چہ خوب است!


مرزا صاحب خاصے مرنجاں مرنج، خود دار اور کسر نفسی کے خمیر سے بنے ہوئے انسان ہیں۔ آپ کا حلیہ شریف کچھ ایسا ہے کہ انسان اگر ایک بار دیکھ لے تو دوسری بار دیکھنے کی تمنا نہیں ہوتی، اس لئے کہ رنگ سیاہ، سر سے بال گدھے کے سینگ کی طرح غائب، مونچھوں کا آدھا رنگ سفید آدھا براؤن، دایاں کان چونکہ قدرے بڑا تھا لہذا اُس کی لو یوں لٹکتی تھی جیسے ٹوٹا ہوا بازو جھولتا ہے۔ جس زمانے میں اُن سے آشنائی ہوئی اُس وقت اُن کی عمر ستر سے کچھ اوپر تھی مگر آواز بہت جاندار جس کا سبب بعد میں پتہ چلا کہ سبزی منڈی میں کسی آڑھتی کے ہاں ہنکارہ بجا کر آلودہ پانی سے اُگی ہوئی تازہ سبزیوں کی بولی لگاتے تھے اور شام کو بچ جانے والی سبزی ساتھ لاکر اُن خواتین کو نصف قیمت پر فروخت کر دیتے جو عموماً بیوہ ہوتیں یا جن کے گھروں کے مرد بازار سے سبزی لانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

لہذا ایسا کئی بار ہوا کہ بیس روپے کلو والی گوبھی شام کو تیس روپے میں بیچ کر مرزا صاحب اُن خواتین کے سامنے سینہ تان کر یہ کہتے کہ بس میں تو خدمتِ خلق کر رہا ہوں کہ اس سے اللہ راضی ہو جائے یعنی چہ خوب است۔ اس کو سن کر وہ تمام لاچار خواتین جھولی اٹھا اٹھا کر نہ صرف مرزا صاحب کو دعائیں دیتیں بلکہ ساتھ اونچی آواز میں اپنے شوہر حضرات کو بھی کوستیں کہ دنیا میں اگر کوئی مرد سراہے جانے کے قابل ہے تو وہ بس مرزا صاحب ہی ہیں اور مرزا صاحب یہ سن کر دلہن کی طرح شرماتے ہوئے تھوڑا سا مسکراتے اور رقم احتیاط سے جیب میں ڈال کر بس اتنا ہی کہتے چہ خوب است۔

مرزا صاحب کی نیکی، خشیت الہی اور تقویٰ کا معترف ویسے تو ایک زمانہ تھا مگر میرے گھر والوں کے اوپر شاید اثر کچھ زیادہ ہی ہو گیا۔ ایک دن میں مغرب کے بعد قدرے تاخیر سے گھر لوٹا تو حسبِ معمول والد صاحب بنفسِ نفیس میرے استقبال کے لئے دروازے پر موجود تھے۔ میں نے داخل ہوتے ہی تسلیمات کیا تو جواب میں وعلیکم تسلیمات کے بعد جوتوں کی وہ بارش میرے اوپر ہوئی کہ پورا جسم ممنونیت کے بوجھ تلے سُن ہو گیا۔ اُس کے بعد قبلہ والد صاحب اور مکرمہ والدہ صاحبہ نے پند و نصائح کی ٹوکری کھولی جو دو گھنٹے میری احساس کی بنجر زمین پر ہل چلانے کے بعد بند ہوئی اور مجھے بات بات پر جس شخصیت کی پیروی کا کہا گیا وہ موصوف مرزا صاحب کی ہی تھی جو والد کے بقول ان نامساعد حالات اور گوناگوں مشکلات کے باوجود بھی جادہ حق اور صراطِ مستقیم پر گامزن ہیں۔ اس ساری مشق کا خلاصہ یہ نکلا کہ میرے اندر مرزا صاحب کی شخصیت کو جاننے اور اُن کے معمولات کو کھوجنے کا ایک تجسس قائم ہو گیا، جس کے بعد میں اُن کے قدرے قریب ہو کر اُن کی شخصیت کے مطالعے میں مصروف ہو گیا۔

مرزا صاحب کی زندگی کا اہم حصہ سبزی منڈی ہے یعنی سبزی منڈی کو اگر اُن کی زندگی سے نکال دیا جائے تو بقیہ بچپن ہی بچتا ہے جب وہ معصوم عن الخطا اور سود و زیاں کی آلائشوں سے پاک ایک بھولے بھالے سے بچے ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم اُن کی زندگی کا مطالعہ کرنے اور عبرت پکڑنے کی خاطر سبزی منڈی گئے جہاں وہ ایک ریڑھی پر پیاز سجائے کسی سریلے خان کی طرح آوازیں لگا رہے تھے ”جی بھائی جان آ گیا اُچ شریف کا پیاز۔ جو دیں اپنوں کو پیار اور رلائے اغیار۔

گھر کی زینت صحت کا نکھار۔ پیاز پیاز پیاز“ ۔ یہ آواز ایک کورس کی شکل میں گاتے جاتے اور ساتھ ہی گلے سڑے پیاز الگ کر کر کے اُنہیں ایک تھیلی میں ڈالتے جاتے۔ ہم نے قریب پہنچ کر سلام کیا اور خیریت دریافت کرنے کے بعد پیاز کا بھاؤ معلوم کیا تو ارشاد فرمایا ”پچاس روپے کلو“ ، ہم نے اعتراض داغا کہ بقیہ لوگ تو تیس روپے کلو بیچ رہے ہیں تو فرمایا وہ کل کا باسی پیاز ہے۔ اس باریک نکتے کو سُن کر ہم قدرے سکتے میں آئے مگر پھر دل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہوں گے ۔

اس دوران وہ ایک ہاتھ سے پیاز کی چھانٹی تو دوسرے ہاتھ سے تسبیح برابر پڑھتے جا رہے تھے۔ اب دوسرا فرق جو معلوم ہوا وہ خریداروں کا رش تھا۔ آس پاس کی ریڑھیوں پر خریداروں کا جبکہ مرزا صاحب کی ریڑھی پر مکھیوں کا وہ رش تھا کہ کھوے سے کھوا چل رہا تھا۔ اس کا جو راز معلوم کیا تو فرمایا ”اہلِ حق ہر زمانے میں ہمیشہ اکیلے ہی رہے ہیں“ ۔ اس زود ہضم دلیل کے بعد میں اُن پہ ایسا دل ہارا جیسے رومی، شمس پہ ہارا تھا۔

دن بھر سبزی منڈی میں رزقِ حلال کمانے کے بعد جب مرزا صاحب شام کو محلے میں نمودار ہوئے تو ریڑھی پر وہی پیاز سجے ہوئے دیکھے جنہیں وہاں الگ کر کے تھیلی میں ڈال رہے تھے۔ میں فرطِ محبت اور جوشِ عقیدت سے آگے بڑھا اور سلام دعا کرنے کے بعد بھاؤ معلوم کیا تو فرمانے لگے ”نہ پوچھو اس جوہرِ بے مثل کا ریٹ۔ تمہیں چاہیے تو اسی روپے کلو دے دوں گا ورنہ سو روپے سے کم کا نہیں ہے پیاز“ ۔ میں یہ سن کر ایک بار پھر سکتے میں آ گیا کہ دن کو تیس یا پچاس روپے بکنے والا پیاز شام کو سو روپے کا ہندسہ کیسے عبور کر گیا۔

جب قبلہ سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے تم نے خبریں نہیں پڑھیں، کراچی سٹاک ایکسچینج میں کس قدر تیزی آ گئی ہے یعنی چہ خوب است۔ مگر سٹاک ایکسچینج میں تیزی آنے کا پیاز سے کیا تعلق ہے قبلہ؟ تو فرمانے لگے بھئی ہر چیز کا ایک دوسرے سے تعلق ہوتا ہے۔ اب دیکھو نا برف مری میں پڑتی ہے مگر ٹھنڈ اسلام آباد میں زیادہ ہوجاتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اب اسی حساب سے سٹاک ایکسچینج اور پیاز کی قیمت کا بھی تعلق ہے یعنی چہ خوب است۔

پیاز اور سٹاک کا یہ دیرینہ تعلق جو اب تک مجھ سے پوشیدہ تھا، اس کی بابت جان کر میں تو سٹپٹا کر رہ گیا اور زبان یوں گنگ ہو گئی جیسے کسی نے زبان پر مہر لگا دی ہو۔ اس کے بعد مزید اس باب میں سوال پوچھنا حرام سمجھا اور خاموشی سے گھر واپس آ کر اُسی روش کو اپنا لیا جس کو صبح دھتکار کر رد کیا تھا۔ یعنی چہ خوب است۔

Facebook Comments HS