کتاب : دھواں


انسانی ذہن کی اختراعات ہیں ساری۔ دیر سویر بھی اسی ذہن کے کام ہیں۔ سوچتے سوچتے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ جن دنوں ”گر یاد رہے“ پڑھی تھی اس کے بعد جلد ہی ”ڈیوڑھی“ اور ”دھواں“ پڑھی تھیں۔ یہ گلزار صاحب کی شخصیت کا اثر ہے مجھ پر، ان کے ساتھ محبت کی وجہیں تلاش کرتا رہتا ہوں اور میرے پاس ان کے ساتھ کرنے کی باتیں نہیں ہوتیں، سوائے الٹے سیدھے سوالات اور بے سرو پا باتوں کے جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا نہ ہی کوئی ”مدعا“ ۔ خود رو باتیں تو خیر نہیں ہوتیں لیکن کمپوزیشن نہیں بن پاتی کہ میں گلزار صاحب کے ساتھ کیا بات کروں یا کیا سوال کروں۔ یہ ان دنوں کے قصے ہیں جب

گلزار صاحب کا نام تب سنا تھا جب جگجیت سنگھ کے غزل دیکھنے سننے شروع کیے تھے۔ ان کی ایک خوبصورت نظم صبح صبح ایک خواب کی دستک پر ”۔ اوپر سے ان کی اپنی آواز میں ابھی تک کانوں میں رس گھولتی ہے۔ میں ایک عرصہ ان ہے جیسی آواز نکالنے کی ناکام کوششیں کرتا رہا۔ اب بھی کبھی کبھار وہ نظم اٹھا کر پڑھنے لگتا ہوں۔

گلزار صاحب کے ساتھ میرا کیا تعلق ہے، کتنا قریبی اور گہرا تعلق ہے بس ایک تعلق ہے۔ ہے ضرور۔ میں جب گلزار صاحب کے ساتھ اپنی جان پہچان کا سوچنے لگتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تعلقات یوں ہی آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ، تغیرات کے ساتھ گہرے ہوتے جاتے ہیں اور چھدرے بھی۔ گلزار صاحب کے ساتھ میرا تعلق بہت ہی کوئی اپنا سا تعلق ہے۔ قریبی اور مسرور کن جیسے کوئی خاموش معاہدہ۔

میں نے ان کی کتابوں کے ساتھ تعلق کی شروعات سنہ 14 یا 15 میں کی جب میں نے ان کی شاعری کی کتابیں ”رات پشمینے کی“ اور ”چاند پکھراج کا“ خرید کیں۔ میں ان کی شاعری پڑھتا تھا مجھے کئی اشعار بر زبانی یاد ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ان کی دیگر کتابیں میرے پاس جمع ہوتی گئیں۔ میں نے انہیں پڑھنا شروع کیا۔ بارہا پڑھا۔ میں نے گلزار صاحب کے ساتھ موجود اس اپنے پن کو محسوس کیا۔ جو میرا ذہن مجھے احساس دلاتا رہتا ہے۔

یہ تھا ایک مختصر تعارف اس تعلق کا جس میں کچھ کتابیں ہیں، کچھ ای میلز اور ایک آدھ فون کالز۔

آپ نے گلزار صاحب کی کتاب ”دھواں“ پڑھی ہے؟ میں نے اس کو پڑھا ہے۔ ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ۔ اور عادت سے مجبور وقت اور تاریخ درج کر دیا کرتا ہوں ہر بار۔

یہ افسانوں پر مشتمل گلزار صاحب کی ایک کتاب ہے۔ جس کا پیش لفظ ”گوپی چند نارنگ صاحب“ نے لکھا ہے۔ آپ کتنی دیر اس دیباچے میں ہی کھو جائیں گے۔ پڑھتے سمے آپ کو محسوس ہو گا کہ پیش لفظ لکھنے کا حق ادا کیا گیا ہے۔ انہوں نے باریک بینی سے گلزار صاحب کی تحریروں کو تولا ہے، ناپا ہے، اور جانچا پرکھا بھی ہے۔ ان کے فلمی کیریئر پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی ہے۔ اور ادبی پر ایک مفصل نگاہ۔ ذرا یہ اقتباس دیکھ لیں :

” دنیا بہت بدل گئی ہے، دنیا کی سچائیاں بھی بدل گئی ہیں لیکن کچھ نہیں بھی بدلیں، مثلاً لکشمی اور سرسوتی کے معاملات۔

پھر لکھتے ہیں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے : عام قاعدہ یہی ہے کہ ایک کی توجہ ہو جائے تو ہو جائے، دونوں ایک ساتھ مہربان ہوں یہ آسان نہیں۔ البتہ اگر تپسیا میں کھوٹ نہیں، اور ریاضت پکی لگن لگن سچے ہے تو پھر اچنبھا سا اچنبھا ہوتا ہے۔ ایسا ہی اچنبھا گلزار کی ذات ہے۔ ادھر چند برس پہلے جب ”فنون“ لاہور میں ان کی تخلیقات منظر عام پر آنے لگیں، اور ہر چند میں احمد ندیم قاسمی کی نظر کا قائل ہوں اور جانتا ہوں کہ کیسے کیسوں کو انھوں نے کندن بنا دیا، لیکن گلزار چوں کہ شہرت اور گلیمر کی راہ سے چل کر آئے تھے تو ان کی چیزوں کو میں ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا، لیکن جیسے جیسے پڑھتا گیا میری خوشگوار حیرانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور اب ان کہانیوں کو یکجا پڑھا تو مزید اچنبھا ہوا۔ آُ کو اچھنا ہو یا نہ ہو تب بھی آپہ کم ازکم وہ نہیں رہیں گے ئی جو آُ پہلے تھے ”۔

پھر نارنگ صاحب لکھتے ہیں

” گلزارت کے فنکار ہونے میں شبہ نہیں۔ لیکن فن اور فن میں فرق ہوتا ہے اور ہر فن کے تقاضے الگ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایک زمرے کا فنکار دوسرے زمرے میں بھی اتنا ہی کامیاب ہو۔ فلم کی شہرت اپنی جگہ، گلزار کہانی کے فن میں ایسے کھرے نکلیں گے اس کا سان گمان بھی نہیں تھا ادب کے بہت سے معاملات عشق کی طرح ہوتے ہیں۔ ان میں منصوبہ بندی یا فارمولا سازی نہیں چلتی۔ بلکہ بہت کچھ غیر ارادی بلکہ اضطراری طور پر ہوتا ہے۔ اور اس میں شعوری سعی کا اتنا دخل نہیں ہوتا جتنا باطنی تحرک کو۔ بعض لوگ دیر سے لکھنا شروع کرتے ہیں۔ اس کا کوئی باوعدہ کلیہ نہیں۔ پھر بھی فن کی دیوی کو راضی کرنے کے لیے ریاضت شرط ہے۔ میرا خیال ہے گلزار شروع ہی سے کہانیاں لکھتے رہے ہوں گے۔ اپنی باطنی ضرورت کے تحت اور اس سے تسکین پاتے رہے ہوں گے

ایک خوب صورت بات یوں لکھی ہے گوپی چند نارنگ صاحب نے کہ :

” جب لکھنا داخلی وجدانی تسکین کا تسکین کا ذریعہ بن جائے کسی خارجی حصول یا یافت کا نہیں تو اس سونے پر سہاگی، تب تخلیقی کاوش ادب کا درجہ پانے لگتی ہے۔

گوپی چن نارنگ جیسے معتبر نقاد اور وسیع المطالعہ شخصیت، جب کا لکھا ایک سند اور جن کی تعریف ایک سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتی ہو، وہ ایسی ہی شخصیت تھے۔

اس کتا میں گلزار صاحب ایک جگہ بات کا اختتام اس طرح کرتے ہیں کہ

” کچھ افسانے یوں ہوئے کہ پھوڑوں کی طرح نکلے۔ وہ حالات، ماحول اور سوسائٹی کے دیے ہوئے تھے۔ کبھی نظم کہہ کے خون تھوک لیا، اور کبھی افسانہ لکھ کر زخم پر پٹی باندھ لی!

مگر ایک بات ہے، نظم ہو یا اسفسانہ، ان سے علاج نہیں ہوتا۔ وہ آۃ بھی ہیں، چیخ بھی، دہائی بھی مگر انسانی دردوں کا علاج نہیں ہیں۔ وہ صرف انسانی دردوں کو ممیا کے رکھ دیتے ہیں، تاکہ آں ے والی صدیوں کے لیے سند رہے!

بملدا۔ ایک بائیوگرافیکل افسانہ ہے۔ بملدا سے ہی گلزار صاحب نے اپنے اس سفر کا شاید درست معنوں میں آغاز کیا تھا۔ پھر تو وہ رکے ہی نہیں۔ ان کا ایک خوبصورت اسکیچ بنایا ہے۔ جوگ اشنان سے بات شروع ہوتی ہے۔ اور جوگ اشنان کے دن ہی بملدا کی موت۔ ایک سرسراہٹ دوڑاتی ہوئی تحریر۔ جسے پڑھتے ہوئے بارہا میں نے سرسراہٹ محسوس کی۔ ایک فلم کا اسکرپٹ رائٹر، اس کے کردار اور کہانی میں اس طرح کھو جاتا ہے کہ۔

پھر چارولتا کا بائیوگرافیکل افسانہ۔ ایک خوبصورت خاکہ نما کہانی۔ جس میں اندرونی توڑ پھوڑ ہے۔ نفسیاتی توڑ پھوڑ انسان کے اندر موجود خلاء وقت اور شہرت کے زمانوں کی صدائیں۔ بلکہ ان کے دھواں ہوتے محلات۔ جن کا اب کوئی وجود نہیں۔

سرابوں میں کھوئی ہوئی ایک روح جسے احساس ہوتا ہے لیکن وہ وقت کی سچائیوں سے کنارہ کر کے سرابوں میں رہ رہی ہوتی ہے۔ یوں ہی تو نہیں کہا کہ وقت کے حسیں ستم۔ اور مائیکل اینجلو۔ کا افسانہ ( یہ افسانہ میں نے سارا ہائی لائیٹ کیا۔ کون سی لائن چھوڑتا۔ ؟

یہ اکتاہٹ بھری آواز

” روم میں چہرے نہیں ملتے۔ چہروں پہ کردار نہیں ملتے۔ سب ایک ہی سے لگتے ہیں۔ اس نے پوپ جولیئس سے کہا تھا۔

یہ تکنیک نرالی ہے۔ یہ مکالمے بہ تہی خوب ہیں اور عمدہ اور موہنے والے مسحور کرنے والے۔ یہ مکالمہ ملاحظہ کیجیے

” کیا کر رہے ہو اینجلو؟
” اوں“ : اس نے چونک کر دیکھا تھا پوپ کی طرف۔ ”آیتوں کی پٹیاں کھول رہا ہوں“ ۔

جبرئیل کی صورت کے کئی خاکے اس نے کاغذوں پر بنائے تھے۔ جولیئس نے پوچھا تھا: جبرئیل کا خاکہ کیسے بنایا تم نے؟ وہ تو اس خاکی دنیا سے نہیں ہے۔

” اس کی آواز سنی تھی۔ پرانے عہد نامے میں!“
” تو پھر خدا کی آواز بھی سنی ہوگی تم نے!“ جولیئس نے مذاق کیا تھا۔
” اس کی خاموشی سنی تھی!“ ۔

گلزار صاحب کی تحریریں، کہانیاں اور افسانے یا خاکے بولتے ہیں آپ کے ساتھ۔ ان میں کوما، تعجب کی نشانی اور انورٹڈ کوما بھی بولتی نظر آئیں گی آپ کو۔ یہ افسانہ مجھے اتنا پسند رہا کہ میں نے بار بار پڑھا ہے۔ کوئی دس پندرہ بار اور ہر بار الگ لطف آیا

جب اینجلو لکھتا ہے کہ
” باپ اگر تو نہ ہوتا تو ماں مریم ہوتی“ ۔
یہ کتنا بڑا پروٹیسٹ ہے۔ اس میں چھپی گہرائی جانچیں ماں کی عظمت اور رتبہ جانچیں /۔
جب ماں اینجلو کو کہتی ہے ”ایسا ہی ایک بت بنا دے نا باپ کا۔ بہت معصوم لگتا ہے!“
اور وہ ہمیشہ کہہ کے ٹالتا رہا
” کوئی سنگ مر مر ہی نہیں ملتا جس کا کردار میرے باپ سے میل کھاتا ہو“ ۔
اور یہ خوبصورت جملہ دیکھیے
” رنگ دوسروں سے مل کر اپنا رنگ چھوڑ دیتے ہیں۔ بدل جاتے ہیں۔ سنگ مر مر ایسا نہیں کرتا۔
اور کہانی کا اختتام۔
” میں وہی یسوع ہوں جسے تم یہودہ نقش کر رہے ہو!“ ۔
ایک افسانہ ہے ”کس کی کہانی۔ اس میں کئی خوبصورت باتیں اور ایک ماحؤل نظر آتا ہے۔ لیکن اس کا اختتام

” کس کی کہانی کی بات کر رہے ہو بھائی صاحب؟ جن کی کہانی لکھتے ہو وہ تو وہیں کے وہیں پڑے ہیں میں اپنے باپ کی جگہ بیٹھا ہوں اور آُ اپنے بھائی صاحب ی“ بیٹھک ”چلا رہے ہیں۔ ترقی کون سی کہانی نے کرلی؟“

پھر ایک افسانہ ہے ”ادھا“ ۔

سب اسے ادھا کہہ کے بلاتے تھے۔ پورا کیا! پونا کیا! بس ادھا۔ قد کا بونا جو تھا۔ پتہ نہیں کس نے نام رکھا تھا۔ ماں باپ ہوتے تو ان سے پوچھتا۔

یہ معاشرے کی تلخ حقیقت اور کرداروں پر مبنی ایک تحریر ہے۔ اور اختتام دیکھیے اس کہانی کا
پروفیسر کی آواز ابھی تک گونج رہی تھی
” تم سب ادھورے ہو۔ آدھے ہو، ۔ اور جسے تم ادھا کیے ہو دیکھو، وہ کتنا پورا ہے۔ مکمل ہے!
ایک اور کہانی گلزار صاحب نے لکھی ہے!
” مرد“

” عورت کچھ بھی کرے ہر بار کسی نہ کسی مرد کو صفائی دینی پڑ جاتی ہے۔ کبھی باپ کو، کبھی خاوند کو، کبھی بیٹے کو“ ۔ بخشی نے تو کوئی صفائی نہیں دی تھی جب وہ کانتا سے ملنے جاتا تھا۔ بلکہ وہ کبھی پوچھ لیتی تو برتن ٹوٹنے لگتے۔

یہ کہانی بھی ایک قسم کا احتجاج ہے۔ معاشرے میں عورت کے وجود کے ساتھ لگی بندھی بیشمار کمزوریوں اور دشواریوں کو نروار کرتا ہوا۔ ایک تلخ اظہار۔

اس کہانی میں دیکھیے

” کپو جب آیا تو سارا دن اپنا پیٹ چھپاتی رہی۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے۔ ایک بار بھی دوپٹا الگ نہیں کیا تن سے۔ کپو کو کھلاتی پلاتی بھی رہی اور سوچتی رہی جب رت بستر پر اس کے ساتھ لیٹے گا تو بات شروع کرے گی۔

اچانک کمرے میں سے کسی کانچ کے ٹوٹنے کی آواز ہوئی۔ دوڑی دوڑی اندر گئی تو کپو نے ہاتھ زخمی کر لیا تھا۔ کانچ کا گلدان فرش پر چور چور بکھر گیا تھا۔

کپو!
وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ کپو نے دھکا دے کر پرے کر دیا۔ ”مت آؤ میرے پاس!“
وہ ٹھٹھک کے کھڑی ہو گئی۔
کپو کا گلا رندھا ہوا تھا۔ ”: تمھارے پیٹ میں بچہ ہے!“
رما کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے۔ ماتھے پر تری آ گئی
” کس کا بچہ ہے؟ رمن انکل کا؟ باسٹرڈ!“
کپو کی نہیں، اسے بخشی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لگا اس کا بیٹا نہیں اس کا مرد بول رہا ہے! ۔

ایک اور افسانہ گلزار صاحب کا میں نے کئی بار پڑھا ہر ہر بار رونگٹے کھڑے ہوئے۔ کیا کمال افسانہ تحریر کیا ہے۔ جب ایک کردار کہتا ہے۔ ، ۔ اس کے مکالمے کتنے جاندار ہیں۔

” ہاں! ایک واہمہ ہی تو ہے۔ زندگی اور موت دونوں ہی واہمے ہیں۔ اک ذہنی کیفیت سے نکل کر ہم دوسری ذہنی کیفیت میں داخل ہو جاتے ہیں اور جو حقیقت ہے اسے ہم واہمہ یا سراب یا مایا کہتے ہیں“ ۔

حقیقت کیا ہے؟
” تلاش۔ امید/۔ انتظار!
” تلاش؟ کس چیز کی؟
” وقت کی! جو مستقل ہے! ۔
”وقت؟ وہ تو گزر جاتا ہے!“
” جو گزر جاتا ہے وہ وقت نہیں۔ میں اور آُ ہیں وقت تو رہتا ہے۔ کچھ ٹکا رہتا ہے۔ کچھ بہتا رہتا ہے! ۔
” لیکن جب ایک زندگی کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو؟

” وقت ختم نہیں ہوتا“ ۔ اس نے بات کاٹی۔ زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ وقت تو خرچ ہوتا ہے۔ ہوتا رہتا ہے۔ پھر بھی ختم نہیں ہوتا۔

” دھواں“ میں تحریر شدہ افسانے۔ نایاب ہیں۔ کمال ہیں۔ اور لاجواب بھی ہیں۔ احساسات سے گندھے ہوئے۔ جذبات سے اٹے ہوئے اور حقائق کی مضبوط بنیادوں پر تعمیر شدہ۔ یہ افسانے خوب صورت افسانہ نگاری کی مثال ہیں۔ سنگ مرمر سے تراشے ہوئے مجسمے کہیں یا بقول گلزار صاحب ممیائے ہوئے کردار و کہانیاں کہیں آپ جب اس دنیا میں دساخ ل ہو جائیں گے تو پھر پڑھنے کے بعد آُ ویسے نہیں رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ آپ کی شخصیت میں بہت ساری ہمہ جہت باتیں شامل ہو جائیں گی۔

نئی پرتیں کھلیں گی۔ گلزار صاحب کی آواز سنائی دے گی۔ کھنکتی ہوئی ایک نتھری ہوئی شفاف آواز جس میں زندگی کی رمق ہے۔ جولانیاں ہیں۔ سکون ہے۔ اور احساسات ہیں۔ گلزار صاحب کے بہترین افسانوں کے مجموعے ہیں وہ ہر واقعے اور دیگر معاملات کو وہ کچھ الگ ہی زاویہ نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ جب قاری ان کو پڑھتا ہے تو وہ ان ہی نگاہ سے ان مناظر کو دیکھنے لگتا ہے۔ گلزار صاحب پر کہانی لکھتے وقت جو بیت جاتی ہے وہ قاری پر بھی بیتنے لگتی ہے۔

یہ گلزار صاحب کی تحریروں کا معجزہ ہے۔ کمال ہے۔ کرامت ہے۔ وہ قاری کو اپنے ساتھ گھمانے لے کر نکل پڑتے ہیں پھر خود غائب ہو جاتے ہیں اور قاری گھومتا رہتا ہے۔ اسے تقسیم کے مناظر بھی نظر آتے ہیں تو معاشرے میں موجود دیگر کردار بھی۔ وہ سیاسی ہوں، سماجی ہوں، قلمی ہوں ادبی ہوں، فلمی ہوں یا پھر جھونپڑ پٹی میں رہنے بسنے والے سلم ڈاگز شینڈی۔ ٹائپ کے لوگ۔

Facebook Comments HS