عمران خان کے خطوط اور آرمی چیف کا اہتمامِ حجاب!


کیا آپ ایسے جواب کے منتظر ہیں جو عموماً ڈاکٹر ”مریض کے تیمارداروں“ کو دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ خط لکھتے جائیں، کبھی تو ایسا ہو گا کہ ”جواب“ آ جائے۔ جواب تو جو بھی ہو بہر حال جواب ہی ہوتا ہے لیکن جواب کی نوعیت یہ طے کرتی ہے کہ معاملہ کہاں جا کے رُکا ہے۔ سابق وزیر عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو پے در پے تین خط لکھے گئے ہیں لیکن تینوں خطوط کے جواب انھیں موصول نہیں ہوئے۔ یہاں مجھے برصغیر کے ممتاز شاعر قمر بدایونی کا شعر یاد پڑتا ہے جو عمران خان کی موجودہ صورت حال کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرتا ہے۔

نامہ بر تُو ہی بتا تُونے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

یا پھر ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا یہ شعر عمران خان ان دنوں گنگنا رہے ہوں گے۔
نامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تُونے کیا کہا
کیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیوں کر ہوا

عمران خان کے خطوط اور ان کے جواب کا انتظار اپنی جگہ، لیکن آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ انھیں ”کوئی خط نہیں ملا“ اور ساتھ ہی یہ واضح بھی کر دیا کہ اگر کوئی خط ملا بھی تو ”نہیں پڑھوں گا“ ، کوئی خط ملا تو وزیراعظم کو بھجوا دوں گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اب تک 3 خط لکھ چکے ہیں۔ پہلا خط 3 فروری 2025 کو لکھا گیا تھا جس میں ان کی جانب سے پالیسیوں میں تبدیلی کی اپیل کی گئی تھی۔ خط میں کہا گیا کہ ساری چیزوں کا نزلہ فوج پر گر رہا ہے، 2024 کے انتخابات، 26 ویں آئینی ترمیم، پیکا ایکٹ فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات بن رہے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو دوسرا خط 8 فروری 2025 کو لکھا گیا جس میں ان کی جانب سے کہا گیا کہ گن پوائنٹ پر 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا۔

خط میں مزید کہا گیا کہ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے اور 20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو تیسرا ط 12 فروری 2025 کو لکھا گیا جس کی تصدیق ان کے وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔ اس خط میں ان کے وکیل کے مطابق مبینہ انتخابی دھاندلی کا معاملہ اٹھایا ہے اور دہشت گردی کی وجوہات پر بات کی گئی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطوط کے بارے میں کہا ہے کہ خط کا مقصد فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا ہے، خط کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ انہیں صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو لکھے گئے خطوط اور اس پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے تبصرے کے تناظر میں ملکی سیاست بالخصوص عمران خان کی پوری سیاست اس وقت بر صغیر کے ممتاز شاعر جوش ملیح آبادی کے اس شعر کے مصداق ہے۔

کرے گی دونوں کا چاک پردہ، رہے گا دونوں کو کر کے رُسوا
یہ شورشِ ذوقِ دید میری، یہ اہتمامِ حجاب تیرا

یا پھر ایسا ہو گا کہ عمران خان کی جانب سے ہر اُس فورم کے ذریعے خطوط لکھے جائیں گے جو ان کا پیغام وہاں تک پہنچائے جہاں تک وہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں مابعد مرگ شہرت پانے والے عظیم شاعر جون ایلیا کا یہ قطعہ ملاحظہ فرمائیں۔

یوں تو اپنے قاصدانِ دل کے پاس
جانے کس کس کے لیے پیغام ہیں
جو لکھے جاتے رہے اوروں کے نام
میرے وہ خط بھی تمھارے نام ہیں

عمران خان اپنے خطوط میں کیا لکھ رہے ہیں اور آرمی چیف کا یہ کہنا کہ مجھے کوئی خط نہیں ملا۔ معاملہ کچھ بھی ہو لیکن اتنا ضرور ہوا ہے کہ اب یہ امر کُھل کر سامنے آ گیا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فی الوقت کچھ ایسا نہیں ہے جو طے ہونے جا رہا ہے۔ عمران خان این آر او لینا چاہتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے کوئی ڈیل کرنا چاہتی ہے، اب یہ معاملہ چہ مگوئیوں اور قیاس آرائیوں کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوا ہے۔ صداقت اور ضمانت سے بات آگے بڑھ چکی ہے، ایسے میں یہ تاثر تقویت پکڑتا ہے کہ باہمی اعتماد اور یقین دہانیوں کا سلسلہ تو ابھی چلا ہی نہیں ہے جو آگے بڑھ سکے۔

Facebook Comments HS