میرے امام


یہ ستر کی دہائی کا چترال ہے، کھانے کو دو وقت کی روٹی بہت مشکل سے میسر ہے۔ یہاں کے باسیوں کا مقصد حیات صرف ایک ہے کہ کسی طرح اگلی فصل کی تیاری تک زندہ رہا جا سکے۔ خوراک کی کمی سے پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کا اس وقت یہاں صرف ایک علاج ہوا کرتا تھا۔ ”موت“ ۔ اسی کشمکش کے دور میں شاہ کریم چترال پہنچ گئے۔ شاہ کریم اپنے مریدوں کے پاس دیدار واسطے آئے تھے مگر مریدوں کی حالت زار اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ امام ان کی زندگیوں میں بہتری کے لئے کوئی لائحہ عمل بنائے، کوئی طریقہ کار وضح کرے تاکہ وہ بھی انسانوں کی طرح جینے کا ڈھنگ سیکھ سکیں۔

دیدار کے بعد امام واپس تشریف لے گئے مگر ان کے ادارے چترال میں فعال ہو گئے۔ فیصلہ ہو چکا تھا کہ چترال کے باسیوں کی سب سے پہلے زندگی بچانی ہے۔ ملک کے شہری علاقوں سے ڈاکٹرز اور نرسز ہایئر کیے گئے، دنیا میں آئے ہوئے بچوں سمیت ماں کے پیٹ میں موجود بچوں تک کو بنیادی حفاظتی ٹیکے لگانے کا مشن شروع ہوا۔
ہسپتال موجود نہیں تھے اس لئے امام نے ہر مرید کے دہلیز پر نرسز اور ڈاکٹرز پہنچا دیے۔ چونکہ امام کا حکم تھا اس لئے مریدوں نے بھی جی بھر کر ساتھ نبھایا۔ نتائج حسب توقع آئے۔ مریدوں کی شرح اموات میں کچھ ہی سالوں کے دوران 50 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی۔ بچے صحت مند پیدا ہونا شروع ہوئے۔ صحت کے فیلڈ میں اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لئے امام نے مریدوں کو ہسپتال بنا کر دیے اور آج یہ آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بیماریاں جس کی وجہ سے 80 فیصد بچے مر جاتے تھے ان کا نام تک ان کے کسی مرید کو یاد نہیں۔ ہم جیسے نے تو ان بیماریوں کے نام کبھی سنے ہی نہیں۔

اسی کی دہائی شروع ہو چکی ہے۔ ریاست نے اپنی بساط کے مطابق تعلیمی ادارے کھولے ہیں مگر امام کے مرید بہت ہی دور افتادہ علاقوں میں رہتے ہیں، ان علاقوں میں اگلی صدی تک بھی ریاست کے تعلیمی اداروں کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔ امام خود ہی اپنے تعلیمی ادارے لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ کہاں؟ ہر مرید کے دروازے پر۔ مگر عجیب بات ہے کہ امام کے تعلیمی ادارے صرف لڑکیوں کے لئے بنائے گئے ہیں لڑکوں کے لئے کوئی تعلیمی ادارہ موجود نہیں۔ یہ چترال کے پدرسری معاشرے سمیت امام کے اپنے مریدوں کے لئے بھی ایک حیران کن فیصلہ تھا۔ اس فیصلے کے ثمرات ایک دہائی بعد ہی حاصل ہونا شروع ہو جاتے ہیں جب اگلی نسل کی 60 فیصد مائیں اپنے بچوں کو گھر میں ہی پڑھانا شروع کر دیتی ہیں۔ مطلب کمال ہو گیا!

ماں پڑھ لکھ گئی تو بچے کیسے سکول سے باہر اور ان پڑھ رہ سکتے ہیں؟

ستر کی دہائی کے آغاز سے ہی امام اپنے ہر فرمان میں مریدوں پر زور دیتے آئے ہیں کہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اکیسویں صدی کے لئے تیار کرو۔ ”اگلی صدی آگاہی کی ہے، اگلی صدی علم کی ہے، اگلی صدی انفارمیشن کی ہے، اگلی صدی دسترس کی ہے، اگلی صدی میرٹ کی ہے، اگلی صدی مقابلے کی ہے۔“ یہ ان کے فرامین کا موضوع ہوا کرتے تھے اور مسلسل ہوا کرتے تھے۔ اتنے مسلسل کہ مریدوں کو اپنے نام سے زیادہ یہ سب کچھ ازبر ہو گیا۔ مریدوں نے بھی ان کی انگلی پکڑی اور چل پڑے جہاں وہ لے کر جانا چاہتے تھے۔ جب مسافر کو پر خلوص رہنما ملے تو کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ یوں کامیابیاں مریدوں کا مقدر بنتی گئیں اور امام کے خزانے مریدوں کو علم دلانے میں صرف ہوتے رہے۔

مان لیتے ہیں کہ مریدوں کی زندگی عزیز تھی ہیلتھ سینٹر اور ہسپتال بن گئے۔ باوقار زندگی کے لئے علم بھی ضروری تھا۔ سکول کھل گئے۔ دنیا میں اس سے پہلے ایسے کئی رہنما گزرے ہیں جو سکول و ہسپتال کھول چکے ہیں مگر ہر مرید کے گھر کے دروازے تک سڑک کی تعمیر کرتے ہوئے کسی امام کا ذکر ہم نے نہیں سنا، نہ ہی ہم نے کسی امام کو مرید کے لئے بجلی کی سہولت وہ بھی فری میں فراہم کرتے ہوئے دیکھا۔ کسی امام کو کبھی مریدوں کے کچن تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے بھی نہیں دیکھا وہ بھی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سٹینڈرڈ کو فالو کرتے ہوئے۔ ہم نے کبھی کسی امام کو مریدوں کے لئے اسکالرشپ کے نام پر اپنے خزانوں کے منہ کھولتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہم نے آج تک مریدوں کی آنے والی نسلوں کے لئے کسی امام کو اداروں کا اتنا مضبوط اور پائیدار نظام تیار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

میرے امام! آپ نے ہمیں دنیا بھر میں معتبر کر دیا، عزت دلائی اور سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سکھایا۔ ان تمام عنایتوں اور مہربانیوں کے لئے شکریہ۔ ہم اداس ہیں آپ کے چلے جانے پر، مگر ہم پر اعتماد ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے بہترین امام کا انتخاب کیا ہو گا، جیسا کہ آج تک آپ نے ہمارے لئے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا ہے۔

Facebook Comments HS