ماحولیاتی تبدیلیاں اور ریڈیو کا عالمی دن
اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسکو کی جانب سے اس سال ریڈیو کے عالمی دن کا مرکزی عنوان ریڈیو اور ماحولیاتی تبدیلیاں رکھا گیا ہے۔ ادارے کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس سمیت میڈیا ٹیکنالوجیز میں نت نئی ایجادات کے اس دور میں بھی ریڈیو عالمی سطح پر نہایت مقبول اور قابل بھروسا میڈیم ہے۔ ریڈیو نہ صرف ماحولیاتی فکر اور نظریات کو عام فہم انداز میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بلکہ مصدقہ اور بر وقت موسمیاتی معلومات کی فراہمی کا مستند ذریعہ بھی ہے۔
جس طرح گزشتہ تقریباً ایک صدی سے ریڈیو نے دنیا کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اسی طرح یہ میڈیم ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ویسے تو آب و ہوائی تبدیلیاں ایک عالمی مسئلہ ہے اور پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث زیادہ شدت اور تواتر سے واقع ہونے والے موسمی حادثات سے نمٹ رہی ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک ان تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں اس بات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ریڈیو کے میڈیم کو کس طرح ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے استعمال کیا جائے۔
اس حوالے سے ہمارے قومی نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ کیونکہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے ماحولیاتی پروفائل الگ الگ ہیں۔ ہمارے ملک کو قدرت نے مختلف قسم کے ایکو سسٹمز سے نوازا ہے۔ جن میں صحرائی، پہاڑی، ساحلی اور میدانی علاقوں سمیت دیگر ایکو سسٹمز شامل ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات مختلف علاقوں کے لیے الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کے ساحلی علاقوں کے لوگوں کے لیے آب و ہوا کی تبدیلیوں کے نتیجے میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح پریشانی کا باعث ہو سکتی ہے تو گلیشیئرزکے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے شمالی علاقہ جات کے لوگوں کے لیے برف کے تودے گرنے، پہاڑوں کے درمیان برفانی جھیلیں بننے اور ان کے پھٹ پڑنے، (جسے گلوف یا گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈنگ بھی کہا جاتا ہے ) اور پہاڑی ندی نالوں کے بپھرنے جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
تھرپارکر جیسے صحرائی علاقوں کے لیے قحط سالی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور زرخیز میدانی علاقوں کو سیلاب جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ہر علاقے کی مقامی آبادیوں کی ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے معلوماتی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔ جن کو صرف مقامی طور پر فعال کمیونٹی میڈیا ہی پوری کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے تھرپارکر میں ریڈیو پاکستان مٹھی سے لے کر شمالی علاقہ جات میں اسکردو اور گلگت تک ریڈیو پاکستان کے 60 سے زیادہ ریڈیو اسٹیشنز کا نیٹ ورک ایک اہم کردار نبھا رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے یہ اسٹیشن تھرپارکر سے لے کر شمالی علاقہ جات میں بولی جانے والی زبانوں تک پاکستان کی تقریباً تمام مقامی زبانوں میں ماحولیاتی معلومات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔
کلائیمیٹ چینج کمیونیکیشن کے حوالے سے دنیا بھر میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ آب و ہوائی تبدیلیوں کے اثرات سے مقابلے کے لیے مقامی آبادیوں کو ان کے معروضی حالات اور ضروریات کے پس منظر میں قابل عمل معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقامی ریڈیو اسٹیشن ان علاقوں کے ماحولیاتی مسائل پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے نقطہ نظر کو سامنے لانے، مقامی لوگوں کی قدیم ماحول دوست تہذیبی روایات کی تشہیر کے ساتھ ساتھ حکومت کی ماحولیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں مقامی آبادیوں کی شراکت داری یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہونے والے پروگراموں کے لیے مقامی ریڈیو اسٹیشن ان علاقوں کے اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین کی رائے پر مبنی مواد تیار کر کے بھیجتے ہیں جس سے پاکستان کے مختلف علاقوں کے مقامی ماحولیاتی مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے اور تمام علاقوں کے لوگوں کی آواز ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے قومی سطح پر ہونے والے مباحثے میں شامل ہوجاتی ہے۔
اگر ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ریڈیو پاکستان نے نہ صرف اس ملک کے لوگوں کی معلوماتی اور تفریحی ضروریات پورا کرنے اور ثقافتی ترقی میں بے مثال کردار نبھایا ہے بلکہ موسم کے حوالے سے بر وقت معلومات کی فراہمی سے لے کر قدرتی آفات کے زمانے میں عوام تک جان و مال کے تحفظ سے جڑی اہم معلومات پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ ریڈیو پاکستان ہی رہا ہے۔ اگر ہم صرف موجودہ صدی کی بات کریں تو کشمیر میں آنے والے زلزلے سے لے کر عطا آباد جھیل اور 2010 کے سیلاب سے لے کر 2022 کے سیلاب تک ہر قدرتی آفت کے دوران ہمیں ریڈیو پاکستان کا ایک بھرپور کردار نظر آتا ہے۔
ڈزاسٹر کمیونیکیشن کا ایک اہم جز آفات کے دوران خطرے سے دوچار آبادیوں کو مصدقہ معلومات کے ذریعہ حکومتی ہدایات کے مطابق محفوظ جگہوں کی طرف منتقل ہونے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ اس حوالے سے مجھے یاد ہے کہ 2010 کے سیلاب کے دوران دریائے سندھ کے کچے کے علاقوں اور دیگر خطرے سے دوچار آبادیوں کے لیے محفوظ جگہوں کی طرف انخلا کے سرکاری اعلانات جب ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئے تو مقامی آبادیوں نے اس پر عملدرآمد کیا۔ 2010 کے سیلاب کے دوران ریڈیو پاکستان کی جانب سے ایک موبائل ریڈیو اسٹیشن قائم کیا گیا جس نے دریائے سندھ میں سیلابی ریلے کے ساتھ سفر کیا اور مختلف شہروں سے براہ راست نشریات کے ذریعے لوگوں تک بر وقت معلومات پہنچائیں۔
اسی طرح امدادی سرگرمیوں سے لے کر بحالی کے عمل تک ریڈیو نے عوام الناس کے قابل اعتماد دوست کا کردار نبھایا۔ گہرے سمندروں میں جانے والے ماہی گیروں کو بھی موسم کی بروقت معلومات ریڈیو کے ذریعے ہی پہنچتی ہے۔ شام کو ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشن سے نشر ہونے والے دیہاتی بھائیوں کے پروگراموں سے نہ صرف مقامی لوک موسیقی، علم و ادب کی ترویج ہوتی ہے بلکہ ان پروگراموں کے ذریعے کسانوں کی موسم اور زراعت سے متعلق معلومات تک رسائی ممکن بنتی ہے اور اپنے خطوط اور پیغامات کے ذریعے وہ ان پروگراموں میں کئی دہائیوں سے حصہ بھی لیتے رہے ہیں۔
اس وقت بھی ریڈیو دنیا بھر میں ماحولیاتی معلومات کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے اس بات کا مجھے اس لیے بھی اندازہ ہے کہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے نشر ہونے والے ماحولیاتی پروگراموں میں ہمارے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے سامعین خطوط اور پیغامات کے ذریعے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں دنیا کو درپیش آب و ہوائی تبدیلیوں کے حوالے سے مقامی، قومی اور عالمی سطح پر بیانیہ بنانے اور عوامی رائے عامہ ہموار کرنے میں ریڈیو اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ 13 فروری کو ریڈیو کے عالمی دن کی مناسبت سے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ ریڈیو اسٹیشن اپنے سننے والوں کو ان کی اپنی آواز میں اپنی کہانی بیان کرنے کا موقعہ دیں تاکہ وہ نہ صرف اپنے مسائل کو اجاگر کرسکیں بلکہ اپنے تجربات اور صدیوں پرانے ماحولیاتی فہم و فراست کی روشنی میں آب و ہوائی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے کے لیے حل بھی تجویز کرسکیں۔


