کراچی۔ ایک سمندر پار پاکستانی کی نظر سے ( 2 )


ڈربی شہر جہاں ہمارا گھر ہے کی آبادی بمشکل پونے تین لاکھ ہے جس دن روانہ ہوئے تھے برف باری ہو رہی تھی پارہ منفی تین ڈگری کو چھو رہا تھا۔ 6 جنوری کی صبح کراچی میں ہوئی جہاں کم از کم ڈھائی پونے تین کروڑ نفوس بستے ہیں۔ بہت سے لوگ جیکٹ، سویٹر پہنے گرم چادریں اور مفلر لپیٹے نظر آئے۔ کار میں بیٹھ کر البتہ شدید گرمی اور عجیب گھٹن کا احساس ضرور ہوا۔ تھرما میٹر درجۂ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ ظاہر کر رہا تھا۔ کچھ دیر سانس لینے کے بعد لگا کہ چار سو پھیلی گرد ناک کی نازک جھلی کو کھرچتی ہوئی پھیپھڑوں میں پھنستی جا رہی ہے۔ آبادی کی طرح ڈربی اور کراچی کی ہوا کا معیار اور فضا میں معلق زہریلے ذرات کی مقدار کا فرق صاف محسوس ہوا۔ کوئی شبہ نہیں رہا کہ یہ شہر دنیا کے آلودہ ترین خطوں کا امام ہے۔ آلودگی اور مسلسل شور کی وجہ سے یہاں کے مکین مستقل سردرد، بے خوابی، دل کے دورے، فالج، دمہ، پھیپھڑوں کے کینسر، سٹریس، بدتر دماغی کارکردگی، توجہ میں کمی اور سماعت کی کمزوری سمیت متعدد امراض کا شکار بنتے ہیں اور قبل از وقت وفات پاتے ہیں۔ ڈربی میں ہم بے خوف و خطر نلکے کا پانی پیتے ہیں۔ کراچی میں امیر و غریب بوتلوں میں ملنے والا پانی خرید کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے موبائل فون پر عائد پیچیدہ قدغن کی وجہ سے فوری طور پر فون کی مارکیٹ جانا پڑا دوپہر کے ڈیڑھ بجے تک وہاں تالے پڑے تھے۔ یہاں معاملہ انوکھا ہے خریدار شکایت کرتے ہیں کہ دکانیں دیر سے کھلتی ہیں۔ دکان دار کہتا ہے کہ کراچی والے جب شاپنگ کے لئے گھر سے نکلیں گے تبھی تو ہم مال سجا کر بیٹھیں گے۔ سِم لینے کے لئے فرنچائز پر البتہ بہت عمدہ تجربہ ہوا۔ کسٹمر سروس پر اکثریت خوش اخلاق اور مستعد خواتین کی تھی۔ چند منٹ میں فون کی رجسٹریشن کا مرحلہ عبور ہو گیا۔

کتابوں کی ہوش ربا قیمتیں

اردو بازار میں جس طرف نصابی کتابیں اور سٹیشنری بکتے ہیں کافی بھیڑ بھاڑ تھی۔ لیکن عقبی گلیوں میں جہاں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سمیت بڑے ناشرین کی دکانیں ہیں الو بول رہے تھے۔ سب سے بڑے شوروم میں داخل ہوئے تو سیلزمین نے کچھ لائٹیں روشن کر دیں۔ یوول حراری کی کتب کے اردو ترجمے سب سے آگے رکھے گئے تھے۔ لگتا ہے کہ ان کی بہت مانگ ہے۔ اس کی آخری کاوش نیکسز کا ترجمہ دیکھ کر حیرت ہوئی کیونکہ کتاب کا اجراء ابھی اکتوبر میں ہی ہوا ہے۔ سبط حسن اور علی عباس جلالپوری کی کتب، نسخہ ہائے وفا، منٹو راما، شہاب نامہ، جون ایلیا کے مجموعوں کو سامنے کے حصے میں جگہ دی گئی ہے۔

ہر نوعیت کی تحریر یہاں مل سکتی ہے۔ تیمور لنگ کی سوانح حیات پر تو ایک ہی کتاب کے کئی مختلف نسخے سجائے گئے ہیں۔ تمام کتب سفید کاغذ پر چھاپی گئی ہیں اور مجلد ہیں۔ طباعت غیر معیاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ترجمہ گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے کیا گیا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ کی اے بریف ہسٹری آف ٹائم کا عنوان مختصر وقت کی تاریخ کیا گیا ہے۔ تین ہزار سے قیمتیں شروع ہوتی ہیں اور آٹھ، دس ہزار تک جاتی ہیں۔ ستر ہزار ماہانہ کمانے والا یہ کتابیں کیونکر خرید پاتا ہو گا؟ مہنگی کتاب کا مطلب یہ کہ صرف صاحب ثروت افراد اور ان کے بچے ہی ان سے استفادہ کر سکیں کیا ہی اچھا ہوتا کہ بھارت کی طرح نیوز پرنٹ کے کاغذ پر پیپر بیک شائع کی جاتیں تاکہ کتاب سستی ہو جاتی۔

مہنگائی کے سبب اکثر افراد استعمال شدہ کتب کے سٹالز سے رجوع کرتے ہیں جن کا ایک بڑا میلہ فریئر ہال میں اتوار کو لگتا ہے۔ ہم بھی وہاں پہنچے۔ اس جگہ کا ذکر بہت سنا تھا لیکن کوئی خاص گہما گہمی نہیں ملی۔ بتایا گیا تھا کہ دکان دار آپ کا حلیہ دیکھ کر دام بتاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ اس طرح کے بازار میں وسیع ورائٹی ہوتی تھی۔ ایک جوان شخص فون پر اپنے ٹین ایجر لخت جگر سے فیس ٹائم کرتے ہوئے کتابیں منتخب کر رہا تھا۔ صاحبزادہ پاؤلو کوئیلیو کے ناولوں کا مشتاق لگتا تھا جن کے سرقہ کیے ہوئے انتہائی گھٹیا مطبوعات یہاں چار پانچ سو روپے میں دستیاب تھے۔ وہ اونچی آواز میں نام بتاتے گئے۔ دی الکیمسٹ، پلگرمج، ہپی، اڈلٹری۔ یہ نام پڑھ کر وہ صاحب خود ٹھٹک گئے۔ پھر باپ بیٹے میں مباحثہ شروع ہو گیا۔ بیٹا کہتا تھا ابو یہ لے آئیں۔ والد صاحب سمجھا رہے تھے کہ کوئی اور کتاب پسند کرلو۔

پٹھان کے ہوٹل اور پوش چائے خانے

پی ایم اے ہاؤس میں برادر بزرگ شیرشاہ سے آمنا سامنا ہو گیا۔ مسکہ بن اور چائے سے تواضع کرتے ہوئے اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں شہر کی ہر گلی میں کھلنے والے ”کوئٹہ فلاں ہوٹل“ پر گفتگو کر رہے تھے۔ مرزا علی اظہر اور محمود خان نے بھی اس بارے میں ماہرانہ آراء پیش کیں۔ میں صرف یہ سوچتا رہ گیا کہ کوئی کاروباری کمیونٹی کہیں سرمایہ کاری اسی وقت کرتی ہے جب رقم ڈوبنے کا خدشہ نہ ہو اور منافع یقینی ہو۔ بہت عرصہ نہیں گزرا جب یہ شہر نسلی بنیاد پر کاروباری افراد پر حملوں، قبضوں اور بھتوں کا عالمی صدر مقام تھا۔ تاثر یہی ہے کہ اب کچھ امن و استحکام اور نظم آ چلا ہے۔

ایک نیا مظہر چائے والا، چائے شائے، چائے دیواری، چائے جی جیسے عجیب و غریب نام والے عالیشان ریستوران ہیں جہاں لوگ بالخصوص نوجوان رات گئے تک بیٹھے ہوتے ہیں۔ پہلے یہ صرف ڈیفینس اور کلفٹن میں تھے لیکن اب شہر کے ہر کونے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ جوتوں اور کپڑوں کی طرح ہر علاقے کی اپنی ہی فوڈ سٹریٹ بھی بن گئی ہے۔ بڑا ہجوم ہے لیکن جتنے خریدار ہیں اتنے ہی بھکاری بھی گھوم رہے ہیں۔ گداگروں کی مختلف اقسام ہیں جن میں سب سے نچلی پرت کو سب پیشہ ور اور عادی فقیر کہتے ہیں لیکن چندہ اور زکٰوۃ پر چلنے والے اداروں کے چرب زبان اور فنکار منتظمین سیلیبرٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔

مرعوب کن سکائی لائن

دن کے وقت سفر کریں تو سڑکوں کے اطراف بنی عمارتوں میں عدم مساوات، بے ترتیبی، سیلن سے اترے ہوئے رنگ اور مٹی کی تہیں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ لیکن سورج ڈھلتے ہی سب بدصورتی چھپ جاتی ہے۔ آسمان کو چھوتی نئی نویلی تعمیرات، شادی ہالوں اور شاپنگ پلازوں سے پھوٹتی روشنیاں منظر نامے پر غالب آجاتی ہیں۔ تابندہ دیوہیکل اشتہاری بورڈز اس سکائی لائن کا ناگزیر حصہ ہیں۔ ان پر سب سے نمایاں چہرے جنہیں میں پہچان سکا وہ ڈرامہ آرٹسٹ فہد مصطفیٰ، ہانیہ عامر، خوشحال خان، دنانیر اور ماہرہ خان کے ہیں۔ کراچی کا اتنا دلکش روپ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

Facebook Comments HS