چاکلیٹ چور غلام
آج صبح جب اٹھ کر بارہ سالہ اقراء کے بہیمانہ قتل کی خبر سنی تو دل دہل سا گیا۔ بارہ سال کے بچے کتنے معصوم ہوتے ہیں، کتنی امیدیں، خواب ان کے نازک سے وجود میں دبی ہوتی ہیں۔ ان کی آنکھیں کتنی مقدس اور جذبات کتنے سچے اور صاف۔
میں نے اقراء کو نہیں دیکھا، نہ ہی اس کی ٹوٹی پھوٹی کھوپڑی، نہ اس کا مردہ جسم، نہ اس کے جسم پر زخموں کے نشان دیکھے، نہ ہی اس کی چیخیں سنیں، نہ میں اس وقت اس کی مدد کر سکا جب اس کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ نہ میں نے اس وقت توجہ دی جب اس پر تشدد کر کے اس کے ”آقاؤں“ نے اس کو باندھ کر رکھا اور طبی امداد بھی نہ ملنے دی۔ یہ لکھتے ہوئے پتہ نہیں کیوں مجھے ہنسی آ رہی ہے۔ ظاہری سی بات ہے چاکلیٹ چور کے ساتھ ایسے ہی نمٹنا چاہیے، آٹھ ہزار روپے ماہانہ میں اس کا وجود خرید جو لیا تھا۔
پورے آٹھ ہزار، لگ بھگ ڈھائی سو روپے یومیہ اور جو چاکلیٹ اس نے چوری کی ہوگی اگر پاکستانی ہوئی تو کم از کم پچاس روپے کی ہوگی اور اگر اس کے آقاؤں نے امپورٹڈ لی ہوئی تو ممکن ہے غلام اقراء کی یومیہ اجرت سے زیادہ ہوگی۔ ایسے موقع پر میں شکر کرتا ہوں کہ میں باپ نہیں ہوں ورنہ شاید اقراء کے ساتھ ہونے والے مظالم کا سن کر میرا کلیجہ پھٹ جاتا۔ لیکن، بہرحال، ہم مملکت خداداد کے رہنے والوں کے کلیجے بھی بہت مضبوط ہیں، جو کسی بارہ سالہ غلام چاکلیٹ چور کے لیے کیوں پھٹیں گے؟ خص کم جہاں پاک، ایک نہیں ایک اور سہی، اور نہیں اور سہی، مٹی پاؤ گل مکی۔
غلام بچے بہت سستے ہوتے ہیں، ان کے آنسوں کی قیمت کا اندازہ اب آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ڈھائی سو یومیہ، اور چاکلیٹ چوری کی سزا موت، تو یہ کوئی دہائی سو روپے کا وجود۔ اچھی قیمت ہے، آپ بھی بڑے آرام سے کسی ننھے غلام کو خرید سکتے ہیں۔
آپ کو برا لگا میں نے غلام کا لفظ استعمال کیا ہے؟ اگر یہ غلامی نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا آپ اور میں ایسی لاتعداد بچیوں کے بارے میں نہیں جانتے تو کسی امیر بابو کے یہاں جدید غلامی کی شکل میں موجود ہیں؟ کیا ہمارا منافقانہ سماجی شعور نابینا ہو چکا ہے؟
یہ معاشرہ جو پتہ نہیں کتنی اقراء اور زینب اپنی بیمار اور تعفن زدہ سوچ کی بلی چڑھا چکا ہے کسی بھی معصوم غلام کے طور پر رکھے ہوئے بچے بچیوں کو محفوظ رکھتی ہوگی؟ دنیا بھر میں مہذب معاشرے غلامی کی اشکال کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں، اس کو ختم کرتے ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس کی جدید اشکال کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ ننھی معصوم جانیں غلاموں کے متلاشی دندوں کے سپرد کی جاتی ہیں اور ہر سال کوئی واقعہ منظر عام پر آ جاتا ہے، ہم شور مچاتے ہیں، اگر مجرمان با اختیار ہوں تو کچھ عرصے کی توجہ کے بعد معاملہ رفع دفعہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ تو وہ چند غلاموں پر ہونے والے مظالم کی کہانیاں ہیں جو منظر عام پر آتی ہیں، ورنہ شاید کتنے ایسے ہولناک واقعات ہوں جو کتنی ہی معصوم اقراء کو دبوچ کر ان کے معصوم وجود کو روند چکے ہوں گے۔
پچھلے دنوں کہیں پڑھا تھا کہ ”امیر بنو، کیونکہ دنیا غریب کے لیے بہت ظالم ہے۔“ غریب ہونا بھی کتنا بڑا گناہ ہے، جرم ہے، کرب ہے، غریب عورت ہونا دوگنا گناہ، اور غریب بچہ یا بچی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا وجود کسی وحشی درندے کی وحشت کی تسکین کے لیے ہی بنا ہے۔ ان کے ُموڈ سونگ ’ہوں، جنسی ہوس، یا ایک غلام کے اذیت ناک وجود کی تمنا، غریب ماؤں کے لخت جگروں کا سستا وجود ان کے لیے ہمہ وقت حاضر رہتا ہے۔
چھوڑ دیجیے یہ ڈرامے کے آپ کو دکھ ہوا، تکلیف ہوئی، یہ سی ایم کا نوٹس، یہ چائلڈ پروٹیکشن بیرو، زینب الرٹ، آپ کے میرے اور ہم سب کے ہاتھ اس خاموش جبر اور بہیمانہ استحصال میں لال رنگے ہوئے ہیں اور جب تک ہم اس جدید غلامی کو جڑ سے ختم نہیں کریں گے تب تک یہ گھناؤنا کھیل یوں ہی ایک روایتی سچ کے ساتھ چلتا جائے گا۔
ویسے پتہ نہیں اس خطے کا خدا شاید بہت ظالم ہے جس کو ان کالے پیلے ننھے بچوں کی چیخیں سنائی ہی نہیں دیتی۔ بہرحال ایک سوال ہے کہ شاید یہ اقراء کہیں میرے کسی جاننے والے کے گھر کام نہ کرتی ہو، اگر ایسا ہوا تو کس کو کال کر کے معاملہ ٹھنڈا کرواؤں گا۔ اگر آپ کے کسی جاننے والے کے گھر کی غلام ہوئی تو آپ کس کو کال کریں گے؟
گھریلو ملازمین پر تشدد۔ ریاست بھی قصوروار؟

