ہمارا سماجی رویہ اور ملکی ترقی
انفرادی اور اجتماعی ترقی اور تنزلی میں انسانی رویہ بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخی طور پر قوموں کے عروج و زوال کی کہانی بیان کرتے ہوئے حضرت ابن خلدون نے بارہا لکھا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور تنزلی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اس قوم کے افراد کے معیار کو دیکھتے ہیں، جس قدر ترقی یافتہ قوم ہو گی اتنا ہی اس قوم کا اخلاق اعلیٰ ہو گا اور تنزلی کی شکار اقوام کو اخلاقی پستگی میں مبتلا پائیں گے۔ ہمارا اپنا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ہم سب ہی اپنے آپ کو بہت بہتر انداز میں سمجھتے ہیں اور سمجھنے کے باوجود شدید ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کو غلط اور اپنے آپ کو معصوم سمجھتے ہیں اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ جناب کا اپنا گناہ ہے غلطی ہے تو ایسی ایسی تاویلیں اور دلیلیں سامنے لائیں گے کہ گویا وہ غلطی کرنا بھی انتہائی ضروری تھا کیونکہ ظالم سماج نے مجبور کر دیا تھا اگر وہ یوں نا کرتا تو مجھے کیا ضرورت تھی، میرے لیے یہ کرنا ناگزیر تھا۔
ہم اپنے رویوں کی چند جھلکیاں ملاحظہ کرتے ہیں، صبح سویرے اٹھتے ہیں، بچوں کو تربیت کے لیے سکول چھوڑنے جاتے ہیں تاکہ وہ اچھے شہری بن سکیں اور علم کی دولت سے مالا مال ہو کر خوب مال کما سکیں تو اس کے لیے ہم پہلے ٹریفک اشارہ توڑتے ہیں یا پھر ہم ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور یہ سب کچھ وہ بچے دیکھ رہے ہوتے ہیں سیکھ رہے ہوتے ہیں جو ہم ان کے سامنے تماشا کر رہے ہوتے ہیں اسی طرح سبز پلیٹ والی بڑی گاڑی پر بچوں کو ڈرائیور صاحب ایف سولہ کی رفتار سے سکول چھوڑنے آتے ہیں اور ایک تنگ سڑک پر سکول کے سامنے گاڑی کھڑی کر کے رعب شوب ڈالتے ہیں اور پیچھے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں کیونکہ صرف صاحب جی کے بچے یہاں تربیت سے مالا مال ہو رہے ہیں۔ اگر سبز پلیٹ نا بھی ہو تو بہت سے اپنی گھر نما بڑی گاڑی میں شہزادہ جی کو چھوڑنے آتے اور لینے آتے ہیں تاکہ دیگر گزرنے والوں کو پتا چلے کہ تعلیم کا حصول کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
سکول میں اساتذہ کا رویہ کسی اور مضمون کا بطن بھرنے کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔ آپ نے عام طور پر شاہراہوں پر یہ بھی ملاحظہ فرمایا ہو گا کہ عمومی طور پر دو بعض اوقات تین اور چار بھی ہو جاتے ہیں موٹر سائیکل سوار آپس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو فر ما رہے ہوتے ہیں انہیں اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہو پاتا کہ ہم ہر آنے جانے والوں کی ان دعاؤں سے مستفید ہو رہے ہیں جن کے اثرات ہمارے گھر تک پہنچ رہے ہیں۔ وہ بالکل مکمل بے نیازی سے ہاتھوں پر ہاتھ مارتے گفتگو کرتے چلے جا رہے ہوتے ہیں دھیرے دھیرے، وہ بھی بیچ سڑک کے جیسے سڑک نا ہوئی والدِ محترم کا ڈرائنگ روم ہو گیا۔ خیر یہ تو کوئی گناہوں میں گناہ شمار بھی نہیں ہوتا، حالانکہ یہ گناہ آبا و اجداد کا مکمل اتا پتا دے جاتا ہے جیسے بائیک اور گاڑی کے سلینسر میں سے آواز کو کم کرنے والے آلہ کو عدم شد کروا کے آواز کو اس قدر بھیانک کرنا کہ لوگ فوری متوجہ ہوجائیں کہ یہ کون موصوفِ اعلیٰ تشریف لا رہے ہیں یا پھر جا رہے ہیں۔ خیر اس بیماری کا تو مجھ ناچیز کو بھی علم ہے کہ یہ اس وقت لاحق ہوتی جو شخص والدین کے پیار اور محبت جیسے لازوال جذبے سے محروم رہا ہو تو یہ بیماری فوری طور پر لاحق ہو جاتی ہے۔ ایسی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے لوگ پہچانے جاتے ہیں تعلیم سے انہیں کچھ بھی فرق نہیں پڑتا وجہ یہ کہ اس تعلیمی سرگرمی میں ان بیماریوں اور حرکتوں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہی رہی ہے یا شاید تھی ہی نہیں کبھی۔ میں نے خود عصرِ حاضر کے ایک شاعر کو کسی کی موٹر سائیکل سے فیول چوری کرتے دیکھا حالانکہ جنابِ شاعر عظیم درسگاہوں سے تربیت یافتہ ہیں یہ درسگاہیں جناب کا بال بیکا بھی نا کر سکیں۔
اللہ جھوٹ سے بچائے بہت سے اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ راہنمائی فرما دیتے ہیں جیسے ”بھائی جان ناڑا لٹک ریا جے“ آپ کا ازار بند نظر آ رہا ہے، ایسے ہی ”باجی دوپٹہ ٹائر وچ آ جائے گا چک لوو“ باجی دوپٹہ بائیک کے ویل میں پھنس جائے گا اٹھا لیں ایک اور آواز آپ نے عموماً سنی ہوگی ”بھائی جان سٹینڈ چک لوو“ بھائی جان سٹینڈ اوپر کر لیں۔ یہ بہت بڑی نیکی والے کام ہیں جس سے ایک امید کی کرن پھوٹتی نظر آتی ہے۔ ناجائز تجاوزات والے بھی کسی سے کم نہیں ہیں پھل فروشوں، دکانداروں کے پھٹے جس سے چار رویا شاہراہ ایک رویا بن جاتی ہے، چلیں یہ تو ریڑھی وال دکاندار ہیں تکلیف تو اس وقت ہزار گنا ہو جاتی ہے جب ایک حسین و جمیل بڑی سی گاڑی میں بیٹھا شخص اس ریڑھی والے سے بیچ سڑک رک کر نا آگے نا پیچھے ایک طرف گاڑی لگانا اس کی شان میں گستاخی ہے اندر سے ہی خرید فرما رہا ہوتا ہے بلکہ فرما رہے ہوتے ہیں ہم کیوں گستاخی کریں، بیس فٹ کی گلی دروازوں کی ڈھلوانوں اور تھڑوں کی وجہ سے تین فٹ کی رہ جاتی ہے۔
اس بات سے یاد آیا کہ موجودہ حکومتِ پنجاب کے یہ اقدامات بہت قابل ستائش ہیں کہ موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں کے لیے علیحدہ شاہراہ کا حصہ مختص کیا جا رہا ہے، پھل فروشوں کے لیے مخصوص اور خوبصورت ریڑھیوں کا بندوبست اور متعین جگہ، ناجائز تجاوزات ہٹانے کا عمل گو کہ اس سے بہت سوں کو شدید تکلیف ہو رہی ہے اور حکومت کو اس بات کا ادراک بھی ہو گا کہ ہمارے ووٹ کم ہونے کا خدشہ ہے اس کے باوجود وہ یہ قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہے اور کام کر رہے ہیں اور یہ وہ کام ہیں جس سے قوموں کے رویے تعمیر ہوتے ہیں انہیں باہر نکلنے اور چلنے پھرنے کی تمیز آ جاتی ہے شہریوں کو مہذب شہری بنانے کے عمدہ کام سر انجام دیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام کام ہماری بھلائی کے لیے ہیں مگر ایک ہم ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے، عمل نہیں کرتے۔
جیسے آپ کو جابجا ہسپتالوں اور کالجوں سکولوں کے سامنے اوور ہیڈ برج نظر آئیں گے ابھی اس دور میں بھی ان پلوں کی تزئین و آرائش کا دیدہ زیب کام ہوا ہے مگر ہم نے سڑک کراس کرنے کے لیے ان کا استعمال گناہ سمجھ رکھا ہے کیونکہ ان پر صرف نشہ کرنے اور کروانے والے بھائیوں کا حق سمجھ کر چھوڑ دیا ہے یا پھر سائیں لوگ اس پر اپنا کاروبار چلاتے نظر آتے ہیں کہیں کہیں پیدل چلنے والوں کے لیے انڈر پاس بھی موجود ہیں مگر خال خال لوگوں کو ان کا علم ہے اور جن کو علم ہے وہ بھی ان کا استعمال گناہ سمجھتے ہیں۔
یہ ہیں ہمارے وہ رویے جو باہر نکلنے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ویسے تو کوئی بھی عوامی فلاح کا کام سر انجام دینا ہو تو اس کے لیے حکومتیں اس متعلقہ مفادِعامہ کے عمل اور چیز کے حوالے سے پہلے تربیت کا بندو بست کرتے ہیں تاکہ اس قیمتی عمارت، چیز، مشین کو نقصان نا پہنچے، خیر حکومتیں بھی ہمیں میں سے اور ہم ہی تشکیل دیتے ہیں ادارے بھی ہمارے ہی بھائی بند چلا رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کا رویہ ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ موجودہ حالات تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں مطلب ہمارے رویے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔


