عزم اردو
چمن میں رنگ و بو کا امتزاج اردو ہے
گلاب یاسمیں کا ہم مزاج اردو ہے
یوں تو ہر زبان ہی ہے خوبصورت
مگر میرے بیاں کی معراج اردو ہے
ویسے تو اردو کی ترویج و ترقی کے لیے بزم ادب یا بزمِ اردو سجائی جاتی ہے مگر میں نے اسے عزمِ اردو دانستہ لکھا ہے۔ کیونکہ عمومی طور پہ مشاہدے میں آ رہا ہے۔ کہ جس طرح اور جس نہج پہ اب واٹس ایپ استعمال ہو رہا ہے اس طرح اردو رسم الخط کو وہ وقعت نہیں دی جا رہی جو میرے خیال میں دی جانی چاہیے ترکوں نے عربی رسم الخط ترک کر دیا اور بعض عربی کے الفاظ جو ترکی زبان میں بولے جاتے ہیں ان کا تلفظ عجیب سا اختیار کر لیا گیا ہے یہی حال اردو کے ساتھ بعض رومن اردو لکھنے والے شاید غیر ارادی طور پر مگر اکثر کر رہے ہیں۔ میں ہی کیا سب پاکستانی دوست یقیناً اردو سے محبت کرتے ہیں۔ اور جہاں تک انگلش کا اردو سے تعلق ہے۔ مجھے اپنا ایک اٹالین دوست یاد آ رہا ہے جو نوے کی دہائی میں ٹی وی پہ جب بات چیت میں انگلش کا تڑکا، بلکہ میں تو اسے چرکا کہوں گا، کسی اٹالین صحافی یا اینکر کو لگاتے سنتا تو سخت سیخ پا ہو کر اس کی شان میں خاصے نازیبا الفاظ استعمال کرتا۔ کہ یہ آج کل کیا فیشن ہے کہ دو جملوں کے دوران انگلش کو گھسیڑتے چلے جاتے ہیں جبکہ اٹالین زبان اتنی جامع ہے کہ اس میں پورا مدعا بیان کیا جا سکے۔
ہمارے ہاں تو خالص اردو میں بات کرنے کا رواج ہی ختم ہو رہا ہے۔ ہر بات چیت میں بطور خاص ٹی وی پہ اردو کم انگلش زیادہ بولی جاتی ہے۔ پہلے پہل تو مجھے بھی بہت چڑ ہوا کرتی تھی۔ مگر اب تو عادت ہو چکی ہے۔ مجھے انگلش سے کوئی چِڑ نہیں ہے۔ مگر میری دانست میں بات کو بقول آپا سیدہ عارفہ زہرہ ایک ہی زبان میں کرنا چاہیے۔ اور بار بار اردو کے دوران انگلش کا چرکا ہماری خوبصورت اردو زبان کی توہین کہی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں میرے پاس عدالت کا ایک میرے دیوانی مقدمے کا فیصلہ انگلش میں موجود ہے۔ ہمارے نظام کی فعالیت ملاحظہ فرمائیں کہ زمینداروں تک کے لیے فیصلے انگلش میں لکھے جاتے ہیں۔ جو انہیں وکیلوں سے ہی پڑھوانے پڑتے ہیں۔ جبکہ ہماری قومی زبان اردو ہے۔ پھر عدالتی فیصلے انگلش میں کیوں لکھے جاتے ہیں۔ اس پہ ہی کیا موقوف کہ ہماری اصل مادری زبان تو پنجابی ہے جس کو لکھنے پڑھنے کی حد تک ہم خیرباد کہہ چکے ہیں۔ بے چاری پنجابی کے ساتھ گھر کی باندی والا سلوک کیا جاتا ہے۔ اور سنگھاسن تو اردو سے بھی چھینا جا رہا ہے بلکہ چھینا جا چکا ہے۔
جس زبان کے لیے بنگالیوں کو ہم نے ناراض کیا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی، وہ تو اپنی بنگالی کی محبت کے دعوے سے جو شروع ہوئے تو علیحدگی پہ ہی ٹلے۔ اسی اردو کے کندھوں پہ ہم نے انگلش کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح خود بٹھا رکھا ہے۔ جو جتنی انگلش اردو کا ملغوبہ بناتا ہے خود کو اتنا ہی پڑھا لکھا یا پھر سننے والے اسے پڑھا لکھا سمجھتے ہیں۔ گویا درحقیقت انگلش کے چند الفاظ ہی بولنے والے کو گونہ تفاخر کا احساس دلاتے ہیں۔ بھلے غلط سلط بلکہ جانو جرمن والی انگلش ہی کیوں نہ ہو۔ انور مقصود صاحب نے کیا خوب کہا ہے کہ یہ انگریزی نہ ہمیں آتی ہے نہ یہاں سے جاتی ہے۔
اسی کی دہائی میں جو جرمنی میں آ کر پہلا کام ملا وہ ایک ریسٹورنٹ میں ملا۔ جو لگ بھگ ساڑھے چار سال کی ریکروٹنگ تھی۔ وہاں پہ بہت سے انڈین لڑکے بھی جن میں سے اکثر کو میں ہی کام پہ رکھوایا کرتا تھا کیونکہ میں باوجود اس ریستوران کی طویل الوقتی ڈیوٹی جو بارہ سے تیرہ گھنٹے کی تھی اپنی مجبوری کے پیش نظر وہاں پہ پرانا لاووراتورے یعنی ورکر تھا۔ ایک انڈین دوست پرمود کمار عرف ببوُ از پھگواڑہ جو انتہائی شریف النفس انسان تھا اسے بھی میں نے کام پہ رکھوایا۔ ہم آپس میں پنجابی ہی بولا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے اسے کہا کہ آج میں کھانا نہیں کھاؤں گا کہ طبیعت خراب ہے کچھ متلی کی سی کیفیت ہے۔ وہ یہ سن کر کام کرتے کرتے چھوڑ کر نیم وا آنکھوں سے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگا۔ ہائیں وہ کیا ہوتی ہے اور کہاں ہوتی ہے۔ مجھے بھی مذاق سوجھا اور میں نے جواب دیا کہ تمھیں پتہ نہیں کہ قے ہونے سے پہلے متلی ہوا کرتی ہے۔ کہنے لگا اور وہ کیا اور کیسے ہوتی ہے۔ اسے جب سمجھایا تو سر جھٹک کر بولا۔ لو کر لو گل۔ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کی قہیں ہو گئی۔ یعنی بس ہو گئی ہے۔ اور تم نے الٹی کو قہیں بنا دیا ہے۔ میں نے کہا کہ قے کو تم اب قہیں بنا رہے ہو۔
کہنے لگا یار تم مجھے یہ اڑدو کی مار نہ دیا کرو۔ مینڈک کو سمجھانے پہ کئی منٹ لگے۔ پھر جب انگلش میں فراگ بتایا تو کہنے لگا۔ اوہ یار سیدھا ڈڈو کہو ناں۔ ہم سے انڈین اس معاملے میں بہتر ہیں کہ پنجابی کو وہ ادبی اور تحریری طور پر بھی پوری طرح استعمال کر رہے ہیں۔ اور اس میں ہندی کا دخل یا انگلش کو مخل نہیں ہونے دیتے۔ میں نے بھی پنجابی کے کچھ ہجے یا اکھر آڑا ککا کھگا ننا۔ ددا چھچھا سیکھنے کی کوشش کی۔ مگر سارے نہ سیکھ سکا۔ اور پھر ببو بھی کام چھوڑ کر چلا گیا۔
جب یہاں یورپ میں واٹس ایپ کا استعمال عام ہوا تو ہمارے تقریباً سب دوست ہی اس بے چاری اردو کے رسم الخط کے بھی درپے آزار ہو گئے۔ ہر کوئی دھڑا دھڑ رومن اردو میں لکھنے لگا۔ بعض اوقات تو اردو تلفظ کو رومن کے بھدے پن سے عنایت حسین بھٹی والا بھلا جی اینہوں دیو رگڑا، بھلا جی ہن تہر رگڑا والی صورت حال تھی بلکہ اب بھی ہے کہ اکثر الفاظ کو پہیلی کی طرح پڑھنا کم بوجھنا زیادہ پڑتا ہے۔ ایک بار ایک دوست کا پیغام جو اس نے رومن اردو میں لکھا ہوا تھا جس کو انگلش کے تلفظ کے ساتھ اگر پڑھا جاتا تو ایک انتہائی مزاحیہ جملہ بنتا تھا خاصے غور سے پتہ چلا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔
اکثر دوست تو اردو کی بورڈ کے استعمال کو مشکل سمجھتے ہیں۔ خاکسار نے اسی مقصد کی خاطر دوستوں کو ایک گروپ۔ صلائے عام۔ وہی غالب والا صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے۔ بنا کر ستر اسی دوستوں کو شامل کیا اور سب سے بطور خاص درخواست کی کہ شعر و ادب پہ اگر کچھ اظہار خیال ہو جائے تو کیا بات ہے ورنہ اپنی نکتہ دانی کا کم از کم نثر ہی میں لکھ کر اظہار کیا کریں۔ کچھ تو اسے اصلاحِ عام سمجھتے رہے۔ گویا میں نے اصلاحِ عام کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ من آنم کہ من دانم
اردو پہ ایک لطیفہ یاد آ گیا ایک دوست کی خوشدامن صاحبہ امریکہ میں وفات پا گئیں۔ میں نے گروپ میں بطور اعلان لکھا تو گروپ کے ایک اور دوست اعلان پڑھ کر سخت حیران مجھے فون پہ بتانے لگے کہ وہ تو ابھی بھلی چنگی کل میرے سامنے سودا خرید رہی تھیں۔ گویا انہوں نے مذکورہ دوست کی بیوی کو ہی خوشدامن سمجھ لیا میرے بتانے پہ کہ بھائی وہ امریکہ میں فوت ہوئی ہیں۔ تو بولے میں بھی حیران تھا کہ یہ فوت بھی ہو گئیں اور پھر وہ بھی یک بیک امریکہ میں کیسے جا پہنچیں۔ خود میرے برادرِ نسبتی کی وفات پہ مسجد میں میرے ان کے لیے اعلان جنازہ کے بعد بے شمار دوست اسی مخمصے میں پوچھ رہے تھے کہ کیا کزن فوت ہوئے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آئی کہ آپ کا کون فوت ہوا ہے۔ ایک دوست کو خوش دامن کا دامن اتنا بھایا کہ اپنے سسر صاحب کی وفات تک اسے تھامے رکھا اور اعلان کیا کہ میرے خوشدامن صاحب رحلت فرما گئے ہیں۔ میں نے سوچا کہ انہیں لکھوں کہ اس سے بہتر تھا کہ آپ سسر صاحب کو خوش ضامن صاحب لکھ لیتے۔ گو کہ یہ لفظ مروج تو نہیں چلو نئی اصطلاح ہی سہی۔
قصہ کوتاہ سب دوستوں سے درخواست کی کہ اردو کو اردو ہی میں لکھنے کی کوشش کیا کریں۔ جس سے یہ فائدہ تو بہر حال ہوا کہ ستر اسی لوگوں میں بیس پچیس نے اردو میں پیغام وغیرہ لکھنا شروع کر دیا ہے۔ ہم سب کا بہر حال یہ عزم ہے کہ اردو کی ترویج کی جس حد تک بن پڑا کوشش کرتے رہیں گے۔ البتہ یہاں پر ہماری اگلی نسل جو یہیں پیدا ہوئی۔ اردو بولتی اور سمجھتی ہے مگر اسے رومن لکھنے سے باز نہیں رکھا جا سکتا کہ اردو لکھنا پڑھنا بہت کم بچوں نے سیکھا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو اردو لکھنا اور پڑھنا سکھایا ہے۔ بچپن میں سب کسی حد تک اردو لکھ لیتے تھے۔ میرے بیٹے نے پاکستان دادی اماں کو کسی بات پہ بھوت بھوت شکریہ لکھا بلکہ سارا خط ہی ملتے جلتے تلفظ والے لفظوں کا بے باکانہ استعمال تھا تو وہاں پہ خط لطیفہ بن گیا۔ میری بیٹی اچھی خاصی اردو پڑھ لینے کے باوجود اب اردو نہیں لکھتی گو کہ میں ان سب کو اردو میں ہی لکھتا ہوں۔ مگر جواب جرمن میں یا رومن اردو میں ملتا ہے۔
ان کے اس سوال پہ کہ بہت اور بھوت میں کیا فرق ہے یا یہ کہ کہاں ذ یا ز یا ض یا پھر ظ استعمال کی جائے۔ ایک ہی آواز والے چار ہجے ہوں جبکہ یہ ایک آواز تو نہیں مگر عموماً ان کا فرق سننے میں محسوس نہیں ہوتا۔ تو کیسے فرق کریں۔ یہ مسئلہ تو خود ہمارے ساتھ بھی ہے مولویوں کی طرح ح سے حلوہ جس کے لیے گلے سے زیادہ نرخرے کا استعمال ضروری ہے اور ہ کا تلفظ ک اور ق کا فرق اور عربی کا قطب جدی یعنی قلقلہ تو ہم نے بھی بچپن میں نہیں سیکھا۔ گزشتہ چالیس سال سے اردو کی سگی بہن یا خالہ فارسی کو ترک کر کے پھوپھو عربی کو اہمیت دی جا رہی ہے کہ شاید اس سے پاکستان میں پھر سے اولیاء اللہ پیدا ہونے لگیں۔ پھر جتنا اسلام پاکستان میں نافذ ہوا۔ عیاں را چہ بیاں۔ البتہ جو جتنا عربی کا تلفظ عربوں جیسا ادا کرتا ہے اس سے اتنا ہی خوف آتا ہے بقول کرنل محمد خان باریش حضرات سے معذرت کے ساتھ کہ سب تو ایک جیسے نہیں ہوتے۔ جس چہرے پہ جتنی بڑی داڑھی نظر آتی ہے وہی اس کی اکثر قرارداد مقاصد کا سائز ہوتا ہے۔
بہرحال یہ تو مطالعہ اور اردو سے شغف رکھنے سے ہی لکھنے کی حد تک فرق کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم نیٹ پہ اردو کا تیا پانچہ ہوتے دیکھتے ہیں تو بچے کہتے ہیں دیکھیں پاکستان میں پڑھے ہوئے بھی گنا کا رس کو گناہ کا رس لکھ رہے ہیں۔ اور لوحِ مزار کو لوہے مزار لکھا جا سکتا ہے تو ہم یہ سارے استثناء کیسے سیکھیں۔ ستم تو یہ بھی ہے کہ ہمارے خاصے پڑھے لکھے بھی اردو کے ساتھ جانے انجانے میں بہت زیادتی کر جاتے ہیں۔ مثلاً معیت کو میت لکھا جا سکتا ہے۔ پھر تو واقعی اردو کا جنازہ ہے ذرہ دھوم سے نکلے۔ والی پھبتی درست ثابت ہوتی ہے۔
ویسے برسبیل تزکرہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو کے کچھ الفاظ تو ہر زبان میں موجود ہیں۔ بھلے ان کا مطلب کچھ اور لیا جاتا ہو۔
مثلاً۔ اٹالین میں کمینہ کا مطلب ہرگز کمینہ نہیں بلکہ چلو ہے یعنی آگے چلو۔ کمینہ آوانتی۔ محبوبہ کو نامرادہ یا نامرادے بھی کہتے ہیں۔ یعنی پیشگی بددعا کہہ لیں کہ محبت میں نامراد ہی رہو۔
قمیض کو قمیجا پتلون کو پانتالون۔ صابن کو صافون تابوت کو تابوت ہی کہا جاتا ہے پتیلے کو پدیلا بلکہ سسلی والے تو چھوٹے کو پنجابی والا۔ نِکا بھی کہتے ہیں۔ چابی اٹلی تک لمبا سفر کرنے کی وجہ سے چھاوی یا کھیاوی بن گئی۔ اسی طرح دشمن کو روسی میں بھی دشمن ہی کہتے ہیں اور بعض دکھی بھی کہتے ہیں ظاہر ہے دشمن وہی ہو گا جو آپ سے دکھی یا پھر آپ اس سے دکھی ہوں گے۔ اور کھانے کو روسی میں گُوشت کہتے ہیں۔ پلاؤ کو پلاؤ، ماش کو ماش کہتے ہیں۔ لڑکے کو پسند یا پاسانے کہتے ہیں۔ اور ترکی میں تو بے شمار الفاظ ہیں جو اردو نے اختیار کر لیے۔
یہاں ڈوئچ (جرمن) میں بھی کچھ ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ مثلاً انناس۔ دختر کو توختر۔ گویا کچھ فارسی کے الفاظ بھی جرمن میں ملتے ہیں ایک ایرانی نے مجھے بتایا کہ یہ ہماری ہی قوم ہے جو کرمان سے دو ہزار سال پہلے یہاں پہنچی اور کرمان سے جرمان اور پھر جرمن کہلائی۔ واللہ اعلم کہاں تک یہ سچ ہے۔ ایک فرم میں نئے آنے والے ایک پاکستانی نے اپنا تعارف کچھ یوں کروایا کہ مجھے ہر بُٹ کہتے ہیں۔ انہیں پتہ نہیں چلا کہ میں بھی ان لوگوں میں موجود ہوں۔ میں نے ازراہ مذاق کہا کہ آپ پہلے پاکستانی دیکھے جو بزبانِ خویش بُٹ کہلانا چاہتے ہیں۔ پہلے تو سٹپٹائے اور پھر ہنس کر بولے یار یہاں بٹ نام میں یُو کی وجہ سے بُٹ بنا دیا گیا ہوں۔ یہاں اچھے خوبصورت نام وجاہت کو ویاہت واہیات کے ملتے جلتے تلفظ سے بلایا جاتا ہے
زبانیں سیکھنا میرا مشغلہ رہا ہے جس کے ساتھ کام کیا اس سے اس کی زبان سیکھنا شروع کر دی۔ بھلے بعد میں بھول جائے مگر ایک تو اس سے دوستی تیزی سے ہو جاتی ہے۔ اور بات چیت میں موضوع کی تشنگی بھی نہیں رہتی۔ اور عربی ترکی اچھی خاصی سیکھ کر بھلا دی۔ فارسی تو ہم نے شاہ ایران کے دور میں پڑھی۔ اور شد شدند شدی شُدید جیسی بیسیوں گردانیں یاد کیں۔ جو اب بھی یاد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی ایک زبان جاننے والا جیسے وہاں کی ہر زبان آسانی سے سیکھ سکتا ہے ایسے ہی یورپ کی ایک زبان جاننے والا یہاں بھی دوسری زبانیں جلد سیکھ سکتا ہے۔
آخر پہ یہ کہنا چاہوں گا کہ جہاں بھی انسان جائے وہاں کی زبان کو سیکھنے کے لیے پوری صلاحیت کو بروئے کار لانا چاہیے۔ جس میں اپنے لیے ہی آسانی ہے اور اس سے آپ کے وقار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ مگر یہ پکا عزم ہو کہ بزمِ اردو سے اپنا تعلق ہر صورت میں قائم رکھنا ہے۔ یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ بچے بچپن میں ہی بیک وقت چار زبانیں سیکھ سکتے ہیں۔ لہذا کم از کم یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کو گھر میں اردو ہی بولنی چاہیے۔


