میں نے فلاں لڑکی کو جنسی طور پر استعمال کیا ہے
اصباح بیگ کی ایک ذہنوں کو جھنجوڑتی ہوئی تحریر نظروں سے گزری، اس تحریر میں انہوں نے بڑی بہادری اور جرات سے مردوں کے ایک مخصوص مائنڈ سیٹ پر کھل کر لکھا اور دوران اظہار مصلحت کا لبادہ اوڑھنے کی بجائے اور سنسرشپ کا سہارا لیے بغیر سیدھے شبدوں میں وہ سب کہہ ڈالا جس کا اظہار ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تحریر کے عنوان سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
میں نے فلاں لڑکی کی ”لی“ ہے۔
منافق سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے ایسی ہی نڈر خواتین کی ضرورت ہے جو کھلے لفظوں میں سماجی منافقتوں پر لکھیں، میری نظر میں تو خواتین کو اپنی کہانیاں خود لکھنی چاہئیں، جس پر جو بیتتا ہے اس کا احوال وہی بہتر جانتا ہے باقی تو ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔ جنسی و ذہنی طور پر گھٹن زدہ سماج میں اسی طرز کی پھبتیوں کا چلن ہوتا ہے جو کہ بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
چیر کر رکھ دیا سالی کو۔
نخرے کرتی تھی میں نے بھی خوب سبق سکھایا اسے، کیا یاد کرے گی۔
ان کی اوقات بس ایک ”باری“ کی مار ہوتی ہے بس ڈھنگ سے لگا دو۔
یہ ہر اس سماج کی کہانی ہے جہاں خواتین کو محض آبجیکٹ سمجھا جاتا ہے اور انہیں کھلی کینڈی سے تشبیہ دی جاتی ہے، مردانہ معاشرے میں خواتین کے جسمانی اعضاء کو مزے لے کر بیان کیا جاتا ہے اور کمرہ عروسی کی کہانیاں جو کہ انتہائی نجی ہوتی ہیں مگر انہیں فخریہ انداز میں پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی۔
خاتون کے جسم کو محض انٹرٹینمنٹ کی کوئی چیز سمجھا جاتا ہے، حالانکہ مردوں کی کہانیاں تو ہمیں دیواروں پر لکھی ملتی ہیں۔ کہیں لکھا ہوتا ہے مردانہ کمزوری کا شرطیہ علاج، کہیں جنسی ٹائمنگ بڑھانے والے کیپسول کا تذکرہ ملتا ہے تو کہیں عضو تناسل کی ایستادگی اور سائز بڑھانے کے لیے طلا و تیل۔ کمپلیکس کی ماری قوم کے ذہنوں پر جنس ہی سوار رہتی ہے اور حالات دیواروں پر نوشتہ ہوتے ہیں، اس سے بڑا المیہ بھلا کیا ہو سکتا ہے؟ اور باہر نکل کر نعرے اور دعوے اس طرح سے کرتے ہیں کہ جیسے وہ خاتون کے ساتھ مکمل لوازمات کے ساتھ راحت اندوزی کر کے آئے ہیں، جنسی تسکین اور جنسی اذیت میں بڑا فرق ہوتا ہے اور مردوں کی ایک کثیر تعداد خواتین کو جنسی آگ میں جھلستا ہوا چھوڑ دیتے ہیں اور ناڑہ باندھ کر چلتے بنتے ہیں اور مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔
ہم بھلے تسلیم کریں یا نہ کریں کیا فرق پڑتا ہے، اب اسے کڑوی حقیقت کہیں یا فطرت کا ایک بھیانک مذاق کہ مرد جلد انزال کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ خاتون ذرا تاخیر سے اس کیفیت سے گزرتی ہے اور مرد کو خاتون کی نسبت بحالی میں بھی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مرد کو ہی بحالی کے لمحات درکار ہوتے ہیں۔
اس لیے مردانگی کے نعرے ہمیشہ وہی مرد لگاتے ہیں جن کی نظر صرف خواتین کی دو ٹانگوں کے بیچ ٹکی رہتی ہے اور یہ اسی قبیلہ بدنصیباں سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی شریک حیات کو تو مطمئن نہیں کر سکتے البتہ خود باہر منہ مار کر جنسی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
منافق زدہ سماج میں خواتین کے اعضائے مخصوصہ کو گالیوں کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے، خود جو مرضی کریں جس مرضی بستر پر رات بسر کرنا چاہیں کریں کون پوچھتا ہے؟ ہاں اپنی شریک حیات کو چار دیواری میں رکھنے کو فرض عین سمجھتے ہیں اور وہ بھولے سے کچھ کہہ دے یا کوئی فینٹسی شیئر کر دے تو بدچلن ہونے کا طعنہ کسنے میں ذرا سی تاخیر بھی نہیں کریں گے۔
بے قابو ہونا، ادھر ادھر تاک جھانک کرنا یا دل پشوریاں کرنے کے لیے چار شادیوں کی دھمکی دے کر اپنی شریک حیات کو کنٹرول کرنا، گیس لائٹنگ کرنا صرف مرد کو ہی تو زیبا ہے خاتون کو نہیں، کیونکہ وہ کوئی انسان تھوڑے ہوتی ہے وہ تو محض مردوں کو لبھانے والی ایک چیز ہے بھائی۔ وہ کون سا کوئی دل رکھتی ہے یا مختلف طرز کا جنسی ذوق؟ وہ تو ایک فکس آبجیکٹ ہوتی ہے جسے نصب کر دیا جاتا ہے، اب بھلے اسے رکھیل کہیں یا بدچلن؟ جنسی غلام کہیں یا گھریلو ملازمہ کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ رہے گی تو ایک لبھانے والی چیز ہی نا!
محبت کے اندھے محبت کی حقیقت کو کہاں پہنچ سکتے ہیں، محبت میں تسلیم و انا بڑی خوبصورتی سے برابر مقدار میں گندھے ہوتے ہیں، اس میں چھوٹائی بڑھائی نام کے تکلفات نہیں ہوتے۔ محبت بھرے رشتے میں خاتون کے جسم کو فتح نہیں کیا جاتا بلکہ روح میں اتر کر باہمی رضامندی کے ساتھ جنسی تسکین کے حقیقی تجربے کا احساس محسوس کیا جاتا ہے۔
باہمی رضامندی اور دلوں سے جڑے رشتے میں ”تسلیم“ کو بلند معیار تصور کیا جاتا ہے، انا اور احساس تفاخر کو رشتے کی توہین تصور کیا جاتا ہے، محبت کی گھنی چھاؤں تلے پروان چڑھنے والے رشتے اور بچے ہی ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند ہوتے ہیں۔ رشتوں میں سراپا محبت موسیقی کے سر اور تال کی مانند ہوتی ہے جس میں مطابقت پذیری کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے، ذرا سا تناسب بگڑنے سے موسیقی کا سرور مدھم سا پڑنے لگتا ہے۔
اسی طرح سے پیار بھرا جسمانی تعلق بھی ذہنی کیمسٹری کی ہمواری کا متقاضی ہوتا ہے ورنہ تو جسمانی تعلق بھی ذہنی اذیت بن جاتا ہے۔ ہم میں سے کتنے مردوں کو اپنی شریک حیات کے جسم سے حقیقی آشنائی ہوتی ہے؟ کتنوں کو خبر ہوتی ہے کہ جس کے سنگ ہم اپنی صبح و شام بسر کرتے ہیں اس کے جسم پر کتنے تل ہیں؟ ہاں اتنا ضرور پتا ہوتا ہے کہ میں نے فلاں کو ڈسٹ بن کی طرح استعمال کیا ہے۔


