عورتوں کو اور کتنے حقوق چاہئیں؟


dr tehreem javaid

اتنی زبان چلائے گی تو مار ہی کھائے گی۔ بیٹیوں کا اتنا بولنا اچھا نہیں ہوتا۔ اگلے گھر بھی جانا ہوتا ہے۔ یہ انفرادی نہیں اجتماعی سوچ ہے پاکستانی سماج کی۔ لیکن کسی سال کا بھی عورت مارچ ہو۔ وہاں مردوں کے حقوق کا رونا شروع ہو جاتا ہے۔ بھئی آپ مرد مارچ کر لیں۔ کسی اور نے مارچ کا انتظام کیا۔ عورتیں آئیں بات کی۔ آپ اپنے پلے کارڈ اٹھائے چل پڑے۔ ملاحظہ فرمائے پاکستانی مردوں کے بڑے بڑے مسائل۔

بریک اپ کے بعد مردوں کا کاٹنا بند کرو۔
شوگر ڈیڈی ڈھونڈنا بند کرو۔

شوگر ڈیڈی کی اصطلاح عام پنجابی عورت تو سمجھنے سے ہی قاصر ہے۔ لاہور، اسلام آباد یا کراچی پورا پاکستان نہیں ہے وجدان۔

دیہات کی عورت ازل سے فصل کی بوائی سے لے کر کٹائی تک ہر وہ کام کرتی ہے جو مرد کرتا ہے لیکن فصل کا پیسہ کس کو ملتا ہے۔ گھر کے مرد کو؟ کیوں۔ گھریلو کام کے لیے معاوضہ توبہ توبہ اپنے گھر کے کام کا بھی کوئی پیسہ لیتا ہے کیا۔ اپنے گھر کے کام میں جب پچیس کھانے والے اور پکانے والا دھونے والا صفائی والا ایک ہو تو معاوضہ تو بنتا ہے۔ عورت مارچ کی تاریخ پہ کچھ تو پڑھ لیں۔ کبھی تو اپنے ملک کی عام عورت کے شب و روز کی خبر لیجیے۔ ہر نیا دن ایک نئی اذیت لے کر طلوع ہوتا ہے۔ کل کا دن ہی لے لیں۔ سونے سے پہلے بی بی سی کی رپورٹ پڑھ لی۔ چکوال کی جبین بی بی جو چھبیس سال کی عمر میں مار دی گئی۔

پولیس جب تالہ توڑ کر اندر پہنچی تو شدید سردی میں کئی دن پہلے مر چکی جبین کی لاش اکڑی ہوئی ایک قمیض میں ملبوس پڑی تھی۔ اس کے جسم پہ کوئی اور لباس نا تھا۔ زمین پہ اس کی لاش کے اردگرد انسانی فضلہ تھا۔ پردے کی بدبو تھی کیونکہ اس علاقے میں پردے کا بہت رواج تھا۔ بچہ بچہ جانتا تھا کہ جبین ایک کمرے میں باندھ کر قید کی گئی ہے۔ کچھ لوگ سوکھی روٹیاں کھڑکی سے پھینک دیتے تھے جسے گھسٹ گھسٹ کر منہ سے چگ کر وہ زندہ تھی لیکن اس کا ہڈیوں کا ڈھانچہ وجود شاید سردی سے نا لڑ سکا۔ بھوک سے ہار گیا یا گندگی اسے کھا گئی۔ دو سال پہلے یہی جبین بالکل ٹھیک تھی لیکن باپ کے مرتے ہی اس کا برا وقت شروع ہو گیا۔ دو ہزار کنال زمین کا لالچ جبین کی جان لے گیا اور اتنی اذیت ناک موت جس میں آپ قطرہ قطرہ مر رہے ہیں آپ چیخنا چاہتے ہیں لیکن بھوک کی شدت نے قوتِ گویائی سلب کر لی ہے۔

کیا المیہ ہے کہ جائیداد کی خاطر امتیازی نمبروں سے بی ایس سی کرنے والی جبین کو اس کے اپنے ہی رشتے داروں نے مار دیا۔ آخر کیا حق چاہیے تھا اس عورت کو۔ زندہ رہنے کا؟ کھانے کا؟ ٹائیلٹ جانے کا؟ تعلیم حاصل کرنے کا؟ اپنا حقِ وراثت؟ لیکن یہاں تو سب عورتوں کو حقوق مل چکے ہیں تو کیوں یہ پاگل عورتیں ہر سال مارچ کرنے نکل پڑتی ہیں۔ این جی اوز کی اخلاق باختہ مادر پدر آزادی کی متلاشی گمراہ عورتیں۔ یہ وہ عورتیں ہیں جن کے باپ نے بھائی نے بیٹے نے شوہر نے ان کے پر نہیں کاٹے۔ زبان چلانے پر چپیڑیں نہیں ماریں۔ ان کو زندہ رہنے کا کھانے کا سوچنے کا جو حق ان کے گھر کے مردوں نے بن مانگے دیا وہ ہی حق وہ اس سماج سے مانگتی ہیں جبین کے لیے۔

لیکن واقعی اس مسئلے سے بڑا مسئلہ ہے مرد کا کٹ جانا۔ اور شوگر ڈیڈی سے پیسے اینٹھ لینا۔ اس پہ تو احتجاج بنتا ہے۔ کیونکہ شوگر ڈیڈی پندرہ سال کا چنا کاکا ہوتا ہے اس کے حقوق کا تحفظ ازحد ضروری ہے وجدان۔ ویوز سب کو ہی چاہئیں لیکن عورتوں کو یہ بھی حق دلانے کو بھی مارچ کرو کہ جس طرح انہیں پاکستان میں غیرت کے نام پہ کاٹ دیا جاتا ہے اور قانون بھی بے غیرت بن کر اسے پی جاتا ہے۔ عورت کو بھی اتنی آزادی دو کہ وہ بھی غیرت کا نام لے کر گھر کے مردوں کو کاٹ سکے۔ جہاں مرد کا ساری زندگی تیری ماں تیرا پیو تیری پیہن کا سیاپا نہیں مکتا۔ وہاں عورت کو بھی اتنا تو حق دو کہ وہ بھی مرد کی ماں بہن کر سکے۔ ورنہ یہ تماشا بند کرو کہ اس ملک میں عورت کو ہر وہ حق حاصل ہے جو مرد کے پاس ہے۔ کیونکہ واحد اشاریے جن میں پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے وہ ہے زچہ بچہ کے مرنے کی شرح اور صنفی امتیاز۔ باقی اپنے ویوز کا منجن بیچنا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے ایک اور پاکستانی عورت مر گئی۔

Facebook Comments HS

One thought on “عورتوں کو اور کتنے حقوق چاہئیں؟

  • 17/02/2025 at 12:46 صبح
    Permalink

    محترمہ ادھوری معلومات کی بنیاد پر آپ لوگ غلط مثال پیش کرکے صحیح بات کو بھی غلط بنادیتے ہیں۔

    جبین بی بی کا معاملہ وہ نہیں جس طرح ایف آئی آر یا اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے۔

    یہ لوگ ایک بھری پری گلی میں رہتے تھے۔ ان کے گھر کے بالکل سامنے نیوی سے ریٹائرڈ شخص رہتا ہے جس کے ساتھ ایک ریٹائرڈ حوالدار کا گھر ہے۔ رضا اور اس کی بہن کا گھر کھلا رہتا تھا۔ دونوں کے ماں باپ نہیں تھے اور خاندان میں شادیاں کرکرکے یہ بچے جنیاتی مسائل میں مبتلا ہوکر باپ کی زندگی میں ہی دماغی امراض میں مبتلا تھے۔ باپ کے انتقال کے بعد لوگوں رشتے داروں نے ان کی دیکھ بھال کی کوشش کی لیکن یہ ان کے بس سے باہر تھا۔
    بھائی پھر بھی گھر کے باہر گھومتا رہتا تھا اور بہن کے مقابلے میں بہتر حالت میں تھا۔ لیکن وہ بھی آنے جانے والوں کو مارنے دوڑتا یا پتھر مارتا تھا۔ اہل محلہ نے تنگ آکر ان کے گھر کے سامنے سے ہی گزرنا چھوڑدیا۔

    یہ ضرور ایک المیہ ہے کہ اہل علاقہ اور رشتے داروں نے ان کو ان کے حال پر چھوڑدیا تھا اور کوئی انہیں حملہ کرنے کے خوف سے دیکھنے بھی نہیں آتا تھا۔ رشتے دار روزانہ ایک شاپر میں کھانا ڈال کر گیٹ پر لٹکا دیتے تھے۔

    یہ ایک دکھ بھری داستان ہے اور یقیناً کسی اچھے مسلم معاشرے میں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا مگرمغربی ممالک میں ایسی اموات عام ہیں۔

    پولیس نے اس معاملے کو مزید اس لئے خراب کیا تاکہ ان کو جو خط ملا تھا اس پر کی جانے والی دیر کو دبا سکیں۔ خط میں نام اور علاقہ جب لکھا تھا تو پولیس دو ہفتے بعد وہاں کیوں پہنچی ؟

    اہل علاقہ کا بہرحال کہنا کچھ اور ہی ہے۔ اور آپ جیسی لکھنے والیاں کہ بس کوئی خبر ملے جس میں عورت پر ظلم کا تذکرہ ہو اور اپ لوگ بین کرکرکے کاغذ سیاہ کردیں۔

    پہلے تحقیق کریں پھر لکھیں۔ پہلے بھی آپ کی کئی تحریریں ادھوری معلومات پر مبنی ہوتی تھیں۔

    اس معاملے میں ان بہن بھائیوں کی ایک کزن کے شوہر کو ٹارگٹ بنایا جارہا ہے جس کا نہ اس معاملے سے کوئی تعلق ہے اور نہ وہ جائیداد میں کوئی حصہ رکھ سکتا ہے۔

    جو کام آپ لوگوں کو کرنا چاہئے وہ میں کررہا ہوں آپ اس سے دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔
    حکومت پنجاب کی طرف سے ایک خصوصی پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی گئی ہے جو خواتین پر ہونے والے تشدد پر فوری کاروائی کرتا ہے۔ اس کا ایک فون نمبر 1737 ہے جب کہ دوسرا نمبر 042 کے بعد 99333817 ہے۔ 042-99333817

    ان کی ویب سائٹ https://pwpa.punjab.gov.pk/info-desk پر خفیہ رہ کر بھی اطلاع کی جاسکتی ہے۔

    کبھی اس عورت کو بھی برا بھلا کہہ لیا کریں جو ساس بن کر بہو پر اور نند بن کر بھاوج پر ظلم کررہی ہوتی ہے اور ان کی تعداد معاشرے میں موجود ظالم مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔

Comments are closed.