گھریلو ملازمین پر تشدد۔ ریاست بھی قصوروار؟


زمین پھٹی نہ آسمان گرا، ایک اور بیٹی اپنے باپ کی غربت مٹاتے مٹاتے خود مٹ گئی۔ چند دن پہلے راولپنڈی میں ایک گھریلو ملازمہ 12 سالہ اقرا کو مالک میاں بیوی نے اس طرح مارا کہ مار ہی ڈالا۔ وہ ایک ایسے گھر کی خادمہ تھی جس نے اس کی ہر طرح کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا تھا۔ غریب باپ نے 18 مہینے پہلے 8 ہزار تنخواہ پر اسے رکھواتے ہوئے گلے سے لگایا ہو گا اور لازمی یہ تسلی دی ہوگی کہ میں تو خیال نہ رکھ سکا مگر بڑے گھر کے بڑے مالک تیرا ضرور خیال رکھیں گے۔ ہم روکھی سوکھی کھا لیں گے لیکن تو اچھا کھائے گی اچھا پہنے گی۔

منڈی بہاؤ الدین کے ایک چھوٹے سے گاؤں دھریکاں کلاں سے چلنے والی 12 سالہ اقرا نہیں جانتی تھی کہ جہاں وہ کام کے لئے جا رہی ہے وہاں سے کبھی زندہ واپس نہیں آ سکے گی۔ اپنی روتی ماں اور 4 بہن بھائیوں کو چھوڑ کر شہر آنے والی اقرا یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ 8 بچوں والے اس کے مالکان اسے اپنی بچی نہیں بلکہ کام والی سمجھیں گے۔

ساری عمر نئے کپڑوں کو ترسنے والی معصوم اقرا یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک کپڑے کے بڑے بیوپاری کے گھر میں بھی نئے کپڑوں کو ترسے گی۔ چھوٹے گھر سے آئی اقرا نہیں جانتی تھی کہ بڑے گھروں میں بڑے کام ہوتے ہیں، کام مالکن کو پسند نہ آئے تو اس کی سزا بھی بڑی ملتی ہے اتنی بڑی کہ اس پر موت بھی رو پڑے۔

اقرا نہیں جانتی تھی کہ جب اس گھر میں اس کے ساتھ اتنا ظلم ہو گا تو آسمان کا رنگ لال ہو نہ ہو لیکن اس کے جسم پر نیل ضرور ہوں گے ۔ دکھوں کی ماری اقرا نہیں جانتی تھی گھر میں اپنے جیسے بچوں کو چاکلیٹ کھاتے دیکھنا ہی اس کا جرم بن جائے گا اور یہی الزام اس کی جان لے لے گا۔ اقرا نہیں جانتی تھی وہ جس بیلن سے روز گرم گرم روٹیاں بنا کر اپنے مالکوں کو کھلاتی ہے وہی بیلن ایک دن اسے ہی کھا جائے گا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہی بیلن اس کے جسم کی اکثر ہڈیوں گول کر دے گا، چور چور کر دے گا۔ وہ بیلن ہاتھ دیکھے گا نہ پاؤں، سر دیکھے گا نہ چہرے میں فرق کرے گا بس چلتا ہی چلا جائے گا۔

اقرا کو اس بد نصیب لمحے میں ضرور انسانوں کے گھر میں شیطانیت اور حیوانیت نظر آئی ہوگی۔ وہ درد سے روئی ہوگی، چیخی چلائی ہوگی مگر وہ نہیں جانتی تھی بڑے گھروں کی بڑی دیواروں سے اس جیسے غریبوں کی آواز اس وقت تک باہر نہیں نکلتی جب تک ان کی لاش گھر سے باہر نہیں نکلتی۔

اس نے چاکلیٹ چوری کے الزام کو دھونے کے لئے صفائیاں دی ہوں گی ، دہائیاں بھی دی ہوگی۔ اس نے معافی تلافی کے لئے اپنے ٹوٹے ہاتھ بھی جوڑے ہوں گے وہ اس کے سوا کر بھی کیا سکتی تھی؟ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ طاقت اور پیسے کا نشہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔

جس فرش کو وہ روز دھوتی تھی اسی فرش پر بے جان پڑے اس نے لازمی سوچا ہو گا کہ وہ کوئی ردعمل نہیں دے رہی پھر بھی اس کے مالکوں کا غصہ ہے کہ ٹھنڈا ہونے کا نام کیوں نہیں لے رہا؟

کہتے ہیں جنگلوں کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے کوئی دستور ہوتا ہے جب کوئی ماڑا یعنی کمزور جانور کسی طاقتور جانور کے سامنے اپنے کمزور ہونے کا اور اپنی بے چارگی کا ترلا کرتا ہے تو اسے جان کی امان دے دی جاتی ہے۔

لیکن کیا کریں یہ انسانوں کی بستی ہے یہاں کا دستور نرالا ہے کہ اپنے سے کوئی کمزور نظر آ جائے تو اسے مار دیا جاتا ہے۔ ہمارا مذہب کہتا ہے کہ بے زبانوں کے ساتھ ترس کرو تو کیا یہ بات اقرا کے پڑھے لکھے مالک نہیں جانتے تھے کہ بے زبانوں کے ساتھ ترس کیا جاتا ہے یہاں تو پھر ایک زبان بھی تھی مگر ترس نہیں کیا گیا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ 12 سالہ اقرا کو جب اپنی عمر سے بڑے گھاؤ لگے تو وہ سہ نہ سکی۔ یہ بے چاری جب ادھ موئی کر گری تو کسی کو یہ بھی خیال نہ آیا کہ اس کی کوئی مرہم پٹی کرا دیں بلکہ اسے بھوکا پیاسا مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔

شاید گھر کے مالکان ظلم کرتے یہ بھی بھول گئے کہ اقرا کے ماں باپ تو نہیں دیکھ رہے تو کیا اُسے پیدا کرنے والا بھی نہیں دیکھ رہا؟

جب بچی کی حالت زیادہ بگڑی تو مالکان نے کسی کے ہاتھ اسے راولپنڈی کے ایک ہسپتال پہنچا دیا اور ڈاکٹرز کو بتایا گیا کہ بچی کا باپ مر چکا ہے اور ماں عدت میں ہے۔ پولیس آئی، ایف آئی آر کٹی تو بات کھلی کہ یہ بچی لاوارث نہیں بلکہ اس کے والی وارث بھی ہیں۔

محنت مزدوری کرنے والے ثنا اللہ کو جب بیٹی کی تنخواہ کی جگہ اُسکی موت کی اطلاع ملی ہوگی تو اُس نے لازمی اپنی غربت کا ماتم کیا ہو گا اور اس نے سوچا ہو گا کہ جب 12 دن پہلے بیٹی نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ مجھے باجی اور صاحب مارتے ہیں تو اِسے اپنی بچی کو تسلی دینے کی بجائے ایکشن لینا چاہیے تھا اور فوری شہر جا کر اقرا کو واپس گاؤں لے آنا چاہیے تھا مگر غربت نے گاؤں سے شہر کے فاصلے بڑھا دیے۔

اب اقرا کا باپ شہر اقتدار کے اس جڑواں شہر میں مارا مارا پھر رہا ہے جسے طاقتوروں کا شہر کہا جاتا ہے جہاں ہر اوپر والے کے اوپر بھی ایک اوپر والا بیٹھا ہے۔ جہاں بڑی بڑی عدالتیں ہیں تو وہیں ان عدالتوں میں بڑے بڑے منصف بھی بیٹھے ہیں۔ 12 سالہ اقرا نے سوچا ہو گا نہ اس کے باپ نے کہ طاقتوروں اور منصفوں کے شہر میں ان کے ساتھ ایسی نا انصافی ہو گی، ایسا دردناک قتل ہو گا۔

پولیس کو لکھوائی ایف آئی آر میں اقرا کے باپ کو ٹھیک سے یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کی بیٹی 12 سال کی تھی یا 13 سال کی مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ عمر جتنی بھی ہو بڑے شہر میں وہ تھی تو ایک گھریلو ملازمہ۔ پاکستان میں اقرا اس ظلم کا نشانہ بننے والی کوئی پہلی کم سن گھریلو ملازمہ ہے اور نہ ہی آخری۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ خوشحال گھرانوں میں اکثر کم عمر ملازم اور کچرا ایک برابر سمجھے جاتے ہیں۔ شاید تبھی انہیں مار کر پھینک بھی دیا جاتا ہے۔

انہیں کیا پتہ تھا کہ شہر لاہور ہو، اسلام آباد ہویا پھر راولپنڈی ان بڑے شہروں کے صرف رنگ ہی نرالے نہیں ہیں یہاں کے ظلم بھی نرالے ہیں۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ یہاں ہر چوتھے امیر گھر میں کہیں غریب کا بیٹا تو کہیں غریب کی بیٹی روزانہ امیری کے پاؤں تلے روندی جاتی ہے فرق بس یہ ہے زیادہ تر کہانیاں باہر نہیں آ پاتی۔

انہیں کیا پتہ تھا کہ یہاں کبھی ایک منصف کے گھر میں 14 سالہ رضوانہ کے ساتھ 6 ماہ تک اتنا انصاف ہوتا ہے کہ اس انصاف سے بچی کے سر اور زخموں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ یہاں کبھی لاہور کینٹ میں ایک پڑھے لکھے جوڑے کی جہالت اتنی بڑھتی ہے کہ وہ ذرا سی غلطی پر تیرہ سالہ مریم کے بازو تک جلا ڈالتے ہیں۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ 16 سولہ عظمیٰ کو لاہور میں ایک مالک اور مالکن نے قتل کر کے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا تھا۔

انہیں کیا پتہ تھا کہ یہاں کبھی 10 سالہ عمران کا صرف فریج سے بنا اجازت کھانا نکالنے پر ہی اس کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔ انہیں تو شاید یہ بھی نہیں پتا ہو کہ ایک دفعہ ایک معصوم گھریلو ملازمہ کی گود سے مالکن کی بچی کھیلتے کھیلتے کیا زمین پر گری تھی کہ مالکن نے ملازمہ کو خود ہی موت کی سزا دے کر اسے زمین کے نیچے بھیج دیا تھا۔

یہ ساری باتیں یہ سارے واقعات اقرا کو پتہ ہوں نہ ہوں۔ اس کے غریب باپ کو پتا ہوں نہ ہوں مگر یہ سب ریاست تو اچھے سے جانتی ہے کہ بڑے شہروں میں بڑے ظلم ہوتے ہیں۔ مگر نا جانے کیوں وہ ریاست جسے ماں جیسا ہونا تھا وہ ان سارے معاملات سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس ریاست کو کوئی اسے سوتیلا کہتا ہے تو کوئی اسے ڈائن کا نام دیتا ہے مگر اسے پروا ہی کہاں ہے یہ تو اپنے آئین اور قانون کے ساتھ طاقتوروں کے گھر کی لونڈی بنی ہوئی ہے یہی کافی ہے۔

گھریلو ملازمہ اقرا تو مر گئی اور تشدد کے الزام میں دونوں میاں بیوی میں پکڑے گئے تو کیا اب ایسے واقعات رک جائیں گے؟ میرا خیال ہے کہ ایسے وقتی اقدامات سے یہ سلسلہ نہیں رک سکتا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اقرا کی موت کا قصور وار صرف اصغر مال سکیم کا لمبی داڑھی والا تاجر اور اس کی نقاب کرنے والی بیوی ہے یا اس کی ذمہ داری کچھ ریاست پر بھی عائد ہوتی ہے؟ جو ہر کچھ عرصے بعد کسی ظلم کے شور پر اٹھتی ہے اور پھر گہری نیند سو جاتی ہے۔

ایسا نہیں کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر اور ان پر تشدد کے خلاف قوانین نہیں ہیں، قانون موجود ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچے کو کسی فیکٹری میں نہ ہی کسی گھر میں ملازم رکھا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ 3 لاکھ بچے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں یعنی ہر چوتھے خوشحال گھرانے میں کم سن بچے بچیاں کام کر رہے ہیں۔

حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ جس کو بھی کام پر رکھا جائے گا اسے کم ازکم 37 ہزار رو پے تنخواہ دی جائے اور ہفتے میں 6 دن اور ہر دن میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہ لیا جائے مگر کبھی سوچیں کہ جن گھروں میں گھریلو ملازمین کام کر رہے ہیں کیا ان سے 8 گھنٹے کام لیا جا تا ہے؟ کیا انہیں 8 یا دس ہزار سے زیادہ کہیں تنخواہ دی جاتی ہے؟

مگر افسوس یہ ہے کہ اس پر ریاست بولتی ہے نہ اس کو چلانے والے۔ شاید وجہ بس یہ ہے کہ ان کے اپنے گھروں کی کہانی اِس سے مختلف نہیں ہے۔ پیسے جب اپنی جیب سے جاتے ہوں تو حق کے لئے کون بولے گا؟

میرا خیال ہے کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر اور گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات اس وقت تک نہیں رک سکتے جب تک ریاست اور اس کو چلانے والے خوشحال گھرانے اپنے گھر سے شروع نہیں کرتے۔ ظاہر ہے جب تک یہ کام نہیں ہو گا رضوانہ ہو یا اقرا۔ ان کا کیس کبھی بھی ٹیسٹ کیس نہیں بن سکتا اور یہ ظلم ایسے بھی جاری رہے گا۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.