درخت لگاؤں یا درخت بچاؤں؟

بلوچستان میں ضلع لسبیلہ کی سرزمین ہمیشہ سے اپنے قدرتی حسن اور سرسبز جنگلات کی وجہ سے منفرد رہی ہے۔ جنگلات نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ موسمیاتی توازن، آبی وسائل کے تحفظ، اور آکسیجن کی فراہمی میں بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، گزشتہ چند دہائیوں سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے اور اس عمل نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ایک طرف درخت لگانے کی مہمات چلائی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف پہلے سے موجود درختوں کی حفاظت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی۔ تاریخ گواہ ہے ہم جب بھی ماحول کو بچانے کی بات کرتے دیکھا تو درخت لگانے کو ترجیح دی مگر بچانے کو نہیں دی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ درخت لگانے سے زیادہ ضروری ان کی بقا کو یقینی بنانا ہے۔ ایک درخت کو تناور ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، جبکہ اسے کاٹنے میں چند لمحے درکار ہوتے ہیں۔ جنگلات صرف ماحول کا حسن نہیں بلکہ پورے ایکو سسٹم کا اہم جز ہیں۔ ان کی غیر قانونی کٹائی کا مطلب نہ صرف ماحولیاتی تباہی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک حالات پیدا کرنا بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض درخت لگانے سے ماحولیاتی بحران حل ہو سکتا ہے؟ اگر ایک طرف پانچ فیصد نئے درخت لگا کر دوسری طرف پچاس فیصد درخت کاٹ دیے جائیں تو اس کا کیا فائدہ؟ میرے خیال سے فائدے سے زیادہ نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔
جنگلات کی کٹائی آج ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بلوچستان میں خاص طور پر لسبیلہ جیسے اضلاع میں یہ عمل تیزی سے جاری ہے۔ محکمہ جنگلات کا بنیادی کام درختوں کی حفاظت ہے، مگر صورتحال یہ ہے کہ یہاں ضلعی افسر بننے کے لیے سفارش اور بھاری رقومات درکار ہوتی ہیں۔ مستند ذرائع کے مطابق، کسی من پسند علاقے میں تعیناتی کے لیے لاکھوں یا کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، کیونکہ اس سے غیر قانونی لکڑی کی فروخت کا ایک ایسا دھندا جڑا ہوا ہے جو کئی افراد کے مالی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ جو افسران ان عہدوں پر آتے ہیں، وہ جنگلات کی بقا کے بجائے اپنے مالی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یعنی مذکورہ ادارے میں بطور ملازم لگنے سے زیادہ اپنی من پسند جگہ پر پوسٹنگ زیادہ مہنگی اور مشکل ہے جس کا حساب کتاب ایڈوانس پیمنٹ کروڑوں میں باقی ماہ وار بھتہ کی بروقت ادائیگی بھی لازمی ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف درخت لگانے کو ماحولیاتی تحفظ سمجھنا غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ ورلڈ سسٹینبلٹی گولز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صرف نئے درخت لگانے سے ماحول کا تحفظ ممکن نہیں، بلکہ پہلے سے موجود قدرتی وسائل، خاص طور پر جنگلات کو محفوظ بنانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ پائیدار ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے ہم جنگلات تباہ کر دیں اور بعد میں چند درخت لگا کر اسے ترقی کا نام دے دیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ درخت لگانے کی مہمات تب تک بے معنی ہیں جب تک جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر قابو نہیں پایا جاتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر قانونی کٹائی کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی کی جائے، محکمہ جنگلات میں شفافیت لائی جائے، اور عوام کو اس معاملے میں شامل کیا جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کی سرزمین سرسبز رہے اور موسمیاتی توازن برقرار رہے، تو ہمیں صرف درخت لگانے کے بجائے، درخت بچانے پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ بصورت دیگر، ہم ایک ایسا بنجر اور خشک ماحول اپنی آئندہ نسلوں کے لیے چھوڑ جائیں گے جہاں زندگی کی بقا مشکل ہو جائے گی کیونکہ جب سانس لینا مشکل ہو پھر زندگی کی باقی سہولیات کا کام کی۔
حیران کن بات یہ ہے جب درخت لگانے کی مہم شروع ہوتی ہے تو جنگلات کے افسر ضلعی انتظامیہ پیش پیش ہوتی ہے مگر جب درخت بچانے کی بات آتی ہے تو ان کا دور دور تک نظر آنا مشکل ہے تو آج تک جتنی بھی درخت لگاؤ مہم دیکھی گئی ہے اس کا کوئی موثر نتیجہ نہیں دیکھا گیا بلکہ مذکورہ جنگلات کا ادارہ یا اس سے منسلک ماحول بچاؤ پروجیکٹ کی مد میں کروڑوں روپے کی خرد برد ہوتی ہے مگر نتیجہ پھر بھی زیرو ہوتا ہے۔
بعض اوقات درختوں کی کٹائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ترقیاتی منصوبے، رہائشی ضروریات، زرعی زمینوں کی توسیع، اور بیمار یا کمزور درختوں کو ہٹانے جیسے عوامل کے باعث درختوں کی کٹائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب درختوں کی کٹائی ایک منافع بخش کاروبار بن جائے اور بے دریغ جنگلات کا صفایا کر دیا جائے۔
یہاں توازن کا اصول اپنانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر کسی مقام پر درختوں کی کٹائی کی ضرورت پیش آئے تو اس کے بدلے میں نئے درخت لگانے کی ذمہ داری بھی پوری کی جانی چاہیے۔ ایک درخت کاٹنے کے بدلے میں کئی نئے درخت لگانا چاہیے تاکہ قدرتی ماحولیاتی نظام متاثر نہ ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں درختوں کی کٹائی کے ساتھ متبادل شجرکاری کی جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں جنگلات کے خاتمے کے بعد اس کی بحالی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔

