جیل بیتی۔ 2
زندانی ادب کی دو مثالیں اسی راولپنڈی جیل سے نسبت رکھتی ہیں جس کا بڑا ذکر راجہ انور کی کتاب ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں ملتا ہے۔ ان دو کتابوں میں سے ایک قیدی کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور دوسری اس جیلر کی جو اس مشہور قیدی کی قید کے دوران یہاں کا سیکیورٹی چیف تھا۔
قیدی کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا اور جیلر کا نام کرنل رفیع الدین۔ ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ بھٹو صاحب کی کتاب کا نام تھا اور ”بھٹو کے آخری 323 دن“ کرنل رفیع الدین کی کتاب کا عنوان۔
”اگر مجھے قتل کیا گیا“ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے بھٹو صاحب کا وہ مقدمہ ہے جو ناموافق وقت کے دھارے کو تبدیل کرنے کی ایک آخری کوشش تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکی اور پھر برآمد ہونے والے نتائج ایسی شکل اختیار کر گئے کہ اپنے قومی حالات کا معاملہ بھی دردِ دل سا ہو گیا۔
ایسا نہ ہو کہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
اس کتاب میں ایک قابلِ توجہ واقعہ درج ہے۔ بھٹو صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سال شکار کے موسم میں ایک جاگیردار کے چند دن کے لیے مہمان ہوئے۔ ایک رات دورانِ محفل میں نے ایوب خان سے سوال کیا کہ سر اس وقت تو آپ ہی ملک کے سربراہ بھی ہیں اور فوج کے بھی۔ مستقبل میں اگر کوئی سویلین ملک کا سربراہ ہو تو فوج کو قابو میں رکھنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے کیونکہ یہ پہلو نظرانداز کر کے حکومت کرنا مشکل ہو گا۔ ایوب خان نے جواب دیا۔ اس کا حل بہت آسان ہے۔ آرمی چیف کبھی بھی اس صوبے یا لسانی گروپ سے نہ ہو جس کی فوج میں اکثریت ہو۔
لگتا ہے یہ بات بھٹو صاحب نے پلے باندھ لی تھی۔ ساتھ میں یقینی طور پر وہ جو خفیہ والے کہلاتے ہیں اور جن کی رپورٹیں بڑی اہم سمجھی جاتی ہیں انہوں نے بھی جنرل صاحب کے اطوار میں جو ”اسلامی ٹچ“ تھا اسے ضرور نمایاں کیا ہو گا۔ لہذا بھٹو صاحب وہ فیصلہ کر بیٹھے جس کا انجام ایسا افسوسناک ہوا کہ
کسی بتکدے میں بیاں کروں تو صنم پکارے ہری ہری
”اسلامی ٹچ“ اس کا ”تڑکا“ یا ”بگھار“ ہماری قومی زندگی میں نبض شناسوں نے اپنے ذاتی مفادات کے ایجنڈے کو مسلمان کہلانے والے کلمہ گووں کے درمیان مقبول بنانے کے لیے جتنی چالاکی سے استعمال کیا ہے اس کی نظیر کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ بات دور نکل گئی، چلیے واپس لوٹتے ہیں۔
کرنل رفیع الدین کی کتاب بھٹو صاحب کے راولپنڈی جیل میں گزرے ان 323 دنوں کی روداد ہے جو دار و رسن کی آزمائش پہ تمام ہوئی اور جس کے حوالے سے ان کا ہر مداح بزبانِ فیض یک زبان تھا۔
کبھی تو سوچنا یہ تم نے کیا کیا یارو
یہ کس کو تم نے سرِ دار کھو دیا یارو
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد متنازعہ لیڈر بنتے گئے اور آج بھی ان کے حوالے سے مخالف رائے رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔
مصنف کے بقول زندگی کی آخری شام انہوں نے یہ کہتے ہوئے بہ اہتمام شیو کی کہ میں اللہ میاں کے پاس ایک مولوی کے روپ میں نہیں جانا چاہتا۔
ہمارے ادب میں دورانِ قید معروف شخصیات کے لکھے گئے خطوط پر مبنی کتب کا بھی اپنا ایک مقام ہے۔ ان میں تحریکِ آزادی کے دو کج کلاہوں کے خطوط بڑی شہرت کے حامل رہے ہیں۔ ان میں جواہر لعل نہرو کے خطوط بنام اندرا گاندھی اور غبارِ خاطر کے نام سے شہرت پانے والے مولانا ابوالکلام کے وہ 24 خطوط جو انہوں نے مولانا حبیب الرحمٰن خان شیروانی کے نام لکھے لیکن کبھی حوالہِ ڈاک نہ ہوئے۔ یہ خطوط احمد آباد جیل میں بتائے گئے زمانے میں سپردِ قلم ہوئے۔ کتاب کے کئی صفحات پر نثر میں کی گئی بات بہت کم اور اشعار بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔ ایک نقاد نے ان خطوط کے اس پہلو کی وجہ سے ایک سخت اختلافی بات لکھی ہے۔ کہتے ہیں جس طرح ڈاکٹر عبداللطیف نے ڈاکٹر عبدالرحمٰن بجنوری کی غالب پر لکھی گئی کتاب ”محاسن کلام ِ غالب“ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ غالب کو سمجھاتے ہوئے اپنا علم و فضل تو عیاں کر گئے لیکن غالب کو نہ سمجھا سکے، غبارِ خاطر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔
یاد رے ”محاسن کلامِ غالب“ وہی کتاب ہے جس کا پہلا ہی فقرہ ایسا پرلطف ٹھہرا کہ اہلِ ذوق کو ہمیشہ محبوب رہا۔
”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں، مقدس وید اور دیوانِ غالب“
(جاری ہے )


