مشاعرے کی واہ واہ، گولیوں کی ٹھاہ ٹھاہ سے افضل ہے


دنیا کے ہر معاشرے میں جذبات کے اظہار کے الگ الگ طریقے رائج ہیں۔ کچھ معاشرے مکالمے اور ادب کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ نے بندوق اور تصادم کو اظہار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرف جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ہاتھوں میں قلم تھامیں یا اسلحہ؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ جذبات کے اظہار کے لیے شاعری، کہانی اور مکالمہ اپنایا جائے یا پھر ہیجان اور تصادم کو ترجیح دی جائے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو چند دن پہلے شعبہ انگریزی میں پروفیسر اکرام صاحب کے ساتھ چائے پر گفتگو کے دوران ذہن کے نہاں خانوں میں سر اٹھا رہے تھے۔

اب میرے ادارے گورنمنٹ پی ایس ٹی گریجویٹ کالج کے بی ایس بلاک کا ایک منظر تصور کریں۔ بلاک کے سامنے باغیچے میں شامیانہ لگا ہوا ہے۔ ایک روشن دوپہر، سامعین ہمہ تن گوش، اسٹیج پر کھڑے احمد سعید صاحب اپنی دل کی بات موزوں الفاظ میں کہہ رہے ہیں، سامعین کے چہروں پر خوشی، حیرت اور کبھی سنجیدگی کے آثار ہیں۔ کچھ اشعار پر واہ واہ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، کچھ پر ہنسی کے قہقہے گونج رہے ہیں۔ کیا یہ صرف ایک منظر ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ منظر محض ایک ادبی سرگرمی نہیں، بلکہ انسانی جذبات اور خیالات کے مہذب اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔

اب اس کے مقابلے میں ایک اور منظر لیں۔ ایک چوراہا، فضاء میں ہیجان، غصے سے بھرے چہرے، ہاتھوں میں لاٹھیاں، ہتھیار، اور آنکھوں میں نفرت۔ ایک طرف کوئی نعرہ لگا رہا ہے، دوسری طرف کوئی گولی چلا رہا ہے۔ جذبات وہی ہیں، ہیجان وہی ہے، مگر اظہار کا فرق بتا رہا ہے کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ انسان کو اپنے جذبات کے اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو جذبات دبائے جاتے ہیں، وہ کسی نہ کسی صورت میں پھوٹ پڑتے ہیں، چاہے وہ شاعری کی صورت ہو یا پھر غصے کے طوفان کی شکل میں۔ مشاعرے، مکالمے، کہانی اور دیگر فنون لطیفہ ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جہاں انسان اپنی بات کہہ سکتا ہے، دوسروں کی سن سکتا ہے اور سوچنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ادب اور فنون لطیفہ ان معاشروں میں زیادہ پھلتے پھولتے ہیں جہاں مکالمے کی گنجائش ہوتی ہے۔ جہاں سوال اٹھانے کی آزادی ہوتی ہے، جہاں اختلاف کا احترام کیا جاتا ہے، اور جہاں ذہنوں کو تخلیقی راہوں پر گامزن ہونے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو کسی معاشرے کو سنوار سکتا ہے یا بگاڑ سکتا ہے۔

میں چونکہ کمالیہ میں رہتا ہوں تو اپنے شہر کی بات کرتا ہوں کہ میرے ارد گرد بڑھتی ہوئی بے چینی، عدم برداشت اور تشدد کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جذبات کے مہذب اظہار کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ دور کی مثال کیا دوں ؛ صرف میرے کالج میں کل ہونے والا مشاعرہ پچھلے بیس پچیس سالوں کے جمود کو توڑنے والا پہلا پتھر تھا۔ آج کے نوجوانوں کے پاس سوال تو ہیں، مگر انہیں سننے والا کوئی نہیں۔ ان کے پاس خیالات تو ہیں، مگر انہیں ترتیب دینے کے مواقع کم ہیں۔ ان کے پاس کہانیاں تو ہیں، مگر انہیں سنانے والے سامعین ناپید ہو رہے ہیں۔

جب کسی قوم کے نوجوانوں کو اظہار کے مثبت راستے نہیں ملتے، تو وہ اپنی بے چینی کو کسی بھی شکل میں نکالنے لگتے ہیں۔ کبھی وہ ہیجان انگیز نعرے بازی میں مشغول ہو جاتے ہیں، کبھی کسی افواہ کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے لگتے ہیں، اور کبھی شدت پسندی کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب واہ واہ کی جگہ ٹھاہ ٹھاہ لے لیتی ہے۔ واہ واہ اور ٹھاہ ٹھاہ میں فرق صرف الفاظ کا نہیں، بلکہ ایک پوری سوچ، ایک پوری تہذیب کا ہے۔ جہاں واہ واہ ہو، وہاں سوال ہوتے ہیں، غور و فکر ہوتا ہے، مکالمہ ہوتا ہے، اختلاف رائے کو جگہ دی جاتی ہے، دلائل دیے جاتے ہیں اور چیزوں کو سنوارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جبکہ جہاں ٹھاہ ٹھاہ ہو، وہاں دلیل کی جگہ لاٹھی لے لیتی ہے، مکالمے کی جگہ دھمکی، سوچنے کی جگہ جذباتیت اور تہذیب کی جگہ بدتہذیبی لے لیتی ہے۔

کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں یا بارود؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ادبی محافل کی گونج ہو یا نفرت انگیز نعرے؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اظہار کے لیے زبان اور قلم استعمال ہوں یا پھر گولی اور پتھر؟ یہ وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہم اپنی نئی نسل کے لیے کیسا مستقبل چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں مشاعروں، مکالموں، تھیٹر، کہانی نویسی اور دیگر فنون لطیفہ کو فروغ دینا ہو گا۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ ان کے جذبات، ان کے خیالات، ان کے خواب اور ان کے مسائل اہم ہیں، اور انہیں مثبت انداز میں بیان کرنا بھی ممکن ہے۔

ہمارے ہاں ایسی سرگرمیوں کو محض تفریح سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں ذہنی تربیت اور معاشرتی بہتری کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔ یہ وہ روشنی ہے جو ذہنوں کو روشن کرتی ہے، دلوں کو نرم کرتی ہے، اور ایک ایسے سماج کی بنیاد رکھتی ہے جو محبت، مکالمے اور مثبت سوچ پر قائم ہو۔ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہو گا کہ ہمیں کیسا معاشرہ چاہیے۔ وہ جہاں مشاعرے ہوں، ادب ہو، مکالمہ ہو، اور واہ واہ کی صدائیں گونجیں، یا وہ جہاں اختلافات کا جواب تشدد سے دیا جائے، اور ٹھاہ ٹھاہ کی آوازیں ہماری زندگیوں میں خوف بھر دیں؟ یاد رہے :واہ واہ کے تالیاں بجانے والے ہاتھ، ٹھاہ ٹھاہ کے ہتھیار اٹھانے والوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ہاتھ تخلیق کرتے ہیں، مسکراتے ہیں اور زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔

Facebook Comments HS