اسکہشہر میں جامعہ عنادولہ قسط نمبر 2
استنبول سے اسکہشہر لمبی بس کے لمبے سفر نے تھکا دیا۔
کسی ملک میں شہر کوئی بھی ہو عوام الناس کو سمجھنا ہو تو گلیوں، بازار، بس اسٹاپ، ریل گاڑی کے پلیٹ فارم پہ کھڑے ہو جائیے۔ آس پاس کے مناظر مقامی سماج اور اس کی حرکیات کا پتہ بتا دیں گے۔
ہمارے ”پاسبان رہروان ترکی“ ، برادرم زاہد مجید صاحب کی تمام تر سعئی مسلسل اور محبت مسافران کے باوجود اسکشہر کے لئے تیزرفتار ٹرین کی مطلوبہ ٹکٹیں نہ مل سکیں لہذا استنبول سے کُوچ بذریعہ ”کامل کوچ“ ٹھہرا۔ اوقات سفر پانچ گھنٹے بتائے گئے جو سات گھنٹوں پہ منتج ہوئے۔ جو انگریزی suffering کے مترادف تھا۔ وائی فائی اور کسی بھی قسم کی اسکرین کی غیر موجودگی کی بدولت اصحاب سخت کوش کے پاس نیند پوری کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ سو تھوڑا بہت کسمسانے اور ”مانیٹر“ کی گراں قدر خدمات پر پرمغز ”زیرلب تبصرہ“ کے بعد ”علانیہ خواب خرگوشاں“ کے مزے لوٹے گئے
اسکہشہر استنبول سے 191 کلومیٹر شمال مغرب میں پہاڑیوں سے نکلتے گرم چشموں کا شہر ہے۔ صوبے کا نام بھی یہی ہے۔ برصہ کا قصبہ تقریباً منزل کے اوائل میں ہی پڑتا ہے جہاں فیری کے ذریعے بھی جایا جا سکتا ہے۔ شہر دریائے پورسک کے کنارے واقع ہے اور یہاں کی دو اہم جامعات، عثمان غازی یونیورسٹی اور عنادولہ یونیورسٹی طلباء کی انرولمنٹ کے لحاظ سے ترکی کی بڑی درس گاہوں میں شمار ہوتی ہیں۔
ھم اپنی ہم عصر فاصلاتی نظام پہ مبنی جامعہ عنادولہ کے مہمان تھے۔
کامل کوچ کا ڈرائیور بھی گھر گھر تعلیم پھیلانے کے فلسفے کا داعی نکلا۔ تقریباً آدھا فاصلہ طے ہو جانے کے بعد موٹروے پر ہر اگلے پڑاؤ پہ سندیسہ دیتا ہوا نکلا۔ یوں صبح تازہ دم نکلنے والا قافلہ ”آخر شب کا ہمسفر“ ثابت ہوا
سفر کے رستے میں مٹی رنگ پہاڑ اور زمین اور کہیں کہیں بھیڑوں کے قافلے اپنے چرواہے سمیت منظر کا حصہ رہے۔
چھوٹی بڑی ہم شکل مساجد مغربی طرز کی موٹر ویز میں جا بجا ایستادہ تھیں۔ درجہ حرارت تقریباً چار رہا۔ باہر سردی اور ویرانی کا یکجا تصور۔ پہاڑوں کے پس منظر کے ساتھ ساتھ رہا۔ بس جب تک استنبول کے نواح میں رہی۔ سمندر میں چلتی سفید کشتیاں جن میں روشنی کے قمقمے لہروں پر ہلکورے لے رہے تھے دیر تک یادداشت کا حصہ رہے
بس پرانی اور ’ڈاؤن ٹاؤن کلچر‘ کی تصویر تھی۔ مگر نوجوان ہیلپر چلتی ہوئی طویل بس کے اندر اٹھکیلیاں کرتا طیب اردگاں کے young turks کے نئے خواب کا نمائندہ دکھائی دیا!
مکان تقریباً مخروطی، عموماً سفید اور پورپ کی مانند خاموش اور متین لگے۔ موٹرویز لمبی ہموار اور اپنے لینڈ اسکیپ میں متاثرکن تھے۔
راستے میں مہیب آہنی پل مخروطی تھے اور اپنے طاقتور مالکوں کی طرح اٹل بھی۔ مغرب کے وقت سورج پہاڑ اور بادلوں کے درمیاں محافظ کی لالٹین کی مانند لگا۔ پیلی روشنی اور جا بجا سفید بادلوں کے بیچ نزدیکی قصبے کی آسمانی بلڈنگوں کے لمبے لمبے سائے بناتا ہوا۔ کمزور مگر مہربان حرارت بادلوں سے چھن کے آتی ہوئی۔ حزن آمیز اور اداس کر دینے والا منظر! رستے میں آتے تمیز دار سرسبز شہر پردیسی دلوں کی کسالت کم کر رہے تھے۔ ( ترکی میں صفائی کے لئے تمیز کا لفظ استعمال ہوتا ہے )
سیٹی بجاتی وھیکل اور آسمان تک پہنچتے مخروطی مینار سب مل کر ایک ایسا تہذیبی آرکسٹرا تخلیق کر رہے تھے۔ جو صدیوں پرانی دھنوں پہ ہلکورے لے رہا ہے۔

