ادب احترام اور وفا کا دوسرا نام: چودھری علی محمد


چودھری بھولا خان دریا جہلم کے بائیں کنارے پر آباد گاؤں کے بڑے زمیندار تھے۔ کھیتی باڑی سے گزر اوقات ہو رہی تھی۔ 1924 ء کے موسم سرما میں اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ پہلوٹھی کے بیٹے کی پیدائش پر چودھری بھولا خان اور ان کی بیوی حفیظاں بی بی بہت خوش تھے۔ بیٹے کی پیدائش پر چودھری بھولا خان نے اپنے پیر خانہ میں حاضری دی اور بڑے پیر صاحب سے بیٹے کی طویل عمری کی دعا کے ساتھ اُس کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی۔ بڑے پیر صاحب نے بیٹے کی درازی ِعمر کی دعا فرماتے ہوئے اس کا نام علی محمد تجویز کیا۔ چودھری بھولا خان اور حفیظاں بی بی کے گھر میں خوشیوں کی بہار آ گئی۔

بڑے پیر صاحب کے اکلوتے بیٹے نوجوانی میں ہی نہر اپر جہلم کی تعمیر کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہو کر اپنے دائیں بازو سے محروم ہو گئے تھے۔ 1925 ء میں دہلی سے واپس آ کر اُنھوں نے گاؤں میں ہی ایک دواخانہ قائم کر لیا تھا۔ اُن کی شادی کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا تھا لیکن ابھی تک اولاد کی خوشی سے محروم تھے۔ بڑے پیر صاحب کی وفات کے بعد پیر خانہ کی گدی اُنھوں نے سنبھالی۔ چودھری بھولا خان کو پیر صاحب اپنے چھوٹے بھائی کا درجہ دیتے تھے۔ حفیظاں بی بی کو پیر صاحب کی والدہ اپنی بیٹی سے بڑھ کر چاہتی تھیں۔ پیر صاحب بھی انھیں اپنی سگی بہن سمجھتے تھے۔ چودھری بھولا خان کے گھر بیٹی کی پیدائش ہوئی تو بی بی صاحبہ نے اس کا نام فاطمہ بی بی رکھا۔ پیر صاحب ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ اس دفعہ جب دونوں میاں بیوی پیر خانہ گئے تو بی بی صاحبہ کے اولاد کے دکھ کو دیکھتے ہوئے حفیظاں بی بی نے اپنے بیٹے کو بی بی صاحبہ کی گود میں دینے کا فیصلہ کر لیا۔ علی محمد کی عمر اس وقت پانچ سال تھی۔ حفیظاں بی بی اور چودھری بھولا خان نے اپنی خوشی سے علی محمد کو پیر صاحب کی فرزندی میں دے دیا۔ بی بی صاحبہ نے علی محمد کو اپنی گود میں چھپا لیا۔ دونوں میاں بیوی کو یقین تھا کہ ان کا بیٹا پیر صاحب کے گھر میں بہت اچھی پرورش پائے گا۔ خاندان والوں نے انھیں بہت سمجھایا کہ کیوں اپنے بیٹے کو غیروں کے حوالے کر رہے ہو۔ چودھری بھولا خان خود تو اَن پڑھ تھے لیکن دُوربین اور معاملہ فہم تھے اس لیے اپنے بیٹے کو علم کی روشنی سے بہرہ ور کرنا چاہتے تھے۔ اُن کے گاؤں سے سکول بہت زیادہ فاصلہ پر تھا۔ ریاست کشمیر میں پیر صاحب کے گاؤں کے نزدیک مڈل سکول تھا جہاں علی محمد داخل ہو سکتا تھا۔

علی محمد بچپن سے مضبوط ہاتھ پاؤں کا مالک تھا۔ اپنی عمر کے بچوں سے قد کاٹھ اور صحت کے لحاظ سے بڑا نظر آتا تھا۔ بڑا پھرتیلا تھا۔ گو کہ بی بی صاحبہ اسے کام نہیں کرنے دیتی تھیں لیکن پھر بھی وہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بی بی جی کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ علی محمد ہر وقت بی بی صاحبہ کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ چھ سال کی عمر میں پیر صاحب نے علی محمد کو نزدیکی گاؤں سموال کے مڈل سکول میں داخل کرایا۔ علاقے کا یہ اس وقت واحد مڈل سکول تھا۔ بی بی صاحبہ صبح سویرے ناشتہ کروا کر علی محمد کو تیار کرتیں اور گاؤں کے سکول جانے والے بڑے بچوں کو علی محمد کا خیال رکھنے کی ہدایت کر کے ان کے ساتھ سکول روانہ کر دیتیں۔ دوپہر ڈھلتے ہی اس کی واپسی کا انتظار شروع ہو جاتا۔ واپس گھر پہنچنے پر بی بی صاحبہ اس کا ہاتھ منہ دھلا کر کھانا دیتیں۔ پیر صاحب بھی اسے اپنے بچوں کی طرح چاہتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ علی محمد پیر صاحب کے گھر کا ایک فرد بن گیا۔ سات سال کا عرصہ لگتا تھا پل گزرتے میں گزر گیا تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں چودھری بھولا اور حفیظاں بی بی آ کر علی محمد کو اپنے ساتھ گاؤں لے جاتے اور دو تین ہفتہ بعد واپس چھوڑ جاتے۔

علی محمد تیرہ سال کا ہو چکا تھا۔ اب وہ آٹھویں جماعت میں تھا۔ پڑھائی کے علاوہ کھیل کود میں بھی وہ بہت پھرتیلا تھا۔ سکول کی کبڈی ٹیم کا وہ کپتان تھا۔ دوسرے کھیلوں میں بھی وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ پڑھائی میں لائق ہونے اور کھیلوں میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ سکول کے ہیڈ ماسٹر کرپال سنگھ کا پسندیدہ طالب علم تھا۔ گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ مل کر وہ دوسرے کئی گاؤں کے لڑکوں کو ونگار کر ان سے کبڈی میچ جیت چکے تھے۔ علاقہ میں بازو گیری میں بھی اپنی دھاک بٹھا چکا تھا۔ پیر صاحب اور بی بی صاحبہ کی تربیت کی وجہ سے وہ ایک سمجھ دار اور نیک سیرت بچہ بن گیا تھا جو اب لڑکپن کی حدود سے نوجوانی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پیر صاحب کے گاؤں کے لوگ بھی علی محمد کو بہت پسند کرتے تھے۔

علی محمد نے مڈل سکول سموال سے مڈل کا امتحان پاس کر لیا تھا۔ کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی جہاں نوکریاں صرف ریاستی باشندوں کو ملتی تھیں وہ بھی زیادہ تر ہندوؤں کو۔ علاقہ میں اس وقت تک کوئی ہائی سکول نہیں تھا۔ بی بی صاحبہ علی محمد کو بیٹوں کی طرح چاہتی تھیں۔ علی محمد بھی بی بی جی کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا۔ پیر صاحب جہاندیدہ انسان تھے۔ آج نہیں تو کل علی محمد نے اپنے والدین کے پاس جانا ہی تھا اس لئے پیر صاحب نے علی محمد کو اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دے دی بلکہ بی بی جی کو ساتھ لے کر علی محمد کو چھوڑنے کے لیے اُن کے گھر پہنچ گئے۔ ان دنوں سواری کا کوئی بندوبست نہیں تھا اس لئے زیادہ تر سفر پیدل ہی طے کرتے تھے۔

نہر کے ساتھ کچی سڑک بنی ہوئی تھی لیکن ریاست کی حدود میں اس سڑک پر مہاراجہ کی سواری کے علاوہ کسی کو اس پر چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ چودھری بھولا خان اور حفیظاں بی بی اپنے گھبرو بیٹے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ پیر صاحب نے علی محمد کو اتنا عرصہ ان کے پاس رکھنے پر دونوں میاں بیوی کا شکریہ ادا کیا۔ علی محمد نے انھیں اولاد کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔ چودھری بھولا خان پیر صاحب کے انتہائی احسان مند تھے جن کے پاس رہ کر ان کے بیٹے نے مڈل پاس کر لیا تھا۔

گھر میں دیسی خوراک اور گھی مکھن کھا کر دو سال میں ہی علی محمد گھبرو جوان بن گیا تھا۔ میلوں ٹھیلوں میں کبڈی اور بازو گیری کے مقابلوں میں جب وہ لنگوٹ باندھ کر میدان میں نکلتا تو لوگ ان کے جسم کی بنتر دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ نے ہندوستان میں فوج کی بھرتی شروع کی۔ فوج کی پکی نوکری، ڈسپلن، پنشن اور وردی کے علاوہ سرکاری نوکری ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے لیے بڑی کشش رکھتی تھی۔ جہلم شہر میں بھرتی کا دفتر قائم ہوا تو علاقہ کے گاؤں میں منادی کروائی گئی۔ اکلوتا اور لاڈلا بیٹا ہونے کی وجہ سے حفیظاں بی بی کی مرضی نہیں تھی کہ علی محمد فوج میں بھرتی ہو کر لام پر چلا جائے لیکن چودھری بھولا خان کی دور اندیش نظریں بیٹے کا مستقبل دیکھ رہی تھیں۔ وہ بیٹے کو لے کر بھرتی سینٹر گئے تو بھرتی ٹیم نے علی محمد کا ڈیل ڈول اور تعلیم دیکھ کر فوراً انھیں بھرتی کر لیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کا زمانہ تھا۔ ٹریننگ مکمل ہوتے ہی انھیں برما کے محاذ پر بھیج دیا۔ جنگ کے خاتمہ پر آپ واپس لاہور آ گئے۔ کھیلوں میں شرکت اور کسرت کرنے کی وجہ سے فوج میں ان کے سینئر نے خصوصی خوراک کا انتظام کر دیا۔ فوج میں وہ کبڈی، بیڈ منٹن، فٹ بال اور دوسرے کھیلوں میں اپنی یونٹ کی نمائندگی کرنے لگے اور بہت سے مقابلوں میں فتح دلوائی۔ ان دنوں مختلف دیہات میں درباروں پر میلے لگتے تو ان میں مختلف کھیل بھی رکھے جاتے۔ بازو گیری، کبڈی، اور تَلیاں ان دنوں دیہات کے مقبول کھیل ہوتے تھے۔ تَلیاں پنجاب میں طاقت کا ایک کھیل ہے۔ جس میں دو پہلوان حصہ لیتے ہیں۔ ایک پہلوان چھاتی تان کر اکھاڑے میں کھڑا ہوتا ہے اور دوسرا پہلوان دور سے دوڑ کر آتا ہے اور اپنے دونوں ہاتھوں کی تَلیاں اپنی پوری قوت سے کھڑے ہوئے پہلوان کے سینے پر مارتا جو پہلوان گر جائے وہ ہار جاتا ہے۔ اب پنجاب میں بھی یہ کھیل مفقود ہو گیا ہے۔ علی محمد جب بھی وہ دو ماہ کی چھٹیوں پر گھر آتے تو ایسے میلوں میں ضرور شامل ہوتے اور اپنی طاقت اور کھیلوں میں مہارت کی دھاک بٹھا دیتے۔ مختلف میلوں میں کھیلوں کے مقابلوں میں آپ کو خصوصی طور پر بلایا جانے لگا۔ وہ فوج سے ایک دو دن کی چھٹی لے کر ایسے مقابلوں میں حصہ لیتے۔ چھٹی پر آنے کے بعد ہمیشہ وہ اپنے پیر خانہ پر حاضری دیتے۔ بی بی صاحبہ اب بھی ان سے بیٹوں کی طرح محبت کرتی تھیں۔ پیر صاحب بھی انھیں بیٹوں کی طرح چاہتے تھے۔ کھیلوں کے ہر مقابلے میں جانے سے پہلے وہ پیر صاحب کے پاس ان کی دعا لینے کے لیے حاضری دیتے اور پھر وہ میدان میں اترتے اور ہمیشہ جیت جاتے۔ آس پاس کے علاقوں میں ان کو لوگ کھیل کی وجہ سے جاننے لگ گئے تھے۔ گاؤں کے رواج کے مطابق وہ تہبند اور کرتا پہنتے تھے۔ جب یونٹ میں ہوتے تو وردی کے بعد پتلون قمیض ان کا پہناوہ تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ تر وہ تہبند کرتا ہی پہنتے تھے لیکن شلوار قمیض بھی وہ اکثر پہنتے تھے۔ پاؤں میں عموماً کھُسّہ اور سر پر صافہ رکھتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد ان کی یونٹ لاہور میں تھی۔ پیر صاحب کے بھائی صوبیدار صاحب کی پوسٹنگ بھی ان دنوں لاہور میں تھی۔ وہ دھرم پورہ میں رہتے تھے۔ علی محمد اکثر ان سے ملنے دھرم پورہ جایا کرتے تھے۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، سیاہ چمکدار بال، تلوار جیسی بڑی بڑی مونچھیں۔ روشن آنکھیں، کسرتی بدن پینٹ شرٹ میں جب وہ باہر نکلتے تو لوگ مڑ مڑ کر انھیں دیکھتے تھے۔ صوبیدار صاحب کے پڑوس میں آباد ایک خاندان نے جب لمبے چوڑے وجیہہ فوجی جوان کو دیکھا تو ان کے دل میں اسے اپنے خاندان میں شامل کرنے کی امنگ جاگ اُٹھی۔ خاندان کے سربراہ نے اپنے گھر بلا کر اپنی بیٹی سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ علی محمد نے والدہ اور پیر صاحب سے اجازت لینے کے بعد بات بڑھانے کی بات کی۔ چھٹی لے کر والدہ کے پاس آئے اور انھیں صورت حال سے آگاہ کیا۔ والدہ نے بتایا کہ آپ کی نسبت تو ہم نے آپ کے ماموں کے گھر پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ اس کے بعد وہ پیر صاحب کے پاس حاضر ہوئے۔ پیر صاحب سے اس بارے میں بات کی تو انھوں نے پوچھا کہ والدہ کیا کہتی ہیں۔ ان کی والدہ کا جواب سن کر پیر صاحب نے کہا کہ جو والدہ کہتی ہیں وہی کرو۔ انھوں نے دوسری بات نہیں کی اور اگلے ماہ اماں جان کی پسند سے شادی کر لی۔

جمعدار (اب نائب صوبیدار) کی حیثیت سے فوج سے ریٹائرمنٹ ہوئی تو ابھی بھرپور جوان تھے۔ گاؤں میں دو تین ماہ ہی گزارے تھے کہ ان کی یونٹ کے ایک میجر صاحب کی پوسٹنگ جہلم میں انجینئر سٹور ڈپو میں ہوئی۔ میجر صاحب نے انھیں گاؤں سے بلایا اور ای ایس ڈی کی سکیورٹی کا انچارج بنا دیا۔ اسی اثنا میں دریا جہلم میں طغیانی آئی اور دریا کے کنارے آباد ان کے گاؤں کو بہا کر لے گئی۔ گاؤں کا جانی نقصان تو کوئی نہیں ہوا لیکن گھر اور ڈھور ڈنگر سب کچھ دریا کے پانی کی نذر ہو گیا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ پر پنشن کی کمیوٹیشن کی جو رقم ملی تھی اس سے دریا کی حدود سے باہر ایک بڑے احاطہ میں سارے خاندان کے لیے مکانات تعمیر کیے۔ اپنے والد چودھری بھولا خان کی وفات کے بعد اب وہی خاندان کے سربراہ تھے۔ ستر کی دہائی میں ان کے جوان بہنوئی اور نوجوان بھانجے کی ناگہانی وفات ہو گئی۔ یہ صدمہ بڑے صبر و تحمل سے برداشت کیا اور اپنے بچوں کے ساتھ بہن کے بچوں کی پرورش بھی اپنے ذمہ لے لی۔ اُن کی ٹرانسفر جہلم سے لائل پور کے نزدیک چک جھمرہ میں ہو گئی تو گھر سے بہت دور تھا لیکن خاندان کی ذمہ داریوں کی وجہ سے نوکری چھوڑنا بھی محال تھا اس لئے مجبوراً دو سال چک جھمرہ میں گزارنے پڑے۔ انجینئر سٹور ڈپو میں چوبیس سال کی ملازمت کے بعد 1984 ء میں ان کی ریٹائرمنٹ ہو گئی۔ ریٹائرمنٹ کے کچھ ماہ بعد ہی ان کے ایک پرانے ساتھی اُنھیں اپنے ساتھ سنگجانی کی ایک فیکٹری میں لے گئے اور ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے فیکٹری کی سیکورٹی کی ذمہ داری انھیں سونپ دی لیکن ایک سال بعد ہی خاتون خانہ کی بیماری کی وجہ سے وہ نوکری چھوڑ کر گھر واپس آ گئے۔ جوان داماد کی اچانک وفات ان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا جس کے کچھ عرصہ بعد پہلے خاتون خانہ اور پھر اپنی بہو جو ان کی سگی بھانجی تھی، کی کینسر سے وفات پر وہ اندر سے بہت دکھی ہو گئے تھے لیکن اپنا رنج و غم کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ بڑے بیٹے طارق اور بیٹی کی اولاد نہ ہونے کا بھی انھیں بہت دکھ تھا لیکن وہ بڑے حوصلہ اور ہمت والے تھے اتنی مشکلات کے باوجود انھوں نے حوصلہ نہیں چھوڑا۔

راقم نے جب ہوش سنبھالا تو ہم سب بہن بھائی چودھری علی محمد کو اپنا بڑا بھائی سمجھتے تھے۔ ایک دن میں نے اپنی بے جی سے پوچھا کہ بھائی علی محمد تو چودھری خاندان سے ہیں پھر وہ ہمارے بڑے بھائی کیسے ہو گئے۔ بے جی کہنے لگی پتر! میں نے علی محمد کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا ہے اس لیے وہ آپ کے بڑے بھائی ہیں۔ ہمارے گھر میں اُن کا درجہ بڑے بیٹے کا تھا۔ ابھی تک میں اور میری بہنیں اُنھیں اپنا حقیقی بڑا بھائی ہی سمجھتے ہیں۔ راقم کی زندگی کی بہت سی یادیں اُن سے جڑی ہوئی ہیں۔ میں جب نوجوانی کی حدود میں قدم رکھ رہا تھا وہ جب بھی آتے میری پڑھائی کے بارے میں پوچھتے۔ وہ ابا جان کو پیر صاحب اور مجھے ہمیشہ باوا جی کہہ کر بلاتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیاں میں اکثر اُن کے گاؤں والے گھر میں گزارتا تھا۔ اُن کا بیٹا طارق علی اور بھانجا محمد رزاق میرے ہم عمر تھے۔ گاؤں میں ان کے گھر ایک قطار میں بنے ہوئے تھے جن کے سامنے ایک بہت بڑا صحن تھا۔ ہم تینوں صحن میں خوب دھما چوکڑی مچاتے تھے۔

جیسا میں نے پہلے ذکر کیا کہُ ان کا مرتبہ ہمارے گھر میں بڑے بیٹے کا تھا اس لیے سب باتوں میں اُن کا مشورہ ضروری سمجھا جاتا تھا۔ راقم کی بہنوں کی شادی میں وہ بڑے بھائیوں کی طرح سب انتظام سنبھالتے رہے۔ بے جی کی وفات پر کتنی دیر وہ مجھے گلے لگا کر روتے رہے۔ والد بزرگوار کی وفات پر وہ بھی بہت غمگین تھے لیکن بڑے ضبط اور تحمل سے انھوں نے ہم سب بہن بھائیوں کو سنبھالا دیا۔ ای ایس ڈی میں سیکورٹی کی نوکری کے دوران وہ جادہ جہلم میں رہائش پذیر رہے۔ اس گھر میں ایک طرف تین کمرے قطار میں بنے ہوئے تھے جن کے ساتھ ایک باورچی خانہ تھا اور سامنے ایک کھلا صحن تھا۔ صحن میں انھوں نے ایکسرسائز کے لیے مشینیں رکھی ہوئی تھی۔ اس عمر میں بھی وہ لمبی ورزش کرنے کے عادی تھے۔

اپنے پیر صاحب یعنی میرے والد بزرگوار کو وہ اپنے والد گرامی سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ ہمارے ہاں قیام کے دوران وہ بابا پیرے شاہ غازی اور میاں محمد بخش ؒ کے مزار پر اکثر حاضری دیتے تھے۔ جب وہ ای ایس ڈی جہلم میں ملازم ہوئے تو ہر ماہ چاند کی پہلی جمعرات کو وہ کھڑی دربار پر حاضری دیتے۔ جہلم سے وہ سائیکل پر آتے پہلے پیر صاحب کو آ کر ملتے اور پھر کھڑی دربار پر حاضری دے کر شام کو جہلم واپس پہنچ جاتے۔ ابا حضور کی وفات تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ میں ملازمت کے سلسلے میں شہر میں آ گیا۔ اب وہ گاؤں آتے تو سب سے پہلے پیر صاحب کی قبر پر فاتحہ پڑھتے پھر گھر آ کر ڈیوڑھی کھول کر سارے صحن کی صفائی کرتے اور اس کے بعد کھڑی دربار پر حاضری دیتے۔ پیر صاحب کی وفات 1978 ءمیں ہوئی۔ اگلے سال برسی سے کچھ دن پہلے وہ گاؤں آئے اور برسی کا سارا انتظام کروایا پھر برسی والے دن آئے اور دعا میں شمولیت کے بعد واپس چلے گئے۔ اپنی زندگی کے آخری سال تک ہر سال پیر صاحب کی برسی میں شریک ہوتے رہے۔ 25 سال متواتر انھوں نے برسی میں شرکت کی۔ میری شادی پر بڑے بھائیوں کی طرح شادی کے انتظامات کرائے۔ ان کا بڑا بیٹا طارق محمود اور بھانجا محمد رزاق جب گورنمنٹ کالج جہلم کے طالب علم تھے تو ان کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ انھیں تعلیم میں ہمیشہ میری تقلید کرنے کو کہتے تھے۔

میری میرپور شہر میں تعیناتی کے دوران ہر تین ماہ بعد میرے پاس آتے تو دو تین دن ضرور ٹھہرتے۔ گاؤں میں بے جی اور والد گرامی کے ساتھ گزرے ہوئے اپنے بچپن کی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں مجھے بتاتے۔ اُس زمانے کی اپنی شرارتوں اور بے جی سے پڑنے والی ڈانٹ کے قصے سناتے۔ پیر صاحب اور بی بی صاحبہ یعنی میرے والد بزرگوار اور بے جی کو بہت یاد کرتے تھے۔ زندگی کے آخری سالوں میں پہلوانی کے دور کے پرانے ساتھیوں اور دوستوں سے ملنے کے لیے وہ بڑی دور دور کا سفر کرتے تھے۔ ڈڈیال میں میجر میر حسین شاہ کے اہل خانہ، خیری میں ایک چوہدری صاحب، کھنیارہ کے سیاکھ میں مقیم لال حسین شاہ سے ملنے وہ اکثر جاتے۔ انھیں ڈڈیال کا ٹور کرانا میری ڈیوٹی میں شامل تھا۔ ایک دفعہ وہ سیوا کے پہلوان راجہ الف خان سے ملنے گئے تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ راجہ صاحب انھیں اتنے عرصہ بعد دیکھ کر پہلے حیران اور پھر بے انتہا خوش ہوئے۔ بڑی دیر پاس بیٹھ کر دونوں پہلوان اپنی جوانی کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ میرے بچپن سے ہی وہ مجھے باوا جی کہہ کر بلاتے تھے۔ عمر میں چھوٹا ہونے کے باوجود وہ میرا اتنا ادب و احترام کرتے اور عزت دیتے تھے کہ کبھی کبھار مجھے شرمندگی کا احساس ہونا شروع ہو جاتا۔ میں منع کرتا تو وہ مجھے کہتے۔ باوا جی آپ نہیں سمجھو گے یہ میرا اور پیر صاحب کا معاملہ ہے۔

جولائی 2004 ء میں میری برطانیہ سے واپسی پر مجھے پتہ چلا کہ وہ ہپاٹائٹس کی وجہ سے بیمار ہیں۔ میں پتہ کرنے ان کے گھر گیا تو انھیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ دو ماہ میں ہی وہ مرجھا سے گئے تھے۔ مجھے دیکھ کر مسہری سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھا نہیں گیا۔ میں ساتھ بیٹھ کر ان سے گلے ملا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کہنے لگے۔ ”باوا جی! لگتا ہے اب چل چلاؤ کا وقت آ گیا ہے۔ میرے لیے دعا کریں۔“ میں نے انھیں تسلی دی کہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ 3 ستمبر کو ان کی بڑی بیٹی باجی خالدہ نے فون پر بتایا کہ ابا جی کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔ طارق بھی ابوظہی سے آ گیا ہے۔ میں اسی شام کو ان کے پاس پہنچ گیا۔ ان پر غنودگی طاری تھی۔ میں وضو کر کے ان کی مسہری کے ساتھ کرسی بچھا کر بیٹھ گیا اور سورہ یسین کی تلاوت شروع کر دی۔ رات دو بجے تک میں تلاوت کرتا رہا۔ ان کی طبیعت کچھ سنبھلی تو صبح میں بچوں کو ساتھ لانے کے لیے گھر واپس آیا۔ دس بجے طارق فون پر غم آلود آواز میں ان کی رحلت کی خبر بڑی مشکل سے سنا پایا۔

ماہ و سال اتنی تیزی سے گزرتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ بیس سال پلک جھپکتے ہی گزر گئے۔ بھائیوں جیسا طارق محمود یرقان کا شکار ہو کر منوں مٹی کے نیچے جا سویا۔ اُن کی تیمار داری کے دوران چھوٹی بیٹی آسیہ بھی ہپاٹائٹس کا شکار ہوئی اور کافی ساری تکلیف سہ کر وہ بھی چل بسی۔ اپنے احاطہ کے اندر بسنے والے سب خاندانوں کو انھوں نے یکجا کر کے رکھا اب اتنے بڑے صحن میں دیواریں بن گئی ہیں۔ جب بھی وہاں جائیں ان کو نہ پا کر دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ ہم سب بہن بھائی جب کبھی اکٹھے ہوں تو انھیں یاد کرتے ہیں اور دل کی گہرائیوں سے بڑے بھائی کی مغفرت کے لیے دعا نکلتی ہے۔ اللہ تعالی جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔

Facebook Comments HS