پاک چین دوستی میں گدھوں کا کردار


گزشتہ دنوں جب حکومت پاکستان نے گوادر میں چین کو گدھوں کی کھالیں اور ہڈیاں برآمد کرنے کے لئے مذبح خانہ کھولنے کا اعلان کیا تو سوچا کہ چلو ایک پنتھ دو کاج کے مصداق جہاں چین کا بھلا ہو گا، وہیں ہمارے ملک میں بے کار سمجھے جانے والا مظلوم جانور بے چارہ گدھا بھی کسی کام سے لگے گا۔ نہ صرف کام سے لگے گا بلکہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ملک کی معیشت میں بہتری لانے کا سبب بھی بنے گا۔ ( کیوں کہ یہ بھی ممکن ہے حکومت کے پاس ملک کی معیشت درست کرنے کا آخری راستہ گوادر میں قائم کیا جانے والا گدھوں کا مذبح خانہ ہی ہو)

چلیں! کسی بھی جانور کی کھالوں کے استعمال کا مصرف تو سمجھ میں آتا ہے مگر گوشت؟

کیا حکومت پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں گوشت کی برآمد کا کوئی ذکر موجود ہے؟ ( اکثر جگہوں پر ہڈیوں اور کھالوں کے بارے میں ذکر ہے گوشت کا ذکر گول کر دیا گیا ہے، لیکن کئی جگہ پر گوشت کی برآمد کا بھی ذکر ہے )

خیر اگر اس معاہدے میں گوشت کی برآمد بھی شامل ہے تو لا محالہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ یہ اہل چین اس غریب جانور کے گوشت کو آخر کہاں ٹھکانے لگاتے ہوں گے؟

اور کیا یہ گدھے کے گوشت کو اپنے ہر پکوان میں استعمال کرتے ہوں گے؟ خیر یہ ایسا مشکل سوال بھی نہیں ہے (گوشت کا مصرف سوائے کھانے کے، ہماری سمجھ سے تو بالا تر ہی ہے بشرطیکہ جانور بھی حلال ہو، اور گوشت بھی ہر لحاظ سے طیب اور صاف ہو) اہالیانِ چین کا اس بارے میں نظریہ قطعی طور پر مختلف اور واضح ہے۔ یہ بحیثیت قوم اتنے جی دار ہیں کہ کھانے کے نام پہ رینگنے والے تقریباً ہر کیڑے اور چلنے والے ہر چوپائے پر اپنا حق سمجھتے ہوئے کاٹ چھانٹ کر اسے پکاتے اور پھر شوق سے کھاتے بھی ہیں۔

مذہبی لحاظ سے پالتو گدھے کا گوشت کھانا ہم مسلمانوں کے لیے ممنوع ہے۔ جبکہ افواہیں بہت اڑائی گئی ہیں کہ فلاں صوبے اور فلاں شہر میں گدھے کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ ملک کے ایک بڑے صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اور گوشت خور بھی ہیں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ آپ نے اس بے ضرر جانور کی نہاری یا پائے تناول نہ کر رکھے ہوں۔

سوشل میڈیا کے حوالے سے بات کی جائے تو طرح طرح کے تبصرے اور تجزیے نظر سے گزرے۔ اسی سلسلے میں ایک بلوچ حضرت بھی شکوہ کرتے اور توجیہہ پیش کرتے دکھائی دیے کہ جب پاک چائنہ گوادر یونیورسٹی کی تعمیر لاہور میں کی جا سکتی ہے تو پھر گوادر سلاٹر ہاؤس کا قیام بھی لاہور میں ہی ہونا چاہیے کیونکہ اہل لاہور گدھوں سے ”انسیت“ کی وجہ سے کافی مشہور ہیں اور اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اس سلاٹر ہاؤس کا قیام انہی کے شہر میں عمل میں لانا چاہیے۔ ( یہ مکمل طور پر ان کی رائے ہے، ہمارا اس رائے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے )

ہمارے ملک میں تحقیق کے کام کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ جہاں بات تحقیق جیسے محنت طلب کام تک آ پہنچے ہم راستہ ہی بدل لیتے ہیں۔ اور اسی لیے اس معاملے کو بھی سپرد خدا کرتے ہوئے اپنے محلے کے قصائی کی ایمانداری پر پورا یقین رکھتے ہوئے اللّٰہ کا نام لے کر قصاب کی دکان پر دستیاب گوشت، چاہے وہ جتنا بھی مشکوک و مضر صحت ہو خریدا اور کھایا جاتا ہے۔

اگر کوئی ہوشیار کرنے کی کوشش کرے کہ بھائی! فلاں جگہ پر حکومت نے چھاپہ مار کے قصائی کو اس لئے گرفتار کر لیا ہے کہ وہ گدھے کا گوشت فروخت کر رہا تھا۔ آپ بھی ذرا محتاط رہیں۔ آگے سے جواب ملتا ہے ارے بھائی صاحب! ہمارے محلے کا قصائی تو پنج وقتہ نمازی ہے۔ اور با قاعدہ کلمہ پڑھ کر گوشت کے صاف ستھرا ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ پھر کہیں جا کر گاہکوں کو گوشت فروخت کرتا ہے وہ بھی انتہائی مناسب داموں میں۔

ارے چھوڑو بھائی! حاجی صاحب کی با رعب اور گرجدار آواز میں خفگی اور بیزاری کا ملا جلا تاثر نمایاں ہوتا ہے ان نا ہنجاروں کے ایمان داری کے قصے ہمیں تو مت سناؤ۔ جس ملک میں قرآن مجید کے اوپر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا ووٹ بیچنے والے اسمبلیوں میں براجمان ہوں اور اقتدار پر قابض لوگ اپنے حلف کی پاسداری ہی نہ کریں تو وہاں کے عوام بھی تو جھوٹے اور بے ایمان ہی ہوئے۔ حاجی صاحب کی بات بالکل درست ہے ایک دو آوازیں حاجی صاحب کی حمایت میں بلند ہوتی ہیں۔

لیکن گوشت سے محبت رکھنے والے مستقیم صاحب ابھی بھی کم نرخوں کے سحر سے باہر نہیں نکل پا رہے۔

”ہمیں تو بھئی بہت مناسب قیمت میں گوشت ملتا ہے۔ آواز میں اگرچہ جوش پہلے سے مفقود ہوتا ہے مگر ان کی گوشت سے محبت کی گواہی دیتی طبیعت کی مستقل مزاجی آپ اپنی جگہ ایک مثال ہے۔ سرگوشی کے اسٹائل میں مزید گویا ہوتے ہیں (جیسے پست آواز میں اقرار جرم کر رہے ہوں ) ہمارا قصائی تو حکومت کے طے شُدہ نرخوں سے بھی بہت ہی کم قیمت لیتا ہے ہم سے۔ عقل مندوں کے کان تو یہ سن کر ہی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہائیں! حکومتی نرخوں سے کم ریٹ پر؟ حاجی صاحب ایک بار پھر ہول اٹھتے ہیں۔ ارے بھیا! پھر تو تم پکا بلکہ پتھر پہ لکیر کے موافق، گدھے کا گوشت ہی کھا رہے ہو، اور اس سستے گوشت کے چکر میں خود بھی حرام کھا رہے ہو اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلا رہے ہو۔ حاجی صاحب ایک ہتھیلی کو دوسری ہتھیلی پر مار کر تالی بجانے والے اسٹائل میں تیقن سے بھرپور لہجے میں کہتے ہیں۔ اس شور و ہنگامے میں کم سے کم دس بارہ تماش بین ویسے ہی اکٹھے ہو جاتے اور لیکچر سن کر ثوابِ دارین میں حصہ لینے کی کوشش میں شامل ہو جاتے ہیں۔ خیر حاجی صاحب ایک بار پھر مستقیم صاحب کو سمجھانے کی ایک سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ پھر اپنی اس کوشش میں ناکام ہو جانے کے بعد تھک ہار کر لا حول ولا قوہ کا ورد کرتے ہوئے اپنی راہ چل دیتے ہیں۔

یہ تو خیر ہمارے قومی مزاج اور روٹین کی گپ بازی تھی۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہماری قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سیکیورٹی کے اجلاس میں محکمہ خوراک نے یہ خوشی کی خبر صحافیوں سے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ گوادر میں قائم کیے جانے والے گدھوں کے اس مذبح خانہ کو ایک چینی کمپنی بذات خود مانیٹر کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا کہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی گدھوں کے سلاٹر ہاؤس کی تعمیر کے لئے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں ( ہمیں تو علم ہی نہ تھا کہ ہمارے ملک میں گدھے اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہیں )

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ چونکہ زندہ گدھوں کو بر آمد کرنا ذرا مشکل کام ہے اس لئے مذبح خانہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اور شاید اسی سلسلے میں ان ”مقتول گدھوں“ ( کم سے کم ہماری نظر میں تو یہ بے چارے گدھے مقتول ہی ہوئے کیونکہ جو جانور حلال ہی نہیں اس کو ذبح کرنا چہ معنی دارد) کا گوشت، ہڈیاں اور کھالیں اپنے دوست ملک کو برآمد کر کے ملکی زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافے کا پروگرام ہماری حکومت کے مقاصد میں سے ہے۔ آج کل ویسے بھی ملک میں جہاں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے تو کہیں پتنگ بازوں کی شامت آئی ہوئی ہے۔ گدھا بے چارہ بھی شاید ایسے ہی کسی پروگرام کے بھینٹ چڑھ گیا ہے۔

اس مظلوم جانور گدھے کو محاورتاً بھی قربانی کا بکرا تو نہیں کہا جا سکتا البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ بے ضرر جانور بھی اس بار حکومتی ریڈار پر آ ہی گیا ہے۔ پانچ کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے مذبح خانے میں سالانہ 2 لاکھ سولہ ہزار گدھے ذبح کیے جائیں گے۔ اور چین کو برآمد کیے جائیں گے۔ معیشت کو اس کا کتنا فائدہ ہو گا اس کی تو فی الحال ہمیں کوئی خبر نہیں ہے اور وہاں موجود کسی صحافی کے سوال سے بھی اس بارے میں کوئی خاطر خواہ تشفی نہیں مل پائی (یا پھر ہمارے علم میں نہیں آ سکی)

علاوہ ازیں وہاں پر موجود کسی صحافی نے ہمارے ذہن میں گونجتا بلکہ شور مچاتا خدشات سے بھرا سوال نہیں اٹھایا کہ اگر صرف گدھوں کی ہڈیاں اور کھالیں ہی برآمد کرنا ہیں تو پھر اتنے سارے گوشت کا کیا کریں گے؟ یہ تو خیر ازراہِ تفنن ایک بات کی گئی ہے۔ دراصل گدھے کے گوشت کی برآمد بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔ جس کے تحت گدھوں کا گوشت بھی چائنا کو برآمد کیا جائے گا۔ تو کم سے کم پاکستانیوں کے لئے یہ واقعی ایک اچھی خبر ہو سکتی ہے۔ وہ یوں کہ اس معاہدے کی عملداری کے ساتھ ہی پاکستانی آئندہ کے لئے گدھے کا گوشت کھانے کے خدشے سے تو آزاد ہو ہی جائیں گے۔ کیونکہ ان کے درست حقداروں کے ساتھ نہ صرف حکومت پاکستان کا معاہدہ ہو چکا ہے نیز حکومت اس کی قیمت بھی یقینی طور پر وصول کرے گی ( ویسے بھی چینی خواتین و حضرات کو گدھے کی قدر و قیمت کا اچھی طرح اندازہ ہے ) ہمارے ملکی خزانے میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا، بیروزگاری کا خاتمہ ہو گا ( گدھوں کی) بلکہ چائنیز اپنی نگرانی میں اس پروجیکٹ پر از خود کام بھی شروع کر چکے ہیں۔ اس معاہدے کی کامیابی سے پاک چائنا دوستی کو فروغ مل سکتا ہے۔

اس کے لئے ہمارے ملک کے گدھے ہی اب اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ اس ضمن میں انسان تو اپنی ناقص کارکردگی کے باعث اب تک پاک چین دوستی میں دراڑ تو پہلے ہی ڈال چکے ہیں۔ کیا خبر کہ چین کو گدھوں کی برآمدگی سے اتنی زیادہ خوشی ملے کہ وہ پاکستان سے دوبارہ وہی دوستی قائم کر سکے جس کے بارے میں ہم سب کہتے پھرتے ہیں۔

پاک چین دوستی زندہ باد

Facebook Comments HS