہی دے رہے تھے کہ اس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا، اور اب وہ آخری سانسیں لیتا ہوا عادل پیٹر کی ورک شاپ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وقت کے ساتھ جہاز بھی پرانے ہو جاتے ہیں۔ ان کے ڈھانچے کو زنگ ڈھانپ لیتی ہے اور مشینیں اپنی طاقت کھو دیتی ہیں۔ ایسے میں عادل کی ورک شاپ کے نوجوان انجینئر اور ماہر کاریگر اُن کو احتیاط سے توڑ کر ان کے اندر چھپی ہوئی دھاتوں اور پرزوں کو دوبارہ استعمال کے لیے نکالتے تھے۔
ورک شاپ کی گودیاں بندرگاہ کی گودیوں سے ایک میل دور تھیں تاکہ وہاں آنے والے جہاز بندرگاہ کے معمولات پر اثر انداز نہ ہوں۔ عادل ایک کھڑکی کے پیچھے کھڑا ہوا آتے ہوئے جہاز کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے آگے ”کواں کواں“ کرتا ہوا سمندری مرغابیوں کا ایک غول چکرا رہا تھا گویا وہ اس کی آمد کا اعلان کر رہا تھا۔ گاہے گاہے کوئی مرغابی پانی میں غوطہ لگاتی اور ایک چھوٹی سی مچھلی پنجوں میں پکڑ کر دوبارہ غول میں شامل ہو جاتی۔ ایک ٹگ بوٹ گودی سے نکل کر جہاز کی طرف چل دی تاکہ وہ اسے کھینچ کر گودی تک لے آئے اور احتیاط سے اسے وہاں کھڑا کردے۔ وہاں موجود دو جہاز پہلے سے ہی اپنی باری کے منتظر تھے۔
اچانک عادل کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے عارف کھڑا مسکرا رہا تھا۔
”ارے بیٹا، تم کب آئے؟“ عادل نے پوچھا۔
”کل رات کو ہی پہنچا، پاپا،“ عارف نے جواب دیا۔
” شاہد کی فیملی سے ملے؟“
” جی، اور میرے پاس آپ کے لیے ایک خبر ہے،“ عارف نے مسکرا کر کہا اور خاموش رہا۔
” بولو بھئی، کیا خبر ہے؟“
” میں نے شاہد چچا کی بیٹی کو شادی کی پیش کش کردی ہے۔“
”اور؟“
”اور اُس نے قبول کرلی ہے۔“
” مبارک، مبارک،“ عادل نے دونوں بازو پھیلا دیے اور عارف کو بھینچ کر پیار کیا، ”تم نے اپنی ممی کو بتایا؟“
”ابھی ممی سے ملاقات نہیں ہوئی،“ عارف نے جواب دیا، ”آج شام کو کام کے بعد آؤں گا۔“
” اچھا تو بتاؤ، مریم کیسی ہے اور کتنی بڑی ہو گئی ہے؟“
” مریم اچھی ہے اور میرے برابر ہی ہو گئی ہے،“ عارف نے قہقہہ لگا کر کہا۔
” بہرحال میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں، تمہاری ماں بھی یہ خبر سُن کر خوش ہوں گی۔“
”آج شام کو آپ کی طرف آؤں گا۔“
عادل اور ان کی بیوی، گلوریا، درود نگر میں ایک عالی شان کوٹھی میں ملازمین کی فوج کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ چٹاگانگ کے شمالی حصے میں شہر کی ریل پیل سے کچھ فاصلے پر بسا ہوا ایک پرتعیش اور پرسکون علاقہ ہے جہاں بڑی بڑی کوٹھیاں اور شاندار باغات ہیں۔ یہاں کی صاف ستھری گلیاں اور سڑکیں، جدید طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں اور یہاں کے مکین اپنے ثقافتی ذوق اور اعلیٰ معیار کی تعلیم کی بنا پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔
عادل اور گلوریا نے بڑی محنت سے اپنے بیٹے کی تربیت کی تھی۔ انہوں نے اسے ایبٹ آباد کے برن ہال میں پڑھایا تھا جو 1943 میں ایک رومن کیتھولک مشنری گروپ نے قائم کیا تھا۔ اسکول کا مقصد ملک کے لیڈر پیدا کرنا تھا، اور بیشتر سیاسی لیڈر، آرمی افسر اور بڑے بڑے بزنس مین برن ہال کے فارغ التحصیل ہوتے تھے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد عارف اپنے باپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے اس کی ٹیم میں شامل ہو گیا تھا۔
سمندر کے کنارے پتنگا کے علاقے میں بھی عادل کا ایک بنگلہ تھا جس میں زیادہ تر ان کے مغربی پاکستان سے آنے والے دوست ٹھہرتے تھے۔ عادل اور گلوریا کا حلقۂ احباب کافی وسیع تھا۔ گھر میں ان کے دوستوں کا جمگھٹ لگا رہتا تھا۔ یہی حال عارف کا تھا اور آئے دن دوستوں کے ساتھ پارٹیاں ہوتی رہتی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی وسیع و عریض کوٹھی بھی کم پڑنے لگی اور عارف پتنگا کے بنگلے میں مع ایک خانساماں کے منتقل ہو گیا۔ اس کا بہانہ یہ تھا کہ وہ جگہ ورک شاپ کے نزدیک تھی جہاں وہ کبھی کبھار رات کو بھی کام کرتا تھا مگر حقیقت یہ تھی کہ وہاں اسے دوستوں کو جمع کرنے کی پوری آزادی مل گئی چناں چہ وہاں اُن کا تانتا بندھا رہتا تھا۔

