سفر جاری ہے

وہ لوگ جن کو کانفرنسوں اور ورکشاپس میں شرکت کے لئے بیرون ملک جانے کا موقع ملتا ہے، واپس آ کے صرف دفتری رپورٹ لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عام قارئین کو اپنے کام کی تفصیلات بتانے کے ساتھ ان ممالک کے تاریخی، ثقافتی اور تفریحی مقامات کی سیر بھی کراتے ہیں۔ اردو ادب کی ایک قاری کی حیثیت سے سفر ناموں کا مطالعہ بچپن سے میرا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ ان سفر ناموں کا ہی کمال ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے وہ ساری جگہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھی ہیں کیونکہ مجھ جیسے مطالعے کے شیدائی مصنف کی انگلی پکڑ کر ان سارے مقامات سے گزرتے ہیں۔
ہر سفرنامہ آپ کی معلومات میں اضافہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر سجاد احمد صدیقی اپنے ساتھیوں جن میں سر فہرست ڈاکٹر شیرشاہ ہیں کے ساتھ مل کر عورتوں کی ایک تکلیف دہ لیکن قابل علاج بیماری فسٹیولا کا علاج کرتے ہیں اور اس حوالے سے مختلف عالمی کانفرنسوں میں شرکت بھی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے 2007 ء میں فسٹیولا سے بچاؤ اور علاج کے پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور اسی سال یو این ایف پی اے کی جانب سے مئی میں دہلی میں منعقد کی جانے والی ایک ورکشاپ میں شرکت کی۔
اس ورکشاپ کا مقصد یہ تھا کہ تیسری دنیا کے باون ممالک کے پبلک ہیلتھ کے چیدہ چیدہ افراد دستیاب اعداد و شمار کے ذریعے کوئی مربوط لائحہ عمل تیار کر سکیں۔ اس کتاب کا پہلا باب ”دہلی جو ایک شہر ہے۔“ میں وہ اس بات پر افسوس کرتے نظر آتے ہیں کہ ماؤں کی اموات اور فسٹیولا جیسی بیماری کا تناسب پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں زیادہ ہے جہاں نہ تو حکمرانوں کو اس سے نجات حاصل کرنے کی فکر ہے اور نہ ہی اشرافیہ کو کوئی پروا ہے جب کہ اس مسئلہ کو انہیں ہی حل کرنا ہو گا کیونکہ خیراتی اور بین الاقوامی اداروں کی بیساکھیوں سے اس طرح کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ورکشاپ کی کارروائی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں نئی اور پرانی دہلی کے ساتھ چند اہم مقامات کی سیر بھی کراتے ہیں۔
دوسرا سفر 2009 ء میں بنکاک کا تھا جہاں انہوں نے چھ ہفتوں کے ایک تربیتی کورس میں شرکت کی۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد تیسری دنیا میں صحت کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں اور اس پر خرچ کی جانے والی رقم سے اب تک کے نتائج کی روشنی میں اصلاحات کرنا مقصود تھا۔ جو نتائج حاصل ہوئے وہ بہت مایوس کن تھے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ کس طرح صحت کے شعبے میں ترقی پذیر ممالک اپنی ترجیحات اس طرح طے کریں کہ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے وہ عوام کو زیادہ بہتر سہولتیں فراہم کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں تھائی لینڈ کی قدیم اور حسین ثقافت کے بارے میں بتاتے ہیں اور مختلف مقامات کی سیر بھی کراتے ہیں۔ جسم فروشی وہاں صنعت کا درجہ رکھتی ہے اور وہاں ایچ آئی وی /ایڈز کی بیماری سب سے زیادہ ہے۔ حکومت نے اس کے لئے ایچ آئی وی کلینکس قائم کیے ہیں جہاں مریضوں کی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی۔ اس تربیت سے جو بنیادی بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ صحت کی پالیسی کو کن خطوط پر مرتب کیا جائے جس سے عام شہری کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔
اگست 2009 میں ڈاکٹر سجاد کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک وفد کے ہمراہ صحت و حفظان صحت کے تیسرے سمپوزیم میں شرکت کا موقع ملا۔ کانفرنس کا موضوع تھا ”ہاتھوں کی صفائی سے صحت مند رہیں“ ۔ اس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ ہاتھوں کی صفائی کے سادہ عمل سے کس طرح بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ قاری کو بیجنگ کے تفریحی اور تاریخی مقامات کی سیر بھی کراتے ہیں۔
دسمبر 2009 میں افریقن میڈیکل ریسرچ فاؤنڈیشن نے نیروبی میں ایک تین روزہ فسٹیولا کانفرنس منعقد کی جس کا مقصد تیسری دنیا کے طبی ماہرین کو فسٹیولا کے اسباب و علاج اور تدارک کے بارے میں اپنے تجربات و مشاہدات کے تبادلۂ خیالات کا موقع فراہم کرنا اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔ یہاں انہیں ایتھوپیا کے ہیملن فسٹیولا سنٹر کے بارے میں بھی جاننے کا موقع ملا جو ایک آسٹریلوی جوڑے کی لو کیئر اسٹوری ہے۔ یہاں مریضوں کے علاج کے علاوہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تربیت بھی دی جاتی ہے۔
یہ معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں نیروبی میں جنگل سفاری بھی لے چلتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
جب 2010 میں وہ انٹرنیشنل سوسائٹی آف اوبسٹیٹرک فسٹیولا سرجنز کی تیسری انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لئے سینی گال کے شہر ڈاکار میں جاتے ہیں تو وہاں کے دل کش ساحل اور مسحور کن ہوا کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔ ہم ان کی آنکھوں سے شہر کے چاروں طرف سے با آسانی نظر آنے والے ایک بچے، عورت اور مرد پر مشتمل ایک لمبے چوڑے دھاتی مجسمے اور روشنی کے مینار ممالز لائٹ ہاؤس کو دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہمیں غلاموں کی منڈی یعنی گوری آئی لینڈ بھی دکھاتے ہیں جو انسانی تاریخ کا ایک درد ناک باب ہے۔
کانفرنس کے حوالے سے جو اچھی اور عجیب بات سامنے آئی، وہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں فسٹیولا کے علاج کی لاگت کا سب سے کم ہونا ہے کیونکہ ڈاکٹر شیر شاہ کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں یہ علاج سرکاری اسپتالوں میں ہوتا ہے جہاں الگ سے سرجن کو فیس نہیں دینی پڑتی۔
اسی سلسلے کی چوتھی کانفرنس 2012 میں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہوئی۔ یہاں وہ ہمیں سندر بن سفاری بھی دکھانے لے جاتے ہیں۔
اس کے بعد وہ ہمیں سویڈن کے ایک جزیرے گوٹ لینڈ میں لے جاتے ہیں جہاں وہ چھ ہفتے کے بنیادی تربیتی کورس میں شرکت کرتے ہیں۔ ہم جیسے ملکوں کے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ وہاں چوری چکاری نہیں ہوتی، پانی کے استعمال میں بہت احتیاط برتی جاتی ہے۔ اور لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں۔
اگلی کانفرنس 2014 میں یوگنڈا میں ہوئی۔ جس میں تمام ممالک ایک جیسے مسائل اور صحت کے برے حالات پیش کر رہے تھے۔ جن میں ایک مدت سے کوئی بہتری نہیں ہو سکی۔ یو گنڈا جا کے ڈاکٹر صاحب کو اندازہ ہوا کہ حکمرانوں کی عیاشیاں اور لوٹ مار قوموں کو قدرتی وسائل اور افرادی قوت کے باوجود کس طرح تباہ کر دیتی ہیں۔
اس کتاب کا سب سے قیمتی باب اور زریں الفاظ میں لکھی جانے والی کہانی ”جنیوا میں پاکستان کی رضیہ“ ہے۔ جس کا یہ جملہ ”اندھا ہونا بہتر ہے فسٹیولا کے مرض سے“ عالمی میڈیا کی سرخیوں کی زینت بنا۔ رضیہ کے سیشن کے اختتام پر آئس لینڈ کے وزیراعظم نے ڈاکٹر سجاد سے کہا، ”میں حیران ہوں کیونکہ ہم جس پاکستان کو جانتے ہیں وہاں تو عورتوں کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے۔ لڑکیوں پر سماجی تشدد کیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو معاشرہ قبول نہیں کرتا، کہیں کہیں عورتوں کو کوڑے مارے جاتے ہیں لیکن آج آپ نے ہمیں جس پاکستان سے روشناس کرایا ہے، وہ یکسر مختلف ہے۔
جہاں اندھی اور غریب عورتوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، سماج میں ان کی عزت بحال کی جاتی ہے۔ اور انہیں زندہ رہنے کی تمام سہولتیں عزت کے ساتھ دی جاتی ہیں۔ ہم سب کے لئے یہ پاکستان بالکل مختلف اور قابل رشک پاکستان ہے جس پر آپ اور آپ کے تمام ساتھی مبارک باد کے مستحق ہیں اور جس پر ہم سب تمام پاکستانیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
اس سلسلے کی ساتویں دو سالہ کانفرنس دسمبر 2018 میں نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں ہوئی۔ جس میں شیر شاہ سید نے اگلے دو سالوں کے اس تنظیم کی صدارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ کانفرنس کی روداد سنانے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سجاد ہمیں بخشاپور اور نگر کوٹ کے اوپن ائر میوزیم کی سیر بھی کراتے ہیں۔ اور اپنے ساتھ ہمیں بھی ہمالہ کی گود میں واقع اس ملک کے پہاڑوں میں چھپے حسین ماحول کا دیوانہ بنا دیتے ہیں۔
آٹھویں کانفرنس دسمبر 2022 میں موزمبیق کے شہر مپوٹو میں ہوئی۔ یہ چھوٹا سا ملک قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس کانفرنس میں باون ممالک سے دس سرجنز سمیت پاکستان کے دو سرجنز کو ’بہترین فسٹیولا سرجن‘ کا ایوارڈ ملا۔ اختتامی تقریب میں علاقائی رقص کا حال پڑھ کر آپ بھی اس کے سحر میں گم ہو جائیں گے۔
کتاب کا آخری باب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں سیشن کے بارے میں ہے۔ جس کا بنیادی مقصد ”تمام دنیا کے لوگوں کو امن اور عزت کے ساتھ اس کرۂ ارض پر رہنے کا حق دیا جائے۔ یو این ایف پی اے نے اس ذیل میں فسٹیولا سے متاثرہ ممالک اور خواتین کے لئے ایک علیحدہ سیشن کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں پاکستان سمیت باون ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستان کی رضیہ کے علاوہ دو افریقی ممالک کی خواتین نے بھی اپنی کہانیاں سنائیں۔ ان سب کی کہانی اور وجوہات اتنی مشابہت رکھتی ہیں کہ اگر ان کو جغرافیائی خطوں سے نکال دیا جائے تو ان کی جداگانہ شناخت صرف اور صرف فسٹیولا رہ جائے گا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اس کتاب میں پیش کی جانے والی معلومات اور تجاویز سے حکومت وقت اور صحت کے شعبوں سے وابستہ اداروں کی بے حسی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
