ایسا تعلق جو محبت نہیں تھا
دفتر کی سفید ٹیوب لائٹس، کمپیوٹر کی سکرینوں پر چلتے گراف، اور کافی کے ہلکے دھوئیں میں نایاب اور حسن کی دوستی ہر دن تھوڑا سا اور گہرا رنگ اختیار کرتی جا رہی تھی۔ وہ دونوں کولیگ تھے، مگر ان کے درمیان ایک ایسا بہاؤ تھا جو عام دفتری تعلقات سے مختلف تھا۔ جیسے دو ساز مل کر ایک خوبصورت دھن بناتے ہیں، مگر وہ دھن کبھی کسی گیت میں نہیں ڈھلتی۔
نایاب شادی شدہ تھی، دو بچوں کی ماں۔ حسن بھی ایک خاندان کا سربراہ تھا۔ ان کے درمیان کوئی ایسی کشش نہیں تھی جو انہیں کسی غلط سمت میں لے جائے، نہ ہی وہ ایک دوسرے کو کسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ یہ محض ایک ایسی دوستی تھی جہاں دو ذہن ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھتے تھے، جہاں گفتگو کسی حد سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔
دن کا آغاز عام طور پر ایک ہی روٹین سے ہوتا۔ حسن کی گاڑی آتی، نایاب دروازہ کھولتی اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاتی۔ پہلے پہل اس نے اگلی سیٹ پر بیٹھنے میں جھجک محسوس کی تھی، مگر بعد میں وہ اس ماحول کی عادی ہو گئی۔ سفر کے دوران ہلکی موسیقی چلتی، کبھی کسی پرانے گانے کی دھن دونوں کے درمیان ایک خاموش تعلق پیدا کر دیتی۔ بارش کے دنوں میں نایاب کھڑکی سے باہر دیکھتی اور کسی پرانے گانے کے بول دھیرے سے دہرا دیتی، جس پر حسن مسکرا دیتا۔
دفتر میں کام کا دباؤ رہتا، مگر حسن اور نایاب کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ ایک طرح کی پناہ گاہ تھا۔ لنچ بریک میں اکثر دونوں ایک ہی ٹیبل پر بیٹھتے۔ کبھی ملکی حالات پر بات ہوتی، کبھی حسن اپنی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں بتاتا، کبھی نایاب اپنے بچوں کی شرارتوں کے قصے سناتی۔ دفتر کے ساتھی ان کی دوستی کو ایک معمہ سمجھتے تھے۔ شیریں، جو نایاب کی قریبی دوست تھی، اکثر چھیڑتے ہوئے کہتی، ”تم دونوں کسی پرانی فلم کے کردار لگتے ہو، جہاں محبت نہیں مگر ایک عجیب سا تعلق ضرور ہوتا ہے۔“ نایاب صرف مسکرا دیتی، کیونکہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ دوستی کیا تھی، بس اتنا معلوم تھا کہ اس کا دل خوش رہنے لگا تھا۔
کبھی کبھی کام کے بعد بھی دونوں اکٹھے وقت گزارتے۔ ایک دن جب دفتری کام کے سلسلے میں انہیں ایک اور شہر جانا پڑا، تو واپسی پر کافی شاپ جانے کا اتفاق ہوا۔ کافی کی خوشبو اور ہلکی موسیقی کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ ”کبھی تمہیں لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ چیزیں نامکمل رہنی چاہئیں؟“ نایاب نے کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔ حسن نے سوچتے ہوئے کہا، ”ہاں، شاید اس لیے کہ اگر سب کچھ مکمل ہو جائے تو کہانی ختم ہو جائے گی۔“ کافی شاپ میں بیٹھے وہ دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے۔ کبھی نایاب بچوں کی پڑھائی کے بارے میں بات کرتی، کبھی حسن اپنے والد کی صحت کی فکر کا اظہار کرتا۔ ان کی گفتگو میں ایک سکون تھا، ایک ایسا احساس جو لفظوں سے زیادہ خاموشی میں بولتا تھا۔
نایاب کی ازدواجی زندگی بظاہر مکمل تھی۔ ایک کامیاب شوہر، خوبصورت گھر، اور پیارے بچے، مگر پھر بھی وہ ایک عجیب سا ادھورا پن محسوس کرتی تھی۔ حسن کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات نے اسے احساس دلایا کہ وہ اب بھی وہی پرانی نایاب ہے جو کسی سے بے تکلف ہو کر بات کر سکتی ہے، جو قہقہے لگا سکتی ہے، جو دنیا کے مسائل پر اپنی رائے دے سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ حسن کی گفتگو کے بعد جب وہ گھر جاتی، تو شوہر کے ساتھ اس کا رویہ بدل جاتا۔ وہ زیادہ محبت سے پیش آتی، زیادہ توجہ دیتی، جیسے حسن کے ساتھ بات چیت نے اس کے اندر کی چمک کو تازہ کر دیا ہو۔
شیریں کو یہ سب محسوس ہو رہا تھا۔ ایک دن اس نے نایاب سے کہا، ”تم جانتی ہو کہ تمہارے اور حسن کے درمیان کچھ بھی غلط نہیں ہے، مگر تمہاری زندگی پر اس کا اثر ضرور ہو رہا ہے۔ کبھی سوچا کہ اگر وہ نہ رہا تو؟“ نایاب نے چونک کر دیکھا۔ وہ کبھی اس زاویے سے نہیں سوچتی تھی۔
پھر وہ دن آیا جب حسن نے دفتر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ نایاب کے لیے یہ خبر کسی دھچکے سے کم نہ تھی۔ ”تم واقعی جا رہے ہو؟“ نایاب نے بے ساختہ پوچھا۔ حسن نے مسکرا کر جواب دیا، ”زندگی میں کچھ فاصلے ضروری ہوتے ہیں، ورنہ راستے ختم ہو جاتے ہیں۔“ نایاب خاموش ہو گئی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتی۔ حسن اس کی زندگی کا وہ رنگ تھا جو کسی اور روشنی کی عکاسی سے نکھرتا تھا، مگر خود کبھی مکمل وجود نہیں بن سکتا تھا۔ اس دن دفتر سے واپسی پر گاڑی میں ایک عجیب خاموشی تھی۔ پہلے جہاں گانوں کی مدھم دھن بجتی تھی، وہاں اب صرف خاموشی تھی۔ نایاب نے ایک بار حسن کو دیکھا، مگر کچھ کہہ نہ سکی۔ حسن نے بھی گاڑی روکی اور دھیرے سے کہا، ”یہ سفر یہیں تک تھا، نایاب۔“ نایاب نے گردن ہلائی اور گاڑی سے اتر گئی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ دوبارہ حسن کے ساتھ اس طرح کبھی نہیں بیٹھے گی۔ حسن کے جانے کے بعد وقت لگا، مگر اس نے سمجھ لیا کہ حسن کی دوستی نے اس کے اندر جو تبدیلی لائی تھی، وہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود اس کے اپنے لیے تھی۔
کچھ مہینوں بعد جب شیریں نے اس سے پوچھا، ”تمہیں حسن کی یاد آتی ہے؟“ نایاب نے مسکرا کر کہا، ”ہاں، مگر اب وہ یاد ایک روشنی کی طرح ہے، جو میری زندگی کو روشن کر گئی ہے۔“
زندگی میں کچھ لوگ محض ایک آئینہ ہوتے ہیں، جو ہمیں ہمارے اندر کی روشنی دکھاتے ہیں۔ حسن بھی نایاب کے لیے ایسا ہی ایک آئینہ تھا، جو اس کے جانے کے بعد بھی اس کی زندگی میں روشنی چھوڑ گیا تھا۔


