محفوظ مستقبل
زمانہ وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو، فانوس و گلدان کی ماند بنتے بگڑتے ہیں انساں۔
پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اس عظیم مقولے کو آج فقط مذاق سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ شاید سیاستدان، اشرافیہ اور عسکری الجھاؤ ہے۔ آج ہر پاکستانی کے قلوب و اذہان پر مایوسی کے بادل چھائے ہیں ہر آدمی عدم استحقاق کا شکار ہے اور اس کا سبب بے روزگاری یا کاروباری انتشار ہے۔ آج ہر پاکستانی کی زبان پہ ایک ہی جملہ ہے کہ پاکستان میں ’فیوچر‘ نہیں یعنی مستقبل محفوظ نہیں اور ان عظیم اذہان کے مطابق مستقبل کہاں محفوظ ہے؟ یورپ میں، برطانیہ میں، امریکہ میں۔
ان فرنگیوں، کفار و مشرکین کے ہاں محفوظ ہے جن کے بارے میں ہمارے دین میں حکم ہے کہ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ان سورماؤں کے ہاں محفوظ ہے جن سے دین کی بقا کے لیے انبیا و رسل و اصحاب نے جنگیں لڑیں اور اپنی عظیم جانوں کی قربانیاں پیش کی۔ ان کے ہاں محفوظ ہے جن سے قبلہ اول کا قبضہ لینے کے لیے صلاح الدین ایوبی اور زنگی جیسے سالاروں نے صلیبی جنگیں لڑی۔ ان کے ہاں محفوظ ہے جن کی 200 سال غلامی کے بعد آزادی کے لیے ہمارے قائدین نے الگ ریاستیں حاصل کی۔ ملک پاکستان حاصل کیا۔ جہاں مسلمان کسی کے غلام نہیں اور آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
لگتا ہے مورخ اور کتب نگاروں نے محفوظ مستقبل کی تعریف کے باب میں کوئی غفلت برتی تھی ہمارے ہاں ہر اس جوان کا مستقبل محفوظ سمجھا جاتا ہے جس کے پاس بھاری اسناد، بہت ہی اچھی ملازمت یا منافع بخش کاروبار ہو، اچھی گاڑی، اچھے گھر کے ساتھ ساتھ نسلوں کے لیے معقول سرمایہ ہو اور یہ سب 20 سے 27 سال کے درمیان حاصل ہو۔ یہ معیار زندگی آج کے جدید انسان کا طے کردہ ہے جسے وقت کی ضرورت جیسی دلیلیں دے کر درست ثابت کیا جاتا ہے پر اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے پورے معاشرے کا نقشہ بدل چکا ہے۔ اس تعریف پہ پورا اترنے کے لیے ہمارے ملک کا ہر نوجوان تیز رفتاری سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس میں اس کی اپنی ترجیحات کہیں پس پردہ پوشیدہ ہو گئی ہیں۔ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔
بفرض محال اگر اس نظریے کو درست مان بھی لیا جائے تو کیا 1400 سو سال پہلے بھی ایسا ہی تھا؟ کیا اس وقت نوجوان کام نہیں کرتے تھے؟ کیا تب لوگوں کی شادیاں نہیں ہوتی تھیں؟ کیا لوگ بھوک سے مر جاتے تھے؟ کیا کفار مسلمانوں کی کمزور معاشی حالت کے سبب غالب تھے؟ ہر گز نہیں۔ سچ تو یہ ہے زندگی کے سب معمولات کو انتہائی احسن طریق سے انجام دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے بے شمار معرکے سرانجام دیے، جنگیں لڑی۔ اپنی ترجیحات میں مال نہیں بلکہ دین کی بقا کو ترجیحِ اول رکھا اور نتیجتاً زندگانی کے سب معمولات بخوبی انجام پاتے گئے۔ وہ لوگ عظیم لوگ تھے۔ اللہ کے چُنے ہوئے لوگ تھے۔ اُن کی جانیں آج ہماری جانوں سے کئی گنا زیادہ قیمتی تھیں۔
آج بحیثیتِ قوم اگر موازنہ کیا جائے تو تمام یورپی ممالک بشمول برطانیہ اور امریکہ کے لوگ تعلیم و شعور میں پاکستانیوں سے پیچھے ہیں۔ ان کی شخصیات اَدب و اخلاقیات جیسی صفات سے قاصر ہیں۔ یہاں کے نوجوان 16 سے 17 برس کی عمر میں بنیادی اسکول چھوڑ دیتے ہیں اور اس نام نہاد جدید معاشرے میں ایک یا زائد گرل فرینڈ بنا کر 20 سے 21 سال کی عمر میں 1 سے 2 ناجائز بچے بھی پیدا کر لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ تاعمر ملازمت بھی کرتے ہیں اور اکثر 25 سال تک پہلے والی گرل فرینڈ کو الوداع کر کے نئی کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہیں لیکن 25 برس کے نوجوان کے پاس زندگی کی تمام آسائشیں موجود ہوتی ہیں جن کا تذکرہ اوپر ہو چکا لیکن یہاں کے لوگ سارا خرچ یا ہفتے بھر کی کمائی فقط دو دن کی عیاشی میں اڑا دیتے ہیں۔ یا پھر کچھ سرمایہ جمع کرنے کے بعد چھٹیاں گزارنے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں اور لطف و آرام کے لیے رقم صرف کرتے ہیں۔ مزید دیکھا جائے تو یہاں کے لوگ جب 45 سے 60 برس کو پہنچتے ہیں تب بھی وہ بظاہر معقول ملازمت کر رہے ہوتے لیکن ان کے بچے ان کو چھوڑ کے جا چکے ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی ماں باپ کے نقش قدم گرل فرینڈز/بوائے فرینڈ کے پاس رہنا پسند کرتے ہیں۔ 60 برس کے بعد یہاں کے جوڑے الگ ہو جاتے ہیں اور ضعیفی میں بھی مجبوراً ملازمت کرتے یا پھر ناکارہ ہونے کی صورت میں یہاں کے قانون کے مطابق اولڈ ہومز میں بھیج دیے جاتے ہیں۔ عمر کا باقی حصہ وہ وہی پر گزار دیتے ہیں۔
اس بے مقصد زندگی کو دیکھ کر جانوروں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جِن کا مقصد کھانا، پینا، سونا اور بچے پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ہاں ان فرنگیوں نے مسلمانوں کے قلوب میں بھی فکر معاش اس قدر پیوست کر دی ہے جس کے لیے ہم نے بھی مقصد کو بھلا دیا ہے۔
دوسری جانب ایک پاکستانی نوجوان بچپن سے لے کر 25 26 سال تک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں صَرف کر دیتا ہے۔ اس دورانیے میں نا جانے کتنے اساتذہ سے نہ صِرف تعلیم بلکہ تجربات حاصل کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ 26 سال تک نوجوان صِرف اور صِرف سیکھتا ہے۔ عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے اس کی ذہنی صلاحیتوں اور شعور کو عروج مل چکا ہوتا ہے۔ 2 3 سال ملازمت یا کاروبار کرنے کے بعد پاکستانی نوجوان کی شادی کرائی جاتی ہے جس کے لیے وہ شعوری طور پر تیار ہوتا ہے۔ بظاہر ایسا نوجوان فرنگی جوان سے معاشی مقابلے میں پیچھے نظر آتا ہے لیکن عقل و شعور، ادب و اخلاقیات کے معاملے میں پاکستانی جوانوں کا کوئی ہمسر نہیں۔
قارئین اس بات کو تسلیم کرنے میں خفا ہو رہے ہوں گے لیکن تجربات یہ کہتے ہیں کہ نہ صرف فرنگی بلکہ دوسرے ممالک کی نسبت بھی پاکستانی جوانوں کا، ذہنی معیار، علمی و عملی صلاحیتیں، ادب و اخلاقیات، مذہبی شعور کئی گنا بڑھ کر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستانی انفرادی طور پر ترقی یافتہ ہیں اور بحیثیتِ قوم ایک منفرِد پہچان رکھتے ہیں۔ لیکن عالمی دنیا میں بدنامی اور بے توجہی کا سبب حکومتی کمزوریاں، بدعنوانی، دہشت گردی اور کفار کے مسلمانوں سے نفرت آمیز رویے ہیں۔ اس سب سے قطع نظر مسلمانوں نے ہمیشہ سے اپنا الگ وقار پایا جو تا آخر برقرار رہے گا۔ لیکن اس وقار کی وجہ ایک با مقصد طرزِ زندگی ہے وہ مقصد دینِ اسلام نے ہمیں سکھایا، وہ مقصد جس کے لیے ہم صدیوں سے انبیا و رسل کی پیروی کرتے آرہے ہیں، وہی مقصد خالق اور مخلوق کے تعلق کا عرفان عطا کرتا ہے۔ مسلمانوں پر اگر عروج رہا تو وہ اسلام کی وجہ سے تھا اور آج اگر زوال ہے تو اسلام سے دوری کے موجب ہے۔ آئندہ کے مستقبل کا دار و مدار بھی اسلام سے وابستگی پر منحصر ہے پر افسوس ہم اس مستقبل کو کہیں اور تلاش کر رہے ہیں جہاں سراسر گمراہی ہے۔


