رجب علی بیگ سرور اور ”فسانہ عجائب“ کے فکری و فنی نقطہ نظر
فکری موزونیت اور اسلوب کی فنکاری کو ہم آنگ کرنا ایک قابل تحسین عمل ہے، کسی طرح انسانیت کی گردش تقدیر پر زبان کی تاثیر سے روشنی ڈالنا ایک معمولی پیشہ نہیں، معجزہ ہے۔ ادیب رجب علی بیگ سرور اپنے ”فسانہ عجائب“ میں قارئین کے لئے ایک ادبی امتحان پیش کرتے ہیں کہ قاری کس حد تک طرز مبالغہ آرائی کو برداشت کر سکتا ہے؟
میرے نزدیک، سرور کی ادبی طاقت اور ان کی فنکارانہ کارکردگی اس بات پر منحصر ہے کہ طرز فصاحت مبالغہ آرائی کو چھپائے گی۔ اگرچہ فرسودہ زبان کا استعمال موجودہ قارئین کے سمجھنے کے لئے کافی دشوار ہے، پر یہ ایک جائز تنقید نہیں، علی الخصوص زبان خود ہی ارتقاء پذیر ہو رہی ہے۔ رجب علی سرور، مبالغہ آمیز تشبیہ اور استعارہ سے لکھنو کو ایک بارونق کردار بنا دیتا ہے گویا ایک ایسا ساتھی جس کے تجربات، رویے اور روایات مستشرقین کی بے مثال خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، بلکہ اس مصنف کو تسلی بھی دیتے ہیں جس کی نوشتۂ تقدیر میں لکھنو کا شوق و ذوق لکھا ہوا تھا۔
رجب کے نزدیک، لکھنو کی مادی خوشحالی اور روحانی فوقیت ایک دوسرے کے لیے سازگار ہیں۔ ”دکانوں میں انواع اقسام کے میوے“ ”انگور“ ، ”گنڈیریاں“ اور ”نمش کی قفلیاں“ انسانی ذائقہ کی حد کو جانچ رہی ہیں، گویا ”عسل مصقی جنت کی نہر کا دودھ حلق سے اتر رہا ہے“ ۔ شہری خوش پوشاک ہیں تعریف اور رشک کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، لکھنؤ کو علم کی سرزمین کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے جہاں اساتذہ اور مولوی اس قدر ”دانش آموز“ ، ”دوربیں“ ، ”بحر العلوم“ ہیں کہ دنیا کے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے اندوہ و غم انسان کی تقدیر و شعور سے ”حرف غلط کی طرح مٹتے جاتے ہیں“ ۔ لکھنؤ لطف، مواقع اور انسانیت کی فہم کامل سے مالامال ہے، جو مستشرقین کی روح کی نمائندگی کرتا ہے۔
لیکن کیا اس نثر میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سچ ہے؟ اگر مصنف لکھنؤ کی اصلی خوبی اور خوبصورتی دکھانا چاہتا ہے تو انہوں نے مصنوعی زبان کیوں استعمال کی؟ دراصل وجہ یہ ہے کہ ادیب اس نثر میں امید، سچائی اور وہم کے درمیان ہونے والے تضادات مصنوعی اور مبالغہ آمیز زبان سے اس موضوع کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح زبان ایک ایسا کھیل ہے جس میں معانی، علامتیں اور تشبیہات یکجا ہو کر ایک ماحول تصنع کو قائم کرتے ہیں، اس طرح حقیقت بھی صرف رنگوں، چیزوں اور واقعات کے امتزاج سے زیادہ نہیں ہوتی ہے، جس میں سنی سنائی باتوں اور وہم بھی مرکزی عنصر ہوتے ہیں۔ سرور کی نظر میں، ادب کا جمالیاتی مقصد حقیقت کی نمائندگی کرنا نہیں ہے، بلکہ مختلف امکانات پیدا کر کے ہمارے علم، بہادری اور امید کے ساتھ حقیقت بن جانے کا عمل ہو سکتا ہے۔


