سرراہ احتجاج اور پس پردہ مذاکرات


آج کل سوشل میڈیا پر یہ شعر زبان زدعام ہے
قمیض وچ موریاں
تے ارباں دیاں چوریاں
جلسے وچ بد معاشیاں
تے خط وچ معافیاں

یہ شعر پڑھ کر مجھے اک لطیفہ یاد آ گیا۔ سیاست دانوں کا ایک گروہ کسی دور دراز علاقے میں بس میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک بس کی بریک فیل ہو گئی اور وہ بے قابو ہو کر کھائی میں گر گئی۔

اہل علاقہ حادثے کی جگہ پہنچے اور تباہ شدہ بس میں سے لوگوں کو نکال کر پاس کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ پولیس اس وقت پہنچی جب سیاست دانوں کی تدفین مکمل ہو چکی تھی۔

تھانیدار نے تفتیش کی غرض سے نمبردار سے پوچھا، ’کیا حادثے میں تمام سیاست دان مر گئے؟‘

بوڑھے نمبردار نے کچھ دیر سوچا اور پھر جواب دیا، ’ہاں ٹھیک ہے کہ ان میں سے کچھ نے کہا تھا کہ وہ ابھی مرے نہیں لیکن آپ تو جانتے ہیں ناں کہ ان سیاست دانوں کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا!‘

اس اعتبار پر ایک اور لطیفہ یاد آ گیا۔

ملاجی کے ایک پڑوسی نے تھوڑی دیر کے لیے ان کا گدھا مانگا۔ ملاجی اپنا گدھا دینا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے بہانہ کیا، ”گدھا یہاں نہیں ہے۔“ اسی وقت مکان کے پیچھے سے گدھے کے رینگنے کی آواز سنائی دی۔ پڑوسی نے شکایت کی، ”ملاجی، آپ نے تو کہا تھا کہ گدھا نہیں ہے اور یہاں تو گدھے کی آواز آ رہی ہے۔“ ملاجی نے جواب دیا، ”خدا تمہارے ایمان کی کمزوری کو معاف کرے۔ ایک جانور پر اعتبار کرتے ہوئے اور مجھ جیسے سفید داڑھی والے بوڑھے آدمی پر اعتبار نہیں کرتے!“

کچھ ایسا ہی اعتبار عمران خان اپنے ورکرز پر کیے بیٹھے ہیں کہ وہ احتجاج کر کے انہیں جیل سے باہر نکالیں گے اور ورکرز کی ساری امیدیں مذاکراتی کمیٹی سے وابستہ ہیں کہ وہ مذاکرات کے ذریعے عمران کو باہر نکالیں گے

مگر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی بالخصوص سفید بالوں والے عمران کی کسی بات پر اعتبار نہیں کر رہی۔

اس کی صرف اور صرف اک ہی وجہ ہے کہ عمران کے بدلتے بیانات، شدت پسندی، جلاؤ، گھیراؤ، مارو، مر جاؤ کی سیاست اور بلاجواز اداروں کے خلاف محاذ آرائی۔

اگر ہم گزشتہ اک سال کا جائزہ لیں تو احتجاج، مذاکرات اور جیل سے لکھے گئے خطوط کے باوجود تحریک انصاف وہیں کھڑی ہے جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا۔

بلاشبہ احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے لیکن اگر آپ اس احتجاج کی آڑ میں سانحہ 9 مئی کریں گے اور غیر ملکی فنڈنگ کیس، یا کرپشن کے ثابت شدہ مقدمات میں سزا یافتہ عمران خان آئینی و قانونی طور پر اپنی صفائی اور بے گناہی ثابت کرنے کے بجائے ہمیشہ انتشار، جلاؤ گھیراؤ، اداروں سے ٹکراؤ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی ’خودمختاری اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کا بیانیہ بنائے گا تو کون ان کی بات پر اعتبار کرے گا پھر اوپر سے سونے پر سہاگہ تحریک انصاف کی طرف سے غلط خبریں پھیلانے والے کئی سیل چلائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے تحریک انصاف کے بانی نے ہمیشہ معاشرے میں نفرت کے بیج بوئے اور ملک کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ بشریٰ بی بی اپنے درپردہ مقاصد کے لئے بے بنیاد بیانیہ بناتی رہی۔

جس کی وجہ سے اک طرف حکومت اور تحریک انصاف تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان اعتماد کی کمی اور تحفظات پیدا ہو رہے ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ محض احتجاج یا بائیکاٹ سے پاکستانی سیاست میں بڑی تبدیلی لانا مشکل رہا ہے۔

اس لیے آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ کسی بھی اگلے لائحہ عمل یا بیانیہ سے پہلے تحریک انصاف کو اپنے اندر بالخصوص اپنی طرز سیاست کے اندر تبدیلی لانا ہو گی اور ان درج ذیل سوالات کے جواب تلاش کرنا ہوں گے ۔

ایسا کیا ہوا کہ سانحہ 9 مئی جیسے واقعات اور ملک دشمن بیانیہ آپ کو بنانا پڑا؟
اب تک احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور ملک دشمن بیانیہ سے کیا حاصل ہوا؟
آئندہ ایسا نہ کرنے کی ضمانت کون دے گا؟
خط کیوں لکھا؟
خط لکھنے کا مقصود کیا تھا؟
پس پردہ ہوئے معاملات کی سے عام ورکرز کو آگاہ کیوں نہ کیا گیا؟
ورکرز کو اپنی غلیظ سیاست کا ایندھن بنا کر بے یار و مددگار کیوں چھوڑا گیا؟
اگر آئینی ترمیم کے وقت مذاکرات حرام تھے تو اب اچانک حلال کیسے ہو گئے؟
اگر مذاکرات میں بیٹھنا ہی مقصود تھا تو اپوزیشن اتحاد کو رسوا کر کے تنہا کیوں چھوڑ دیا؟

اگر تحریک انصاف اور اس کی قیادت درج بالا سوالات کے جواب دینے سے قاصر رہی تو یقیناً پھر وہ ملک کی بہتری کی سیاست کے بجائے اس لطیفہ کی طرح چارپائی اور بستر فروخت کرنے کا کام کر رہی ہے جو خریدنے والے کو
Complimentary Oil
مفت دینے کی آفر کر رہا ہے۔

ایک مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ملک میں انتخابات ہارنے والی جماعت انتخابی نتائج قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔

مسلح باغی دارالحکومت پر حملہ کر کے خوب توڑ پھوڑ کرتے ہیں لیکن بالآخر ان پر قابو پا لیا جاتا ہے۔ تاہم جاسوس ادارے اطلاع دیتے ہیں کہ باغی اگلے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں حکومتی رہنما باغیوں سے نمٹنے کے لیے جہاندیدہ سیاست دانوں سے مذاکرات کرتے ہیں۔

انتخابات جیتنے والے سیاست دان کہتے ہیں کہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم کا مواخذہ کیا جائے جبکہ ہارنے والی پارٹی اب بھی الیکشن ماننے سے انکاری ہے۔

اس سارے شور شرابے میں ایک نامعلوم شخص کو کسی طرح اندرون خانہ ہونے والے ان مذاکرات تک رسائی مل جاتی ہے اور وہ شخص موقع سے فائدہ اٹھا کر مشورہ دیتا ہے کہ ہزاروں فوجی دارالحکومت کی حفاظت کے لیے کھلے آسمان تلے ٹھنڈی زمین پر سونے پر مجبور ہیں لہٰذا صدر کو چاہیے کہ فوراً مزید نفری طلب کرے اور ملک میں مارشل لا لگا دے۔ ’

یہ مشورہ سن کر سب لوگ ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ صدر اس شخص سے پوچھتا ہے، ’نوجوان، تم کون ہو اور تمہارا پس منظر کیا ہے؟ کیا تم کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے افسر ہو یا اس قسم کے انقلابات سے نمٹنے کا تجربہ رکھنے والے سکیورٹی ماہر وغیرہ؟‘

’نہیں جناب۔‘ آدمی جواب دیتا ہے، ’میں تو گلی محلوں میں منجی بسترے بیچتا ہوں۔ ‘

Facebook Comments HS