مہاراجہ سورج مل جاٹ: تاریخ کا ایک دلچسپ کردار

مہاراجہ سورج مل جاٹ کی پہلی بڑی جنگ
سورج مل نے اپنی پہلی بڑی لڑائی 1745 ء میں چانڈوس میں لڑی۔ اس لڑائی کا پس منظر یہ تھا کہ مغل بادشاہ محمد شاہ، علی گڑھ کے نواب فتح علی خان سے کسی بات پر ناراض ہو گیا تو اس نے اسے سزا دینے کے لیے ایک افغان سردار اسد خان کو بھیجا۔ فتح علی خان کو محسوس ہوا کہ وہ ایک چھوٹا جاگیردار ہے اس لیے اسے کسی کی مدد کی ضرورت ہو گی تو اس نے مہاراجہ سورج مل جاٹ کو اپنی مدد کے لیے پکارا۔ سورج مل نے فتح علی کو مدد کی یقین دہانی کروائی اور اپنے بیٹے کی کمان میں ایک بڑی فوج بھیج دی۔ بعد ازاں حالات کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے وہ خود بھی علی گڑھ چلا گیا۔
اس جنگ کے نتیجے میں افغان جرنیل اسد خان مارا گیا اور مغل فوج کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ اس طرح فتح خان اپنی جاگیر کو بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس جنگ میں فتح خان کا کوئی خاص کردار نہیں تھا۔ مہاراجہ سورج مل جاٹ کو اس کا یہ فائدہ ہوا کہ وہ اب اس علاقے میں ایک قوت کے طور پر جانا جانے لگا۔
بگور کی جنگ: ایک طرف مہاراجہ سورج مل جاٹ اور دوسری طرف سات قوموں پر مشتمل فوج
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مہاراجہ سورج مل جاٹ کے والد اور جے پور کے راجہ جئے سنگھ کے آپس میں دوستانہ تعلقات تھے۔ مہاراجہ سورج مل جاٹ نے بھی ان تعلقات کو قائم رکھا۔ جئے سنگھ کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں ایشوری سنگھ اور مادھو سنگھ کے درمیان تخت کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ اس جنگ میں مہاراجہ سورج مل جاٹ نے ایشوری سنگھ کا ساتھ دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایشوری سنگھ بڑا تھا اور اس کا حق زیادہ تھا۔ 1748 ء میں ان کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوئی۔ اس کے مقابلے میں مراٹھوں، راٹھوروں، سیسودیا، ہڈا، کھیچی اور پنور حکمرانوں کے علاوہ مغلوں نے بھی مادھو سنگھ کی مدد کی۔ ایک طرف اکیلا ایشوری جبکہ دوسری طرف سات مختلف قوموں کی فوجیں تھیں۔ ایسے موقع پر ایشوری نے مہاراجہ سورج مل جاٹ کو مدد کے لیے بلایا۔
ایشوری کی اپنی فوج بہت کمزور تھی۔ یہ جنگ جاٹ فوج نے مہاراجہ سورج مل کی سربراہی میں مادھو سنگھ اور اس کے حامیوں کے خلاف لڑی۔ یہ جنگ بگرو میں لڑی گئی جو جے پور شہر کے بالکل پاس تھا جب کہ مہاراجہ سورج مل جاٹ کا علاقہ بہت دور تھا۔ یہ جنگ ایک طرح سے مادھو سنگھ کے گھر میں لڑی گئی جس کی وجہ سے اسے کئی فوائد حاصل ہوئے لیکن نتیجہ مہاراجہ سورج مل جاٹ کے حق میں نکلا۔
جے پور فوج کے ہراوّل دستے کی قیادت ٹھاکر شیو سنگھ کر رہے تھے۔ ایک گھمسان کی جنگ ہوئی۔ کہتے ہیں کہ اس جنگ میں مہاراجہ سورج مل جاٹ جس کی عمر اس وقت اکتالیس سال تھی نے خود بھی حصہ لیا اور اس کے ہاتھوں پچاس سے زائد لوگ بھی مارے گئے۔
آغاز میں فوج کی قیادت ایشوری سنگھ کر رہا تھا۔ ایک یقینی شکست کو دیکھتے ہوئے مہاراجہ سورج مل جاٹ نے تیسرے روز خود قیادت سنبھالی۔ سورج مل نے بڑی ہمت سے جنگ لڑی اور تقریباً یقینی شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح اس نے 1749 ء میں ایشوری سنگھ کو امبر کے تخت پر بٹھایا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہر طرف مہاراجہ سورج مل کی دھاک بیٹھ گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک بڑی فوج جو راٹھوروں، چوہانوں اور مراٹھوں، راجپوتوں اور مغلوں پر مشتمل تھی کو صرف ایک ہی شخص نے عبرت ناک شکست سے دو چار کر دیا۔ لگتا ہے کہ شاید ایسا کوئی بھی نہیں تھا جو مہاراجہ سورج مل جاٹ کے سامنے کھڑا ہو۔ وہ سب لوگ مہاراجہ سورج مل جاٹ کی ابھرتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ تھے۔ جنگ میں شکست نے انھیں مزید خوف زدہ کر دیا۔
میر بخشی کا مہاراجہ سورج مل جاٹ سے ایک معاہدہ
بھرت پور کے جاٹوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے دلی کا بادشاہ کچھ زیادہ ہی پریشان ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جاٹ مغل علاقوں پر قبضہ کر رہے تھے۔ فرید آباد جو کہ دلی کے بالکل پڑوس میں تھا پر قبضے نے مغل حکمرانوں کو ایک خوف میں مبتلا کر دیا۔ مغل بادشاہ احمد شاہ نے فرید آباد کی جاگیر صفدر جنگ کو دے دی اور اسے کہا کہ وہ مہاراجہ سورج مل جاٹ کے خلاف کارروائی کرے۔ اس نے مہاراجہ سورج مل جاٹ کو یہ علاقے چھوڑنے کا مشورہ دیا۔ جاٹ مکمل طور پر طاقت کے نشے میں چور تھے انھوں نے اسے نظرانداز کر دیا، اس کا نتیجہ تو جنگ ہی ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوا۔
نومبر 1749 ء میں صفدر جنگ اور میر بخشی نے مہاراجہ سورج مل پر مختلف سمت سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کا انھوں نے مہاراجہ سورج مل جاٹ کو پیغام بھی پہنچایا کہ شاید اسی ڈر سے کام ہو جائے لیکن نتیجہ الٹ نکلا۔ مہاراجہ سورج مل جاٹ کی طاقت کا اندازہ لگاتے ہوئے صفدر جنگ نے جنگ کی بجائے صلح کو ترجیح دی۔ ان دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کی رو سے مہاراجہ سورج مل جاٹ سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ فرخ آباد میں موجود ایک پٹھان سردار کو مارنے میں ان کا ساتھ دیں۔ مہاراجہ سورج مل جاٹ ایک سیانا آدمی تھی۔ اس نے اس کے بدلے ماتھورا کی فوجداری حاصل کرلی اور یوں بھرت پور کی ریاست کی حدیں مزید علاقوں تک پھیل گئیں۔ صفدر جنگ کا مکمل نام کچھ یوں تھا ”نواب آف اودھ، وزیر الملک، وزیر الہندوستان و صوبہ کشمیر، آگرہ اور اودھ خان بہادر میر آتش فردوس صفدر جنگ“ ۔ یہ شخص اس وقت مغل دربار میں سب زیادہ قابل اور بہادر وزیر تھا۔
میر بخشی بھی ایک مغل جرنیل تھا اسے مغلوں کے علاوہ بھی کئی لوگوں کی حمایت حاصل تھی جن میں اکثر مقامی راجپوت سردار تھے۔ میر بخشی نے سورج مل کے قلعے نمرانہ کو تباہ کرنے کے لیے میوات پر حملہ کیا اور 1749 ء کو اس پر قابض ہو گیا۔ سورج مل کی فوج نے پانچ ہزار جاٹ فوجیوں کے ساتھ میر بخشی کی فوج کو قید کر لیا۔ یہ ایک انوکھا واقعہ تھا کہ مہاراجہ سورج مل جاٹ نے ایک بڑی مغل فوج کو اپنا قیدی بنا لیا۔ اس کے نتیجے میں حکیم خان اور رستم خان جو ایک نامی گرامی جرنیل تھے مارے گئے اور بے شمار مغل فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاراجہ سورج مل جاٹ نے پانی، خوراک اور مواصلات کی فراہمی بند کردی اور یوں میر بخشی مہاراجہ سورج مل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔
اس معاہدے میں ایسی شرائط شامل تھیں جنہیں مغلوں نے کبھی بھی تسلیم نہیں کیا تھا لیکن اب انھیں کرنا پڑیں۔ جس میں سے سب سے اہم یہ تھی کہ آئندہ کسی مندر کی بے حرمتی نہیں کی جائے گی، ہندوؤں کے طرز عبادت پر کوئی تنقید نہیں ہوگی، علاقے میں موجود کسی بھی پیپل کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا۔ کیونکہ پیپل ہندوؤں کے نزدیک ایک مقدس درخت سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب جان کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب مہاراجہ سورج مل جاٹ یہ سارے کام بغیر لڑے صرف اپنی دھاک کے بل بوتے پر کر رہا تھا۔ اس کا نام ہی کافی تھا۔
گھیسرا قلعے کا قبضہ: مہاراجہ سورج مل جاٹ کا ایک عظیم کارنامہ
اس وقت کی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سورج مل نے صفدر جنگ سے دوستی کا بے حد سیاسی اور فوجی فائدہ اٹھایا۔ اسے مغل دربار تک رسائی اسی دوستی کی وجہ سے ملی اور اسے ماتھورا کی فوجداری اور ایک بڑی شاہی جاگیر کا حاکم بنایا گیا۔ اس طرح پہلی مرتبہ سورج مل، صفدر جنگ کی حمایت کی وجہ سے مغلیہ سلطنت کے شاہی علاقوں پر قانونی طور پر قابض ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے مفادات کی خاطر مغلوں کے ساتھ مل کر مقامی راجاؤں کے خلاف کئی جنگیں لڑیں جن میں سب سے اہم قلعہ گھیسرا کی جنگ ہے جو تین ماہ تک جاری رہی۔ اس کی ایک مختصر رُوداد پیشِ خدمت ہے۔
اٹھارہویں صدی کے وسط میں صفدر جنگ نے کوئیل علی گڑھ کے فوجدار، راؤ بہادر سنگھ کے خلاف ایک جنگ کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے اس نے مہاراجہ سورج مل جاٹ سے مدد کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی۔ اس جنگ میں دونوں طرف بے حد نقصان ہوا کیونکہ راؤ بہادر سنگھ بھی اپنے ہزاروں فوجیوں، مناسب خوراک اور ہتھیاروں کے ساتھ تیار تھا۔ اس جنگ کی تفصیلات بے حد دلچسپ ہیں۔
کئی ماہ کے محاصرے کے بعد حالات کا جائزہ لیتے ہوئے راؤ بہادر سنگھ نے اپنے لوگوں کے دباؤ میں آ کر اپنے ایک زخمی بھائی کو سورج مل سے مذاکرات کے لیے بھیجا۔ سورج مل بھی سیاسی فتح کو ترجیح دیتا تھا۔ اس نے دس لاکھ روپے ادا کرنے کی شرط اور تمام تر اسلحے سے دستبردار ہونے پر واپس جانا منظور کیا۔ اتنی شرمناک شرائط قبول نہ کی گئیں۔ اس پر سورج مل نے قلعے پر چاروں طرف سے شدید حملہ کیا۔ ایک ہی دن میں میر محمد پناہ سمیت پندرہ سو جاٹ فوجی مارے گئے لیکن وہ قلعے میں داخل ہو گئے۔ یہ سب دیکھ کر بہادر سنگھ نے جوہر یعنی اجتماعی خود کشی کا فیصلہ کیا۔ اس نے قلعے میں موجود تمام خواتین کو قتل کر دیا اور خود اپنے بیٹے اجیت سنگھ اور فوجیوں کے ساتھ ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے میدان میں آ گیا۔ چشم دید گواہ لکھتے ہیں کہ راؤ بہادر سنگھ اپنے بیٹے اجیت سنگھ کے ساتھ آخری لمحے تک لڑا اور میدان جنگ میں ہی مارا گیا اور یوں سورج مل نے گھیسرا کے قلعے پر قبضہ کر لیا۔ یہ جنگ بھی مہاراجہ سورج مل جاٹ نے اپنے نام کر لی۔
یہ سب جان کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس جنگ کے بعد جاٹوں اور راجپوتوں کے درمیان موجود خلیج مزید گہری ہو گئی اور اس کا فائدہ کسی تیسری طاقت کو پہنچ رہا تھا۔ مہاراجہ سورج مل جاٹ نے یہ جنگ ایک غیر ملکی مسلمان حکمران کی خاطر لڑی۔ اس کے نتیجے میں اس کی سلطنت میں تو ضرور اضافہ ہوا لیکن صدیوں سے قائم ایک راجپوت ریاست کا خاتمہ ہو گیا۔ اس جنگ میں جوہر کی رسم بھی دہرائی گئی۔ اس وقت عورتوں کو کسی غیر ملکی مسلمان جنگجو سے تو خطرہ نہیں تھا لیکن ایک ہندوستانی ہندو جنگجو سے ضرور تھا جس کے ڈر سے ان کے مردوں نے اپنی عورتوں کا قتل عام کیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں اپنی بہنوں، بیٹیوں، ماؤں اور بیویوں کے قتل کا تصور اب بھی مجھے لرزا دیتا ہے۔

