پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 3 )
چند دنوں سے جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے پورا سوشل میڈیا اس سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب دیکھ کر جو تکلیف ہوئی وہ تو اپنی جگہ ہے مگر پھر یہ سوچ کر شرمندگی ہوئی کہ ہم اپنے بچوں کو کیا ایسا پاکستان دے کر جائیں گے جہاں کسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کی عزت جان اور مال محفوظ نہ ہو۔ میرے بچے پچھلے آٹھ سال سے دبئی میں رہتے ہیں ہم ہر سال اپنے پیاروں سے ملنے پاکستان جاتے ہیں اور بچے وہاں جا کر بہت خوش بھی ہوتے ہیں۔ اس سال ہم انھیں گھمانے اسلام آباد لاہور ملتان اور بہاولپور لے کر گئے تھے کیونکہ اس سے پہلے جب انہوں نے ان میں سے کچھ شہر دیکھے تھے تو وہ بہت چھوٹے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہ کیسے یقین کریں گے اگر میں ان سے کہوں کہ ہمارے بچپن میں پاکستان اور اسلام دونوں ایسے نہیں تھے جیسے اب ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے جس ملک کی تقریباً 95 فیصد آبادی مسلمان ہے وہاں اسلام کو خطرہ ہے۔ جتنا خطرہ پاکستان میں اسلام کو ہے شاید اور کہیں نہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹی تھی تو گھر پر آئے دن امی ابو کے ملنے والے ہمارے گھر آتے اور نہ صرف مذہب بلکہ سیاست پر بھی خوب بحثیں ہوتی تھیں مگر میں نے کسی کو نازیبا زبان استعمال کرتے نہیں دیکھا ایک دوسرے کی بات سنی جاتی پھر اپنی رائے کا اظہار کیا جاتا کسی کی بات اگر دل کو ٹھکتی تو دیر تک اس پر گفتگو ہوتی وہ دور علمی بحثوں کا دور تھا لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش تھی اب کی طرح نہیں کہ کسی نے آپ سے مختلف سوچ کا اظہار کیا تو اسے دشمن ہی سمجھ لیا۔
مجھے یاد ہے امی کے ملنے والوں میں ان کے دوست کرسچن بھی تھے ہندو بھی تھے بہائی اور پارسی بھی تھے تب دوستی مذہب دیکھ کر نہیں کی جاتی تھی میں ایک ایسے ماحول میں بڑی ہوئی جہاں مذہب، زبان، رنگ اور نسل کیا ہوتا ہے اس کی کوی اہمیت نہیں تھی اہم تھی تو انسانیت۔
میرے نانا کے دوست کرسمس پر ان کے ہاں کیک بھیجتے اور نانی اماں عید پر ان کے ہاں پلاؤ بھیجتی تھیں۔ جب ہم گلشن اقبال میں رہتے تھے تو ہمارے ایک پڑوسی کرسچن تھے ان کی بیٹی کی شادی تھی اور ہمارے گھر بھی دعوت نامہ آیا نانی اماں بہت خوش تھیں کہ وہ پہلی دفع چرچ جا سکیں گی اور ایک کرسچن شادی دیکھ سکیں گی۔
ہمارے محلے میں محرم کے پہلے عشرے میں ہر گھر میں نذر نیاز ہوتی تھی اور وہاں اہل تشیع کے ساتھ اہل سنت بھی رہتے تھے اور بڑے جذبے اور عقیدت سے یہ دس دن منائے جاتے تھے۔ میرے میاں کے بچپن کے دوست کرسچن ہیں ہم جب تک پاکستان میں رہے ہر سال کرسمس پر ان کے گھر جاتے پرما اور فرجاد دونوں کرسمس ٹری دیکھ کر بہت ِخوش ہوتے اور ہمیں کبھی اسلام خطرے میں نہیں لگا۔
جب ہم دبئی آئے تو بچوں کے اسکول میں diversity کا یہ عالم کے پینتالیس پچاس الگ زبانوں کے بچے ایک ساتھ پڑھ رہے ہیں کتنا اچھا لگتا ہے جب یہ سب بچے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے کی خوشیاں اور دکھ ساتھ بانٹتے ہیں نہ ہمیں اور نہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنا اپنا مذہب خطرے میں لگتا ہے۔ دبئی میں رہنے سے دوسری اچھی بات یہ ہوئی کہ بچے دیوالی، ہولی، کرسمس، ایسٹر، ہیلوین بھی اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مناتے ہیں اور دوسرے کے تہوار کا احترام کرتے ہیں۔ ایسی کیا بات ہے کہ ہم سب کو کہیں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا بات صرف سوچ کی ہے ہم نے اپنے بڑوں سے انسان کی عزت کرنا سیکھی تھی ہم کو یہ نہیں سکھایا گیا تھا کہ صرف مسلمان کی عزت کرنی ہے۔ ہمیں اگر اپنی زبان سے محبت کرنا سکھایا گیا تھا تو ساتھ میں یہ بھی سکھایا گیا تھا کہ دوسرے کی زبان کی عزت کرو۔ یہ دلوں میں اتنی تنگی کب اور کیسے آئی۔
جو حال ہم نے پاکستان میں اقلیتوں کا کیا ہے اس پر ہمیں شرم آنی چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ ہم کس منہ سے بیرون ملک میں اپنے لیے مذہبی خود مختاری کی بات کرتے ہیں جب اپنے گھر میں ہم سے انصاف اور مساوی حقوق نہیں دیے جاتے۔
جب میں پہلی بار اپنے بیٹے کے اسکول کے فنکشن میں اب سے کئی برس پہلے شریک ہوئی تھی اور عرب امارت کے ترانے کے لیے کھڑی ہوئی تھی تو اپنا ترانہ یاد کر کے اس تقریب میں رو پڑی تھی اور بہت مشکل سے میں نے اپنے جذبات کو قابو کیا تھا وہ میری محبت میرے ملک کے لیے تھی اور اس دن یہ احساس ہوا تھا کہ ہر کسی کو اپنی زبان، مذہب رسم و رواج سے محبت ہوتی ہے اور اس کا احترام سب پر واجب ہے۔
ہمارے بچپن کا پاکستان بہت کشادہ دل لوگوں کا ملک تھا۔ پرما، فرجاد تمہاری جس طرح تربیت کی گئی ہے اور تم جس ماحول میں پلے بڑھے ہو مجھے معلوم ہے کہ تم دونوں کبھی بھی مذہب، رنگ، زبان اور نسل کی بنیاد پر کسی کو نہ تو کمتر جانو گے نہ لوگوں سے اس لیے تفریق کرو گے کہ ان کی سوچ اور نظریہ تم سے مختلف ہے۔ میں مرتے دم تک یہ خواب دیکھتی رہوں گی کہ ایک دن پھر پاکستان ویسا ہو گا جس پاکستان میں میں پیدا ہوئی تھی اور جہاں میں اور میرے ہم عمر لوگوں نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ خوشی اس بات کی ہے کے میں نے اور کامران نے تم دونوں کو اس طرح پالا ہے کہ تم سے یہ امید ہے کہ تم ایک بہتر دنیا اور بہتر پاکستان بناؤ گے۔


