!شک رواں کی نہر ہے، اور ہم ہیں دوستو!


کچھ باتیں ہمارے ذہنوں میں کچھ اس طرح جاگزیں ہوتی ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتیں اور اگر بطور خاص۔ یاد کا تعلق کسی نازنین سے ہو تو بھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کی یہ ایک فطری کمزوری ہے۔ کہ وہ صنف مخالف کی کشش سے خود کو کبھی رہا نہیں کر سکتا۔ جس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ بھلے وہ ہفتہ دس دن کی ہی یادِ دلفریب ہے ان کیف آور لمحوں کو ایک بار پھر یاد کر کے اس عشقیہ پلاؤ کو پھر سے یادوں کی آنچ دی جائے جو ہیجان کی ہنڈیا میں ہی رہا۔ جس کے پکنے کا کبھی امکان نہیں تھا۔ بڑی عمر کے لوگوں کو اگر ان کی یادوں میں کہیں کوئی پھلجھڑی ہے جسے وہ آگ نہ لگا سکے یا لگا سکے۔ منکر نکیر سے ملاقات سے پہلے پہلے بیان کر کے دل کا پر کیف یا پر حسرت بوجھ ہلکا کر لینا چاہیے۔ یادوں کے گجرے مرجھا کر بھی ہمیشہ سجرے ہی رہتے ہیں۔ ان پہ کبھی کبھار تشنہ آرزووں کے آبِ سراب کا چھڑکاؤ کرتے رہنے میں حرج نہیں۔ بھلے بیان کی حد تک ہی سہی۔ غالب کے بقول۔

ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں
کاش کوئی پوچھے مدعا کیا ہے

یہ ان دنوں کی بات ہے 80 کی دہائی کا آغاز تھا جب میں اور مبارک صاحب پرتگال جا پہنچے۔ مجھے کرکٹ کی کھیل کا کچھ خاص علم نہیں۔ کہ اس زمانے میں یہ کھیل ہمارے گاؤں میں نہیں پہنچا تھا۔ البتہ ہمارے ٹکٹ دینے والے نے جس نے ہمیں پرتگال کا ویزہ دلوایا۔ اس نے شاید چوکا لگایا تھا کہ ہم فرانس میں اتر جائیں گے اس کا بتایا حربہ چربہ ہی نکلا یا پھر ہم کاہل تھے کہ وہ ہمارے کام نہ آ سکا۔ وہ چوکا چھکا بن گیا اور ہم اپنی متوقع حدود سے بھی آگے پرتگال میں جا گرے یا جا پہنچے۔ وہاں کسی کی معرفت ایک بوڑھے لڑکے سے علیک سلیک ہوئی جو ہماری منزل کا ہی مسافر تھا۔ بوڑھا تو تھا ہی کہ پچاس سے اوپر ہی ہو گا مگر ٹھرک جھاڑنے میں وہ لڑکوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی تھا۔ مگر اس کی معرفت ہمیں ایک خاندان میں جس نے اپنے گھر کے دو کمرے کرایہ پہ چڑھائے ہوئے تھے۔ ہم نے بھی وہیں پڑاؤ مناسب سمجھا کہ خاصا سستا بھی تھا مگر اس گھر کی ایک خاص بساند جو وہاں رچی ہوئی تھی۔ مجھے کچھ ایسی چڑھی کہ مہینوں تک مجھے مگر رکوع میں وہ اپنی یاددلا جاتی۔ جیسے بعض یادیں بعض حوالوں سے جڑ کر رہ جاتی ہیں۔

اس گھر میں دو عورتیں اور ایک ننھی بچی رہ رہی تھیں۔ یعنی ایک نانی ایک اس کی بیٹی اور بیٹی کی بیٹی جو چند سال کی تھی۔ اس کی ماں کا نام ماریہ تھا۔ ماریہ کے ناک نقشے پہ قدرت کی صناعی کی اگر انتہا تھی تو قد کے معاملے میں کچھ کمی رہ گئی تھی۔ ہم پاکستان سے نئے آنے والوں کے لیے عورتوں سے اس طرح کھلی ڈھلی ہیلو ہائے میں ذرا ایک حجاب اور جھجک سی ہوتی ہے جبکہ ان عورتوں کی ایسی کوئی کمزوری ہے نہ ہی کچھ ایسا احساس ہوتا ہے۔ نا ہی ماریہ کے تاثرات سے پتہ چلتا تھا کہ اسے میرے اتنے قریب ہونے پہ اس قربت کا ذکر ذیل میں آ رہا ہے کوئی جھجک محسوس ہو رہی ہے۔ بلکہ احساسات کا یہاں تصور ہی شاید عنقا تھا

یہ لگ بھگ نصف صدی پہلے کی بات ہے جب پاکستان میں اقدار کچھ ایسی تھیں کہ گلی میں آتی ہوئی لڑکی لڑکوں سے دو گز کا فاصلہ رکھ کر گزرتی تھی۔ اور لڑکے کی مجال نہیں تھی کہ گزر جانے والی کو گردن موڑ کر دیکھے۔ ایسے ماحول کے پلے بڑھے کے لیے یورپ کی دنیا عجیب ہی نہیں بلکہ دلفریب بھی تھی۔ کہ لڑکیوں کو اس بات کا مطلق احساس نہیں ہے کہ وہ صنف نازک ہے۔ اور لڑکوں کی خوش فہمی کہ وہ حاذق ہیں کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔ نور جہاں کی آواز میں ان دنوں ریڈیو پر ایک اشتہار چلا کرتا تھا وقت کی یہ مجبوری ہے۔ وقفہ بہت ضروری ہے۔ اور بسوں کی پشت پر بھی وقت کی بجائے سڑک کی مجبوری۔ کہ وقفہ بہت ضروری ہے۔ اور پاکستان میں ان تین لفظوں کی ہر معاملے میں اہمیت کون نہیں جانتا۔ مگر یورپ میں سڑک کی حد تک بجا مگر اس وارننگ کی وہ اہمیت ہے نہ ہی اس کا وہ مطلب ہے جو ہم لیتے یا سمجھتے ہیں۔

مجھے تب آنکھوں سے اکثر پانی بہنے کا قدرے مسئلہ تھا۔ اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو! منیر نیازی والی نہر نہیں مگر کچھ مسئلہ بہرحال رہتا تھا جس کے لیے میں آنکھوں میں سرمہ لگاتا تھا۔ پہلے دن تو شاید ماریہ نے توجہ نہیں دی مگر غالباً دوسرے یا تیسرے روز وہ میرے منہ کو دیکھتی رہ گئی۔ اور آنکھوں میں جھانکا بلکہ وہ تو متواتر جھانک رہی تھی۔ میں کچھ کچھ شرمندہ سا اور کچھ کھسیانا سا ہو گیا کہ یہ کیا طریقہ ہے دیکھنے کا۔ بالآخر اشاروں سے پوچھنے لگی کہ تم نے یہ آنکھوں میں کیا لگایا ہے۔ تو پتہ چلا کہ اس بے چاری کو میری آنکھوں میں کچھ اور، اور کا مطلب کچھ بھی لے لیں بلکہ سرمے کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ میں نے اشارے سے بتایا کہ یہ بوجہ زیبِ چشم نہیں بلکہ آبِ چشم یا ان چاہے اشکِ رواں کے زیاں کی پیش بندی کا ساماں ہے تو فوراً بولی مجھے بھی سرمہ لگا سکتے ہو۔ میں نے جھجکتے ہوئے ہاں کر لی۔ بر سبیلِ تذکرہ مجھے ہیر رانجھا میں چاچے کیدو کا لالے سے سوال جواب یاد آ گیا۔ جب اس نے رانجھے کو بطور کاما یعنی نوکر رکھ لیا۔ کیدو نے پوچھا کہ یہ کون ہے اور یہ سن کر کہ یہ کاما ہے تو کیدو بولا۔ گل وچ گانی تے ہتھ وچ ونجھلی۔ کامے اینج دے ہندے نیں۔ ایہو جہئے تے کڑیاں دیاں آکھاں وچوں سرمہ کڈھ لیندے نیں۔ اگلا جملہ کچھ زیادہ ہی معترضہ ہے۔ میرے ساتھ ایسا کوئی معاملہ تھا نہ ہی امکان۔ اور پھر میں سرمہ ڈالنے ہی تو جا رہا تھا۔ نکالنے کے لیے یورپ آتے ہی رانجھا بننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اب کوئی یہ سمجھے کہ خیر کچھ بھی سمجھے مگر میری عمر کا وہ حصہ بھی کچھ ایسا ہی تھا جب خزینۂ دل بالکل بھی مقفل نہیں ہوتا۔ بلکہ جب راہزنِ دل کی تلاش ہوتی ہے۔ اور دل میں سچ پوچھیں تو گدگدی سی ہونے لگی کہ اس حسینہ کو میں سرمہ کیسے لگاؤں گا اس نازنین نے اپنا خوبصورت چہرہ آرائش نین کے لیے میرے سامنے یوں پیش کیا جیسے میں بوتیک کا اسپیشلسٹ ہوں۔ یہ بوتیک اسپیشلسٹ یا میک اپ کے ہنر کا نام تک تب مجھے معلوم نہیں تھا۔ بہر کیف یہی کہیں کہ کسی ایسے حسین چہرے کو پہلے ہاتھ میں لینے سے کیف تو آئے ہی گا۔ بلکہ ایک کرنٹ کو بھی واضح محسوس کیا۔ میں نے جھک کر اسے سرمہ ڈالنے کی کوشش کی مگر اس کی پستہ قامتی آڑے آئی۔ اس نے ایک سٹول لیا اس پہ کھڑی ہو کر خود کو میرے برابر کر لیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اتنے حسین چہرے سے فقط ایک سانس کا وقفہ کہوں یا کون سا پیمانہ ہو جس کا نام لوں۔ دل دھڑ دھڑ اور ہاتھوں پہ لرزہ۔ پیٹ میں شدید اتھل پتھل۔ یا اللہ جل تو جلال تو۔ یہ سلائی اب آنکھ میں صحیح پڑے۔ کہیں آنکھ کے باہر حاشیہ آرائی نہ کر بیٹھوں۔ یہ مرحلہ قیود الفاظ میں لانا محال ہے۔ کیونکہ اس کی سانس مجھے اپنے چہرے پہ محسوس ہو رہی تھی۔ جو میری حالت تھی۔ مگر جیسے تیسے سرمہ میں نے ڈال ہی لیا۔ جتنے دن میں بعد میں وہاں رہا۔ سرمہ لگانا مجھے خوب آ گیا۔ وہ روز ہی سرمہ لگواتی۔ اور مجھ سے خاصی فری بھی ہو گئی۔

میں یہ سمجھے بیٹھا تھا کہ یقیناً اس کا خاوند اسے چھوڑ چکا ہے اسی لیے یہ تینوں اکیلی رہ رہی ہیں۔ مگر جب اگلا اتوار آیا تو صبح اٹھنے پہ ایک ماریہ کی طرح کا ہی پستہ قد پرتگالی مگر ماریہ سے قدرے بڑا چڈی پہنے کوریڈور میں مٹر گشت کر رہا تھا۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ یہ کون بے شرم اور کدھر سے ٹپک پڑا ہے۔ گھر میں عورتیں موجود ہیں۔ اور یہ ایسی بے حیائی سے ننگ دھڑنگ گھر میں مست ملنگ کی طرح گھوم پھر رہا ہے۔ تو پتہ چلا کہ یہ حضرت خیر سے ماریہ کے سرتاج ہیں۔ دل میں خیال آیا دھت تیرے کی۔ سارے سسرال کے گھر کو ہی اپنا بیڈ روم سمجھ رکھا ہے۔ تو یہ حضرت جو میرے خیالی گلشن تازہ کو جھلسانے کے لیے دوسرے شہر سے ویک اینڈ منانے آئے ہیں اور میرے ابھی گلشن عشق جو کچھ کچھ دائرہ پسندیدگی میں بلکہ شاید صرف میرے دل میں داخل ہونے جا ہی رہا تھا اسی ویک اینڈ پہ میرے کمزور یا ویک سے عشق کا اینڈ بھی ہو گیا۔ چند دن اور وہاں پہ رہا اور ماریہ اپنے خاوند کے سامنے مجھ سے سرمہ لگواتی۔ جس کا مجھے پہلے کی طرح والا مطلق مزہ نہ آتا۔ چند دنوں بعد جو ہم نے وہاں سے اٹلی کا ویزہ مل جانے پہ رخت سفر باندھا اور اپنی دو سرمہ دانیوں میں سے ایک ماریہ کو بھینٹ کردی جس نے اس کا۔ بڑی الفت سے یا پھر پتہ نہیں میں اس تاثر کو سمجھ نہیں سکا سے اوبری گاتو۔ کہہ کر شکریہ ادا کر دیا۔ اور رنگینی داستان پرتگال کا وہیں اداس سا انجام ہو گیا۔

ہم نے وہاں سے اٹلی کی ٹکٹ لی اور۔ اس بے وفا کا شہر ہے یا تھا اور ہم ہیں دوستو! اس پہلے سبق کے ساتھ کہ میاں دل کو تھام کر بلکہ اچھی طرح سنبھال کر رکھنا ہو گا یہاں پر چمک دمک تو بہت ہے مگر سونا کہیں نہیں۔ اور روم کی راہ لی۔ وہاں کی خاص بات جو یاد ہے ائر پورٹ سے ٹیکسی لے کر شہر پہنچے۔ ٹیکسی والے کو پچاس ڈالر کا نوٹ دیا تو اس نے نوٹوں کی ایک موٹی گڈی ہمارے حوالے کی۔ ہم سمجھے کہ اسے شاید غلطی لگ گئی ہے۔ مگر جب ایک کوک کی بوتل خریدنے پہ پانچ ہزار لیرے دینے پڑے تو سمجھ شریف میں آیا کہ یہ لیرے نہیں بلکہ لیریں ہیں جنہیں ہم دھجیاں کہتے ہیں۔ وہ بھی ایک زمانہ تھا ہمارے روپیہ کی قدر یہ تھی کہ ایک جرمن مارک کے اڑھائی روپے بنتے تھے آج ایک یورو تین سو روپے کا ہے۔ اس پہ کیا کہیں۔ خاموشی ہی بھلی۔ اب اٹلی نے بھی اپنے وہ حقیر بلکہ لیرو لیر لیرے ترک کر کے یورو کو اپنا لیا ہے۔

بعد میں جرمنی میں مجھے بھائی غفور صاحب جن کے گھر میری خالہ زاد ہے اور عرصہ دراز سے جرمنی میں مقیم تھے رشتہ میں بہنوئی ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ یہاں مرد سرمہ نہیں لگاتے۔ لہذا میں نے ہمیشہ کے لیے سرمہ لگانے سے مجتنب ہو کر اپنی مردانگی پہ آنے والے حرف کا بزعمِ خویش فوراً سد ِباب کر لیا۔

Facebook Comments HS