ایڈورڈ سعید: مستشرقیت اور مابعد نوآبادیات
یکم نومبر 2001 میں یروشلم میں ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والا ایڈورڈ سعید ایک فلسطینی امریکن سکالر، استاد، سیاسی کارکن اور ادبی نقاد تھا اس نے ادب کو سماجی اور سیاسی ثقافت کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں ادب کے استاد کے طور پہ اس کو نو آبادیاتی مطالعہ کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ فلسطینیوں کے سیاسی حقوق اور خودمختار فلسطینی ریاست کا ایک بے باک ترجمان تھے۔ ایڈورڈ سعید کے والد ویڈی ابراہیم نے پہلی جنگ عظیم میں امریکن فوج کی طرف سے خدمات سر انجام دی تھی اس لیے سعید اپنے والد کی وجہ سے امریکن شہریت کا حق دار ٹھہرا تھا۔
سعید کے والد 1947 میں اقوام متحدہ کی فلسطین کو عرب اور یہودی ریاست میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے خلاف 1948 میں شروع ہونے والی عرب اسرائیل جنگ کی وجہ سے مصر منتقل ہو گئے تھے۔ 1951 میں مونٹ ہرمن سکول میساچوسٹس منتقل ہونے سے پہلے قاہرہ میں سعید نے انگلش لینگویج سکولز میں پڑھا۔ اس نے 1957 میں پرنسٹن یونیورسٹی سے بی اے کیا جبکہ ہاورڈ یونیورسٹی سے 1960 میں ایم اے اور 1964 میں پی ایچ ڈی کی جہاں سعید نے انگلش لٹریچر میں سپیشلائزیشن کی۔ 1963 میں اس نے کولمبیا یونیورسٹی کو بطور لیکچرر جوائن کیا 1967 میں سعید کو انگلش اور تقابلی ادب میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ترقی ملی۔ سعید کی پہلی کتاب Joseph Conard and the Fiction of Autobiography ”1966 میں شائع ہوئی جو دراصل ان کے پی ایچ ڈی مقالے کی ہی ایک توسیع تھی۔
سعید کو 1969 میں بطور مکمل پروفیسر ترقی ملی ٍ 1978 میں سعید نے اپنی شہرہ آفاق اور بیسویں صدی کی سب سے سے با اثر علمی کتابوں میں سے ایک“ Orienalism ” (مستشرقیت) شائع کی۔ اس کتاب میں ایڈورڈ سعید نے باوجود ایک عرب مسیحی ہونے کے خاص طور پر عرب اسلامی دنیا سے متعلق“ مشرق ”پر مغربی علمی کام کا جائزہ لیا اور یہ دلیل دی کہ اس خطے میں ابتدائی مغربی تحقیق جانبدار اور متعصب تھی اور اس نے اسلامی دنیا پر“ دیگر پن ” (Otherness) کا ایک غلط اور دقیانوسی تصور مسلط کیا، جو مغربی نو آبادیاتی پالیسی کو آسان بنانے اور اس کی حمایت کرنے کا باعث بنا۔ اگرچہ سعید نے مشرق وسطیٰ پہ کچھ خاص پڑھایا نہیں لیکن عرب کاز اور فلسطینیوں کے حقوق پہ اس نے متعدد کتابیں اور مضامین لکھے ٍ وہ خاص طور پہ امریکہ اور اسرائیل کی اس خطے میں پالیسیوں کا بدترین نقاد تھا اور یہ چیز ان کی ان دو ملکوں کے حامیوں کے ساتھ اکثر تلخ سیاسی اور نظریاتی مباحث کی شکل اختیار کر لیتا ٍ 1977 میں سعید کی جلا وطنی میں ان کو فلسطین نیشنل کونسل کا رکن بنایا گیا۔ اگرچہ وہ فلسطین اسرائیل تنازعہ کے پر امن حل کا حامی تھا لیکن وہ 1990 کے اوائل میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل کے درمیان اوسلو امن معاہدے کے بدترین ناقد کے طور پہ سامنے آئے جس کی وجہ معاہدے میں فلسطین کی کمزور پوزیشن تھی سعید کی فلسطین پہ کتابوں میں The Question of Palestine 1979“ (فلسطین کا سوال) ”Covering Islam“ (اسلام کا بیانیہ) How the Media and the Experts Determine How We See the Rest of the World ”1981 (میڈیا اور ماہرین ہمارے دنیا کے دیکھنے کے انداز کو کیسے متعین کرتے ہیں ) Blaming the Victims: Surious Scholarship and the Palestinian Question“ 1988 ” (مظلوموں کو مورد الزام ٹھہرانا: جعلی علمی تحقیق اور فلسطینی مسئلہ)“ The Politics of Dispossession ” ( بے دخلی کی سیاست) Peace and Its Discontents“ (امن اور اس کے اضطرابات) ”Essays on Palestine in the Middle East Peace Proces 1995“ (فلسطین پہ مضامین مشرق وسطیٰ امن عمل) ایڈورڈ سعید کی دوسری قابل ذکر کتابوں میں، The World، The Text، and the Critic ( 1988 ) (دنیا۔ متن اور نقاد) Nationalism، Colonialism، and Literature (قوم پرستی، نو آبادیات اور ادب) Yeats and Decolonisaton 1988 (یٹس اور نو ابادیات سے نجات) Musical Elaborations 1991 (موسیقی کی توضیحات) Culture and Imperalism 1993 (ثقافت اور سامراج ) اس کی خود نوشت Out of Place (جلا وطنی کا احساس) میں بیک وقت مشرقی اور مغربی روایات میں رہتے ہوئے محسوس کی گئی ملی جلی کیفیت اور مخمصہ کی کیفیت کی عکاسی کی گئی ہے۔ سعید نے اپنی کتاب Orientalism ( 1978 ) کے ذریعے ایک مستند ثقافتی نقاد کے طور پہ شہرت حاصل کی۔ یہ کتاب مستشرقیت پہ تنقید ہے۔ سعید نے مشرق و مغرب کے تعلقات میں پائے جانی والی غلط ثقافتی نمائندگیوں کے ماخذ کے طور پہ مستشرقیت کے تصور کو بے نقاب کیا ٍOrientalism کے ذریعے سعید کا موقف ہے کہ عرب اسلامی اقوام اور ان کی ثقافت کے خلاف مغرب میں ”ایک باریک مگر مستقل یورو سینٹرک تعصب“ موجود ہے جو مغربی ثقافت کی ایشیاء کے بارے میں عمومی اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں بالخصوص غلط طویل رومانوی تصورات سے اخذ کردہ ہے۔
سعید لکھتا ہے کہ اس طرح کی ثقافتی نمائندگیاں یورپی طاقتوں اور امریکہ کی نو آبادیاتی اور سامراجی خواہشات کی تکمیل کے لئے غیر علانیہ جواز کے طور پہ راہ ہموار کرتی رہی ہیں اسی طرح سعید بر سر اقتدار عرب حکمران اشرافیہ کی سیاسی اور ثقافتی غلط طور طریقوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہے جنھوں نے ان کے خیال میں اینگلو امریکن کی تخلیق کردہ عربی ثقافت کے غلط رومانی تصور کو نہ صرف قبول کیا بلکہ دل و جان سے اپنا لیا۔ ان کے خیال میں مستشرقیت نے تجویز کیا کہ اسلامی تہذیب و تمدن کے بارے میں اکثر مغربی مطالعہ سیاسی دانشوری پہ مبنی ہے جس کا مقصد یورپی شناخت کی خود توثیقی یا خود تصدیقی ہے نا کہ غیر جانبدار علمی مطالعہ سعید کے نزدیک ”مستشرقیت“ نے علمی میدان میں مغرب کے ثقافتی امتیاز اور سامراجی غلبے کے طور پہ کام کیا یعنی دوسرے لفظوں میں مغربی مستشرق مشرق کے بارے میں اپنے زعم میں مشرقیوں سے زیادہ جانتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نو آبادیاتی محکوم خود سوچنے، عمل کرنے یا اپنے خیالات کا مناسب اظہار نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنی قومی تاریخ خود لکھنے کے بھی اہل نہ تھے۔ ایسے نو آبادیاتی حالات میں مغرب کے مستشرقین نے مشرق کی تاریخ لکھنا اپنا فرض سمجھا اس لیے انھوں نے ایشیاء کی جدید ثقافتی شناخت کی تشکیل اس نقطہ نظر سے کی کہ مغرب ہی دراصل ثقافتی معیار ہے جس کی مشرق کو تقلید کرنی چاہیے اور مغرب کی تقلید میں ہی مشرق کی بھلائی ہے لیکن پراسرار اور ناقابل فہم مشرقی لوگ نہ معلوم کن عوامل کی بنیاد پہ انحراف برتتے ہیں۔
مابعد نو آبادیات کی اصطلاح ایک ایسے تاریخی دور یا سماجی و سیاسی صورتحال کے لئے استعمال ہوتا ہے جو مغربی تسلط کے بعد کی دنیا کی منظر کشی کرتا ہے نو آبادیاتی نظام کے تحت غلام رکھے گئے لوگوں کی شناخت، تاریخ اور آزادی کی از سر نو حصول کے لئے غور و فکر اور کوششوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ٍ مابعد نو آبادیات میں مستقبل میں نو آبادیاتی اثرات سے کیسے بچا جا سکتا ہے اس پہ بھی غور ہوتا ہے ٍ نو آبادیات کی اصطلاح اس خیال سے متصادم ہے کہ اب دنیا حقیقت میں نو آبادیاتی اثرات اور عالمی سامراجیت کی نئی شکلوں سے پاک ہو چکی ہے۔ ما بعد نو آبادیاتی مفکرین کے خیال میں جدیدیت (modernity) اور روشن خیالی دراصل نو آبادیات کی توسیع کے ہی حربے ہیں اور یہ دونوں اتفاقی طور پہ نہیں آئے ہیں بلکہ گہری سوچ بچار کے بعد متعارف کرائے گئے ہیں ٍ نو آبادیات کی ویسے تو کئی شکلیں ہیں لیکن مابعد نو آبادیات میں جن دو ادوار پہ زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے ان میں انیسویں اور بیسویں صدی میں برطانوی سلطنت کا زوال اور ساٹھ، ستر کی دہائی میں افریقہ اور دیگر خطوں میں چلنے والی آزادای کی تحریکیں۔
نو آبادیات کی اصطلاح دور حاضر میں چلنے والی مقامی اقوام کی جہدوجہد کے تناظر میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ ما بعد ”نو آبادیات“ نو آبادیاتی غلبے کے خاتمے کے بعد کے دنیا کا مطالعہ ہے۔ یہ غلام اقوام کی تاریخ، زبان، شناخت اور آزادی کے بعد کے دور کا فکری مطالعہ بھی ہے۔ نو آبادیات کے مفکرین کے نزدیک نو آبادیات کے اثرات آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اس لیے اس کے خلاف مزاحمت کی ضرورت بھی برقرار ہے۔ اسی لئے مابعد نو آبادیات مطالعہ موجودہ دنیا کی تاریخ، ثقافت اور سیاست کو سمجھنے کے لئے اہم جہت فراہم کرتا ہے۔ ایڈورڈ سعید کے خیالات امریکہ اور یورپ جیسی سامراجی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں پہ تنقید کا محرک بنا۔ امریکی سامراجیت، عراق اور افغانستان میں برپا کی گئی ان کی بربریت، فلسطین میں اسرائیل کی سفاکیت کی حمایت پہ سعید کے کام کو معاصر دنیا میں بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سعید کی نظر میں سامراج آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے اور اس کا مقابلہ فکری اور علمی محاذ پہ کیا جانا ضروری ہے۔ سعید کی تحریریں آج بھی امریکی اور مغربی تسلط کے خلاف جہدوجہد کرنے والوں کو فکری بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

