گرگ آشتی


کل رات خبر آنکھوں سے گزری کہ بنگال یعنی ہمارے روٹھے ہمسفر دوست جو کبھی مشرقی پاکستان کہلاتا تھا، میں انقلاب پسندوں نے شیخ مجیب کی تاریخی رہائش گاہ کو فاشزم کی باقیات کہہ کر مسمار کر دیا ہے۔ اسی امثال کئی خبریں روز آنکھوں سے گزرتی ہیں، انقلاب پسندوں کی خبریں، جمہوریت پسندوں کی خبریں جیسے کہ چند روز پہلے میرے دیس میں بھٹو و بے نظیر کے جانشینوں نے اسمبلی میں حق آزادی اظہار رائے پہ کالا قانون پاس کروا کر داد سمیٹی ہے، یہ وہی پیکا کا کالا قانون ہے جسے دیس بدر کی ہوئی بے نظیر نے مارشل لاء دور کی باقیات کہہ کر اکیاسی میں ختم کر دیا تھا، اسی طرح آزادی پسندوں کی خبریں، نور جہاں کے ہٹاں دے پتروں کی خبریں، گوادر کے مچھیروں کی خبریں، بلوچ سرداروں کی مگرمچھ کے آنسوؤں کی مثل مظلومیت کی خبریں، محسن نقوی جیسے بے شمار اہلِ ہنر کی خبریں، جیل میں قید باغیوں کی خبریں، پہاڑوں میں روپوش زندان شکنوں کی خبریں، احمد فراز کے چاق و چوبند دستوں کی خبریں جن کے ہاتھ نہتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اور اسی امثال خبریں ہی خبریں مگر میرے مٹی کے محنت کشوں کی کوئی خبر نہیں، میرے پنجاب کے دہقاں مر رہے ہیں مگر کوئی خبر نہیں، بلوچستان میں کوہ کن درگور کیے جا رہے ہیں مگر کوئی خبر نہیں، سندھ کا تھر تپ رہا ہے مگر کوئی خبر نہیں، کوہستان کی وادی نفاذ شریعت کے نعروں سے گونج رہی ہے مگر اہلِ کوہستاں کی کوئی خبر نہیں، میرے بے ربط دیس میں خودداری لعنت بن چکی ہے مگر کوئی خبر نہیں ہے۔

پچھلے سات سال میں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں روزانہ دھڑا دھڑ قانون پاس کروائے جاتے ہیں اور اس تعداد میں کروائے جاتے ہیں کہ پچھلے سیشن کا ریکارڈ ٹوٹ جائے مگر ان قوانین میں اس مایوس دھرتی کے اصل الاصول وارثوں کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور کوئی حق نہیں ہوتا۔ وہ وارث جن کا جینا، مرنا، بودوباش اسی دھرتی کے سپرد ہے اور جو ”پاکستان کا مطلب کیا“ کے نعروں میں زندہ جلا جلا کر یا تو راکھ کر دیے گئے جو بچ گئے انھیں دیس نکالا دیا گیا اور یہاں مفلسی ان کا مقدر ٹھہرا۔ میری اداس نسلوں کے دیس میں پاس کروائے جانے والے قوانین کی تفصیل کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ یہ دیس بھیڑیوں کا دیس ہے جس میں روز کسی نہ کسی بھیڑ بکری کو چیر پھاڑ کیا جاتا ہے اور مقننہ اس چیر پھاڑ کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ بحث کا انعقاد کرتی ہے اور پھر یہ بحث قانون کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور اگر اس میں کوئی کسر چھوڑ دی جائے تو عدالتی بھیڑیے اسے مزید سنوار کر نکھار دیتے ہیں۔ پاس ہونے والے قانون کچھ اس طرح سے ہیں کہ افسران کی رہائش کی مد میں دی جانے والی رقم میں اضافہ کا قانون، عدلیہ کی مراعات میں اضافہ کا قانون، صوبائی اسمبلیوں کے وزرا کی تنخواہ کے بندوبست کا قانون، سینیٹرز کی پینشن بڑھانے کا قانون، فوج کے اختیارات میں اضافہ کا قانون، سیاستدانوں کی کرپشن کی حد مقرر کرنے کا قانون، سرمایہ داروں کے قرض معافی کا قانون، اور فوجی افسران کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون وغیرہ شامل ہیں۔ پچھلے دنوں ایک انٹرویو نظر سے گزرا جس میں معروف صحافی حامد میر اور موجودہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اس بات پہ تبصرہ کر رہے تھے کہ موجودہ مہنگائی میں لازم ہے کہ ہم قومی اسمبلی ممبران کی مراعات میں اضافہ کریں بلکہ ایک قانون پاس کر دیں جس سے ان کی تنخواہوں میں اضافے سے ان کے الیکشن اور ڈیرے کے اخراجات کا بوجھ ذرا کم ہو جائے، میر صاحب اس بحث میں سفارشی تھے اور قومی اسمبلی ممبران کی حالت زار بیان فرما رہے تھے اور اسی دوران اسپیکر صاحب نے ان کی سفارش میں مثال جوڑتے ہوئے عدلیہ، فوج اور سول افسران کو ملنے والی مراعات اور لاکھوں روپے مالیت کی تنخواہوں کا ذکر کر دیا۔ یعنی یہ سیاستدان ہوں، سرمایہ دار ہوں، سول افسران، جج یا فوجی افسران سب کے سب عام آدمی کے خون پہ پلتے ہیں اور باوجود آپسی اختلافات کے، یہ بھیڑیے ان بھیڑ بکریوں کی چیر پھاڑ کرنے جیسے قوانین پہ متحد ہیں۔

پھر یہ بھی کہ اسمبلی، عدالت یا افسر کوئی بھی ہو قوانین اسی طرح کے بنائے جاتے ہیں جس سے عام آدمی بھیڑ بکریوں کی طرح قربان کیا جاتا ہے اور یہ لوگ جمہوریت پسندی، آزاد پسندی اور انقلاب کے نعروں میں اپنی زندگی کو آسائش دیے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی ایک قانون ایسا نہیں جس میں ان مراعات پسندوں کے اوپر ٹیکس لگانے کی بات ہوئی ہو یا عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے جیسی کوئی کاوش کی گئی ہو، یہ اربوں روپے کے ٹیکس لگا کر اسی میں سے چند لاکھوں کے لیپ ٹاپ، فری آٹا جیسے منصوبے بنا بنا کر محنت کشوں کو دیس بدر کیے جا رہے ہیں اور اب حالت یہ ہے کہ محنت کش طبقہ یا تو ہجرت کر کے باہر جا چکا ہے یا پھر اتنا لاچار ہو چکا ہے کہ ان کے اللے تللوں کا سامان مہیا نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ وطن ناپائیدار میں بے شمار ٹیکس لگانے کے باوجود بھی معاشی استحکام آ رہا ہے نہ ہی ان بھیڑیوں کی خوراک کا سامان ہو رہا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس مارا ماری سے بچنے کے لیے گرگ آشتی کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ گرگ سے مراد ہے بھیڑیے اور آشتی سے مراد ہے صلح یا امن۔ گرگ آشتی ایک قدیم ایرانی کہاوت ہے جس کے مطابق سخت سردی میں جب بھیڑیوں کو کچھ کھانے کو نہیں ملتا تو سب ایک امن معاہدے کے تحت دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے ہیں، جیسے ہی کوئی بھیڑیا بھوک سے کمزور ہو کر گرتا ہے تو سب بھیڑیے اس پہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔

میرے دیس میں بھی یہ کھیل سیاسی استحکام، جمہوری نظام، حقیقی آزادی کا کھیل نہیں بلکہ ذاتی مفادات، اقتدار کے حصول، طاقت کے اختیار اور استعمار کے جواز کا کھیل ہے جو گرگ آشتی کا کھیل بن چکا ہے اور جو بھی کمزور ہو گا یہ سب عادی بھیڑیے اسی پہ ٹوٹ پڑیں گے۔ جنرل فیض کی مثال ہو، عدلیہ کی مثال ہو، ملک ریاض کی مثال ہو یا دیگر کئی مثالیں اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ۔ اب یہ وقت محنت کشوں کی تماش بینی کا ہے اور اس کھیل سے لطف اندوز ہونے کا ہے۔ اس کھیل کے سارے کردار گرگ آشتی کے کردار ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کہ کون پہلے گرتا ہے اور کون اس پہ کب ٹوٹ پڑے گا۔

Facebook Comments HS