عورت کا جرم؟


میں نے معاشرے میں جس سمت بھی نظر اٹھائی ہے مجھے عورت مختلف درجوں میں مبتلائے سزا و عذاب دکھتی ہے۔ مگر مجھے بظاہر عورت کا اس جرم کے سوا کوئی جرم نہیں نظر آتا ہے کہ وہ بس عورت ہے یا پھر بے بس عورت ہے۔ اگر عورت ہونا جرم ہے تو یہ عورت کا جرم تو نہیں ہوا، کیوں کہ عورت اس بات پر کچھ قدرت نہیں رکھتی ہے کہ وہ عورت پیدا ہوئی ہے۔

گزشتہ دونوں عالمی جریدے ”گارڈین“ نے یہ خبر شائع کی کہ افغانستان کے ایک وزیر کو صرف اس سبب ملک بدر ہونا پڑا کہ اس نے عورتوں کی تعلیم کے حق میں بات کر دی۔ یہ عورتوں پر ظلم کی انتہا نہیں تو کیا ہے کہ ان کے مسلمہ حقوق پر بھی غاصبانہ قدغن لگا دی گئی ہے۔ اگر بات کریں دوسرے ایشیا کی جہاں عورت کی تعلیم پر پابندی نہیں ہے تو وہاں بھی کچھ حوصلہ افزا حالات نہیں ہیں۔ ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو کسی حد تک مجبور ہے اس بات پر کہ صرف اپنے بچوں کو ہی تعلیم دلا سکتے اور بچیوں کو وسائل کی کمی کے سبب تعلیم سے محروم رکھا ہے۔

اور جہاں بچوں اور بچیوں دونوں کی تعلیم رائج ہے وہاں آپ کو واضح فرق نظر آتا ہے توجہ کا جو یقینی طور پر بچے پر زیادہ دی جاتی ہے۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو لڑکی کو تعلیم کے لئے سرکاری سکول اور لڑکوں کو اچھے نجی تعلیمی اداروں میں بھیج رہے ہیں۔ اسی طرح کا ایک امتیازی سلوک ہمارے پورے معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں دکھائی دیتا ہے۔

ہماری عورت زندگی کی ہر سطح پر اور ہر رشتے میں مسلسل اذیت کا شکار ہے۔ عورت کو تو کھل کر اپنی رائے کے اظہار کا حق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں اہم فیصلوں میں عورت کی رائے کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے ہماری عورت مسلسل ہی اپنے اندر ان کہی باتوں کا کرب لیے کڑھتے ہوئے اس دنیا سے چلی جاتی ہے اور اس کا واضح ثبوت نوجوان نسل کی تربیت اور ذہن سازی پہ مرتب اثرات کی شکل میں موجود ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت اگر کوئی قابلیت اہلیت اور ذہانت رکھتی بھی ہے تو اس کو کتنے لوگ قبول کرتے ہیں۔ یہاں تو ہمیشہ سے عورت کی ذہانت کو اعتراض کی زد میں دیکھا جاتا ہے۔

یہاں تک کہ ہم لوگ محبت کے نام پر بھی عورت کو ہراساں کرتے ہیں۔ مرد نے عورت سے جب بھی محبت کا اظہار کیا اس نے کئی بار اس کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ مرد کے اظہار محبت کے بعد اس کو ہمیشہ چوکس رہنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر مرد و عورت کی جذباتی وابستگی کہیں معاشرے میں منظر عام پر آ جاتی ہے تو صرف عورت کو ہی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ مرد کوئی پیدائشی برتری لے کر آیا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ جو بھی کرے وہ اس درجے کا جواب دہ نہیں جتنی عورت ہے۔ عورت اگر جنسی زیادتی کا شکار ہو جاتی ہے تو اس عورت کو معاشرے میں انتہائی غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مرد نہ صرف بری الذمہ رہتا ہے بلکہ اس کو بہت سے جاہل لوگ سراہتے بھی ہیں۔ یہ منافقت عورت کو کمزور کر رہی ہے اور معاشرے کو توڑ کر رکھ دے گی۔

اگر ہم معاشرے کو مضبوط بنانے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں سب سے پہلے عورت کو بحیثیت انسان قبول کرنا ہو گا اور اس کو حقوق اور اختیارات سے محروم رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ عورت کو کسی بھی امتیازی سلوک کا سامنا صرف اس وجہ سے نہ کرنا پڑے کہ وہ ایک عورت ہے۔ عورت اس کائنات کی ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس کو اپنی اصلیت میں قبول کیے بغیر یہ کائنات نامکمل رہے گی۔

اقبالؒ نے کہا تھا
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز ہے زندگی کا سوز دروں

Facebook Comments HS