شادمانی ہو شادمانی


حکیم مرزا صاحب نے اپنے پانچ بچوں کی شادی کا دن طے کیا تو چھوٹے بیٹے پپو کو بھی اسی میں نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کھوج کا آغاز یوں ہوا کہ قبلہ کے پانچ بچوں کی شادی پہلے ہی فروری میں مقصود تھی۔ سو خرچ بچاؤ ملک بناؤ پروگرام کے تحت چھٹے بچے کو بھی اسی اجتماعی قربانی کے فیسٹول میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پہلے پہل ایک خاتون پسند کی گئیں۔ عجلت میں عمر کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے البتہ خاندان کی بعض خواتین نے لڑکے کی عمر سے پانچ چھ برس آگے پیچھے عمر کا تخمینہ لگا کر لڑکے کو راضی کر لیا۔ شادی میں دو ہفتے باقی تھے سو اتنی فرصت کس کو ہوتی کہ لڑکے یا لڑکی کی شخصیت کو پرکھے یا جانچ پڑتال کرے۔ اب قدرت کے رنگ دیکھیے کہ دو چار دن بعد لڑکے کے ہاتھ لڑکی کا شناختی کارڈ لگ گیا۔ معلوم ہوا کہ عمر میں صرف بارہ برس کا فرق ہے۔ نوجوان جذباتی تھا کہاں بزرگوں کے فیصلوں اور ان میں پوشیدہ حکمت کو سمجھ پاتا، شور شرابا کرنے لگا۔ بس پھر گھر میں بحث مباحثہ، رونا دھونا اور نہ جانے کیا کیا شروع ہو گیا۔

خاندان کی پھوپھیوں، محلے کی چاچیوں سمیت کئی بزرگوں اور بچوں نے سمجھایا۔ بلکہ رفاہ عامہ کے لیے گلی کے دکانداروں اور پھیری والوں نے بھی بہت سمجھایا۔ اس اہم مسئلے پر مشورہ دینے والوں میں دو طلاق یافتہ اور ایک بیوہ خاتون، بڑے بھائی کے متوقع سسرال سے ایک بزرگ، جن کا سسرالیوں سے دور کا کوئی رشتہ تھا، ابا کے خالو، جو اگرچہ فالج کا شکار تھے، بات پوری طرح سمجھ تو نہ سکتے تھے لیکن کسی نہ کسی طرح رائے کا اظہار ضرور کر دیتے تھے، شامل تھے۔ کسی کی نہ چلی تو گداگروں نے بھی کوشش کر کے دیکھ لی۔ نوجوان نہ مانا۔

کئی عزیز رشتہ داروں نے شہر کے مجذوب ”استاد پیتل“ سے بھی درخواست کی کہ اس نوجوان کو سمجھائے جو بے راہ روی کا شکار ہو کر بسنے سے پہلے ہی گھر اجاڑنا چاہتا ہے۔ ادھر یہ سر پھرا نوجوان اپنی ضد پر اڑا رہا۔ بالآخر مرزا صاحب کو اس کی ماننا پڑی۔ جمعرات کو پنچایت بلائی گئی۔ قرب و جوار کے سبھی لوگ اس میں شریک ہوئے۔ اس موقع کی اہمیت اس وجہ سے غیر معمولی ہو چکی تھی کیوں کہ یہ اب کسی ایک زنگی کا سوال نہیں تھا بلکہ پانچ بچوں اور ان کے سسرالیوں سمیت دس پندرہ خاندان اب اس فیصلے سے جڑے تھے۔ ولیمے کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی، کھانے پکانے سے لے کر کیٹرنگ تک کا آرڈر دیا جا چکا تھا بس ایک نوجوان کی دلہن ڈھونڈنا باقی تھا اور اتنی سی بات کے لیے نہ تو نائی کو دیگ پکانے سے روکا جا سکتا تھا اور نہ ہی بینڈ گروپ کے باجے میں املی ڈالی جا سکتی تھی۔

پنچایت شروع ہوئی تو بلا کی خاموشی تھی۔ سب نے ایک ساتھ نوجوان کو دبوچ کر مرزا کے سامنے بٹھایا۔ مرزا صاحب صوفے پر بیٹھے اور خاندان کے بزرگوں کو چھوٹے سائز کے صوفوں پر بٹھا دیا گیا۔ برخوردار سامنے کچھ ایسے پیش کیا گیا کہ بال بکھرے ہوئے تھے اور اوسان خطا تھے۔ مرزا صاحب خاصے رعب دبدبے والے انسان تھے۔ بچوں کو لاڈ پیار سے پالا تھا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ بچوں کی ضد کی خاطر اپنی زبان سے پھر جائیں۔ کیسے ممکن تھا کہ ٹینٹ والے، نائی اور نکاح خواں سمیت بینڈ باجے والوں، سب کو دی گئی زبان سے پھر جائیں۔ اس سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ اسراف سے انھیں شدید نفرت تھی۔ جب پانچ بچوں کی شادی ایک ہی کھانے پر انجام پا رہی تھی تو چھوٹے میاں کیوں فضول خرچی کے بہانے تلاش کر کے الگ سے شادی بیاہ کا رستہ ہموار کر رہے تھے۔ اور پھر مرزا صاحب کے مطابق اسے شرم آنی چاہیے اکیلے شادی کرتے ہوئے۔

خیر مرزا صاحب نے پھر زور دار گلا کھنکھار کر فیصلہ سنا دیا۔ انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ”میاں سب کچھ تیار ہے یہی جگہ ہو گی، یہیں سٹیج لگے گا اور اسی موڑھے پر دلہن بیٹھے گی۔ پانچ دن ہیں تمہارے پاس یہ موڑھا دیکھ لو اور اسی کے حساب سے خاندان کی عورتوں کے طفیل کوئی لڑکی فی الفور ڈھونڈ لو“ ۔

دو چار آوازیں مرزا صاحب کے حق میں بلند ہوئیں اور سب اسی نشست سے لڑکی کی تلاش میں لگ گئے۔ اس پنچایت نے پورے محلے میں ہلچل مچا دی تھی۔ اڑوس پڑوس کی ساری عورتیں اپنے خاندان کی کنواری، بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کے رشتے لانے لگیں۔ نوجوان نے کئی فلٹر زدہ تصویریں دیکھیں لیکن گزشتہ تجربے سے دل میں ایسا خوف بیٹھ گیا تھا کہ کسی پر اطمینانِ قلب حاصل نہ ہو سکا۔ خاصی تگ و دو کے بعد مرزا صاحب کی سوتیلی بہن کے سسرال کے ملنے جلنے والوں میں سے ایک ایسے خاندان میں بات پکی کر دی گئی جو دو دن بعد سندھ سے بذریعہ ریل گاڑی پنجاب روانہ ہونا تھا۔ اس حساب سے شادی سے ایک دن پہلے دلہن نے پنجاب پہنچنا تھا اور اس کے بعد ہی دلہا سے ان کا پہلا تعارف اور پہلی ملاقات ہونا تھی۔

بات نہایت مناسب تھی اور اس نیک کام کے طے ہونے میں ساری خلقِ خدا خوش تھی۔ بینڈ والے، نائی، نکاح خواں اور کیٹرنگ والوں سمیت دیگر پانچوں بچوں کے متوقع سسرالوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ البتہ اس صورتحال کا نوجوان پر کچھ ایسا اثر پڑا کہ اس کی حالت کسی مشتبہ فرد جیسی ہونے لگی تھی جو کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کے رونما ہونے کے بعد جائے وقوعہ سے اچانک برآمد ہوتا ہے۔ پنچایت کی کھینچ تان میں سر کے جو بال اچانک کھڑے ہوئے تھے وہ اب مستقل پوزیشن اختیار کرنے لگے تھے۔

اب سب کے پیش نظر اہم مسئلہ یہ تھا کہ اگر ریل گاڑی تاخیر سے پہنچی، جیسا کہ ملک میں اکثر ہوتا ہے تو دلہن کو سٹیشن سے سیدھا شادی کے پنڈال میں لانا ہو گا۔ گھر میں ہلکی پھلکی سرگوشیاں ہونے لگیں۔ کسی کی آواز ذرا سی بلند ہوئی ”اگر ٹرین اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گئی تو؟“ ۔ سب سننے والوں کو یہ خدشہ بہت ناگوار گزرا۔ چچا منشی جو اب تک چپ بیٹھے تھے یکا یک دھاڑے ”کیسی بات کر رہی ہو؟ بھائی مرزا کیا کہیں گے مہمانوں سے، بینڈ والوں کا اور دیگوں کا کیا بنے گا، ہمیں تو پہلے ہی کیٹرنگ والوں کی فکر کھائے جا رہی ہے۔“

اس سب صوت حال میں نوجوان مکمل خاموش تھا جو مرزا صاحب کے فیصلے اور دو دن پہلے ان کی تجویز کی گئی پشتینی خوراک سے پیٹ کے شدید عارضے میں مبتلا ہو گیا تھا، رنگ زرد پڑ گیا تھا۔ اس کی موشن اور مروڑ کی شکایت سے اب سبھی لوگ پریشان ہو رہے تھے۔ چچی نے بھنا کر کہا۔ ”اتنی دیگیں تیار کروائی ہیں تمہارے ولیمے کے لیے اور تم ہو کہ پیٹ خراب کیے بیٹھے ہو“ ۔ باقی لوگوں کی بھی کم و بیش یہی رائے تھی کہ اپنی شادی کا کھانا کھانا بہت مفید اور اہم ہوتا ہے۔ لہذا اب پیٹ کی اصلاح کی تدبیر کی جانے لگی اور مرزا صاحب نے ہی ایک دوا تجویز کی جو گھر کی خواتین نے مل جل کر جھٹ پٹ تیار کر دی۔ شنید ہے کہ بعد میں اس دوا نے عارضے کو قبض میں تبدیل کر دیا تھا۔

بہرحال خدا کی قدرت دیکھیے کہ ریل گاڑی پندرہ گھنٹے تاخیر سے لاہور اسٹیشن پہنچی۔ خوب شہنائیاں بجیں، بینڈ والوں نے خوب زور لگا کر باجے بجائے اور کیٹرنگ والے رنگ برنگی ڈشیں لیے ہال میں آتے رہے۔ تمام جوڑے سٹیج پر متمکن تھے اور بالآخر نوجوان پپو کی دلہن بھی ہال میں آ ہی گئی۔ دلہن کو اسی موڑھے پر بٹھایا گیا جو مرزا صاحب نے مخصوص کیا تھا۔ شکر خدا کا پورے خاندان کی بات رہ گئی اور ایک ہی خرچے میں سارے فرائض بھی ادا ہو گئے۔ سب سے بڑھ کر لڑکے نے لڑکی کو سائیڈ سے دیکھ بھی لیا تھا، جتنا ایسے اہم موقعوں پر ممکن ہو سکتا ہے۔ سب نے پپو کو نئی زندگی کے آغاز پر ڈھیروں مبارک پیش کی۔

Facebook Comments HS