سائیں جی ایم سید اور سندھی قوم پرستی کا المیہ
سنسکرت میں ”مارو“ ریگستان کو کہا جاتا ہے اور ریگستانی علاقے کا نام بھی اسی وجہ سے ”مارواڑ“ پڑا تھا جسے اب راجستھان اور مغلیہ دور میں راجپوتانہ کہا جاتا تھا۔ میری چلے تو میں سائیں جی ایم سید کو ”ریگستان کا عاشق“ تحریر کروں، یعنی ”مارو ڈھولا“ سے تعبیر کروں جو دھرتی کا سچا عاشق ہی نہیں بلکہ دھرتی کا ”امین“ بھی تھا۔ سندھ کو نئی پہچان دینے اور اس کی قومی شناخت کو منوانے میں سائیں جی ایم سید کی غیر معمولی فکر سے جنم لینے والے سماجی، سیاسی اور معاشی فلسفے کا کردار نمایاں ہے اور اسی فلسفے سے سندھ میں قوم پرستی کے فلسفے کو جدیدیت حاصل ہوئی، یہی وجہ ہے کہ سائیں جی ایم سید کو جدید سندھ کا باپ کہا جاتا ہے۔
سائیں جی ایم سید بذات خود صوفی بھی تھے، فلسفی بھی تھے خطیب بھی تھے، شاعر بھی تھے، ادیب بھی تھے، مورخ بھی تھے، مذہبی پیروکار بھی تھے، قوم پرست بھی تھے لیکن وہ انسانیت کی تکریم کو ان سب پر مقدم رکھتے تھے، وہ اپنی ذات میں حقیقتاً ”سیکولر“ تھے جو پیرو مرشد ہونے کے باوجود مذہب کے سب سے بڑے ناقد بھی تھے۔ ایسا بیان کرنے سے غالباً یہ تاثر ملتا ہے کہ سائیں جی ایم سید شاید متفرق خیالات کا مجموعہ شخصیت تھے۔ قیام پاکستان میں اپنے غیر معمولی کردار سے لے کر سندھو دیش کے نعرے تک ان کے خیالات میں یقیناً تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن یہ تبدیلی صرف اور صرف سندھ کے گرد گھومتی رہی ہے حالانکہ وہ دور اندیش غیر معمولی سیاسی بصیرت کے حامل اور عالمی امور کی ماہر شخصیت تھے، یعنی وہ ایک دنیا کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
ہم شخصیات کو ان کے سماجی، مذہبی اور سیاسی نظریات کے تناظر میں پرکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخصیت کے ”خیالات“ پرکھنے والے سماج یا طبقہ سے متصادم ہوتے ہیں تو پھر اسے ایسے سماج یا طبقہ کا ”ولن“ کہا جاتا ہے، اگر یہی خیالات پرکھنے والے سماج یا طبقہ سے مطابقت رکھتے ہیں تو اُسے ”ہیرو“ کے طور پر لیا جاتا ہے۔ محب وطن ہونا یا غدار ٹھہرائے جانا بھی ”سوچ“ پر ہی منحصر ہے۔ اس ضمن میں تاریخ کا مطالعہ بھی ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے حالانکہ تاریخ کی تحریر میں بہت زیادہ گڑبڑ ہونے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ایک بڑے حصے نے ہر نئے سماج کو تقسیم در تقسیم ہی کیا ہے جو کبھی منافرت اور عصبیت کی وجہ بنتی ہے تو کبھی تشدد کو فروغ دیتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں جتنے بھی بڑے رہنما گزرے ہیں وہ ”عدم تشدد“ کے داعی رہے ہیں اور اسی عدم تشدد کے فلسفے کے قائل سائیں جی ایم سید بھی تھے لیکن بد قسمتی سے ان کے قوم پرستی کے فلسفے کو تاریخی اعتبار سے سمجھنے میں مبالغہ کیا گیا اور سندھ میں سندھی اور غیر سندھی سماج کی اصطلاحیں متعارف ہوئیں جس میں ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں کے لیے ”مہاجر“ کی اصطلاح کا سیاسی استعمال نمایاں رہا ہے۔ آج سندھ کی قوم پرست سیاست کا ایک بڑا خاصا یہی ہے کہ وہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میں ”سندھی، مہاجر“ تصادم کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے، یعنی سائیں جی ایم سید کے قوم پرستی کے عظیم فلسفے کو محدود کر دیا گیا ہے، جسے میں سائیں جی ایم سید کے بنیادی فلسفے سے کُھلی رو گردانی سمجھتا ہوں۔
ہم بسا اوقات نظریات کی تفسیر اور تشریح کرنے میں اس کی اصل روح سے دور ہٹ جاتے ہیں، ایسا ہی کچھ سائیں جی ایم سید کے فلسفے یا نظریے کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ جیسا کے اوپری سطور میں تحریر کیا گیا کہ سائیں جی ایم سید مذہب کے ناقد بھی تھے، یعنی وہ مذہب کے بہت سے معاملات کو ملائیت کی پیداوار قرار دیتے تھے اس کے باوجود وہ مذاہب کو تکریم بھی دیتے تھے اور وہ اس تکریم سے اپنی موت تک پیچھے نہیں ہٹے، قرآن مجید، انجیل، توریت اور گیتا ان کی آخری رسومات میں شامل رہیں۔ میں اس نکتہ کو بنیاد بنا کر ایک سوال اٹھانا چاہتا ہوں جو میرے ذہن میں ہمیشہ اُبلتا رہا ہے کہ سندھ میں قوم پرستی کے فلسفے کو غیر معمولی مقبولیت تو حاصل رہی ہے لیکن انتخابی سیاست میں اسے اہمیت کیوں نہیں مل سکی؟ اس سوال کی ایک سیاسی وجہ تو میری سمجھ میں یہ آتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا وہ طرز سیاست ہے جس میں ”سندھ کارڈ“ کی آمیزش کی گئی جو اپنے اندر قوم پرستی کا مکمل فلسفہ تو نہیں رکھتی تھی لیکن اسے قوم پرست سیاست کا چربہ ضرور کہا جاسکتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ سندھی قوم پرست نوجوان جب قوم پرستی کی سیاست سے جڑتے ہیں تو وہ عموماً مارکسی فلسفے یا جدید فلسفیوں کے نظریات اور خیالات کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں جو یقیناً انقلابی تحریکوں کے مطالعہ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے مطالعہ کے نتیجے میں قوم پرست کا ایک پڑھا لکھا طبقہ مذہب سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے جبکہ عام سندھی مذہب کے ساتھ ساتھ صوفی ازم کے ساتھ بھی جڑا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ اپنے قوم پرست رہنماؤں اور کارکنوں کو مذہب سے اظہار بیزاری کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ ان سے دوری اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت گردانتا ہے، اس طرح قوم پرست تنظیمیں انتخابی سیاست میں وہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتی ہیں جو انہیں ملنی چاہیے۔
ایسے میں قوم پرست سیاست دانوں کے لیے یہ سوچنے اور سمجھنے کا مقام بھی ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان سے سائیں جی ایم سید کے بنیادی فلسفے کو سمجھنے اور سمجھانے میں کہاں چُوک ہوئی ہے کیونکہ سائیں جی ایم سید کے قوم پر ستی کے بنیادی فلسفے میں ہر ایک کے بنیادی عقیدے کو تکریم حاصل رہی ہے۔ آخر میں بس اتنا کہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں مغربی فلسفیوں کے حوالے دینے سے ہی کوئی لبرل دانشور نہیں بن جاتا اور نہ ہی کوئی اپنے خطبات اور مقالات میں مذہبی حوالے دینے سے رجعتی دانشور ہو جاتا ہے۔ بس میرے نزدیک سائیں جی ایم سید کا یہی بنیادی فلسفہ ہے جسے ہم قوم پرستی کے جدید ترین فلسفوں میں شمار کر سکتے ہیں۔


