اپنی سوانح عمری ’سالک‘ کے قارئین کے نام
جب سے سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے بڑے اہتمام سے میری سوانح عمری ’سالک‘ شائع کی ہے اور کینیڈا میں اس کی تقریب رونمائی ہوئی ہے مجھے بہت سے دوستوں کے ادبی محبت نامے موصول ہوئے ہیں جن میں جہاں انہوں نے داد و تحسین کے پھول نچھاور کیے ہیں وہیں چند دلچسپ سوالات بھی پوچھے ہیں۔ میں اس کالم میں ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گا۔
دوستوں نے پوچھا ہے کہ میں نے اپنی سوانح عمری میں۔ خضر۔ کا کردار کیوں چنا؟
عرض ہے کہ میں اپنی سوانح عمری کو کسی روایتی انداز میں لکھنے کی بجائے ایک غیر روایتی اور منفرد انداز میں پیش کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے فرسٹ پرسن کی بجائے تھرڈ پرسن کا چناؤ کیا
CHOSE THIRD PERSON RATHER THAN FIRST PERSON
اور اپنے لیے ایک ہمزاد تخلیق کیا۔ اس ہمزاد کے دو نام میرے ذہن میں آئے۔ درویش اور خضر۔
میں نے خضر اس لیے چنا کیونکہ خضر وہ دیومالائی کردار ہے جو بھٹکے ہوئے مسافروں کی مدد کرتا ہے۔ خضر جن لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے وہ اس کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ وہ نہ تو اس کے دوست ہوتے ہیں نہ رشتہ دار۔ خضر کسی کھوئے ہوئے انسان کی زندگی میں آتا ہے مدد کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔
میں نے سوچا کہ میرا تھراپسٹ ہونے کا کردار خضر کے کردار سے مشابہت رکھتا ہے۔ اجنبی لوگ میرے پاس آتے ہیں میں ان کی نفسیاتی مدد کرتا ہوں اور وہ چلے جاتے ہیں میں انہیں پھر کبھی نہیں ملتا۔ میں ان کی زندگی میں خضر راہ کا کردار ادا کرتا ہوں۔
جب ہم مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ان کی دیومالائی کہانیوں میں خضر کا کردار ملتا ہے۔ میں نے سوچا کہ میرے ہمزاد کا نام اگر خضر ہو گا تو وہ میری سوانح عمری کو ایک نئی جہت بھی دے گا اور ایک ادبی اور تخلیقی گہرائی بھی پیدا کرے گا۔ مجھے اساطیری اور دیومالائی کہانیاں ویسے بھی بہت پسند ہیں اور میں نے اپنی سوانح عمری میں ان سے استفادہ بھی کیا ہے۔ میں دیومالائی کہانیوں کو دانائی کا سرچشمہ بھی سمجھتا ہوں۔
بعض دوستوں نے پوچھا ہے کہ میں نے مذہبی استعارہ کیوں استعمال کیا ہے؟
عرض ہے کہ ہم سب لکھاری آزاد ہیں اور ہم کسی بھی مذہبی استعارے کی سیکولر تشریح اور تعبیر بھی کر سکتے ہیں۔ میرا ایک شعر ہے
عجب سکون ہے میں جس فضا میں رہتا ہوں
میں اپنی ذات کے غار حرا میں رہتا ہوں
اس شعر میں میں نے غار حرا کی ایک سیکولر تعبیر پیش کی ہے۔ ہم سب کی شخصیت میں پوشیدہ ایک غار حرا ہے جو ہمارا ضمیر ہے۔ اس غار حرا میں یونانی میوس بھی رہتی ہے جو ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے سرگوشیاں بھی کرتی ہے۔
ایک وہ زمانہ تھا جب لوگ خوابوں کی مذہبی تعبیریں پیش کرتے تھے۔ اور ان کا رشتہ خدا اور فرشتوں سے جوڑتے تھے وہ حضرت ابراہیم کے اس خواب کی مثال پیش کرتے تھے جس میں انہیں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن بیسویں صدی میں سگمنڈ فرائڈ نے خوابوں کی سیکولر اور نفسیاتی تعبیر پیش کی اور خوابوں کو انسانی لاشعور سے جوڑا۔ اب لوگ خوابوں کی مذہبی تشریح کے ساتھ اس کی سیکولر تعبیر بھی پیش کر سکتے ہیں۔ اب ماہرین نفسیات اپنے مریضوں کے خوابوں سے ان کے نفسیاتی مسائل کا سراغ لگاتے ہیں۔
انسانی خوابوں کا تعلق انسانی سائیکی سے ہے۔ سائیکی کی تفہیم میں بھی پچھلی چند صدیوں میں تبدیلی آئی ہے
ایک وہ زمانہ تھا جب سائیکی کا ترجمہ روح کیا جاتا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ روح جسم سے علیحدہ وجود رکھتی ہے اور حمل کے دوران بچے کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے یہودی عیسائی اور مسلمان یہ مانتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح واپس آنے کی بجائے قیامت کا انتظار کرتی ہے جبکہ ہندوستان کے ہندو اور بدھسٹ اواگون پر ایمان رکھنے والے سمجھتے تھے کہ انسانی روح بار بار زمین پر آتی ہے جب تک کہ وہ نروان حاصل نہ کر لے۔ پچھلی چند صدیوں میں سیکولر اور سائنسی سوچ رکھنے والے جسم سے علیحدہ روح پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لیے اب وہ سائیکی کا ترجمہ روح کرنے کی بجائے ذہن کرتے ہیں۔
PSYCHE IS MIND NOT SOUL
اب سائیکولوجی سائیکاٹری اور سائیکو تھراپی جیسے الفاظ میں سائیکی کا لفظ ذہن کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے۔
دوستوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں میری شخصیت میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
تو عرض ہے کہ ایک ایسا بھی زمانہ تھا جب میں مذہب کے خلاف ہوا کرتا تھا اور مذہبی لوگوں سے الجھ پڑتا تھا لیکن دھیرے دھیرے میں مذہب سے اوپر اٹھ گیا ہوں اور اب مذہبی لوگوں سے نہیں الجھتا۔ اب میں ایک انسان دوست بن گیا ہوں۔
جب سے میں نے مذہب سے بالاتر ہو کر سوچنا شروع کیا ہے اور انسان دوستی کے فلسفے کو گلے لگایا ہے اب میرے لیے لوگوں کی شخصیت اور کردار ان کے نظریات اور اعتقادات سے زیادہ اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں۔ اب میری محبت کرنے والے مذہبی لوگوں سے بھی دوستی ہو گئی ہے۔ اس کی دو مثالیں میرے دوست امیر حسین جعفری اور حامد یزدانی ہیں۔ وہ دونوں خدا پرست ہیں اور میں انسان دوست۔ اب میرے لیے ان کی محبت میری دہریت سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ وہ میری عزت کرتے ہیں اور میں ان کا احترام۔
سالک کو اپنی زندگی کے سفر میں بہت سے سچ ملتے ہیں
مذہبی سچ بھی روحانی سچ بھی
سیکولر سچ بھی سائنسی سچ بھی
انفرادی سچ بھی اجتماعی سچ بھی
زندگی کی شام میں وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی آنکھیں
ایک انسان دوست ہونے کے ناتے اب میں اپنے آپ کو تمام مذہبی اور روحانی سیکولر اور سائنسی روایتوں کا وارث سمجھتا ہوں۔
اب میں نظریاتی اختلاف کے باوجود دوستوں کے سچ کا احترام کرتا ہوں۔
انسان دوستی کی روایت یہی ہے کہ ہم سب انسان رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا احترام کریں تا کہ ہم ایک پرسکون زندگی گزار سکیں اور پر امن معاشرے تخلیق کر سکیں۔
انسان دوستی کا فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کرہ ارض پر بسنے والے سب مرد و زن ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
سالک۔ میرے سچ کی تلاش اور انسان دوستی کے فلسفے کا ادبی و تخلیقی اظہار ہے۔
یہ میری خوش بختی کہ میرے مذہبی غیر مذہبی اور لا مذہبی دوست میری سوانح عمری بڑے شوق سے پڑھ رہے ہیں اور مجھ سے سوال پوچھ رہے ہیں۔
چاہے وہ سقراط ہوں یا فرائڈ وہ دونوں دانشور مکالمے کو سچ تک پہنچنے کا ایک اہم راستہ سمجھتے تھے اور میں بھی ایک ہیومنسٹ تھیرپسٹ ہونے کی وجہ سے جینون مکالمے کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں۔
اس کالم کے آخر میں میں ان سب قارئین اور ناقدین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کے بے تکلف اور دلچسپ سوالوں نے مجھے یہ کالم لکھنے کی ترغیب و تحریک دی۔



بہت خوب لکھا ہے ۔ کتاب کی تقریب رونمائی و پزیرائی کے دوران جو سوالات اٹھائے گئے تھے ۔ ان کے جوابات کا خلاصہ پیش کر دیا گیا ۔ اور تفصیلی جوابات ایک بار پھر سے دے دیے گئے ۔ شکریہ