عفت نوید کا افسانوں کا مجموعہ ”ردّی“
”ادب عام لوگوں کے بارے میں کچھ غیر معمولی دریافت کا فن ہے اور عام الفاظ سے کچھ غیر معمولی کہنا ہے۔“ ویسے تو یہ الفاظ ہیں ”ڈاکٹر ژواگو“ جیسی شہرہ آفاق کتاب کے ادیب بورس پاسٹرنک کے، لیکن عفت نوید کے افسانوی مجموعہ ”ردّی“ کو پڑھتے ہوئے مجھے بار ہا اس جملے کی صداقت پہ سر دھننے کا جی چاہا۔ عفت کے سادہ زبان اور عام فہم انداز میں لکھے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے سماج کے نظر انداز کیے ہوئے عام بلکہ دھتکارے ہوئے لوگوں کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان کے قلم نے ایک ماں کی طرح ان کرداروں کو بڑی محبت بہت چاؤ سے اپنے وجود سے تراشا، سینے سے لگایا، انہیں اعتبار اور وقار دیا، اور انہیں غیر معمولی ہی نہیں بلکہ لافانی کردار بنا دیا۔ عفت کی تحریر میں روانی، سادگی، رجائیت، اوریجنیلٹی، بے ساختگی، انسانی نفسیات اور جزئیات کے بیان میں کمال ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کو غیر ضروری طول دینے کے بجائے فنکارانہ ہنرمندی سے سوالیہ انداز میں وہیں چھوڑ دیا کہ جہاں پڑھنے والے میں حیرت و استعجاب اور سوچ کا عمل کھدبدانے لگتا ہے۔ اور یہ ہی ایک پختہ کار ادیب کا کمال ہے کہ اس کی تحریر وجود میں ارتعاش اور ذہن کے تار جھنجھوڑنے پہ مجبور کردے۔ وہ جواب دینے کے بجائے سوال پہ اکساتی ہے۔
عفت نے پچیس سال قبل شادی کے بعد افسانہ ”ردّی“ سے اپنے باقاعدہ افسانوی سفر کا آغاز کیا۔ شادی سے پہلے جو لکھا، شاید اس کو قابل ذکر نہ سمجھا۔ لیکن اردو ادب کے نمائندہ شاعر میر احمد نوید سے شادی کے بعد شوہر کی ادبی قامت نے انہیں خالصتاً ادبی تخلیقات کے اظہار سے دانستہ کچھ دور رکھا۔ شاید بڑے درخت کے سائے تلے اپنی چھاؤں پہ اعتماد کم ہوجاتا ہے۔ پھر عرصہ تک تواتر سے نہ لکھنے کا المیہ یہ بھی تھا جو اور بہت سی خواتین ادیب کا ہوتا ہے۔ عفت لکھتی ہیں۔ ”کئی افسانے ذہن میں بنے مگر قلم کی نوک پر آنے سے پہلے ہی کوئی واشنگ مشین میں دھلا، کوئی خیال جھاڑو دیتے ہوئے سمٹا، کوئی کہانی روٹی بناتے ہوئے توے پر رہ گئی۔“
لیکن افسانہ ”ردی“ کی ایک ادبی رسالے میں اشاعت نے ان کو اعتماد اور حوصلہ دیا۔ یوں باقاعدہ افسانے لکھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اب یہ بات اور ہے کہ افسانوں کے مجموعے کی اشاعت سے پہلے ان کی خودنوشت ”دیپ جلتے رہے“ منظر عام پہ آئی۔ پوری سچائی اور جرات مندی سے لکھی یہ خودنوشت بحیثیت ایک ادیب ان کا بھرپور تعارف بنی، جس نے انہیں زندگی کے مسائل سے نپٹتی اور سماج میں پھیلی کمینگیوں، نا انصافیوں، بدعنوانیوں سے آگہی رکھنے والی سچی قلمکار کی حیثیت سے منوایا۔ ان کی خودنوشت اُس سال اشاعتی ادارے ”علم و آگہی“ کی بہترین کتاب کے انعام کی حقدار قرار پائی۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جنہوں نے ان کی خودنوشت پڑھی ہے، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ عفت کے افسانے آئینہ ہیں جن میں جابجا ان کی زندگی جھانکتی ہے۔ زندگی میں بہت سی کٹھنایوں سے گزرنے کے باوجود ہم ان کی دبنگی، سچائی اور مثبت انداز فکر کو افسانے کے کرداروں کی صورت دیکھتے ہیں۔ ان کا قلم ذات سے اٹھ کر عالمگیر سطح پہ پھیلے سماجی مسائل پہ بات کرتا ہے جو بڑے ادب کی نشانی ہے۔
عفت نے وکالت پڑھی اور ابتدا میں بطور وکیل کام بھی کیا۔ گو بعد میں تدریس کے شعبہ کو اپنایا۔ یہی وجہ ہی کہ وہ اپنے افسانوں کے کرداروں کے لیے نہ صرف انصاف کی متلاشی رہتی ہیں۔ بلکہ ایک عمدہ استاد کی طرح انسانی نفسیات پہ بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ادبی افسانوں سے جب کہانی کا عنصر معدوم ہو کر ابہام، تجریدیت اور علامات تک محدود ہو جائے تو عام پڑھنے والے کا ناتا ادب سے شکستہ ہوجاتا ہے۔ عفت نے کہانی کے عنصر کو برقرار رکھتے ہوئے ابہام اور کہانی کے درمیان توازن رکھا ہے اور اپنے پڑھنے والوں سے ناتا منقطع نہیں کیا۔ ان کی ساری ریاضت ہی عام انسانوں کے مسائل سے جڑے رہنے کی ہے۔
کم و بیش ڈھائی دہائیوں پہ محیط ان کے افسانوی سفر کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بتدریج اپنی لگن اور سخت محنت کی وجہ سے وہ اہم پختہ کار ادیبوں کی صف میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ ”ردّی“ کل چھبیس افسانوں پہ مشتمل ہے۔ یہ افسانے محض خلاؤں میں بسے تصورات سے کشید نہیں کیے گئے بلکہ ذاتی تجربات، گہرے مشاہدات اور انسانوں کے مسائل سے جڑی حسیات کا نچوڑ ہیں۔
اس مجموعہ کا نمائندہ افسانہ ”ردی“ ایک استاد اور آگہی اور فلسفہ کا گیان لیے ایسے سچے ادیب کی کہانی ہے کہ جس کی دانش مندی اور فراست کی کہانیاں رسالے کے ایڈیٹر کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر تھیں۔ ”میاں فلسفہ نہیں، لوگ فلسفہ نہیں سمجھتے کوئی پھڑکتی سلگتی تحریر لکھو۔“ لہٰذا ہمارا قلمکار ایڈیٹر کے مطالبے کے پیش نظر اپنی کہانی بار بار لکھتا اور رد کرتا ہے۔ اس طرح ایک سچے ادیب کی تحریر ردی کا انبار بن جاتی ہے۔ یہ کہانی ادب کی ناقدری کرنے والے سماج پہ طنز اور سچے قلمکار کا نوحہ ہے۔
”بانجھ“ ہیجڑوں کی کہانی ہے جن کو سماج نے ہمیشہ اپنے ظلم و ستم اور تمسخر کا نشانہ بنایا۔ جنہیں ان کے والدین نے بھی دھتکار دیا عفت کا قلم ان کی آواز بنتا ہے۔ ”ہمیں تو کوئی نوکری دیتا ہے نہ بھیک۔ اور ملے بھی کیسے، نہ کوئی معذوری نہ بال بچے۔ کس سہارے پر کوئی ہمدردی کرے گا۔ مسکراتے ہوئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور اگلا بھی مسکراتے ہوئے نظر ڈال کے آگے بڑھ جاتا ہے۔“
افسانہ ”اورنج ڈبہ“ محلے سے کچرے کا اورنج ڈبا اٹھانے والے نوجوان لڑکے کی کہانی ہے جسے کرونا کی وبا کے زمانہ میں لکھا گیا۔ جب دنیا موت کے ڈر سے گھر بیٹھی ہے یہ نوجوان رزق کمانے کے لیے جان کی پرواہ کیے بغیر کوڑا اٹھا رہا ہے۔ اسے اپنی محنت کشی اور عظمت کا نہ اعتراف ہے نہ آگہی۔ جب اس کی اس کے بڑے کام کی بنا پہ تصویر کھینچی جاتی ہے تو وہ حیران ہوتا ہے۔ ”بڑا کام“ وہ طنزیہ ہنسا۔ ”ہم کون سا حکومت کرتا ہے۔ حکومت کرنا بڑا کام ہے۔“
”چار بج کے نو منٹ“ ماں اور بیٹے کے مابین دو نسلوں کی تفاوت کی کہانی ہے جو بہت حساس اور دلوں کو چھوتی ہوئی ہر گھر کی کہانی ہے۔ جانے کیوں اس کہانی نے مجھے راجندر سنگھ بیدی کی کہانی ”صرف ایک سگریٹ“ کی یاد دلا دی۔ جس کا موضوع بھی یہی ہے۔ جو باپ اور بیٹے کے تعلق کے حوالے سے ہے۔ لیکن عفت کی کہانی میں ماں کی محبت کا والہانہ پن ہے جس کی شدت سے اس کے چھبیس سالہ بیٹے کی شخصی آزادی کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ اپنی شناخت کی تگ و دو میں بالآخر وہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور جدائی کے اس لمحہ میں گھڑی چار بجکر نو منٹ بجا رہی تھی۔ اس وقت کو ماں نے گھڑی میں منجمد کر دیا۔ یہ افسانہ یقیناً ہم سب خاص کر ان والدین کے لیے اہم ہو گا۔ جو اپنے جوان ہوتے بچوں کی خودمختاری اور خود شناسائی کی تلاش کی ضرورت اور اہمیت کو نہیں سمجھ پا رہے۔
”بیل، بکرا اور میری ماں“ منافق سماج کے دوغلے پن پہ قدرے لطیف پیرائے میں لکھا بیانیہ افسانہ ہے۔ جس میں ایک بیٹا اپنی استانی امی کے متعلق متکلم ہے۔ اور جاننے والے جانتے ہیں کہ استانی کے پیرہن میں یہ کوئی اور نہیں ہماری اپنی عفت نوید ہیں۔ ”وہ بہت محنتی، ذہین، خوددار، سلیقہ مند عورت تھیں۔ کسی سے مشکل وقت میں مدد طلب کی تھی نہ کسی کی ہمدردی پسند کرتی تھیں۔ ان کی آنکھوں نے زمانے کی بڑی تلخ سچائیاں دیکھی تھیں جو ساری کی ساری ان کی آنکھوں کے ڈیلوں میں سما گئی تھیں۔“ اس افسانے میں استاد کے سماجی اسٹیٹس اور سوچ کی زبوں کا رونا ہے۔
افسانے ”کہانی کا رزق“ کے کچھ جملے پڑھیے۔ ”امیر کی کہانی کا اختتام علامتی اور غریب کی کہانی کا اختتام ملامتی ہوتا ہے۔ غریب نہ ہوں تو سیاستدان کی تقریر، مصنف کی تحریر اور مصور کا کینوس پھیکا رہ جاتا ہے۔ مفلسی ایک عذاب ہے، قریب سے نہیں دیکھی جاتی۔ لیکن عالیشان گھروں کی دیواروں کے تصویریں صاحب کے اعلیٰ ذوق کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔“
طوالت کے پیش نظر میرا یہ مضمون تمام افسانوں پہ بات کرنے کا متحمل نہیں لیکن ان کے قلم کی چابکدستی سے لکھا ہر افسانہ پڑھنے والے کو چونکاتا اور احتجاجی پیغام دیتا ہوا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان افسانوں کو پڑھنے کے بعد آپ ”ردّی“ کو اپنے سب سے قیمتی کتابوں کے شیلف میں جگہ دیں گے۔
نوٹ: آپ اس نمبر پر رابطہ اور ایزی پیسہ کر کے اپنی کتاب منگوا سکتے ہیں۔ کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔
03412809946
سید احمد حسنین جعفری



