آسماں در آسماں : بر صغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں کی داستان
چند ماہ پہلے بھارت کے جاوید صدیقی کی برصغیر پاک و ہند کے فنکاروں کے خاکوں پر مشتمل کتاب ”میرے محترم“ پڑھنے کا موقع ملا۔ خوش قسمتی سے عزیزم گگن شاہد کے توسط سے جاوید صدیقی سے فون پر بات چیت بھی ہوئی۔ ان کی کتاب میں فن اداکاری، مصوری اور ادب سے تعلق رکھنے والوں کے خاکے شامل ہیں۔ آج ڈاکٹر شاہد صدیقی کی برصغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں پر لکھے گئے خاکوں پر مشتمل کتاب ”آسماں در آسماں“ ہاتھ میں ہے۔ یہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ہجرت کرنے والے فنکاروں کے خاکے شامل ہیں۔
ناگزیر وجوہات اور جان کی حفاظت کے لیے اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ آباد ہونے کو ہجرت کہتے ہیں۔ دنیا میں ہجرت کے بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ آج سے ستر برس پہلے اگست 1947 ء میں ہندوستان میں برطانیہ کے اقتدار کا آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ ملک دو آزاد ریاستوں ہندو اکثریتی بھارت اور مسلم اکثریتی پاکستان میں تقسیم ہو گیا۔ لاکھوں مسلمان پاکستان کے مغربی حصے اور مشرقی حصے کی طرف روانہ ہوئے اور لاکھوں ہندو اور سکھ بھارت کی نئی سرحدوں کے اندر بسنے کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ یہ دنیا کی شاید سب سے بڑی ہجرت تھی جس میں کم از کم ایک کروڑ افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان ہجرت کرنے والے افراد میں بہت سے فنکار بھی شامل تھے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنے خاندان کے ساتھ بھارت روانہ ہوئے۔ بہت سے ایسے فنکار بھی تھے جو موجودہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیدا ہوئے لیکن انھوں نے بہتر مستقبل اور اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے تقسیم سے قبل بمبئی اور ہندوستان کے بڑے شہروں کو ہجرت کی۔ ان فنکاروں میں اداکار، مصنف، ہدایتکار، موسیقار، نغمہ نگار، گلوکار، شاعر، مصور اور فن کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے فنکار شامل تھے۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی نے ایسے تمام فنکاروں کی ایک فہرست مرتب کی اور ان کے بارے میں مکمل ریسرچ کر کے مضامین لکھنے شروع کیے۔ یہ مضامین روزنامہ دنیا اور دوسرے اخبارات میں چھپتے رہے ہیں۔ ایسے تمام مضامین کو یکجا کر کے انھوں نے ایک تاریخی مُرَقَّع ”آسماں در آسماں“ کتاب کی شکل میں تیار کیا ہے جسے بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ تعلیم کے شعبے میں ایک بڑا نام، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور اب تعلیم کے شعبے میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ادب کی دنیا میں اُن کی ایک منفرد حیثیت ہے۔ پوٹھوہار علاقہ پر ان کے تحقیق مضامین پر مشتمل ”پوٹھوہار! ایک خطہ دل ربا“ ایک شاہکار کتاب ہے۔ ”ٹورنٹو، دوبئی، مانچسٹر“ ان کا ایک انتہائی ادبی سفر نامہ ہے جو عام روش سے ہٹ کر لکھا گیا ہے۔
”آسماں در آسماں“ بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے جس کے خوبصورت ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ بک کارنر جہلم کے امر شاہد جو کتاب چھاپتے ہیں وہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ اہلِ علم و دانش جناب شکیل عادل زادہ، زاہدہ حنا، اصغر ندیم سید اور حسن نثار کے تبصرے کتاب کا حصہ ہیں۔ اس کتاب میں شامل ہر مضمون میں بڑی تحقیق اور عرق ریزی سے صاحبِ مضمون کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئی ہیں جس کا گواہ یہ فقیر خود ہے۔ آسماں در آسماں میں راجہ مہدی علی خان پر مضمون شامل ہے۔ اس فقیر نے بھی راجہ صاحب پر ایک مضمون لکھا تھا جو ڈاکٹر صاحب نے کہیں پڑھا اور مجھ ناچیز سے اس پر بات بھی کی۔ کچھ عرصہ پہلے بک کارنر جہلم میں اپنی کتاب کی رونمائی کے بعد انھوں نے امر شاہد سے ستیش گجرال کا جہلم میں گھر دیکھنے کی بات کی اور دینہ میں گلزار کا گاؤں اور گھر بھی جا کر دیکھا۔ اسی طرح بلراج ساہنی کا گھر اُن کے مادر علمی گورڈن کالج کے بازو میں تھا۔ انھوں نے فنکاروں کی بچپن اور جوانی کی یادیں اکٹھا کرنے اور ان کے بارے میں جاننے کے لیے ان کے آبائی شہروں کے دورے کیے اور ان کے گاؤں اور گھروں کی رہتل کا بغور جائزہ لیا۔
فوٹو آفسٹ درآمد شدہ کاغذ پر چھپی ”آسماں در آسماں“ کے مصّور ایڈیشن میں فنکاروں کے خوبصورت پنسل سکیچ خطہ پوٹھوہار کے سپوت احمد حبیب کے مو قلم کا شہکار ہیں۔ احمد حبیب رنگوں اور پنسل سے کھیلنا جانتے ہیں، انتہائی عمدہ خاکے بناتے ہیں۔ ان کے پنسل سے بنائے ہوئے فنکاروں کے خاکوں نے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

آسماں در آسماں کو فنکاروں کی درجہ بندی کے لحاظ سے سات شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا شعبے ”فلم اور اداکاری کے طلسم“ میں چودہ ایسے فنکاروں کے خاکے شامل ہیں جنھوں نے فن اداکاری میں ہندوستان کی فلم نگری بالی ووڈ میں سالوں تک راج کیا۔ بمبئی کی فلمی نگری پر راج کرنے والے ان فنکاروں میں پرتھوی راج، بلراج ساہنی، دیو آنند، پران، دلیپ کمار، منوج کمار، راج کپور اور پریم چوپڑا کے علاوہ فلمی صنعت کی پہلی تعلیم یافتہ اداکارہ کامنی کوشل شامل ہیں۔ ان کی خوبصورت اور جاندار اداکاری کے مختلف انداز دیکھ کر ان کی درجہ بندی انتہائی مشکل ہے۔ سب ہی اپنے فن میں یکتا ہیں اور پچاس سے اسی کی دہائی تک ان کا بالی ووڈ میں توتی بولتا تھا۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے بڑی خوبصورتی اور مہارت سے ان کی جد و جہد اور کامیابیوں کو قلم بند کیا ہے۔
نثر کی ساحری کے ساحروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ پنجاب ایک ایسا مردم خیز خطہ ہے جو علم و ادب، اداکاری اور گلوکاری کے میدان کی بڑی بڑی شخصیات کی جنم بھومی ہے۔ کرشن چندر، کنہیا لال کپور، دیوان سنگھ مفتون، کنور مہندر سنگھ بیدی، راجندر سنگھ بیدی، بلونت سنگھ اور خوشونت سنگھ جیسے کتنے بڑے بڑے نام ہیں جو اردو ادب کی شان ہیں اور لفظوں کے جادوگر ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے ان کی نثر کی ساحری کے بارے میں لکھا اور ان سے جڑی ہوئی یادوں کو اپنے قارئین تک پہنچانے کے لیے اس کتاب کا حصہ بنایا۔
ڈاکٹر صاحب نے ”آسماں در آسماں“ میں شاعری کا چمن بھی آباد کیا ہے۔ تیسرے باب میں امرتا پریتم، شو کمار بٹالوی، میرا جی، راجہ مہدی علی خان، پروفیسر موہن سنگھ اور تلوک چند محروم جیسے نامور شاعروں کو شاعری کے چمن کی رونق بنایا ہے۔ ان سب کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ موہن سنگھ، شو کمار بٹالوی اور امرتا پریتم کو 1947 ءمیں ہجرت کر کے ہندوستان جانا پڑا۔ تینوں جدید پنجابی شاعری کے سرخیلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ شو کمار بٹالوی کے بارے میں شاہد صدیقی لکھتے ہیں۔ ”شو کمار بھی ایک عاشق تھا جو عین عالم شباب میں ہم سے رخصت ہوا لیکن اس کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔“ اس جواں مرگ شاعر کی نظم ”اساں تے جوبن رُتے مرنا“ اس فقیر کی انتہائی پسندیدہ ہے۔ اس فقیر نے بھی جدید پنجابی کے ان تینوں شاعروں کے حالات زندگی اور شاعری پر بڑی تفصیل سے مضامین لکھے تھے جو فقیر کی کتاب ”مکتب عشق“ میں شامل ہیں۔
بمبئی کی فلم نگری کے ابتدائی سالوں میں فلموں میں شامل نغمات اردو ادب کے شاہکار ہوتے تھے۔ ہم بچپن میں آل انڈیا ریڈیو سے جب نغمات سنتے تھے تو اناؤنسر نغمہ نگار کا نام بھی بتاتی تھی۔ شیلندر، آنند بخشی اور ساحر لدھیانوی کا نام تب ہمیں زبانی یاد ہو گیا تھا۔ کتاب کے چوتھے باب میں ”نغمہ نگاری کی چاندنی میں“ اوپر لکھے ناموں میں ایک اور ستارے گلزار پر مضمون بھی اس حصہ میں شامل ہے۔ ساحر لدھیانوی کے فلم ہمراز کے لیے لکھے ہوئے نغمے ہمیں زمانہ طالب علمی میں زبانی یاد ہو گئے تھے۔ چھ بندوں پر مشتمل فلم ہمراز کا نغمہ ”تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو“ ابھی تک زبانی یاد ہے اور ہمیشہ سے فقیر کا پسندیدہ نغمہ رہا ہے۔ شیلندر اور آنند بخشی کا تعلق تو شاہد صدیقی کے اپنے شہر سے تھا ان کے بارے میں جان کر فقیر کو بہت اچھا لگا۔ دینہ سے تعلق رکھنے والے گلزار کا تو بک کارنر سے ایک خاص تعلق ہے اور وہ ہمارے بھی پسندیدہ نغمہ نگار، شاعر اور کہانی نویس ہیں۔ ان کی تحت اللفظ میں پڑھی ہوئی امرتا پریتم کی نظم میں اکثر سنتا ہوں۔ ان کے بارے میں شاہد صدیقی اپنے مضمون میں قاری کو یہ بتاتے ہیں کہ ستر سال پہلے دس سال کی عمر میں وہ اپنے گاؤں اور گھر کو چھوڑ کر چلے گئے لیکن آج بھی ان کا دل اپنے گاؤں کی گلیوں میں جانے کے لیے تڑپتا ہے۔ وہ زندگی بھر اپنے دینہ کو نہیں بھول پائے۔
” آسماں در آسماں“ کا پانچواں حصہ ”سات سروں کا بہتا دریا“ ہے۔ کہتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے۔ فقیر کے پاس بھی نغموں کے ریکارڈز کا ایک بہت بڑا ذخیرہ اب بھی موجود ہے۔ موسیقی کی دنیا کے تین ماہر اور منفرد موسیقاروں روشن، مدن موہن اور او پی نیر کا تذکرہ اس پانچویں حصہ میں شامل ہے۔ استاد بڑے غلام علی کلاسیکی موسیقی کا ایک بہتا دریا نہیں بلکہ ایک سمندر تھے۔ شاہد صدیقی کے مضمون میں ان کی وضع داری اور شرافت کے بارے میں پڑھ کر پتہ چلا وہ واقعی ایک بڑی شخصیت کے مالک تھے۔ مدن موہن کے بارے میں وہ لکھتے ہیں۔ ”پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں مدن موہن نے سیکڑوں خوبصورت گیتوں کی دھنیں مرتب کیا اور بالی ووڈ پر راج کیا۔“ چکوال سے شروع ہونے والا ان کا سفر بمبئی میں اختتام کو پہنچا۔ ان کی موسیقی میں بنا ہوا نغمہ ”رُکے رُکے سے قدم“ بھی فقیر کا پسندیدہ نغمہ ہے۔
جب اس فقیر نے موسیقی سننی شروع کی تو وہ محمد رفیع کے عروج کا دور تھا۔ ان کے گائے ہوئے گانے پچاس ساٹھ سال بعد بھی سننے میں کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔ محمد رفیع پر شاہد صدیقی کا لکھا ہوا مضمون ان کی کتاب کے چھٹے باب میں شامل ہے۔ مضمون میں رفیع کی زندگی سے جڑی بہت سی نئی باتیں پڑھنے کو ملیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ بڑے شاہکار گیت تخلیق کیے لیکن فقیر کو ان کا گایا ہوا ان کی زندگی کا آخری گیت بہت پسند ہے۔ رفیع نے یہ گیت درد میں ڈوب کر گایا تھا۔ اسی شام رفیع کا انتقال ہو گیا تھا۔ یہ ان کی زندگی کا آخری گیت تھا۔
تیرے آنے کی آس ہے دوست شام پھر کیوں اداس ہے دوست
مہکی مہکی فضا یہ کہتی ہے تو کہیں آس پاس ہے دوست

ثریا کا شمار بھی فقیر کی پسندیدہ گلوکاراؤں میں ہوتا ہے اور فقیر ان کے حسن کا بھی مداح رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ثریا اور شمشاد کے بارے میں بہت خوبصورتی سے لکھا ہے۔ سریندر کور کے گائے ہوئے پنجابی گیت سن سن کر تو ہم جوان ہوئے ہیں۔ ان کے لاہور سے تعلق کے بارے میں مضمون پڑھ کر معلوم ہوا۔ سی ایچ آتما کے بارے میں پہلی دفعہ اتنی تفصیل سے پڑھا۔ اس سے پہلے ان کا نام سننے میں کہیں نہیں آیا۔ آواز کے جادو میں شامل سب ہی اپنی آواز سے ایک سحر طاری کر دینے والے ہیں۔
اور آخر میں رنگوں اور دائروں کا طلسم کے آخری باب میں شامل جدید لاہور کے بانی سر گنگا رام کے بارے میں کافی کچھ جانتا تھا لیکن پوٹھوہار کے قدیم شہر سے تعلق اور رنگوں سے کھیلنے والے ستیش گجرال کے بارے میں پہلی دفعہ جاننے کا موقع ملا حالانکہ فقیر ان کے بھائی اندر کمار گجرال کی سوانح حیات پڑھ چکا تھا۔ جہلم کے ایک مصور اور فن تعمیر کے ماہر کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگا۔
کیسی کیسی نابغہ روزگار شخصیات پنجاب میں پیدا ہوئیں اور وقت کے دھارے انھیں کہاں سے کہاں لے گئے۔ انھوں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محنت سے اپنا مقام بنایا اور اپنے اپنے شعبے میں بام ِعروج تک پہنچے۔ یہ ایک ایسی تاریخ ہے جس کے بارے میں ہماری نئی نسل نہیں جانتی۔ ہم میں سے جو راتوں رات بڑا اور دولت مند بننے کو کوشش کرتے ہیں ان کے لیے ایسی شخصیات ایک روشن مثال ہیں۔ ان لوگوں نے کتنی مشکلات کا سامنا کیا۔ اپنا مقام بنانے کے لیے انھوں نے کتنی محنت کی۔ کس بے سروسامانی کی حالت میں انھوں نے ہجرت کی لیکن استقامت اور مسلسل جد و جہد سے انھوں نے وہ کچھ حاصل کیا جس کا انھوں نے خواب دیکھا تھا۔ اس تاریخ کو ڈاکٹر شاہد صدیقی نے بڑے احسن طریقے سے قلم بند کر کے پیش کیا ہے۔
بک کارنر جہلم میں اس کتاب کی رونمائی پر ہوئی نشست میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق کی کی ہوئی یہ بات مجھے بہت اچھی لگی۔ ”یہ کہانیاں ہماری نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ طاقتور زمین تو تقسیم کر سکتے ہیں لیکن تمام تر طاقت رکھنے کے باوجود وہ طاقتور آسمان تقسیم نہیں کر سکتے۔ جہلم سے تعلق رکھنے والے انقلابی شاعر درشن سنگھ آوارہ پر مضمون کی کتاب میں کمی محسوس ہوئی۔ اصغر ندیم سید آسماں در آسماں کے بارے میں لکھتے ہیں۔“ شاہد صدیقی کی نثر میں جو تاثیر اور تہذیبی رچاؤ ہے اس کا ایک زمانہ گرویدہ ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کے تہذیبی و ثقافتی مزاج کو وہ اپنی روح میں بسائے ہوئے ہیں اور اسی ساحری میں ہمیں بھی شامل کر لیتے ہیں۔ ”
اور کسی کا تو پتہ نہیں لیکن اس فقیر نے جب کتاب پڑھنی شروع کی تو ہر مضمون پڑھ کر پرانی یادوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو کر فقیر کو ماضی کے ان دھندلکوں میں لے جاتا ہے جب نوجوانی کی گرمیوں کی راتوں میں چھت پر آل انڈیا ریڈیو سے نغمے سن کر چاند کی چاندنی میں کاپیوں پر لکھتے تھے۔ اتوار کو آل انڈیا ریڈیو سے سنے گئے فلموں کے ساؤنڈ ٹریک یاد آ گئے۔ اپنے شہر کے سنیما میں فلم دیکھتے ہوئے بلراج ساہنی کی فلموں کے دکھائے گئے ٹریلر یاد آ گئے۔ دلیپ کمار کی کہانی پڑھ کر ان کی دیکھی ہوئی بہت ساری فلموں کی کہانیاں اور ان پر فلمائے گئے یادگار نغمے یاد آ گئے۔ رفیع اور دلیپ کمار دنیا فلم کا گانا ”آج پرانی راہوں میں کوئی مجھے آواز نہ دے“ سن کر ہمیشہ یاد آ جاتے ہیں۔ بچپن میں ریڈیو پر سنے ہوئے سریندر کور کے گیت کالا ڈوریا کنڈے نال اڑیا ای اوئے، لٹھے دی چادر اُتے سلیٹی رنگ ماہیا اور جتی قصوری پیریں نہ پوری کی گونج کانوں میں محسوس ہونے لگی۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی بڑی سہل اور آسان زبان میں لکھتے ہیں۔ ان کی باتیں دلوں میں گھر کر لیتی ہیں۔ ”میری اس بات سے سبھی اتفاق کریں گے کہ“ آسماں در آسماں ”اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ اور میرے جیسے فنکاروں سے محبت رکھنے اور ان بارے میں کھوج لگانے والوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ فن کے قدردان اور فنکاروں سے محبت کرنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ اتنی خوبصورت کتاب لکھنے پر ڈاکٹر صاحب کو مبارک باد۔



