قونیہ شہر حضرت مولانا، شمس تبریزی اور درویش ہندی
اسکیشہر سے صبح گیارہ بجے کی برق رفتار ریل نے بغیر سیٹی بجائے ہمیں آن لیا۔ پلیٹ فارم چھوٹے، ”تمیزدار“ اور تقریباً خاموش تھے، شیخ الجامعہ نے اپنے مختصر قافلے کی باگ ڈور سرخ و سفید آہنی مشین کے آخری ڈبے کے حوالے کی۔ اسکیشہر سے قونیہ تقریباً چار گھنٹے کی تیز رفتار ریل کی مسافت ہے۔ قونیہ جو قدیم آئقونین کے نام سے موسوم ہے مرکزی اناطولیہ میں دارالخلافہ انقرہ کے جنوب میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً تین ہزار فٹ اوپر واقع شہر کی آبادی ڈھائی ملین افراد پہ مشتمل ہے۔ تیسری صدی قبل مسیح میں آباد شدہ شہر اب ایک مضبوط صنعتی شہر کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ صوبے کا دارالخلافہ بھی قونیہ ہی کہلاتا ہے۔
شہر مولانا جلال الدین رومی کے نام سے موسوم ہے جو ”مولانا سلسلہ درویشاں“ کے بانی ہیں۔ ان کی مثنویاں، الہامی شاعری اور رباعیات نہ صرف مسلم لٹریری دنیا کا ستون سمجھی جاتی ہیں بلکہ مغرب کا بیسٹ سیلر ادب بھی انہی سے موسوم ہے۔ ہیومنزم یعنی بشریات اور الہیات کے عالمی محققین اور قارئین رومی کے ابدی کلام کے اسیر ہیں۔ رقص درویش اور تصور سماع سے حقیقت ابدی تک رسائی حضرت مولانا کی تعلیمات کی زندہ روایت کا نام ہے۔ جس کا اذن انہیں اپنے مرشد اولین شمس تبریزی سے ملا۔ جن کا مزار مولانا کے احاطے سے زیادہ دور نہیں۔
ٹرین میں سیٹل ہونے کے تھوڑی دیر بعد مومی لباس میں پانی کے گلاس کے ساتھ بسکٹ سرو ہوئے۔ ساتھ ہی گزشتہ شب تقسیم اسکوائر استنبول پہ واقع حافظ مصطفی کی سو سالہ قدیم بکلاوے اور مٹھائی (ٹرکش ڈیلائیٹ) کی دکان سے خریدی گئی پستے بادام اور اب تک کی ناآشنا ذائقوں سے بنی برفی نما شیرینی نوش کی گئی۔ معلوم ہوا کچھ ”میٹھے“ جنت زباں ہوتے ہیں محبت بھرے لفظوں کی مانند، مگر ترکی میں!
قونیہ کے ہلٹن گراند میں ایک پرسکون ڈھلتی سرد شام منتظر ملی۔ ہوٹل کے بالکل سامنے ”بلدیہ“ کے تحت مولانا کلچرل سنٹر تھا جس میں ہر سنیچر کی شب رقص درویشاں کا اہتمام ہوتا ہے اور زائرین و سیاح ٹرانس کے عالم میں ایک ساعت گزارتے ہیں اور عمر بھر اس گھنٹے کی خماریاں یاد کرتے ہیں۔ پہلے یہ رقص مولانا کے مزار کے احاطے میں برپا ہوتا تھا۔ بعد میں اس مقصد سے بنی عمارت میں منتقل ہوا۔ انیسویں صدی کے ترک خلیفہ نے مولانا کے سلسلہء ارادت کی سرگرمیوں اور تاریخ کی تجسیم اور نمائش کا ارادہ باندھا جو دو صدیوں سے زائرین اور صوفی روایت کے طلبا و ریسرچر کے لئے مرجع خلائق بنا۔
جامعہ نجم الدین اربکان کا دورہ قونیہ میں ہماری آخری سرکاری ذمہ داری تھی۔ اور جدید مغربی جامعات کے ہم پلہ یہ جامعہ قونیہ کا دوسرا باعث افتخار ادارہ ہے۔ میزبان پروفیسر کا غناء اور شفقت آمیز مسکراہٹ ساکنان قونیہ کی روایت کا امین لگے۔
اس شام کی فراغت کسی اور رنگ ڈھنگ کی ہی لگی۔ اشتہا انگیز لنچ میں انواع و اقسام کے نیم پخت برہ اور ہفت رنگ سبزیوں کے ساتھ ”مکھڈی نما پوٹھواری حلوے“ کی مہک نے حضرت مولانا کے قرب کا مزا سوا کر دیا۔ مرشدی ساحر صاحب اور ڈاکٹر ناصر صاحب کی علمی گفتگو نے قونیہ کی پہلی سہ پہر کو یادگار بنا دیا
ہوٹل کی لابی کے چھت سے کاغذ کے لمبے لمبے آویزاں ”درویش“ مہمانوں سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔
”آؤ اور اس حیات جاودانی اور اس میں پوشیدہ ابدی سکون کا مزا لو جو صرف درویشوں کے ٹھکانے پہ ملے گا“
مولانا کے مزار کے احاطے میں ہی سلیمان قانونی کے فرزند سے منسوب مسجد سلیمیہ ہے۔ دونوں کا رخ زائرین کی طعام گاہوں کی طرف نیم دائرے کی شکل میں ایک وسیع میدان کی صورت میں نقش ہے یوں صدیوں پرانے طرز تعمیر کے پس منظر میں صاف شفاف سڑک اور اس پہ چلتی بلدیہ کی ٹرام مسافر کو شام کے دھندلکے میں منزل کی خبر دیتی اندھیرے کی نذر ہو رہی تھی۔ مزار سر شام ہی بند ہو جاتا ہے سو ہم قدیم محرابوں اور پست قامت در و دیوار کی امارت سے مکینوں کے روح میں اترتے ان دیکھے رنگوں کی دھند میں دیر تک پیدل چلا کیے ۔
اگلے دن دوپہر تک ہم مزار کے گردونواح سے مانوس ہو چکے تھے۔ حیرت انگیز حد تک ہم اس خوبصورت یونانی کم اونچے کالموں سے مزین مولانا پینوراما سنٹر اور اس کے اطراف پھیلے پائیں باغوں سے اٹھتی صوفی موسیقی کا حصہ بن چکے تھے۔ زائرین کے لئے سووینئر اور قونیہ کی ننھی ننھی سوغاتیں تیزی سے مسافروں کے تھیلوں کا جزو بن رہی تھیں اور ہم خراماں خراماں حضرت کی درگاہ کی جانب رواں تھے۔ باب درویشاں سے مدخول، لاجوردی رنگ کے مخروطی مینار اور لاتعداد محرابوں کے مسکن، مرو اور خراساں سے آئے صدیوں پرانے دمشق کی محبت میں گرفتار جلال الدین کی بسائی بستی میں نیاز مند پر آشوب دلوں کے ساتھ وارد ہوئے۔
دلوں اور اذہان کی کلفت کہیں پیچھے رہ گئی یا یکسر موقوف ہوئی اور حضرت کی چوکھٹ نے آگے بڑھتے عقیدت سے لبریز مسافروں کا سواگت کیا، سلام ہوا۔ درگاہ کا اندرونی حصہ زائرین کی سسکیوں رقت آمیز سرخوشی اور ترک، اردو اور فارسی زبانوں کے ناقابل فہم ارتعاش سے لرز رہا تھا۔ مولانا کی کافی قد آدم ایستادہ سبز عمامہ سے مزین لوح مزار مدینہ کے والی کے روضہ اطہر کی یاد دلا رہی تھی۔ کیمروں کی لگاتار ٹک ٹک اور روشنیاں زائرین کی زیرلب اور با آواز بلند دعائیں درگاہ کے اندرونی تقدس کو بوجھل بنا رہی تھیں۔
ملحقہ کمرے میں قرآن حکیم کے قدیم نسخے شو کیسوں میں اپنی آب و تاب دکھا رہے تھے۔ چھتوں اور دیواروں پہ سنہری، سبز اور زریں رنگ جادوئی کیفیت طاری کر رہے تھے۔ داخلی کمرہ جامی کے اشعار اور حضرت مولانا کے الفاظ سے درخشاں تھا۔ باہر لکڑی کے بنچوں پہ بیٹھے مرد وزن اس پرسکون کیفیت سے دور جانے پہ رضامند نہیں لگ رہے تھے۔ صحن میں مختلف حجروں میں درویشانہ طریق تعلیم اور تربیت کے مدارج کی تجسیم کی گئی ہے جو اورل ہسٹری کی طرز کا میوزیم ہے یہاں سلجوقوں کے سات سے زیادہ مقابر موجود ہیں، اس سے یاد آیا کہ معروف جامعہ سلجوق بھی قونیہ میں ہی ہے جہاں زبان اردو سے محبت کرنے والے اساتذہ اور شعبے کی تاریخ مربی پروفیسر زاہد منیر عامر اکثر اپنے کالموں میں تحریر کرتے رہے ہیں۔
مزار کے ارد گرد وسیع سبز احاطہ میں شیخ الجامعہ کی کافی کی دعوت کا مزا لیا ساتھ ہی سوونئرز کی خریداری بھی کی۔
یہاں سے قافلہ باد بہاری مرشد اعلی حضرت شمس تبریزی کے مزار کی طرف رواں ہوا جو کہ مولانا کے احاطے سے بیس منٹ کی پیدل خرامی پہ ہے۔ وہاں نوافل کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا۔ متصل پارک میں قونیہ کے سگنیچر پہ تصویر کشی کے بعد واپسی کا مرحلہ آیا۔ چونکہ ہفتے کی شام تھی لہذا مولانا سینٹر میں سماع کی ٹکٹیں بھی عزیزی زاہد نے ارینج کر لی تھیں۔ گزشتہ نصف دن سے حضرت کے مہمان تھے تواضع کی شدت سے دل لبریز ہو رہے تھے۔ برادر ڈاکٹر ساحر صاحب کی خواہش پہ کچھ مسافت پہ ہندوستانی درویش جو کہ سلسلہ چشتیہ کے صوفی تھے اور گزشتہ صدی میں قونیہ کے سفر، قیام اور 1910 میں یہاں ہی وصال کے بعد مدفون تھے۔ ان کے مزار پہ حاضری دی اور دعائے مغفرت کی۔
اوائل شام سماع (whirling dervish) پہ پہنچے اور ایک عظیم تھیٹر طرز پہ بنے اسٹیڈیم میں اگلی نشستوں پہ براجمان ہوئے۔ ایک نسبتاً تاریک گوشے میں مختصر آرکسترا پہ نوجوان ترک نیچی لے بجا رہے تھے۔ پھر روشنیاں گل ہونا شروع ہوئیں۔ سرخ لمبی ترک توپیوں اور سیاہ لبادوں میں جواں رعنا دو قطاروں میں نمودار ہونا شروع ہوتے ہیں۔ سامعین و ناظرین کی سانسیں محویت کا دامن تھامے موبائل کیمروں سے جڑ چکی ہیں۔ درویش آہستہ آہستہ نیم دائرے میں بھیڑ کی کھال کی سفید جاء نمازوں پہ دو زانو ہو رہے ہیں۔
حمد کے لئے آرکسٹرا روک دیا گیا اور رقص کا تعارف، طریق و روایت صوفی بیان کی گئی۔ اچانک تمام کالے لبادے اتار دیے گئے اور ایک لمبی سپیدی نظر کو چندھیا گئی۔ آہستہ آہستہ نیم دائرے میں حرکت شروع ہوئی اور دو دائروں میں مجسم ہوتی گئی۔ ہر درویش پہلے درمیان میں ایستادہ مرشد کے پاس رک کے تعظیم بجا لاتا اور پھر اپنا دائیں ہاتھ کو دعائیہ انداز میں سر سے اوپر اور بایاں تھوڑا باہر کی طرف نیچے کیے اسی طرف کو گول دایرے میں چلنا شروع ہوئے۔
تھوڑی دیر میں ایک سماں بندھ گیا۔ حاضرین کے لئے یہ ایک مسحورکن تجربہ تھا۔ مولانا کا کلام مشرقی موسیقی کے ساتھ ایک وجد طاری کر رہا تھا۔ مرشد اور درویش کے باہم معنی خیز قدم ایک ردھم کے ساتھ رقص کو آگے بڑھا رہے تھے اور یوں سارا عالم وجد میں تھا۔ کورنش بجاتے دو بچے اور دو درجن پہ مشتمل ایک سفید الوہی قافلہ کائنات کے ساز پہ رقص کناں تھا۔ یہ نغمگی اور حرکت جو زندگی کے ساز پہ ازل سے جاری ہے اسے رومی کے درویشوں نے ایک لفظ بولے بغیر سمجھا دیا۔ توازن اس کائنات کے حسن کو دوبالا کر رہا تھا۔ بلند ہوتی اور گھٹتی بڑھتی لے سوز زندگی کے راز دروں کھولے جا رہی تھی اور مسافران منزل صدیوں سے جاری اس امرت کے سربستہ اور عیاں ہوتے اسرار میں گم تھے۔ (تمت بالخیر)


