کیا خاتون کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی؟
انسان صرف ”جیبی“ غریب نہیں ہوتا بلکہ ذہنی غریب بھی ہوتا ہے، جیبی غریب تو ایک خاص عرصہ تک محنت اور جہدوجہد کر کے اپنی اس معاشی کمزوری پر غلبہ پا ہی لیتا ہے لیکن ذہنی غربت کا علاج تو بے حساب سرمائے سے بھی ممکن نہیں ہوتا اور تعلیم بھی ایسے شخص کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔
اس قسم کا بندہ ساری زندگی عیاشی کرتا ہے اور عمر کے آخری حصے میں پرہیز گار بن کر دوسروں کا جینا حرام کرتا رہتا ہے، یہ احساس جرم کے مارے ہوئے ہوتے ہیں اور اپنے کرتوتوں کو نیک بن کر عبادت کے کارپٹ نیچے چھپانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
جیبی غریب کو تو اپنی کمزوری کا ادراک ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف جو ذہنی غریب ہوتا ہے وہ سرمایہ دار ہونے کے باوجود انا کے ایک ایسے خول میں بند ہوتا ہے جو اسے خود کا اسیر بنا دیتا ہے، اس طرح کا طبقہ اپنی جوانی کے اسٹارڈم کو اپنی شرائط پر جینے کے بعد عمر کے آخری حصے میں ”میاں نصیحت“ کا کردار نبھانے لگتا ہے۔
اس طرح کے لوگ ہر طبقے میں موجود ہوتے ہیں، خاص طور پر شو بزنس اور کرکٹ ٹیم سے وابستہ افراد عمر کے آخری حصے میں منافق سے بن جاتے ہیں اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کے سامنے اپنے احساس جرم کی تشفی کے لیے کچھ اخلاقی کوڈ آف کنڈکٹ کی دیوار کھڑی کرنے لگتے ہیں تاکہ وہ ان راہوں پر چلنے سے گریز کریں جن راہوں پر چل کر وہ خود ارب پتی ہیرو بنے ہوتے ہیں۔
حال ہی میں صائمہ قریشی صاحبہ کا ایک فرمان نظروں سے گزرا جس میں وہ فرما رہی ہیں۔
”خاتون کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی، کوئی مانے یا نہ مانے برکت صرف مرد کی کمائی میں ہی ہوتی ہے“
پہلی بات تو یہ ہے کہ برکت کس چڑیا کا نام ہے اور یہ مرد سے ہی وابستہ کیوں ہے؟
اور یہ اٹل اصول کہاں پر درج ہے کہ خاتون جتنا مرضی کما لے وہ کنگلی ہی رہے گی کبھی امارت کا منہ نہیں دیکھ پائے گی اور اسے امیر و کبیر بننے کے لیے اپنی دولت کو مرد کی دولت میں ضم کرنا پڑے گا؟
ایک اور ڈاکٹر صاحبہ ہیں وہ بھی آج کل خاصی مقبول ہیں اور کچھ اسی قسم گفتگو فرماتی ہیں کہ خواتین کو اپنا گھر بسانے کے لیے مرد کے سامنے روبوٹ بن کر رہنا چاہیے، مرد کا جب کبھی اور جو کوئی بھی موڈ ہو اسے پورا کرنے میں اسے پس و پیش سے ہرگز کام نہیں لینا چاہیے بھلے وہ جتنی مرضی بیمار ہو یا اس کا دل نہ کر رہا ہو۔
اب اس طرح کی گفتگو اگر کوئی مرد کرے تو کچھ سمجھ بھی آتا ہے لیکن خواتین کے منہ سے اس طرح کے جملے خاصے معیوب اور عجیب سے لگتے ہیں۔
سارا چکر ہی ایکسپوژر کا ہوتا ہے جسے یہ نصیب ہو جائے بھلے وہ مرد ہو یا خاتون بلندی پر پہنچ جاتے ہیں، اب برکت یا کامیابی کو کیا خبر کہ اس کا مطلوب مذکر ہے یا مونث، کامیابی تو جہدوجہد کرنے والوں کے ساتھ چپکے سے ہو لیتی ہے۔
صدیاں لگی ہیں خواتین کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے فریم میں ڈھلنے کو، انہیں صنف نازک، کمزور طبع، جذباتی، ہونٹ گلابی یا پنکھڑی گلاب کی سی تشبیہات و استعارات میں الجھا کر اس کے اندر کی چھپی صلاحیتوں کو دبائے رکھنے کا پورا بندوبست کیا گیا اور انہیں اس بات پر قائل کیا گیا کہ وہ فقط چار دیواری کی زینت اور ان کی آن بان مکمل پردے میں ملفوف رہنے میں ہے۔
انہیں مکمل یقین دلایا گیا کہ بے پردہ خواتین کھلی کینڈی کی مانند ہوتی ہیں جن پر مکھیاں حملہ اور ہوتی ہیں، اب اس قسم کے ماحول میں کون باہر نکلنے کی جرات کرے؟
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، جن خواتین نے روایتی شکنجوں سے پیچھا چھڑایا ہے وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں، کئی ملکوں میں خواتین پرائم منسٹر کے عہدے تک بھی پہنچی ہیں۔
تعلیمی میدان ہو یا آئی ٹی سیکٹر، میڈیکل کی فیلڈ ہو یا انجینئرنگ ہر جگہ خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، اب تو مقابلے کے امتحان میں بھی خواتین کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔
یہ وقت کا معجزہ ہی تو ہے کہ وہ عرب ممالک جو خواتین کے متعلق سخت گیر رویہ رکھتے تھے وہ بھی خواتین کو مردوں کے برابر کھڑے کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، وقت کے جبر نے ان پر واضح کر دیا کہ خاتون فقط تفریح کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جسے موقع و چوائس ملے تو مردوں سے کہیں آگے جا سکتی ہیں۔
یہ چوائس اور مواقع اپنی بچیوں کو ہمیں اپنے گھر سے دینے ہوں گے، یقین مانیں بچیاں بچوں سے زیادہ اپنے ماں باپ کا مان رکھتی ہیں اور والدین کا اعتماد ہماری بچیوں کو نجانے کہاں سے کہاں پہنچا سکتا ہے بس انہیں پرواز کے لیے کھلا آسمان دے دیجیے۔
روایات کے نام پر ان کے پر مت کاٹیں بلکہ انہیں اپنی پرواز سے اڑنے دیں، ان کے شعور کے درمیان اپنے ذاتی احکامات کی دیوار مت کھڑی کریں۔


