ہمارے دور میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ جنریشن گیپ


کہتے ہیں کہ ہر نئی نسل پرانی نسل کے لیے ایک ناقابلِ حل معمہ ہوتی ہے۔ نئی نسل کو لگتا ہے کہ پرانی نسل جدید دور کے تقاضوں کے مطابق چلنے سے قاصر ہے، جبکہ پرانی نسل کا ماننا ہے کہ نئی نسل اخلاقی، تہذیبی اور فکری بگاڑ کا شکار ہے۔ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ سقراط کے زمانے سے چلا آ رہا ہے جب وہ نوجوانوں کے بدلتے رویوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا تھا کہ یہ نسل ادب و آداب سے محروم، بے صبر اور نافرمان ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے بزرگ بھی کچھ ایسا ہی کہتے نظر آتے ہیں، گویا ہر گزرتی نسل اپنے پیچھے آنے والی نسل کو کسی المیے سے کم نہیں سمجھتی۔ ان کے نزدیک ان کے زمانے میں نوجوان نہایت سعادت مند، فرمانبردار اور قابلِ رشک تھے، اور آج کل کے نوجوان نالائق اور بے راہ رو۔

یہ بات طے ہے کہ ہر نسل کو اپنے وقت کے اصول بہترین لگتے ہیں، اور جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، پرانی نسل کو اپنا دور ایک سنہری خواب محسوس ہونے لگتا ہے۔ جنریشن گیپ کسی خاص دور، قوم یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل انسانی حقیقت ہے، جو ہر گزرتے وقت کے ساتھ نئی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ محض ایک نظریاتی فرق نہیں، بلکہ ایک سماجی زلزلہ ہے جس کے جھٹکے ہر دوسرے گھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ گلی کے نکڑ پر بیٹھے دادا جی، جو کبھی اپنی جوانی میں خود کو زمانے سے دو قدم آگے سمجھتے تھے، آج کے نوجوانوں کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسا وقت آ گیا جہاں بچے موبائل فون میں سر دیے بیٹھے ہیں۔ وہ والدین جو کبھی ہاتھ سے لکھے گئے خطوط کے رومانس میں گم رہتے تھے، آج ان کے بچے وائس نوٹس پر زندگی کی سب سے جذباتی کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔ محبت نامے ایموجیز میں ڈھل چکے ہیں اور خطوط کا دور واٹس ایپ کے اسٹیٹس پر ختم ہو گیا ہے۔

یہاں مسئلہ صرف وقت گزرنے کا نہیں، بلکہ ایسی تیز رفتار تبدیلی کا ہے جو والدین کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک نسل کو دوسری نسل سے ہم آہنگ ہونے میں دہائیاں لگتی تھیں، مگر اب دنیا اس قدر تیزی سے بدلی ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان چند سالوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو چکا ہے۔ معاشرے میں اس خلیج کو سب سے زیادہ ٹیکنالوجی نے وسیع کیا ہے۔ پہلے گھڑی، کیلکولیٹر، کیمرہ، کمپاس، ٹیلی ویژن، ریڈیو، بینک، دفتر اور بازار سب الگ الگ چیزیں ہوا کرتی تھیں، مگر اب یہ سب کچھ ایک چھوٹے سے موبائل فون میں سما چکا ہے۔ ہر چیز ایک کلک پر دستیاب ہے اور یہ اسمارٹ فون اب ایک نئی نسل کا رہنما بن چکا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں یہ خلیج یوں بھی زیادہ گہری ہوئی ہے کہ یہاں بزرگوں کا تجربہ اور نوجوانوں کی تیز رفتاری اکثر ٹکرا جاتی ہے۔ والدین کے نزدیک ہر فیصلہ تجربے کی روشنی میں ہونا چاہیے، جبکہ نوجوانوں کا خیال ہے کہ زندگی گوگل کے سرچ رزلٹس کے مطابق چلنی چاہیے۔ گھر کا سب سے بڑا مسئلہ یہی بن چکا ہے کہ والدین سمجھتے ہیں کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے بچوں کو برباد کر دیا ہے، جبکہ بچے سمجھتے ہیں کہ والدین آؤٹ ڈیٹڈ ہیں اور انہیں ایک اپڈیٹ کی ضرورت ہے۔

یہ جنریشن گیپ محض ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ طرزِ زندگی، لباس، زبان، خیالات اور خوابوں میں بھی اپنا وجود رکھتا ہے۔ پرانی نسل کے نزدیک کامیاب زندگی کا مطلب ایک اچھی سرکاری نوکری ہے، جبکہ نئی نسل اسٹارٹ اپس، فری لانسنگ، اور ڈیجیٹل نومیڈ بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ والدین کے لیے تعلیم کا مطلب موٹی موٹی کتابیں ہیں، جبکہ بچے ای بکس اور پوڈکاسٹس کو علم کے نئے سرچشمے سمجھتے ہیں۔ پہلے والدین بچوں کو باہر جانے سے منع کرتے تھے، اب وہ انہیں موبائل چھوڑ کر باہر جانے پر مجبور کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب بچوں کے کھیل گلی محلے میں ہوا کرتے تھے، چھپن چھپائی میں مہارت حاصل کرنا بڑی کامیابی تھی، اور برف پانی میں ہار جانا قیامت لگتا تھا۔ آج کی نسل کے لیے گیمنگ کا مطلب آن لائن پلیٹ فارمز پر گلوبل رینکنگ حاصل کرنا ہے۔ پہلے تفریح کا مطلب کرکٹ کھیلنا، پتنگ بازی کرنا یا خاندان کے ساتھ وقت گزارنا تھا، جبکہ آج کے نوجوانوں کے لیے تفریح نیٹ فلکس، ای اسپورٹس اور سوشل میڈیا ہے۔ پرانی نسل کے لیے سماجی روابط کا مطلب کسی دوست یا رشتہ دار کے گھر جا کر چائے پینا تھا، جبکہ آج کی نسل انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ پر اپنے سوشل سرکل قائم کرتی ہے۔

یہ فاصلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ والدین اور بچے ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دو مختلف دنیاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ بچے انہیں اپنی زندگی میں شامل کریں، مگر جب بچے ایسا کرتے ہیں تو والدین اپنے پرانے اصولوں کی چادر اوڑھ کر ہر نئی چیز کو رد کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بچے آہستہ آہستہ اپنے خیالات والدین سے چھپانے لگتے ہیں اور یوں جنریشن گیپ، کمیونیکیشن گیپ میں بدل جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل کسی ایک فریق کی تبدیلی میں نہیں، بلکہ دونوں کی طرف سے کوشش میں ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی دنیا کو فضول سمجھنے کے بجائے اس میں دلچسپی لیں، نئی چیزیں سیکھیں اور قبول کریں کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ بچوں کو بھی چاہیے کہ والدین کو پرانے زمانے کی چیزیں سمجھانے کے بجائے انہیں سکھانے کا طریقہ بدلیں۔ اگر دونوں فریق صرف سننے اور سمجھنے کا جذبہ پیدا کر لیں، تو یہ فاصلہ کم ہو سکتا ہے۔ ورنہ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو اگلی نسل کے بچے بھی یہی سنیں گے :

”ہمارے دور میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔“

Facebook Comments HS