خان پور چاچڑاں شریف ریلوے لائن


خان پور جنکشن سے شروع ہو کر چاچڑاں شریف تک جانے والی اس ریلوے لائن کی کل لمبائی پاکستان ریلویز کے مطابق 33 کلومیٹر تھی جسے جولائی 1911 میں کھولا گیا تھا۔ اس ٹریک پر 1908 میں کام شروع کر دیا گیا تھا۔

اس ریلوے ٹریک کو بچھانے کا مقصد دراصل مرکزی ریلوے لائن کو دریائے سندھ کے اُس پار لے جا کر گوادر سے منسلک کرنا تھا۔ یعنی یہ لائن لاہور و ملتان کو بذریعہ خانپور، چاچڑاں، راجن پور، روجھان اور جیکب آباد، گوادر سے جوڑتی لیکن افسوس کچھ مفاد پرستوں نے یہ ہونے نہ دیا۔

دنیا نیوز کے مقامی صحافی ملک اطہر فاروق اعوان کی ایک رپورٹ کے مطابق ؛

” 1911 میں سابق ریاست بہاولپور اور برٹش حکومت نے گوادر کو ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور کوٹ مٹھن سے ملانے کے لیے چاچڑاں شریف کے راستے ابتدائی طور پر خانپور تا چاچڑاں 42 کلومیٹر کی ریلوے لائن بچھائی۔ 1998 تک اس ٹریک پر پسنجر ٹرین چلتی رہی لیکن 1999 میں میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں اس ٹرین کو بند کر کہ ریلوے ٹریک کو اکھاڑنے کا ٹھیکہ 8 روپے فی کلو کے حساب سے لاہور کی ایک فرم کو دیا گیا“ ۔ ”

اسٹیشن ماسٹر جناب ملک غلام عربی کے بقول یہ ٹریک 1991 میں ہی بند کر دیا گیا تھا۔

خانپور سے چاچڑاں کے درمیان موجود یہ ٹریک چار قصبوں سے گزرتا تھا۔ اگرچہ کچھ عرصہ تک اس ٹریک پہ سمہ سٹہ سے بھی ٹرین چلائی گئی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکی اور بند کر دی گئی۔ خان پور سے ریلوے ٹریک عباسیہ کینال پر سے گزرتا ہوا کوٹلہ پٹھان تک جاتا تھا۔ نہر کے بیچ میں منہدم شدہ پل کا مضبوط ستون اب بھی موجود ہے۔

اسٹیشنوں کا احوال پیشِ خدمت ہے۔

خان پور ؛

اس لائن پر پہلا اور مرکزی اسٹیشن خان پور شہر تھا جو ان دنوں ضلعی صدر مقام ہوا کرتا تھا۔ یہ شہر کپاس اور مرچوں کی بڑی منڈی تھا جبکہ آج یہ شہر پیڑوں، گنے، گڑ، رسیلے آم اور کھجور کی پیداوار کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے دھاتی کٹورے برصغیر بھر میں مشہور تھے اور کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کی ٹرین یاترا کے دوران خان پور پہنچنے پر مقامی تاجروں نے انہیں یہاں کے بنے کٹورے بطور تحفہ پیش کیے تھے۔

کوٹلہ پٹھان ؛

یہ خان پور کے شمال مغرب میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو جنکشن سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر اس لائن کا دوسرا اسٹیشن ہوا کرتا تھا۔ کوٹلہ پٹھان کا اسٹیشن اب نجی تحویل میں ہے اور اِسے مرغی خانے کے طور پہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ کوٹلہ پٹھان کے مرکزی چوک سے ذرا دور ایک کنارے پر واقع ہے جس کے اندر اب بھی ٹرینوں کے نام، اوقات، کرایہ نامہ اور مختلف اسٹیشنوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ماتھے پر لکھا نام اب بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اسٹیشن کی عمارت کے پاس ایک کوارٹر کی پرانی عمارت بھی موجود ہے۔

ججہ عباسیاں ؛

اس ٹریک پر تیسرا اسٹیشن خان پور سے 17 کلومیٹر دور ججہ عباسیاں کا تھا جو 1908 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ ججہ کی ایک وجہ شہرت یہاں موجود کھجوروں کے وہ باغات ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محمد بن قاسم کے لشکر کی طرف سے پھینکی گئی کھجور کی گٹھلیوں سے وجود میں آئے اور پھر پھیلتے چلے گئے۔ چونکہ سندھ سے ملتان کی طرف پیش قدمی کرتے محمد بن قاسم کے لشکر نے اس جگہ قیام کیا تھا تو یہ بات درست خیال کی جا سکتی ہے۔ اس علاقے کی کھجور اب بھی بہت مشہور ہے۔

یہاں نواب آف بہاولپور کا ایک محل بھی موجود تھا۔ وہ جب قریب واقع جھیل ڈھنڈ گاگڑی پر شکار کی غرض سے آتے تو یہاں قیام کیا کرتے تھے۔

اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک، بیربل کا تعلق بھی یہیں سے بتایا جاتا ہے لیکن کسی تاریخی کتاب میں اس کا حوالہ موجود نہیں۔ ججہ کے پرانے اسٹیشن کی عمارت اب بھینسوں کی قیام گاہ کے طور پہ استعمال ہو رہی ہے۔ گول روشن دانوں اور محرابی دروازوں پر مشتمل یہ عمارت پرانے برطانوی طرز تعمیر کی حامل ہے اور کوٹلہ و ظاہر پیر کے ریلوے اسٹیشنوں سے قدرے بڑی ہے۔

ظاہر پیر ؛

طاہر پیر، اس سفر کا چوتھا پڑاؤ تھا۔ یہ خان پور کے شمال میں اب ایک مرکزی شہر بن چکا ہے جو سکھر ملتان موٹروے (ایم 5 ) اور نیشنل ہائی وے 5 کے بیچ آباد ہے۔ اس وجہ سے اس کی جغرافیائی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ ظاہر پیر کا اسٹیشن جو شہر کے بیچ میں واقع ہے، آج کل بند ہے۔ اسے اب کوئی خاندان رہائش کے طور پہ استعمال کر رہا ہے۔ بغور دیکھنے پر عمارت پہ ظاہر پیر کا نام مل جاتا ہے۔ اس کی عمارت سادہ ہے۔

چاچڑاں شریف ؛

سرائیکی وسیب کے مشہور صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید کوریجہ رح کی جائے پیدائش چاچڑاں شریف، اس ٹریک پر آخری اسٹیشن تھا جو جنکشن سے 34 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔

اگر یہ ریلوے ٹریک آگے بڑھایا جاتا تو عوام یہاں سے خواجہ صاحب کے جائے مدفن کوٹ مٹھن اور پھر ڈی جی خان و روجھان تک باآسانی سفر کر سکتی تھی۔

یاد رہے کہ اسی جگہ ماضی میں ”انڈس کوئین“ نامی بحری جہاز بھی چلا کرتا تھا جس پر راقم کا ایک تفصیلی مضمون موجود ہے۔ بھلے وقتوں میں یہ بحری جہاز زائرین کو چاچڑاں سے کوٹ مٹھن تک لے کر جاتا تھا۔

یہ ٹریک جہاں ختم ہوتا تھا پہلے وقتوں میں دریا اُس مقام سے بہت دور تھا لیکن اب کافی قریب آ چکا ہے۔ ٹریک کے اختتام سے اب چاچڑاں کو کوٹ مٹھن سے ملانے والا ”بے نظیر شہید پُل“ شروع ہوتا ہے۔

چاچڑاں شہر کے بالکل شروع میں واقع اس کا قدیم اسٹیشن اب ایک بڑا موٹر گیراج بن چکا ہے جس کی پیشانی پر چاچڑان کا نام اب بھی واضح نظر آتا ہے۔ اس عمارت کی خوبصورت محرابوں اور روشن دان کو اینٹوں سے بند کر دیا گیا ہے۔ کبھی جہاں مسافروں کی چہل پہل اور انجن کی سیٹی گونجتی تھی اب وہاں مکینک کے اوزاروں کی دھم دھم سنائی دیتی ہے۔

یادِ ماضی؛

خان پور ریلوے اسٹیشن کے سب سے پرانے گارڈ اور گارڈ ایسوسی ایشن کے صدر جناب ممتاز علی نے راقم کو بتایا کہ ؛

”میں نے چاچڑاں تک جانے والی ٹرین چلتے دیکھی ہے۔ اُس دور میں کالا انجن (اسٹیم انجن) چلتا تھا جسے چار بوگیاں لگائی جاتی تھیں۔ دن میں دو بار ریل چاچڑاں جایا کرتی تھی۔ ایک صبح آٹھ بجے جبکہ دوسری دوپہر تین بجے۔ اور یہی ریل چاچڑاں سے مسافروں کو لایا کرتی تھی۔

ٹرانسپورٹ تو زیادہ تھا نہیں اس لیے ٹرین میں بہت رش ہوتا تھا۔ خان پور کے بعد چاچڑاں ہی سب سے بڑا اسٹیشن تھا جہاں دریا کے دوسرے کنارے (کوٹ مٹھن) سے مسافر اور سامان انڈس کوئین پہ آتے تھے اور پھر ٹرین میں سوار ہوتے تھے۔ یہاں بھی ایک ٹرن ٹیبل تھا جو اب نہیں ہے۔ اسٹیم کے بعد پھر ڈیزل انجن کا دور آیا تو 48 پاور کا انجن اس ریل کو کھینچتا تھا۔ اچھا دور تھا وہ ریلوے کا۔ ”

یہ تھا اس ٹریک کا احوال جسے ہمارے ایک ”مخلص“ اور کاروباری ذہنیت کے حامل حکمران نے اپنی لالچ کی وجہ سے اکھاڑ کر سکریپ کے بھاؤ بیچ دیا۔

سوچیں اگر یہ ریلوے ٹریک موجود ہوتا تو کسی اچھے وقت میں ضلع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو خان پور کے ذریعے کراچی۔ لاہور۔ پشاور کے مرکزی ریلوے ٹریک سے ملایا جا سکتا تھا۔ کوہِ سلیمان کے دور دراز علاقوں سے مرکزی شہروں کا سفر کم وقت میں ہو جاتا۔ پسنجر نہ سہی مال گاڑیاں اور تیل گاڑیاں چلا کر معیشت کو کچھ سہارا ہی دیا جا سکتا تھا۔ اور پھر کسی وقت یہ لائن گوادر سے بھی باآسانی لنک کی جا سکتی تھی مگر حیف اس کی قسمت۔

افسوس ہوتا ہے کے یہ وہ ملک ہے جہاں کچھ نیا بنانے کی بجائے پرانی چیزوں کو بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اب یہ ٹریک تو بالکل ختم ہو چکا ہے لیکن پرانے نقشوں اور کتابوں میں اب بھی ایک کالی لکیر خانپور سے چاچڑاں تک جاتی دکھائی دیتی ہے۔

 

 

 

Facebook Comments HS